هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
Thereat Zechariah supplicated his Lord. He said, ‘My Lord! Grant me a good offspring from You! Indeed You hear all supplications.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:38
[Pooya/Ali Commentary 3:38] The clear evidence of Allah's extraordinary benevolence prompted Zakariyya to pray for a son he longed all his life. Tayyab means virtuous, blessed, pure and good. Aqa Mahdi Puya says: Prophet Zakariyya's prayer makes it clear that Maryam received her sustenance direct from Allah, the miraculous nature of which made Zakariyya turn to Allah to beseech Him for a son he could not have since his wife was barren; and as a prophet he knew that only a miracle willed by Allah could give him a son. So, what the Ahmadi commentator says is a wilful distortion.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:38-40
یحییٰ (ع) اور عیسیٰ (ع)
” یحییٰ “ ” حیٰوة “ کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے زندہ رہتا ہے ” اور یہ اس عظیم پیغمبر کا نام رکھا گیا تھا ۔ زندگی سے یہاں مراد مادی اور معنوی دونوں طرح کی زندگی ہے جو ایمان ، منصب ِ نبوت اور خدا سے ربط کے زیر سایہ ہو ۔ سورہ مریم کی آیہ۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (ع) کی پیدا ئش سے قبل ہی یہ نام ان کے لئے انتخاب فرمایا تھا ۔ ”یازکریا ٓ انّا نبشرک بغلام اسمہ یحییٰ لم نجعل لہ من قبل سمیاً“۔ ”اے زکریا !ہم تجھے ایک فرزندکی بشارت دیتے ہیں جس کانام یحییٰ ہے اور قبل ایں کسی یہ نام نہیں تھا “۔ جیسا کہ گذشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے یحییٰ کی تولد کی خواہش حضرت زکریا (ع) کے دل میں جناب مریم (ع) کی روحانی پیش رفت دیکھ کر پیدا ہوئی ۔ یہ بات یہاں جالب نظر ہے کہ اس دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (ع) کو ایک ایسا بیٹا عطا فرمایا جو کسی لحاظ حضرت مریم (ع) کے بیٹے سے مشابہت رکھتا ہے ۔ مثلاً :
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:38-40
بچپن میں بعثت نبوت کے لحاظ سے ،
نام کے مفہوم کے اعتبار سے .... کیونکہ حضرت عیسیٰ (ع)اور یحییٰ (ع) دونوں کا معنی ہے ” زندہ رہتا ہے “ اور ...اللہ تعالیٰ نے دونوں پر پیدا ئش ، موت اور حشرو نشر تین مواقع پر درود و سلام بھیجا ہے ۔ ”قَالَ رَبِّ اٴَنَّی یَکُونُ لِی غُلاَمٌ......“ ملائکہ نے یحییٰ کی پیدائش کی بشارت دی تو حضرت زکریا تعجب میں پڑ گئے اور بار گاہ خدا وندی میں عرض کرنے لگے : خدا وندا! کیسے ممکن ہے کہ مجھ سے بچہ ہو جبکہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ جواب میں وحی آئی : ” خدا اسی طرح جو کچھ چاہے انجام دے لیتا ہے “۔ اس آیت میں حضرت زکریا (ع) اپنے بڑھاپے کا ذکر کرتے ہیں کہتے ہیں : ” وقد بلغنی الکبر“ (بڑھاپا مجھ تک آپہنچا ہے ) لیکن سورہ مریم کی آیت ۸ میں ان کا یہ قول درج ہے ۔ ” و قد بلغت من الکبر عتیّاً“ ۔ میں بڑھاپے کے آخری درجے تک جا پہنچا ہوں تتعبیر کا اختلاف یہ اس لئے ہے کہ جیسے انسان بڑھاپے کی طرف جاتا ہے گویا بڑھاپا اور موت بھی دوسری طرف سے اس کی تلاش میں آگے بڑھتی ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : <اذاکنت فی ادبار و الموت فی اقبال فما اسرع الملتقی“۔ ( نہج البلاغہ ،کلمات قصار۔ ۲۸) ”چوکہ تم عمر کے آخری حصہ کی طرف جارہے ہواورموت تمہاری طرف بڑھ رہی ہے اس لئے کس قدر جلدی تم ایک دوسرے سے مل جاوٴ گے ۔ “ ” غلام“ لغت میں ”جوان لڑکے“ کو کہتے ہیں ” عاقر“ ”عقر“ سے ہے ، اس کا معنی ہے ” جڑ اور بنیاد“ اس کا ایک معنی ”حبس“ بھی ہے ، یابانجھ عورتوں کو اس لئے ” عاقر “ کہتے ہیں کہ ان کا معاملہ آخر تک پہنچ چکا ہوتا ہے یا یہ کہ وہ بچہ جننے سے رک چکی ہوتی ہیں یعنی فہوس ہوچکی ہوتی ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:38-40
کیا شادی نہ کرنا باعثِ فضیلت ہے
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر حصور کا معنی شادہ نہ کرنا ہے تو کیا یہ عمل کسی انسان کے لئے امتیاز اور خصوصیت شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں حضرت یحییٰ (ع) کا ذکر اس حوالے سے کیا گیا ہے ۔ اس جواب یہ ہے کہ اول تو ہمارے پاس کوئی یقینی دلیل نہیں کہ آیت میں ” حصور“سے مراد شادی کو ترک کرنا ہے نیز اس سلسلے میں منقول روایت سند کے لحاظ سے مسلم نہیں ہے ۔ بعید نہیں کہ لفظ ” حصور“ آیت میں شہوات ، ہوا و ہوس اور دنیا پرستی کو ترک کرنے کے معنی میں ہو اور زہد کی ایک صفت کے لحاظ سے ہو ۔ دوسری بات یہ کہ ممکن ہے حضرت یحییٰ (ع) بھی حضرت عیسیٰ (ع) کی طرح زندگی کے خاص حالات کی وجہ سے اور دین کے لئے باربار سفر کرنے کی وجہ سے مجردزندگی گزار نے پر مجبور ہوں ۔ اس لئے یہ سب کے لئے کلی قانون نہیں ہوسکتا اور خدا نے ان کی یہاں اس صفت سے اس لئے تعریف کی ہے کہ انہوں نے خاص حالات کے باعث شادی نہیں کی اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو گناہ سے باز رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور وہ کسی طرح بھی گناہ سے آلودہ نہیں ہوئے ، قانون ازدواج تو کلی طور پر ایک فطری قانون ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی بھی اس فطری قانون کے خلاف کوئی حکم جاری کرے اس لئے اسلام یا کسی اور دین میں شادی نہ کرنا کوئی اچھا کام نہیں سمجھا جاتا تھا ۔