رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلۡتَ وَٱتَّبَعۡنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
Our Lord, we believe in what You have sent down, and we follow the apostle, so write us among the witnesses.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:42-54
Jesus predicted his persecution by Jews and asked his companions who among them was ready to play his part and accept his contemplated crucification, in lieu of which, paradise was promised to him. On e3ntrance by persecutors, they could not detect who was Jesus, as all were transformed alike. But Titanus acknowledged he was Jesus and was crucified. Gabriel took away Jesus to Heaven. On his death, Titanus was reverted to original features. This created a suspicion, and has been an insoluble problem to date with Christians.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:53
[Pooya/Ali Commentary 3:53] (see commentary for verse 52)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:53
آیت - 53
۵۳۔ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا اٴَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ“۔ ترجمہ ۵۳۔ پروردگار ! جو کچھ تو نے نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے ( تیرے) رسول کی پیروی کی ہے ۔ ہمیں گواہوں کے زمرے میں لکھ لے ۔ تفسیر : حضرت مسیح (علیه السلام) کی دعوت قبول کرنے کے بعد حواریوں نے ان کا ساتھ دیا ، ان کی مدد کی اور انہیں اپنے ایمان پر گواہ بنایا پھر بار گاہ الہٰی کی طر ف متوجہ ہوئے اور اپنا ایمان پیش کیا اور کہنے لگے: پروردگار ! جو کچھ تو نے بھیجا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں (”رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا اٴَنْزَلْتَ“) لیکن ایمان کا چونکہ دعویٰ ہی کافی نہیں تھا ، اس لئے ساتھ ہی آسمانی احکام پر عمل کرنے اور پیغمبر خدا ( حضرت عیسیٰ (علیه السلام)) کی پیروی کا ذکر کرنے لگے او رکہنے لگے: ہم نے تیرے بھیجے ہوئے مسیح کی پیروی کی ( وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ“) اور یہ ہمارے ایمان راسخ کا زندہ زندہ ثبوت ہے ۔ یہ اس لئے کہ جب ایمان و روح انسانی میں اتر جاتا ہے تو اس کے عمل میں منعکس ہوتا ہے اور عمل کے بغیر ممکن ہے دعویٰ صرف خیالی ایمان ہو اور حقیقی و واقعی ایمان نہ ہو ۔ اس کے بعد انہوں نے تقاضا کیا کہ خدا ان کے نام اور شہادت دینے والوں اور گواہوں کے زمرے میں شمار کرے (” فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ“) ۔ یہ گواہ وہی لوگ ہیں جو ان دینا میں امتوں کی رہبری کرتے ہیں اور قیامت میں لوگوں کے نیک و بد اعمال کے گواہ ہوں گے ۔