قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Say, ‘If you love Allah, then follow me; Allah will love you and forgive you your sins, and Allah is all-forgiving, all-merciful.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:31
[Pooya/Ali Commentary 3:31] Love of Allah is the basis and essence of Islam. Fear is not the motivating factor, because one who worships Him and obeys His commands out of fear, devoid of love for His grace, comes in the category of idolworshippers who worship the false deities to appease their anger. See the commentary of rahman and rahim in surah al Fatihah and know that the heathen syndrome has been destroyed and replaced with love, kindness and compassion by the religion of Allah, Islam. The phrase "God-fearing" actually means guarding oneself against evil with awareness of the boundaries laid down by Allah. Man must refrain from thinking or acting in a way which may hurt the feelings of the beloved whom he intensely loves, reveres and worships. It is made clear in this verse that he who loves Allah must follow the Holy Prophet. Sincere following of the Holy Prophet in the day to day life is the only proof of the love of Allah, otherwise it is an empty claim. Allah loves the true followers of the Holy Prophet and forgives their sins. One who loves his beloved also loves those whom his beloved loves, therefore, every sincere follower of Islam (Allah's lover) must love the Holy Prophet and those whom he loves. There are several authentic traditions reported in the books of history written by Muslim scholars, referred to in the commentary of many verses in this book, according to which the Holy Prophet had openly declared his exclusive love for Ali, Fatimah, Hasan and Husayn and their children; and in verse 23 of al Shura love of the Ahl ul Bayt has been enjoined on all the true believers. In fact those who do not love the Ahl ul Bayt are not the believers, therefore, the doctrine of tawalla is one of the fundamentals of the true faith, Islam original or Shi-aism. Likewise, in the light of verse 28 of this surah, it is the duty of every Muslim to avoid and dislike the enemies and the allies and friends of the enemies of the Holy Prophet, because a believer cannot be a friend of those who hated and opposed the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt. Therefore, the doctrine of tabarra is also one of the fundamentals of the true faith, Shi-aism. The love of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt makes man follow in their footsteps, which, in fact, is the love of Allah. Those who oppose them and follow their enemies go against Allah and His commandments. A true lover of Allah becomes a devotee of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt, and mindful of the life after death, his true love activates him to always do that which pleases Allah, the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt, and refrain from acts of wickedness which certainly displease them; moreover, he remains attached with the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt and refrains from going near their ungodly enemies, be they his own kith and kin. Aqa Mahdi Puya says: According to An-am: 50;Araf: 203;Yunus: 15; Ahqaf: 9 and Najm: 3 and 4, since the Holy Prophet only followed the divine will, therefore, following in his footsteps is the only proof of the love of Allah, which alone entitles man to receive Allah's love. Any deviation from his word or deed means the deviator not only loses Allah's love but also earns His displeasure. Ali ibna abi Talib has said: The words and deeds of the Holy Prophet, from the beginning to the end of his stay in this world, were the truest demonstration of the divine revelations (nothing but a revelation revealed), and I did not follow any save him. Therefore, Ali was the beloved of Allah and His prophet because he loved Allah and His prophet.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:31-41
God has distinctly laid down claim for His love is to be tested by implicit obedience to orders of the Prophet and in case of refusal, he shall be an infidel. This is enough test for searching this infidelity in Muslim companions of Prophet (which is known as hypocrisy) which, the Prophet to fulfil Divine message kept quiet, fighting with them. To Ali advising after his departure saying, “Oh Ali, your fight is my fight,” and “Hussain is from me and I from him,” (him i.e. Hussain).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:31-32
حضرت مریم
اس آیت سے حضرت مریم اور ان کے آباوٴ اجدادکی داستان شروع ہوتی ہے ۔ ” اصطفیٰ “ لغت کے لحاظ سے ” صفو“ ( بر وزن ” عفو -) سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ” خالص چیز “ اہل عرب صاف و شفاف پتھرکو بھی ”صفا “ خالص اور پاکیزہ ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں ، اس بناء پر ” اصطفاء “ کا معنی ہے ” خالص چیز کے ایک حصّے کو منتخب کرنا “۔ قرآن حکیم مندرجہ بالا آیت میں کہتا ہے : خدا نے آدم ، نوح ، خاندان ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں پر منتخب کرلیا ہے ۔ یہ چناوٴ ممکن ہے تکوینی طور پر بھی ہو اور تشریعی اعتبار سے بھی ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی خلقت کو شروع ہی سے ممتاز قرار دیا ہے اگر چہ اس امتیاز کے باوجود راہ حق کے انتخاب میں مجبور نہ تھے بلکہ اپنے ارادہ اور اختیار سے یہ راستہ طے کررہے تھے لیکن ان کی اس مخصوص خلقت و آفرینش نے ان میں نوع بشر کی ہدایت کی صلاحیت پیدا کردی تھی اور پھر فرمان خدا کی اطاعت ، تقویٰ و پرہیز گاری اور انسانوں کی راہنمائی کے راستے میں جد و جہد کرنے کی وجہ سے ایک طرح کا اکتسابی امتیاز بھی انھیں حاصل ہوگیا جو ان کے ذاتی امتیاز سے مل گیا اور وہ بر گزیدہ انسانوں کی حیثیت سے ظاہر ہوئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:31-32
حقیقی محبت
پہلی آیت کہتی ہے کہ محبت ایک قلبی تعلق ہی کا نام نہیں بلکہ انسان کے عمل میں اس کے آثار دکھائی دینے چاہئیں ۔ جو شخص پر وردگار سے محبت کا مدعی ہے اس کے لئے پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ پیغمبر اور اللہ کے بھیجے ہوئے کی پیروی ” إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی“ حقیقت میں محبت کا یہ فطری اثر ہے کہ وہ انسان کو محبوب اور اس کی خواہشات کی طرف کھینچ لے جاتی ہے البتہ کمزور محبتیں بھی ہوسکتی ہیں کہ جن کی شعاع دل سے باہرنہ پر سکے لیکن ایسی محبتیں اس قدر حقیر ہیں کہ انہیں محبت کا نام نہیں دیا جاسکتا ۔ ایک حقیقی محبت یقینا عملی آثار کی حامل ہوتی ہے اور ایسی محبت محب کا محبوب سے ضرور تعلق قائم کردیتی ہے ، محبوب کی آرزووٴں کی راہ میں ثمر بخش ہوتی ہے اور ا س کی آرزووٴن کی تکمیل کے لئے محب کو سعی و کوشش کے لئے ایستادہ کردیتی ہے ۔ اس بات کی دلیل اور وجہ واضح ہے کیونکہ انسان کا کسی سے عشق اور لگاوٴ یقینا اس لیے ہے کہ اسے اس میں کوئی کمال نظر نہیں آتا ہے ۔ انسان کبھی کسی ایسی چیز سے عشق و محبت نہیں کرتا جس میں کوئی نقطہٴ کمال نہ ہو ، اس لئے خدا سے انسان کی محبت کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے کمال کا منبع اور سر چشمہ ہے ، اس لئے مسلم ہے کہ ایسی ہستی کے تما م پروگرام اور احکام بھی کامل ہوں گے ، ان حالات میں کسیے ممکن ہے کہ جو انسان تکامل و ارتقاء و ارتقاء کا حقیقی عاشق ہو وہ ان پروگراموں سے منہ پھیر لے اور اگر وہ رو گرداں ہوجاتا ہے تو یہ اس کے عشق و محبت کی عدم صداقت کی نشانی اور علامت ہے ۔ یہ آیت نجران کے عیسائیوں اور زمانہٴ رسول کے مدعیان محبت کے بار ے میں ہی نہیں بلکہ یہ تمام ادوار کے لئے اسلام کی ایک منطق ہے ۔ وہ لوگ جو رات دن عشق الٰہی یا پیشوایان اسلام مجاہدین ِ راہ خدا اور صالحین سے محبت کا دم بھر تے ہیں لیکن عمل کی دنیا میں ان سے کچھ بھی شباہت نہیں رکھتے ان کی حیثیت جھوٹے دعویداروں سے زیادہ نہیں ہے ۔ وہ لوگ سر تا پا گناہوں سے آلودہ ہیں اور اس کے باوجود اپنے دل کو خدا ، رسول ، امیر المومنین (ع) اور عظیم پیشواوٴں کے عشق سے لبریز سمجھتے ہیں یایہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان ، عشق اور محبت کا تعلق صرف دل سے ہے اور عمل سے ان چیزوں کا کوئی ربط نہیں وہ اسلام کی منطق سے بالکل لاتعلق ہیں ۔ معانی الاخبار میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: ” ما احبّ اللہ من عصاہ “ جو گناہ کرتا ہے وہ خدا کو دوست نہیں رکھتا ۔ اس کے بعد آپ (ع) نے یہ مشہور اشعار پڑھے : تعصی الا لہ و انت تظھر حبّہ ھٰذا لعمرک فی الفعال بدیع لوکان حبّک صادقاً لاطعتہ انّ المحب لمن یحب مطیع یعنی تو خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کے باوجوداس کی محبت کا اظہار کرتا ہے ۔ مجھے اپنی جان کی قسم یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے ۔ اگر تیری سچی محبت ہوتی تو تُو اس کی اطاعت کرتا ۔ کیونکہ جو کسی سے محبت کرتا ہے وہ اس کے حکم کی پیروی کرتا ہے ۔ ” یُحْبِبْکُمْ اللهُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ۔“ قرآن پاک اس جملہ میں کہتا ہے : اگر تم نے خدا سے محبت رکھی اور اس کے آثار تمہارے عمل اور زندگی پر مرتب ہوتو خدا تمہیں دوست رکھے گا اور اس دوستی کے اثرات حسبِ حال تم پر آشکار ہوں گے ، وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اپنی رحمت تمہارے شامل حال کردے گا ۔ خدا کی طرف سے متبادل دوستی کی دلی بھی واضح ہے کیونکہ وہ ایسی ہستی ہے جو ہر لحاظ سے کامل و اکمل ہے اور بحر بے کنار ہے ، جوموجود بھی تکامل و ارتقاء کی راہ میں قدم اٹھائے گا اس کے اس پسندیدہ عمل کی وجہ سے خدا تعالیٰ بھی اس سے محبت کا رشتہ قائم کرے گا ۔ اس آیت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ محبت ایک طرفہ نہیں ہوسکتی کیونکہ ہر محبت محب کو دعوت دیتی ہے کہ وہ عملاً محبوب کی حقیقی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے قدم اٹھائے اس طرح محبوب کو بھی اس سے ضرور محبت ہو گی ۔ ممکن ہے یہاں سوال کیا جائے کہ اگر محب ہمیشہ محبوب کے فرمان کو بجا لائے تو پھر اس کے ذمہ تو گناہ ہی کو ئی نہ ہوگا کہ جسے بخشے جانے کی بات کی جائے لہٰذا َیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ کی یہاں کوئی وجہ باقی نہیں رہتی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ممکن ہے یہ جملہ گذشتہ گناہوں کی بخشش کی طرف اشارہ ہو ۔ دوم یہ کہ محب محبوب کی ہمیشہ نافرمانی نہیں کرتا لیکن شہوات و خواہشات کی سر کشی کی وجہ سے ممکن ہے کبھی کبھی اس سے لغزش بھی سر زد ہو جائے جو ہمیشہ فرماں بردار رہنے کی وجہ سے بخش دی جائے گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:31-32
دین اور محبت
دین اور محبت پیشوایان اسلام سے متعدد روایات میں منقول ہے کہ دین محبت کے علاوہ کچھ نہیں ۔ ان میں سے ایک روایت خصال اور کافی میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : ”ھل الدین الاّ الحبّ ، ثم تلا ھٰذہ الاٰیة: ” اِنْ کنتم تحبّون اللہ فاتّعونی“۔ کیا دین محبت کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ” قل اطیعوا اللہ و الرسول “۔ ان روایات میں سے مراد یہ ہے کہ روح دین اور حقیقت دین اصل میں ایمان باللہ اور عشق الہٰی ہی ہے ۔ وہ ایمان و عشق کہ جس کی شعاع تمام وجود انسانی کو روشن کردیتی ہے اور اس کے تمام اعضاء جوارواح اور قوتِ بدن اس کے زیر آجاتے ہیں اور اس کا ظاہری اور روشن اثر یہ ہے کہ انسان فرمانِ خدا کی اطاعت کرنے لگتا ہے ۔ ” اطیعوا اللہ و اطیعوا الرّسول “۔ اس آیت میں گذشتہ آیت کی بحث کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: چونکہ تم پر وردگار کی محبت کے دعویدار ہو اِس لئے فرمان خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی پیروی کرو اور اگر تم نے اس سے رو گردانی کی تو یہ پر وردگار سے محبت نہ کرنے کی نشانی ہوگی اور خدا ایسے لوگوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ ” فان تولّوا فانّ اللہ لا یحب الکافرین “۔ ضمناً ” اطیعوا اللہ و اطیعوا الرّسول “۔سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور رسول کی اطاعت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے ۔ رسول کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور خدا کی اطاعت رسول کی اطاعت ہے ۔ اسی لئے گذشتہ آیت میں صرف اطاعت رسول کی بات کی گئی ہے یہاں خدا اور رسول دونوں کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے ۔ ” فان تولّوا فانّ اللہ لا یحب الکافرین “۔ اس کے بعد فرمایا گیاہے : اگر یہ لوگ روگردانی کریں اور دوستی کے تقاضوں پر عمل نہ کریں تو یہ اظہار محبت میں سچے نہیں ہیں اور خدا پر ایمان نہیں لائے ۔ لہٰذا فطری بات ہے کہ خدا ایسے اشخاص کو دوست نہیں رکھتا ۔ ۳۳۔ إِنَّ اللهَ اصْطَفَی آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاہِیمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِینَ ۔ ۳۴۔ ذُرِّیَّةً بَعْضُہَا مِنْ بَعْضٍ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیم۔ ترجمہ ۳۳۔ اللہ نے آدم ، نوح ، آل ابراہیم اور آل عمران کو سب جہانوں پر منتخب کرلیا ۔ ۳۴۔ وہ ایسے فرزند ( خاندان) تھے جو ( پاکی، تقویٰ اور فضیلت کے اعتبار سے ) ایسے تھے کہ بعض کو بعض میں انتخاب کیا گیا اور خدا سننے اور جاننے والا ہے ( اور اپنی رسالت کی راہ میں ان کی کاوشوں سے بھی آگاہ ہے ) ۔