قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
Say, ‘O Allah, Master of all sovereignty! You give sovereignty to whomever You wish, and strip of sovereignty whomever You wish; You make mighty whomever You wish, and You degrade whomever You wish; all choice is in Your hand. Indeed You have power over all things.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:26
[Pooya/Ali Commentary 3:26] Aqa Mahdi Puya says: Sovereignty belongs to Allah; He is the sole and the ultimate authority in the domains of creation and legislation. Every thing submits to the authority of the master of the universe, the absolute sovereign, because all things in the universe have been created by Him, and therefore, Islam, the only religion of Allah and the only means of salvation, stands for total submission to Allah's will-a truism candidly summed up in these verses in the form of a prayer. The Holy Prophet and his Ahl ul Bayt have rightly advised the faithfuls to recite this prayer at all occasions, so that the conviction in the omnipotence of the almighty permeates their hearts and minds to guide them in all their mental and physical activities. A complete resignation to Allah's will is possible only when man believes that it is Allah who alone can do and undo things, conceivable and inconceivable, easy and difficult. Then the grace of the merciful Lord abounds, because in His hand is all good. He is the absolute sovereign. None has any right or claim upon Allah. He bestows His bounties on whomsoever He likes. There should be no complaint, nor grudge, nor frustration. With total resignation to His will, man must pray and invoke His mercy to obtain fulfilment of his legitimate wants and needs. Ibna Abbas says that these verses contain the ism al azam, the greatest name of Allah, therefore, its recitation for obtaining fulfilment of desires brings positive results, provided that in thoughts and deeds the supplicant wholeheartedly relies upon Allah's omnipotence and judgement, and remains thankful in all events and under all circumstances. Nothing is impossible for Him. An usurper or a tyrant, by actual control of the machinery of government, may become a defacto ruler. The Nimruds and the Fir-awns were defacto rulers. They also claimed divinity. A large number of people accepted them as gods, but none of them was a de jure God. The theoreticians, in the employment of the usurpers and tyrants, try to misguide the people by arguing that a de facto wielder of power is also a de jure ruler. It is a fact that there are some chosen representatives of Allah who, by right, are entitled to exercise the authority, given to them by Allah Himself, which they do as the de jure authorities (Baqarah: 247; Nisa: 54, Munafiqun: 8), although the defacto kingdom may be in the hands of others who are rightly described as usurpers in the political thought of true and original Islam. Yazid bin Mu-awiyah, the de facto ruler, argued with the Ahl ul Bayt by quoting this verse that he was also the de jure authority. Bibi Zaynab binta Ali proved his deceitful claim false by showing the inherent weakness in the theory of fatalism. In her analytical, objective, and rational discourse she quoted verse 178 of Ali Imran and verse 10 of al Rum to establish the fact that those who disbelieve, imagine that the rein Allah gives them does good to them, whereas, truly Allah gives them rein that they may grow in sinfulness, for which there is a disgraceful punishment for them, because evil is the consequence to those who deal in evil by denying the signs of Allah and making a mockery of them. The chosen representatives of Allah, His signs, are the real authorities to administer God's kingdom, because of their total submission to Allah's will (Baqarah: 247; Nisa: 54 and Munafiqun: 8). To enable the true faithfuls to identify the rightful inheritors of God's kingdom, an extract from the prayer of Imam Ali bin Husayn al Zaynal Abidin is given below: O my Allah, this office (administration of the God's kingdom) belongs to the leaders appointed by Thee, Thy chosen friends, because it was founded and preserved for Thy fearless trustees, who have been particularly elected to execute this highest function, but Thy representatives have been wronged by the usurpers, every trick is used to harass them and to snatch from them their rights, again and again intimidated and exposed to dangers. Thy book has been thrown to the winds, commandments made obligatory by Thee have been falsified and put out of context, and Thy prophet's way of life has been discontinued and discarded. Why? Thou knows best. (Du-a al Jumu-ah-Sahifa al Kamilah) If the theory of might is right is accepted then usurpation will have no meaning at all.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:26-27
جبر واکراہ کی نفی
جبر واکراہ کی نفی یہاں مختصرطور پر اس نکتے کی یاد دہانی ضروری ہے کہ قانون اورآفرنیش ، حکم عقل اور دعوت انبیاء کی نظر سے ہر شخص سعادت وخوش بختی ، عزت و ذلت اور رزق کے حصول کے لیے کوشش کرنے میں آزاد اور مختار ہے ، تو پھر مندرجہ بالا آیت میں ان چیزوں کی نسبت خدا تعالی کی طرف کیونکر دی گئی ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عالم آفرنیش اور افراد کے پاس جو عنایات ، عطیات ، توانائیاں اور صلاحتیں ہیں سب کا اصلی سرچشمہ خدا ہے ، اسی نے عزت اور خوش بختی کے تمام ذرائع لوگوں کے اختیار میں دیے ہیں اسی نے اس دنیا کے لیے ایسے قوانین وضع کیے ہیں کہ جنہیں ٹھکرا دینے کا نیتجہ ذلت ہے اس لیے ان تمام کی نسبت اس کی طرف دی جاسکتی ہے ، لیکن یہ نسبت انسان کے ارادے کی آزادی کی نفی نہیں کرتی کیونکہ یہ انسان ہی ہے جو اللہ کی ان عنایات اورعطیات سے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کے زریعے صحیح یا غلط فائدہ اٹھاتاہے.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:26-27
تفسیر
تفسیر گذشتہ آیات میں مشرکین اور اہل کتاب کے بارے میں گفتگو تھی کہ وہ کیسے ملک اور عزت کو اپنے لیے مخصوص جانتے نہیں اور خود کو اسلام سے بے نیاز سمجھتے ہیں ۔ اب ان آیات میں خداوند عالم ان کے اس زعم باطل کو غلط ثابت کرتا ہے اور فرمایا ہے : خدا ہی ہر ملک و سلطنت کا مالک ہے ، خیرونیکی اس کے قبضے میں ہے ، وہ قدرت مطلقہ ہے اور ہرحالت میں اسی کی پناہ حاصل کرنا چاہیئے۔ موجودات کا حقیقی مالک وہی ہے جو ان کا خالق و پروردگار ہے ، جیساکہ سورہ مومن کی آیہ 62 میں ہے : "ذلكم الله ربكم خالق كل شي" : یہ خدا جو تمہارا پروردگار ہے، تمام چیزوں کا خالق ہے وہ وہی ہے جو جسے چاہتا ہے ملک و سلطنت بخش دیتا ہے اور جس سے چاہتاہے لے لیتا ہے ، وہی عزت دیتا ہے اور وہی جسے چاہتا ہے خاک ذات میں بٹھادیتا ہے۔ یہ سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور اس کے زیر فرمان ہے ۔ وہ اپنے افعال میں مجبور نہیں ہے ۔ وہ فاعل مختار ہے نہ کہ فاعل مجبور۔ بناکہے واضح ہے کہ مشیت و ارادہ سے ان آیات میں یہ مراد نہیں کہ وہ بغیر کسی حساب کتاب کے یا بغیر کسی وجہ کے کسی کو کوئی چیز عطا کرتا ہے اور کسی سے کوئی چیزلے لیتا ہے جبکہ اس کی مشیت حکمت سے وابستہ ہے جہان خلقت کا پورا نظام اور عالم انسانیت کا سارا پروگرام اس کی مصلحت و حکمت کے تحت چل رہا ۔ اس لیے وہ جو کام بھی کرتاہے اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہترین اور صحیح ترین ہوتا ہے۔ " بيدك الخيراتك علٰی كل شي قدير": لفظ "خير" کا فارسی میں متبادل ہے "بہتر" - یہ افضل التفضیل اور ایک چیز کی دوسری پر برتری بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے تاہم ہراچھے امر کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ مثلًا سوره بقره آیه 221 میں ہے: "ولعبد مؤمن خير من مشرك"۔ بت پرست کی نسبت بنده مومن سے شادی کرنا بہتر ہے۔ ظاہر ہے کہ مشرک میں تو کوئی اچھائی اور خوبی نہیں کہ کہا جاسکے کہ وہ اچھا ہے اور مومن اس سے بہتر ہے۔ افضل التفضيل کے مفہوم میں بھی بعض اوقات یہ بات آجاتی ہے مثلًا سورہ یوسف کی آیه ۳۳ میں حضرت یوسف کی زبانی فرمایاگیا ہے: "رب الجن أحب إلي مما يدعون الیه : یعنی - پروردگار ! یہ شرمناک عمل زنا جس کی مجھے مصر کی عورتیں دعوت دے رہی ہیں اس سے قید مجھے زیادہ محبوب ہے۔ واضح ہے زنا کوئی ایسا عمل نہیں کہ جو حضرت یوسفؑ کی نظر میں محبوب ہو کہ اسے قید سے زیادہ محبوب قرار دیا جائے اس بناء پر افضل التفصيل ٓصرف موازنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اگرچہ ایک طرف وہ صفت بالکل موجود نہ ہو اور فقط دوسری طرف پائی جاتی ہو۔ "بيدك الخير" یہ الفاظ دو حوالوں سے یہ بتاتے ہیں کہ تمام خیرات اور اچھائیاں خدا تعالٰی میں منحصر ہیں ۔ 1- لفظ خیر کے ساتھ الف اور لام ہے اور سیال اسے الف لام استغراق کہتے ہیں۔ 2- یہاں مبداء الٰہی "خير" بعد میں ہے اور "بیدک" جو اس کی خبر ہے وہ پہلے ہے۔ اور یہ دونوں چیزي حصر کی دلیل ہیں. اس لیے ان الفاظ کا معنی کچھ یوں ہوگا : تمام نیکیاں تیرے ہی قبضہ قدرت میں ہیں۔ "بيدك الخير" سے ضمنًا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خدا تعالٰی ہرقسم کی خیر اور سعادت کا سرچشمہ ہے . وہ عزت بخشتايا ذلت دیتا ہے تو یہ سب کچھ قانون عدالت کے مطابق ہوتا ہے اور اس میں کچھ بھی"شر" نہیں ہوتا۔ " إنك على كل شئ قدير" یہ جملہ گذشتہ حصے کی دلیل کے طور پر آیا ہے ۔ یعنی جب خدا قدرت مطلقہ کا مالک ہے تو پھر کوئی اشکال اور شبہ نہیں ہے کہ تمام نیکیاں اور اچھائیاں اس کے ارادے کے ماتحت ہوں گی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:26-27
صالح اور غیرصالح حکومتیں
صالح اور غیرصالح حکومتیں یہاں ایک اہم مسئلہ دور پیشں ہوگا اور وہ یہ کہ ممکن ہے مندرہ بالا آیت سے کچھ لوگ یہ نتیجہ اخذ کریں کہ جس شخص کو بھی حکومت ملتی ہے اور جس سے بھی حکومت کھوجاتی ہے سب ارادہ الٰہی کے تحت ہوتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ تاریخ میں گزرنے والے چنگیز اور ہٹلر جیسے جابر اورستمگر حکمرانوں کی حکومت پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی جائے۔ اتفاق ہے کہ تاریخ کہتی ہے کہ یزید بن معاویہ نے اپنی شرمناک اور ظالمانہ حکومت کے جواز اور توجہیہ کے لیے اسی آیت سے استدلال کیا تھا ۔؎1 یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے اس اعراض کے جواب میں آیت کی مختلف وضاحتیں پیش کی ہیں ان میں سے ایک ہے کہ یہ آیت خدائی حکومتوں سے مخصوص ہے یا پیغمبراکرمؐ کی حکومت کے قیام اور قریش کی خاطر حکومتوں کے اختتام سے مخصوص ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ آیت ایک کلی اور عمومی مفہوم کی حامل ہے جس کے مطابق تمام اچھی اور بری حکومتیں خدا تعالٰی مشیت اور ارادے کے مطابق ہیں مگر اس کا مفہوم یہ ہے کہ خدا وند عالم نے اس دنیا میں کامیابی اور پیش رفت کے لیے عوامل واسباب کا ایک سلسلہ پیدا کیا ہے ۔ ؎1 اور ان آثار سے فائدہ اٹھانا ہی مشیت خدا ہے ، اس لیے خدا کی مشیت سے مراد وہ آثار ہیں جوان عوامل و اسباب میں پیدا کیے گئے ہیں ۔ اب اگر چنگیز ، یزید اور فرعون جیسے ظالم اور غیر صالح افراد کا میابی کے ان وسائل سے استفادہ کریں اور کمزور ، پسماندہ اور بزدل قومیں اپنے آپ کو ان کے سپرد کردیں اور ان کی شرمناک حکومت کو گوارہ کرلیں تو یہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے ۔ کہاوت ہے: ہر قوم اسی حکومت کی لائق ہے جو اس پرقائم ہے۔ اگر قومیں بیدار ہوں اور جابرو قاہر بادشاہوں سے یہ اسباب چھین کر صالح اور اہل ہاتھوں میں دے دیں اور عادلانہ حکومتیں قائم کریں تو یہ بھی ان کے اعمال کا نتیجہ ہے جو الٰہی اسباب و عوامل سے استفادہ کے طریقے سے وابستہ ہے۔ درحقیقت یہ آیت تمام افراد اور تمام انسانی معاشروں کی بیداری کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ وہ ہوشیار رہیں اور اس سے پھے کہ غیرصالح افراد ان عوامل کے ذریعے معاشرے کے حساس منصب سبنھال لیں اور تمام اہم مورچوں پر قبضہ کرلیں ، یہ خود کامیابی کے وسائل سے فائدہ اٹھائیں۔ "تولج الليل في النهار وتولج النهار في اليل": "ولوج" لغت میں اور دن کو رات میں داخل کرنا ہے ، ایت کہتی ہے . اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ قران مجید میں آٹھ دیگر مقامات پربھی اس بات کا تذکرہ موجودہے : اس آیت سے مراد وہی تدریجی اور حسی تبدیلی ہے جو سال بھر میں رات دن میں بھر دیتے ہیں ۔ یہ تبدیلی اس کره ارش کے محور کے اپنے مدار سے جہاد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو ۲۳ درجے سے کچھ زیادہ ہے اور اس سے سورج کی کرنوں کے زاویے کبھی بدل جاتے ہیں ۔ اسی لیے بلا وشمالي (خط استواء سے اوپر والے حصے) میں سردیوں کی ابتداء میں دن بڑھنے لگتے ہیں اور راتیں چھوٹی ہونا شروع ہوجاتی ہیں ۔ اس کے برعکس گرمیوں کے آغاز میں راتیں بڑھنے لگتی ہیں اور دن ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 المیزان بحوالہ ارشاد از شیخ مفید ۔------------------------------------------------------------------------ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں اور سردیوں کی ابتدا ءتک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جب کہ بلاد جنوبی (خط استوا کے نیچے والے حصے) میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ اس لیے خدا تعالٰی ہمیشہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے یعنی ایک میں کمی کرتا ہے اور دوسرے میں اضافہ کر دیتا ہے ممکن ہے کہا جائے کہ خط استوا ، کے اوپر اور اس طرح قطب شمالی اور قطب جنوبی کے اصلی نقطے میں رات دن تمام سال برابر رہتے ہیں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی اور تغیر رونما نہیں ہوتا ۔ خط استوا پر سال بھررات دن بارہ بارہ گھنٹے کے اور قطب شمالی اور جنوبی میں سال میں ایک رات چھ ماہ کی اور ایک دن چھ ماہ کا ہوتا ہے ، اس لیے یہ آیت عمومی پہلو نہیں رکھتی۔ اس کے جواب میں کہنا چاہیے کہ حقیقت میں خط استواء ایک فرضی خط کے سوا کچھ نہیں اور لوگ ہمیشہ سے خط استوا کے اس طرف یا اس طرف زندگی بسر کرتے چلے آرہے ہیں اس طرح نقطۂ قطب بھی فرضی نقطے سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا اور شمالی و جنوبی قطب میں رہنے والے لوگوں کی زندگی ، (اگر و ہاں کوئی رہتا ہو تو یقینًا قطب کے حقیقی نقطے سے وسیع ترجگہ میں ہوگی اس بناء پر دونوں صورتوں میں رات اور دن کو اختلاف موجود ہے۔ ممکن ہے اس آیت کا مندرجہ بالا مفہوم کے علادہ ایک اور معنی بھی ہو اور وہ یہ کرہ ارض میں فضا کے طبقات کی وجہ سے اس میں اچانک رات اور دن پیدا نہیں ہوتے کہ بلکہ فجر اور شفق سے شروع ہوکردن آہستہ آہستہ پھیلتا جاتا ہے اور رات کا آغاز مشرق کی سرخی سے ہوتا ہے اور تد ریجًا تمام جگہوں پر تاریکی چھا جاتی ہے۔ رات اور دن میں تدریجی تبدیلی جس حوالے سے بھی ہو انسان اورکرہ ارض کے دیگر موجودات کےلیے فائدہ مند ہے ، سبزوں ، فصلوں اور بہت سے جانداروں کی پرورش سورج کی تدریجی روشنی اور حرارت کی مرہون منت ہے۔ آغاز بہارسے جوں جوں دھوپ کی شدت اور حمایت میں اضافہ ہوتا ہے بیانات اور حیونات اپنے تکامل کے نئے نئے مرحلے طے کرتے ہیں اور انہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ روشنی اور حرارت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضرورت شب و روز کے تدریجی سفر سے پوری ہوتی ہے اور یہاں وہ اپنے ارتقاء کے آخری نقطے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر رات اور دن ایسے ہوتے تو بہت سے نباتات او حیوانات نشوونا اور رشد و تکامل سے محروم رہ جاتے اور چار موسموںکا تصور بھی نہ ہوتا کیونکہ وہ بھی اختلاف لیل ونہار۔ اور سورج کی کرنوں کے بدلتے ہوئے زاویوں کے مرہون منت ہیں- یوں انسان فطری طور پر موسموں کے اختٓلاف کے فوائد سے بے بہرہ رہ جاتا۔ اسی طرح اگر آیت کے دوسرے مفہوم کو پیش نظر رکھیں کہ رات اور دن تدریجی طور پر تبدیل ہوتے ہیں ناگہانی طور پر نہیں اور شفق ، طلوع صبح صادق اور طلوع آفتاب رات اور دن کے درمیان امور پذیر ہوتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ رات اور دن کا یہ تدریجی عمل زمین میں رہنے والوں کے لیے ایک عظیم نعمت ہے کیونکہ اس طرح وہ آہستہ آہستہ تاریکی یا روشنی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور یہی صورت ان کی جسمانی اور اجتماعی کیفیت میں سازگار ہے جب کہ دوسری صورت بہت سی پریشانیوں کا سبب بن سکتی تھی۔ "وتخرج الحي من الميت و تخرج الميت من الحي"۔ یہ تعبیری قرآن کی کئی ایک آیات میں موجود ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: خدا زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ زندہ کو مردہ سے نکالنے سے مراد ہے جان موجودات سے حیات کو پورا کرنا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب زمین زندگی کو قبول کرنے کے قابل ہوئی تو زنده موجودات بے زبان مادہ سے معرض وجود میں آئے۔ علاوہ ازیں ہمارے بدن میں اور تمام عالم کے زندہ و موجودات میں بے جان مواد خلیوں ( CELLS) کا موجود میں زنده موجود میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ زنده موجودات سے مردہ وجود کی پیدائش کا عمل بھی ہماری آنکھوں کے سامنے جاری و ساری رہتا ہے۔ یہ آیت و حقیقت موت و حیات کے دائمی قانون تبادل کی طرف اشارہ ہے جو بہت عام اور بہت پیچیدہ ہے اس کے باوجود نہایت جاذب نظر اور عجیب ترین قانون ہے جو ہم پر حکمران ہے۔ اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی ہے جو گذشتہ تفسیر کی نفی نہیں کرتی اور وہ ہے معنوی و روحانی زندگی اور موت کا مسئلہ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات اس کےبرعکس بے ایمان جو حقیقی زنده ہیں بے ایمان افراد جو دراصل مردہ ہیں سے معرض وجود میں آتے ہیں اور بعض اوقات اس کے برعکس بے ایمان افراد اہل ایمان سے پیدا ہوجاتے ہیں ۔ قرآن نے معنوی زندگی اور موت کو متعدد آیات میں ایمان اور کفر سے تعبیر کیا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق قرآن قانون توارث کی بنیادوں کو منہدم کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جب کہ دانشور اسے طبیعت کے قطعی قوانین میں سے سمجھتے ہیں . انسان طبیعت کے بے جان موجودات کی طرح نہیں ہے کیونکہ یہ موجودات مختلف عوامل کے زیراثر مجبور ہیں جب کہ انسان ارادے کی آزادی کا حامل ہے اور یہ بذات خود اللہ کی ایک قدرت نمائی ہے کہ وہ کافر کی اس اولاد سے آثار کفرمحو کر دیتا ہے جو واقی مومن بننا چاہے اور مومن کی اس اولاد سے آثارآیمان دھوڈالتا ہے جو کافر بننا پسند کرے۔ ارادے کا یہ استقلال جو ہر طرح کے مساعد و نامساعد حالات میں توارث پر غالب آجاتا ہے ، اسی کی طرف سے ہے. یہی مفہوم پیغمبراسلامؐ کی ایک روایت میں ہم تک پہنچا ہے. تفسير درمنشور میں سلمان فارسی سے منقول ہے : رسول اللہ نے "تخرج الحي من الميت "..... کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : اللہ تعالی مومن کو کافر کی صلب سے اور کافر کو مومن کی صلب سے نکالتا ہے۔ "وترزق من تشاء بغير حساب" اصطلاح کے مطابق یہ جملہ" خاص" کے بعد "عام" کے قبیل میں سے ہے ۔ گذشتہ جملوں پر خدا کی طرف سے بندوں کو رزق دینے کے چند نمونے بیان ہوئے تھے اور اس جملے میں مسئلہ عمومی صورت میں بیان کیاگیا ہے جس میں ہر طرح کے رزق اور تمام عطیات کا ذکر آگیا ہے یعنی نہ صرف یہ کہ عزت ، حکومت ، موت اور زندگی خدا کے قبضہ قدرت میں ہے بلکہ ہر روزی ، نعمت اور عنایت اسی کی طرف سے ہے۔ "بغير حساب" اس طرف اشارہ ہے کہ عنایات خداوند کے دربار اس قدر وسیع اور گہرے ہیں کہ وہ جتنی بھی مقدار جسے بھی بخش دے ان میں کچھ فرق نہیں آتا اور وہ حساب رکھنے کا محتاج نہیں کیونکہ حساب تو وہ رکھتے ہیں جن کا سرمایہ محدود ہو اور اس کے کم یا ختم ہو جانے کا خوف ہو لیکن وہ خدا جو عالم وجود و کمالات کا ہے کنارسمندر ہے اسے کم ہونے کا خوف ہے نہ اس سے کوئی حساب لینے والا ہے اور نہ ہی اسے حساب کی ضرورت ہے۔ جو کچھ کہاگیا ہے اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جملہ ان آیات کی نفی نہیں کرتا جن میں تقدیر الٰہی ، حساب کتاب ،لوگوں کی لیاقت و اہلیت اور خلقت کی حکمت تدبیر کا تذکرہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:26-27
آیه 26-27 سوره عمران
(26) قُلِ اللّـٰـهُـمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُۖ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْـرُ ۖ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (27) تُوْلِجُ اللَّيْلَ فِى النَّـهَارِ وَتُوْلِجُ النَّـهَارَ فِى اللَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ۖ وَتَـرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَيْـرِ حِسَابٍ ترجمہ (26) کہیے بارالهٰا! حکومتوں کا مالک تو ہے، تو ہی جسے چاہتا ہے کہ حکومت بخشتاہےاور جس سے چاہتا ہے حکومت لے لیتا ہے ، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، تمام خوبیاں تیرے ہاتھ میں ہیں کیونکہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ (27) رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، مردہ سے زندہ کر اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:26-27
شان نزول
شان نزول مشهور مفسر طبری نے مجمع البیان میں اس سلسلے میں دو شان نزول بیان کی ہیں اور ہردو ایک ہی حقیقت کی شاندہی کرتی ہے. ذیل میں دونوں شان نزول پیشں کی جاتی ہے۔ 1- پیغمبر اکرم نے مکہ فتح کرلیاتو مسلمانوں کو خوشخبری دی کہ بہت جلد ایران اور روم بھی پرچم اسلام کے نیچے ہوں گے۔ یہ بات سنی تومنافقین کہ جن کے دل ابھی نور ایمان سے روشن نہیں ہوئے تھے اسے مبالغہ آمیز کہنے لگے اور تعجب سے کہنے لگے۔ محمدؐ نے مدینہ اور مکہ کو کافی نہیں سمجھا اور ایران و روم کی لال بھی رکھتا ہے۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں. 2- جب پیغمبراکرمؐ مدینے کے باہر مسلمانوں کے ساتھ خندق کھود رہے تھے ، مسلمان نہایت نظم ق نسق اورانہماک سے دستوں میں منقسم ہوکر خندق کھودنے میں مصروف تھے تاکہ دشمن کے آنے سے پہلے یہ دفاعی کام پایۂ تکمیل کو پہنج جائے ۔ اچانک خندق میں سے ایک سفید اور سخت پتھر نکلا جے مسلمان ہلانے اور توڑنے میں ناکام ہوگئے۔ سلمان پیغمبر اکرمؐ کے پاس آئے اور ماجرا بیان کیا ، آنحضرتؐ خندق میں اترے ، سلمان سے کدال لی اور زور سے پھر ہماری - کدال پتھر گئی تو ایک شعلہ نکلا ۔ اس پر پیغمبراکرمؐ نے کامیابی کی تکبیر بلند کی مسلمان بھی آپؐ کے ہم آواز ہوئے اور ان سے تکبیر بلند ہوئی ۔ نبی اکرمؐ نے دوسری دفعہ کدال پتھر پرماری تو پھرشعلہ نکلا اور کچھ متھ ٹوٹ گیا ۔پیغمبر اکرمؐ اور مسلمانوں نے پھر تکبیر بلند کی ، تکبیر کی آواز سے فضاگونج نے اٹھی ۔ آپؐ نے تیسری مرتبہ کمال بلند کی اور باقی پیتر زور سے ماری پھر شعلہ نکلا جس سے چاروں طرف چمک پھیلی اور باقی پتھر بھی ٹوٹ گیا اور پھر تیسری مرتبہ تکبیر کی آواز خندق میں گونجی۔ سلمان نے عرض کیا : آج میں نے آپ سے یہ عجیب و غریب چیز دیکھی ہے۔ پیمغبراکرمؐ نے ارشاد فرمایا: پہلی مرتب شعلہ نکلا تو اس میں میں نے حیرہ اور مدائن کے محلات دیکھے اور میرے بھائی جبرئیل نے مجھے بشارت دی کہ وہ پرچم اسلام کے نیچے آئیں گے۔ دوسرے شعلے میں میں نے روم کے محلات دیکھے اور جبرئیل نے بشارت دی کہ وہ میرے پیروکاروں کے قبضے میں آئیں گے اور تیسرے شعلے میں میں نے صنعاء اور حمین کے محلات دیکھے اس پر جبرئیل نے بشارت دی کہ مسلمان انہیں بھی فتح کرلیں گے ۔ اسی لیے میں نے تکبیر کہی ۔ اے مسلمانو! تمہیں مبارک ہو ۔ مسلمان تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور خدا کا شکر ادا کرتے تھے لیکن منافقین کے چہرسے بگڑگئے اور وہ مغموم ہوگئے ۔ وہ اعتراض کرنے لگے : کیسی غلط آرزو ہے اور کیسامحال وعدہ ہے حالانکہ اس وقت تو انہوں نے اپنی جان کے خطرے سے دفاعی حالت اختیار کر رکھی ہے، خندق کھود رہے ہیں ، اس چھوٹے دشمن سے بھی جنگ کے قابل نہیں ہیں اور سر میں دنیا کے عظیمم ملکووں کی فتح کا سودا سمایا ہوا ہے۔ تو اس موقع پرمحل بحث آیات نازل ہوئیں جن میں ان منافقین کو جواب دیاگیا ہے۔