فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا قَالَ يَامَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
Thereupon her Lord accepted her with a gracious acceptance, and made her grow up in a worthy fashion, and He charged Zechariah with her care. Whenever Zechariah visited her in the sanctuary, he would find provisions with her. He said, ‘O Mary, from where does this come for you?’ She said, ‘It comes from Allah. Allah provides whomever He wishes without any reckoning.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:37
[Pooya/Ali Commentary 3:37] The desire of Hanna was fulfilled in Isa. The miraculous birth of Isa was a clear sign of the omnipotent will of Allah. As the creator of the laws of nature, He does not depend on their operation because whatever takes place in nature is an immediate effect of His will (see commentary of verse 6 of this surah). Whenever Zakariyya came to see Maryam in the sanctuary, he found her provided with fresh fruits and eatables from heaven. This naturally excited wonder in him, since none could enter her locked chamber except himself. He used to ask, "Where has this come from?" And always she replied, "From Allah who gives food in abundance to whomsoever He likes". It is clear from this verse that she received food from Allah direct, miraculously, without the intervention of any physical agency (yarzuqu man yasha), therefore, the misinterpretation of the Ahmadi commentator that the food might be the offerings of the worshippers is ridiculously mischievous, because, in reality, the worshippers could not meet Maryam without Zakariyya's knowledge who was the only person who could open the locked door to let them in. The Ahmadi commentator not only slanders Maryam but also tries to present Zakariyya, a prophet of Allah, as a fool who wonders every time (kullama) he sees the food near Maryam. It is an attempt to bring the prophets and the chosen friends of Allah to the (low) level of the false prophet of Qadiyan. Shaykh Sadi says: The beauty of Yusuf, the breath of Isa (whereby he resuscitated the dead), the white hand of Musa, those excellences they had separately, you (O Muhammad) alone have all of them. Miracles, similar to those that took place in the lives of the prophets separately, were repeated by the Holy Prophet. It is written in "Anwar al Tanzil", "Kashshaf" and "Malim al Tanzil" (the books accepted as the most authentic by Sunni scholars) that sometimes the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt had to go without food. On such a day the Holy Prophet went to his daughter and asked for some food. She had no food to give to her father. For the last three days she, her husband and her children had nothing in the house to eat. Fatimah stood on her prayer-mat and invoked Allah to help her so that she could serve food to her father. Suddenly steam began to come out from the vessels lying empty in the kitchen. After removing the lids, she found the best kinds of food in them. She brought the food and told her father: "It is from Allah, who gives food in abundance to whomsoever He likes." "Glory be to Allah. He has given you food as He had given to Maryam" said the Holy Prophet. Not only the whole family ate the food but it was also distributed amongst the neighbours.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:37
زکریا اور جناب مریم
تفسیر ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت زکریا کی بیوی اور جناب مریم کی والدہ آپس میں بہنیں تھیں ، اتفاق کی بات ہے کہ دونوں ابتداء میں بانجھ تھیں ۔جناب مریم (ع) کی والدہ کو ایسی لائق بیٹی نصٰب ہوئی ، حضرت زکریا (ع) نے حضرت مریم (ع) کے خلوص اور حیران کن خصوصیات کو دیکھا تو آرزو کی ان کی بھی مریم جیسی پاکیزہ اور پرہیز گار اولاد ہو جس جا چہرہ عظمت الہٰی اور توحید کی علامت ہو ۔ حضرت زکری(ع) اور ان کی بیوی کی طویل زندگی اسی طرح گذر چکی تھی ظاہری طبعی قوانین اور فطرت کے نقطہٴ نظر سے یہ بعید نظر آتا تھا کہ اب ان کی کوئی اولاد ہو لیکن عشق الہٰی اور مریم (ع) کے محرابِ عبادت کے پاس بت موسم کے پھل دیکھنے کا اثر تھا کہ حضرت زکریا (ع) کے دل میں ابھی امید پیدا ہوئی اور انہوں نے بڑھاپے کے موسم میں خواہش کی کہ ان کے وجود کی شاخ پر بھی فرزند کی صورت میں میوہ پیدا ہو جائے لہٰذا جب وہ عبادت اور مناجات میں مشغول تھے انہوں نے خدا تعالیٰ سے فرزند کا تقاضا کیا ” قال ربِّ ھب لی من لّدنک ذرّیةً طیبةً انّک سمیع الدّعآء“ یعنی خدا وندا! مجھے پاکیزہ فرزند عطا فرما کہ تو بندوں کی دعائیں سننے والاہے ۔ ” فَنَادَتْہُ الْمَلاَئِکَةُ وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی فِی الْمِحْرَاب“۔ زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ زکریا (ع) کی دعا قبول ہوگئی ۔ وہ محراب عبادت میں مناجات کررہے تھےاور مشغو ل عبادت تھے کہ خد انے فرشتوں نے انھیں آواز دی اور بشارت دی کہ خدا تعالیٰ انھیں بہت جلد ایک بیٹا دے گا جس کا نام یحییٰ ہوگا اور جو ان صفات کا حامل ہوگا ۔ ۱۔ وہ حضرت مسیح (ع) پر ایمان لائے گا اور اپنے ایمان سے انھیں تقویت پہنچائے گا ۔ (”مصدّقاً بکلمةٍ مِنَ اللَّہ “)) یاد رہے کہ اس آیت میں اور بعض دیگر آیات میں جن کا ذکر آگے آئے گا ” کلمہ“ سےمراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور جیسا کہ تاریخ میں آیا ہے حضرت یحییٰ (ع) حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چھ ماہ بڑے ہیں اور پہلے شخص ہیں جنہوں نے جناب مسیح (ع) علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کی اور چونکہ وہ لوگوں میں پاکیزگی اور زہد و تقویٰ کے اعتبار سے بہت زیادہ شہرت رکھتے تھے لہٰذا جب حضرت مسیح (ع) کی طرف ان کی رغبت ، حضرت عیسیٰ (ع) کی دعوت و نبوت کی طرف لوگوں کی توجہ کے لئے بہت موٴثر ثابت ہوئی ۔ ۲۔ حلم و عمل کے لحاظ سے معاشرہ کی رہبری ان کے ذمے ہوگی (” وسیداً“) علاوہ ازیں وہ اپنے تئیں سرکش ہوا و ہوس اور دنیا پرستی سے محفوظ رکھیں گے ، (” وحصوراً “) ۔ ” حَصُور“ مادہ” حصر“سے ہے ، اس کا معنی ہے وہ شخص جو کسی حوالے سے اپنے آپ کو محاصرے میں رکھے ۔ کبھی یہ لفظ عدم ازدواج اور شادی نہ کرنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں اس لفظ سے یہی دوسرا مفہوم مراد لیا ہے نیز بعض روایات میں بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ ۳۔ وہ خد اکے پیغمبر اور صالحین میں سے ہوں گے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:37
حضرت مریم کی پرورش
تفسیر گذشتہ آیات حضرت مریم کی ولادت کے بارے میں تھیں ۔ اس آیت میں بتاگیا ہے کہ خداتعالیٰ نے مریم (ع) کو حسنِ قبول سے نوازا اور ان کی پرورش اچھے پودے کی طرح کی ۔ درحقیقت جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ جناب مریم کی والدہ کو یقین نہیں آتاتھاسکہ کسی لڑکی کو خانہٴ خدا بیت المقدس کی خدمت کے لئے قبول کرلیا جائے گا لہٰذا وہ چاہتی تھیں کہ ان کے شکم میں جو بچہ ہے وہ لڑ کا ہو کیونکہ قبل از این کبھی کسی لڑکی کو اس مقصد کے لئے منتخب نہیں کیا گیا تھا ۔ زیر نظر آیت کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس لڑکی کو پہلی مرتبہ اس روحانی اور معنوی خدمت کے لئے قبول کرلیا ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں :قبولیت کی کی نشانی یہ تھی کہ حضرت مریم (ع) بیت المقدس کی خدمت کے دوران میں ماہواری میں کبھی مبتلا نہیں ہوئیں کہ انہیں اس روحانی مرکز سے دور ہونا پڑا ۔ممکن ہے اس نذر کی قبولیت اور جناب مریم کا قبول بارگاہ ہونا ، اس کے بارے میں ان کی والدہ کو الہام کے ذریعے مطلع کیا گیا ہو ۔ ” انبات“ یعنی ”اگنا“یہ تعبیر حضرت مریم کی نشو نما اور پرورش کے بارے میں ان کی معنوی ، روحانی ، اخلاقی پہلووٴں کے تکامل اور اتقاء کی طرف اشارہ ہے ضمناً یہ جملہ ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کا کام ” انبا“ یعنی اگانا ہے پھولوں اور پودوں کے بیج میں اہل بیتاور استعداد مخفی ہوتی ہے اور باغبان کی نگرانی میںپرورش پاتے ہیں اور خود کو آشکار کرتے ہیں ، اسی طرح انسانی وجود میں بھی ہر قسم کی انسانی صلاحتیں رکھ دی گئی ہیں اگر انسان اپنے تئیں تربیت کے لئے خدائی نمائندوں اور باغِ انسانیت کے باغبانوں کے سپرد کردے تو وہ بہت جلد تربیت حاصل کرلیتا ہے اور اس کی پنہاں استعداد ظاہر ہوجاتی ہے اور یوں ” انبات“ کا مفہوم حقیقت کا روپ دھار لیتاہے ۔ ” وکفلھا زکریّا“ ۔ ” کفالت “ کا معنی ہے ” کسی چیز کو دوسری میں ضم کرنا “ اسی مناسبت سے ان افراد کو کافل ” ی اکفیل “ کہتے ہیں جو چوٹے بچوں کی سرپرستی اپنے ذمّے لے لیں کیونکہ وہ درحقیقت پنے آپ کو اس کے ساتھ منضم کرلیتے ہیں ۔ یہ مادہ جب ثلاثی مجرد یعنی ”کفل “بغیر شد کے )صورت میں استعمال ہوتو کفالت اور سر پرستی کو اپنے ذمے لینے کا مفہوم دیتا ہے اور جب ثلاثی مزیدکی صورت میں ” کفّل“ شد کے ساتھ) استعمال ہوتو کسی کے لئے کفیل منتخب کر نے کا مفہوم دیتا ہے ۔ اس جملے میں قرآن کہتا ہے : خدا نے زکریا کو مریم کی کفالت کے لئے منتخب کیا تھا ۔ کیونکہ جیسا کہ تاریخ میں آیاہے مریم کے والد ان کی پیدائش سے پہلے وفات پاچکے تھے ۔ ان کی والدہ انہیں یہودی علماء کے پاس بیت المقدس میں لے آئیں اور کہ اکہ یہ بچی بیت المقدس کا ہدیہ ہے ، اس کی سر پرستی تم میں سے کوئی اپنے ذمے لے لے ۔ علماء بنی اسرائیل نے اس سلسلے میں آپس میں گفتگو کی ۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ مریم کی سرپرستی کا افتخار اور منصب اسے نصیب ہو ۔ اس مقصد کے لئے معاملہ مخصوص مراسم سے گزرا جن کی تفصی لاسی سورہ کی آیہ ۴۴ کی تفسیر میں آئے گی اور آخر کار ان کی کفالت کے لئے حضرت زکریا (ع) کا انتخاب عمل میں آیا ۔ ” کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا“ ” محراب“ مادہ ” حرب“ سے ہے جس کا معنی ہے ” جنگ “ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل ایمان اس مقام پر شیطان ، سرکش خواہشات اور ہوس کے خلاف جنگ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اس لئے اسے محراب کہتے ہیں ۔ دوسری یہ کہ” محراب “اصولی طور پر مجلس کی بالائی اور اوپر والی جگہ کے معنی میں ہے اور چونکہ محراب کو عبادت خانے کی اوپر والی جگہ پر بنایا جاتا ہے ، اس لئے یہ نام رکھا گیا ہے ۔ یہ بھی خیال رہے بنی اسرائیل کے ہاں محراب کی کیفیت ہمارے ہاں سے مختلف تھی وہ محراب سطح زمین سے بلند بناتے تھے اور اس کے لئے سیڑھیاں بنائی جاتی تھیں اور اس کے اطراف کو کمرے کی دیواروں کی طرح بناتے تھے تاکہ اسے محفوظ کردیا جائے اور جو لوگ محراب کے اندر ہوتے وہ باہر سے بہت کم نظر آتے تھے ۔ حضرت مریم حضرت زکری(ع) کی سر پرستی میں پروان چڑھیں اور خدا کی عبادت و بندگی میں اس طرح مستغرق ہو ئیں کہ ابن عباس کے بقول جب وہ نو سال کی ہوئیں تو دن کو روزہ رکھتیں اور رات کو عبادت کرتیں ۔ پر ہیز گاری اور معرفت الہٰی میں انہوں نے اتنی ترقی کی کہ اس دور کے احبار اور پارسا علماء سے بھی سبقت لے گئیں ۔۱ حضرت زکریا (ع) ان محراب کے پاس آکر دیکھتے تو خاص غذائیں وہاں پڑی ہوتیں ۔ انہیں بہت حیرانی ہوتی ۔ ایک دن پوچھنے لگے: ” ”یامریم انّی لک ھٰذا “۔ مریم! یہ غذا کہاں سے لائی ہو ۔ مریم بولیں : ”قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ إِنَّ اللهَ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ“ یہ خد اکی طرف سے ہے اور وہ تو جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے ۔ یہ غذا کیسی تھی ؟ اور جناب مریم (ع) کے لئے کہاں سے آئی تھی ؟ اس بارے میں آیت میں کچھ بیان نہیں کیا گیا لیکن بہت سی شیعہ و سنی کتب کی روایات سے جو تفسیر عیاشی وہ غیر میں مذکور ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنت کے پھلوں کی ایک قسم تھی جو بے موسم حکم پروردگار سے جناب مریم (ع) کے محراب کے پاس پہنچ جاتے اور یہ بات کوئی باعث ِ تعجب نہیں ہے کہ خداتعالیٰ اپنے کسی پر ہیز گا ربندے کی یوں پذیرائی کرے ۔ یہاں رزق سے مراد بہشت کی ایک غذا ہے اور یہ بات آیت میں موجود قرائن سے بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ ” رزقاً“یہاں نکرہ کی صورت میں ہے اور یہ اس با ت کی علامت ہے کہ وہ کوئی خاص قسم کی غذا تھی جو حضرت زکریا (ع) کے لئے انجانی تھی اور دوسری نشانی خود حضرت مریم (ع) کا جواب ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور تیسری دلیل ہے حضرت زکریا (ع)کا جوش میں آنا اور پروردگار سے فرزند کی آرزو کرنا جس کے بارے میں بعد والی آیت میں اشارہ کیا گیا ۔ لیکن صاحب المنار اور دیگر مفسرین کا اعتقاد ہے کہ ” رزقاً“ سے مراد یہی عام دنیا کی غذائیں ہیں کیونکہ ابن حریر نے لکھا ہے :۔ بنی اسرائیل قحط سالی میں مبتلا ہوگئے ، اناج کی بڑی کمی تھی ، حضرت زکریا (ع) مریم (ع) کے مصارف برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔ ایسے عالم میں قرعہ نجار نامی ایک شخص کے نام نکلا ۔ وہ بڑے فخر سے اپنی پاکیزہ آمدنی میں سے حضرت مریم (ع) کے لئے غذا مہیّا کرتا تھا زکری(ع) ان کے محراب کے پاس جاتے تو ایسے شدید حالات میں ان کے پاس ایسی غذادکھ کر انہیں تعجب ہوتا ۔ جناب مریم (ع) ان سے کہتیں: خدا نے ان حالات میں ایک صاحب ِ ایمان کے ذمے یہ کام کردیا ہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ تفسیر نہ قرآن پاک میں موجود قرائن سے موافقت رکھتی ہے اور نہ ہی ان رویات سے موافقت ہے جو آیت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک روایت امام باقر (ع) سے منقول ہے جسے تفسیر عیاشی میں درج کیا گیا ہے ہم یہاں اس کا خلاصہ درج کرتے ہیں ۔ ” ایک روز پیغمبر اکرم (ع) جناب فاطمہ زہرا (ع)کے گھر تشریف لائے ، حالت یہ تھی کہ کئی روز سے ان کے ہاں ٹھیک سے کھانا بھی میسر نہ تھا اچانک آپ نے ان کے پاس مخصوص غذا دیکھی ۔ آپ نے پوچھا : ” یہ کھانا کہاں سے آیا ہے َ“؟ حضرت فاطمہ نے عرض کیا : ” خدا کے ہاں سے ، کیونکہ وہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے “ اس پر پیغمبر اکرم نے فرمایا: ” یہ واقعہ حضرت زکریا (ع) کے واقعے کی طرح ہے ، وہ جناب مریم (ع) کے محراب کے پاس آئے تھے وہاں کھانے کی کوئی چیز دیکھی تو پوچھنے لگے یہ کھانا کہاں سے آیاہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ خدا کے ہاں سے آیا ہے ۔“2 ” بغیر حساب “ کے مفہوم کے بارے میں سورة بقرة کی آیہ ۳۰۳ اور اس سورہ کی آیہ ۲۷ کے ذیل میں ہم گفتگو کرچکے ہیں ۔ ۳۸۔ ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہُ قَالَ رَبِّ ہَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً إِنَّکَ سَمِیعُ الدُّعَاءِ۔ ۳۹۔ فَنَادَتْہُ الْمَلاَئِکَةُ وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی فِی الْمِحْرَابِ اٴَنَّ اللهَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیَی مُصَدِّقًا بِکَلِمَةٍ مِنْ اللهِ وَسَیِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِیًّا مِنْ الصَّالِحِینَ ۔ ۴۰۔ قَالَ رَبِّ اٴَنَّی یَکُونُ لِی غُلاَمٌ وَقَدْ بَلَغَنِی الْکِبَرُ وَامْرَاٴَتِی عَاقِرٌ قَالَ کَذَلِکَ اللهُ یَفْعَلُ مَا یَشَاءُ۔ ۳۸۔جب مریم میں یہ لیاقت واہلیت دیکھی ) اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی اور عرض کی : خدا وندا ! اپنی طرف سے مجھے (بھی) پاکیزہ عمل فرما کہ تو دعا کو سننے وا لا ہے ۔ ۳۹۔ جب وہ محراب میں مشغول عبادت تھا تو فرشتوں نے اسے پکار کر کہا : خدا تجھے یحییٰ کی بشارت دیتاہے وہ خدا کے کلمہ ( مسیح -------) کی تصدیق کرے گا ۔ رہبر و رہنما ہوگا، ہوا ہوس سے دور ہوگا، پیغمبر ہوگا اور صالحین میں سے ہوگا ۔ ۴۰۔ اس نے عرض کیا : پر وردگار ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے ، جب کہ مجھے بڑھاپے نے آلیا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ فرمایا : اسی طرح خدا جو کام چاہتا ہے انجام دیتا ہے ۔ ۱. مجمع البیان “ ج۲ ، ص ۴۳۶۔ 2.تفسیر نو ر الثقلین ۔ ج۱ ۔