وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
And [I come] to confirm [the truth of] that which is before me of the Torah, and to make lawful for you some of the things that were forbidden you. I have brought you a sign from your Lord; so be wary of Allah and obey me.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:50
[Pooya/Ali Commentary 3:50] Isa had no new message. He confirmed that which had been conveyed by Musa. He preached the unity of Allah, not trinity. See James 2: 19; John 20: 17;Timothy (1) 2: 5; Jude 25. Aqa Mahdi Puya says: According to verse 50, Isa had the authority to repeal or amend the laws of Musa, therefore, he cancelled some of the laws of Tawrat, but, in the New Testament, a saying of Isa is reported that: mountains may move but not a word from the Tawrat will be removed. The Quran presents Isa as a law-giver prophet. He asks people to obey him and follow his orders in addition to the testament that they already had. He also asks them to adhere to the right path which implies that adherence is not following a particular legislation but strict compliance with all the laws issued by Allah. Whoever obeys the laws laid down by the succeeding prophets, in fact, carries out the orders of the preceding prophets, but if one only gives allegiance to the previous prophets and rejects the orders of those prophets who came after, in reality, renounces all the prophets. This applies also to the commandments of Allah. If one obeys Him throughout his life but revolts in the last moments of his life, he will be cursed, as Iblis (Shaytan) was condemned for ever. On the other hand, if one surrenders to Him in obedience and sincerely in the dying hours of his life, his past sins may be forgiven.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:50-51
یہی سیدھی راہ ہے ۔
اس آیت سے اور قرآن کی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) ہر قسم کے ابہام اور اشتباہ کے خاتمے کے لئے اور اس لیے کہ آپ استثنائی ولادت کو آپ کی الوہیت پر سند نہ سمجھ لیں بار ابر کہتے تھے : اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ نیز میں اس کا بندہ ہوں اور اس کا بھیجا ہوا ہوں ۔ اس کے بر خلاف موجودہ تحریف شدہ انجیلوں میں حضرت مسیح (علیه السلام) کی زبان سے خدا کے بارے میں ”باپ “ کا لفظ نقل کیا گیا ہے ۔ قرآ ن میں ایسے مقامات پرلفظ” رب “ یا اس جیسے الفاظ نقل ہوئے ہیں ” انّ اللہ ربّی و ربّکم “۔ اور یہ دعوائے الوہیت کے خلاف اور اس کے مقابلے میں حضرت مسیح کی انتہائی توجہ کی نشان دہی کرتی ہے ۔ آخر میںزیارہ تاکید کے لئے فرمایا:” فاعبدوہ “ یعنی خدا کی پرستش اور عبادت کرو نہ کہ میری اور یہ تو حید و یگانہ پرستی ہی سیدھی راہ ہے ۔ ۵۲۔ فَلَمَّا اٴَحَسَّ عِیسَی مِنْهم الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اٴَنْصَارِی إِلَی اللهِ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ اٴَنْصَارُ اللهِ آمَنَّا بِاللهِ وَاشْہَدْ بِاٴَنَّا مُسْلِمُونَ۔ ۵۲۔ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے ان دو سے کفر( اور مخالفت ) کو دیکھا تو کہا : کون خد اکی طرف ( اور اس کے دین کے لئے ) میرا یاور و مددگار بنے گا ؟ حواریین ( جو ان کے مخصوص شاگرد تھے ) کہنے لگے ہم خدا کے یار و مدد گا رہیں ، اس پر ایمان لاتے ہیں اور آپ ( بھی) گواہ رہیں کہ ہم اسلام لے آئے ہیں ۔ تفسیر: اہل یہود حضرت عیسیٰ کے آنے سے پہلے حضرت موسیٰ کی پیشین گوئی اور بشارت کے مطابق حضرت مسیح کے ظہور کے منتظر تھے لیکن جب انہوں نے ظہور فرمایا اور بنی اسرائیل کے ایک ستمگر اورمنحرف گروہ کو اپنے منافع خطرے میں نظر آئے تو صرف تھوڑے سے لوگ آپ کے گرد جمع ہوئے اور جن لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت مسیح (علیه السلام) کی دعوت وقبول کرنے اور احکام خدا کی پیروی سے ان کی حیثیت اور قدر و منزلت خطرے سے دوچار ہوجائےگی انہوں نے قوانین الہٰی کو قبول کرنے سے منہ پھیر لیا ۔ دلیل وبر ہان سے انہیں کافی دعوت دینے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیه السلام) اس نتیجے پرپہنچے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ مخالفت او رگناہ پر مصر ہے اور وہ کسی انکار اور کجروی سے دستبردار نہیں ہوگا لہٰذا انہوں نے پکار کرکہا : کون ہے جو دین خدا کی حمایت اور میرا دفاع کرے ” فَلَمَّا اٴَحَسَّ عِیسَی مِنْهم الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اٴَنْصَارِی إِلَی اللهِ “ صرف تھوڑسے افراد نے اس کا مثبت جواب دیا ۔ یہ چند پاک باز افراد تھے جنہیں قرآن نے حواریین کا نام دیا ہے ۔ انہوں حضرت مسیح (علیه السلام) کو پکار کر جواب دیا اور ہر قسم کی مدد کی ان کے مقدس مقاصد کی پیش رفت کی راہ میں دفاع کرنے سے دریغ نہ کیا ۔ حواریین نے حضرت عیسیٰ کی ہر طرح سے مدد کا اعلان کیا اور جیسا کہ قرآن نے مندرجہ ذیل آیت میں ان سے نقل کیا ہے کہنے لگے: ”قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ اٴَنْصَارُ اللهِ آمَنَّا بِاللهِ وَاشْہَدْ بِاٴَنَّا مُسْلِمُون“َ۔ ”ہم خدا کے یار و مدد گا رہیں ، خدا پر ایمان لائے ہیں اور آپ کو اپنے اسلام پر گواہ بناتے ہیں “۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی دعوت کے جواب میں یہ نہیں کہا کہ ہم آپ کے مدد گار ہیں بلکہ اپنی انتہائی توحید پرستی اور خلوص کے ثبوت کے لئے اورمقصد کے لیے ان کی بات کسی شرک کی بو نہ آئے ، وہ کہنے لگے: ہم خدا کے مدد گار اور ساتھی ہیں اور اس کے دین کی مدد کریں گے اور آپ کو اس حقیقت پر گواہ بناتے ہیں ۔ گویا وہ بھی یہ محسوس کرتے تھے کہ منحرف اور کج رو افراد آئندہ حضرت مسیح (علیه السلام) الو ہیت کا دعویٰ کریں گے لہٰذا وہ ان کے ہاتھوں میں کوئی دلیل نہیں دینا چاہتے تھے ۔ حواری کون تھے ” حواریین“ ” حواری “ کی جمع ہے اس کا مادہ ” حور“ جس کا معنی ہے ” دھو نا اور سفید کرنا“ کبھی کبھی یہ لفظ ہر سفید چیز کے لئے بھی بولا جاتا ہے اسی لئے سفید کاغذ کو عرب لوگ ” حواری“ کہتے ہیں بہشت کی حوروں کو بھی ان کے سفید رنگ کی وجہ سے ” حوریہ “ کہتے ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے شاگردوں کو ” حواری“ کیوں کہا گیا ہے ، اس لئے کہ بہت سے احتمالات پیش کئے گئے ہیں مگر جو چیز زیادہ قرین ِ عقل ہے اور دین کے عظیم رہبروں سے منقول احادیث میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے یہ ہے کہ وہ پاک دل لوگ تھے اور روحِ باصفا کے مالک تھے اس کے علاوہ وہ دوسروں کے افکار کو پاکیزہاور روشن کرنے ، لوگوں کے دامن کو آلودگی اور گناہ سے دھونے اور انہیں پاک کرنے میں بہت کوشاں رہتے تھے ۔ عیون الرضا میں امام علی بن موسیٰ علیہما السلام سے منقول ہے : آپ (علیه السلام) سے سوال کیا گیا ۔ حواریین کا یہ نام کیوں رکھا گیا ؟ آپ (علیه السلام) نے فرمایا : ” بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کا مشغلہ کپڑے دھونا تھا لیکن ہمارے نذدیک اس کی علت یہ ہے کہ انہوں نے خود بھی گناہ کی آلودگی سے پاک رکھا ہوا تھا اور دوسروں کو بھی پاک کرنے میں کوشاں رہتے تھے ۔