الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ
Those who responded to Allah and the Apostle [even] after they had been wounded—for those of them who have been virtuous and Godwary there shall be a great reward.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:172
[Pooya/Ali Commentary 3:172] Study these verses with reference to verses 140 to 142, 144 and 153 of this surah. In spite of having an upper hand at Uhad the Makkan army (on account of Ali's valour) retreated and camped at Hamra ul Asad where Abu Sufyan made it known that next year he would attack again and destroy the Muslims. The allies of Abu Sufyan in Madina gave forth an exaggerated account of the preparations at Makka in the hope that, with the battle of Uhad yet fresh in memory, the Muslims might be deterred from setting out for another fight. When it was reported to the Holy Prophet, Ali ibn abi Talib said: "Sufficient unto us is Allah." At the appointed time the Holy Prophet went to encounter the Makkan army but they did not come.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:172-180
God has referred why the Prophet, who was so dear to Him, and in whom He had confided the secrets of creation, behaved with such a great consideration, else the examination would not have come into existence, as the Prophet fully knew which most of them would apostate. They did so and paved the way to the “Tragedy of KARBALA.”
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:172-174
غزوہٴ حمراء الاسد
غزوہٴ حمراء الاسد ہم کہ چکے ہیں کہ جنگ احد کے اختتام پر ابو سفیان کا فاتح لشکر بڑی تیزی سے مکہ کی طرف روانہ ہوا ۔ جب وہ روحاء کے مقام پر پہنچے تو اپنے کئے پر بہت پشیمان ہوئے اور انہوں نے مدینہ کی طرف لوٹنے اور باقی ماندہ مسلمانوں کو نابود کرنے کا ارادہ کیا ۔ یہ اطلاع پیغمبر اکرم کو پہنچی تو آپ نے فورا ً حکم دیا کہ جنگ احد میں شریک ہونے والا لشکر دوسری جنگ کے لئے تیار ہو جائے ۔ آپ نے یہ حکم خصوصیت سے دیا کہ جنگ احد کے زخمی بھی لشکر کی صفوں میں شامل ہوں ۔ ایک صحابی کہتے ہیں: میں بھی زخمیوں میں سے تھا لیکن میرے بھائی کے زخم مجھ سے زیادہ شدید تھے ۔ ہم نے ارادہ کر لیا کہ جو بھی حالت ہو ہم پیغمبر اسلام کی خدمت میں پہنچیں گے ۔ میری حالت چونکہ میرے بھائی سے کچھ بہتر تھی ، جہاں میرا بھائی نہ چل پاتا میں اسے کندھے پر اٹھا لیتا ۔ بڑی تکلیف سے ہم لشکر تک جا پہنچے پیغمبر اکرم اور لشکر اسلام ” حمراء الاسد “ کے مقام پر پہنچ گئے اور وہاں پڑاوٴ ڈال دیا یہ جگہ مدینے سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھی ۔ یہ خبر لشکر قریش تک پہنچی خصوصا ً جب انہوں نے مقابلے کے لئے ایسی آمادگی دیکھی کہ زخمی بھی میدان جنگ میں پہنچ گئے ہیں تو وہ پریشان ہو گئے اور شاید انہیں یہ فکر بھی لاحق ہوئی کہ مدینے سے تازہ دم فوج ان سے آملی ہے ۔ اس موقع پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کے دلوں کو اور کمزور کر دیااور ان میں مقابلے کی ہمت نہ رہی ۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک مشرک جسکا نام معبد خزاعی تھا مدینے سے مکہ کی طرف جا رہا تھا ۔ اس نے پیغمبر اکرم اور ان کے اصحاب کی کیفیت دیکھی تو انتہائی متاثر ہوا ۔ اس کے انسانی جذبات میں حرکت پیدا ہوئی ۔ اس نے پیغمبر سے عرض کیا : آپ کی یہ حالت و کیفیت ہمارے لئے بہت ہی نا گوار ہے ، آپ آرام کرتے تو ہمارے لئے بہتر ہوتا ۔ یہ کہہ کر وہ وہاں سے چل پڑا اور روحاء کے مقام پر ابو سفیان کے لشکر سے ملا ۔ ابو سفیان نے اس سے پیغمبر اسلام کے بارے میں سوال کیا تو اس نے جواب میں کہا : میں نے محمد کو دیکھا ہے کہ وہ ایسا عظیم لشکر لئے تمہارا تعاقب کر رہے ہیں جس جیسا لشکر میں نے کھی پہلے نہیں دیکھا تھا اور وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ابو سفیان نے اضطراب اور پریشانی کے عالم میں کہا : تم کیا کہہ رہے ہو ؟ ہم نے انہیں قتل کیا ، زخمی کیا اور منتشر کرکے رکھ دیا تھا ۔ معبد خزاعی نے کہا : میں نہیں جانتا تم نے کیا کیا ہے ، میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ ایک عظیم اور کثیر لشکر اس وقت تمہارا تعاقب کر رہا ہے ۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں نے قطعی فیصلہ کر لیا کہ وہ تیزی سے پیچھے ہٹ جائیں اور مکہ کی طرف پلٹ جائیں اور اس مقصد کے لئے کہ مسلمان ان کاتعاقب نہ کریں اور انہیں پیچھے ہٹ جانے کا کافی موقع مل جائے ، انہوں نے قبیلہ عبد القیس کی ایک جماعت سے خواہش کی کہ وہ پیغمبر اسلام اور مسلمانوں تک یہ خبر پہنچا دیں کہ ابو سفیان اور قریش کے بت پرست باقی ماندہ اصحاب پیغمبر کو ختم کرنے کے لئے ایک عظیم لشکر کے ساتھ تیزی سے مدینے کی طرف آرہے ہیں ۔ یہ جماعت گندم خریدنے کے لئے مدینہ جا رہی تھی جب یہ اطلاع پیغمبر اسلام اور مسلمانوں تک پہنچی تو انہوں نے کہا :حسبنا اللہ و نعم الوکیل ۔ ( خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ ہمارا بہتریں اور مدافع ہے )انہوں نے بہت انتظار کیا لیکن دشمن کے لشکر کی کوئی خبر نہ ہوئی ۔ لہذا تین روز توقف کے بعد وہ مدینہ کی طرف لوٹ گئے مندرجہ بالا آیات اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ ۱ الَّذینَ اسْتَجابُوا لِلَّہِ وَ الرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ ما اٴَصابَہُمُ الْقَرْحُ لِلَّذینَ اٴَحْسَنُوا مِنْہُمْ وَ اتَّقَوْا اٴَجْرٌ عَظیمٌ ۔ جنہوں نے خدا اورپیغمبر کی دعوت قبول کی اور جنگ احد میں اٹھائے گئے زخموں کے باوجود دشمن سے دوسری جنگ کے لئے آمادہ ہو گئے ان میٰ سے نیک عملکرنے والوں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں یعنی پاکیزہ نیت اور خلوص کامل سے میدان میں شرکت کرنے والوں کے لئے اجر عظیم ہے ۔ زیر نظر آیت میں ایک گروہ کے لئے اجر عظیم مخصوص کیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بھی کچھ ایسے افراد تھے جو صحیح طور پر مخلص نہ تھے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ” منھم “ ( ان میں سے بعض ) اس طرف اشارہ ہو کہ احد کے جنگجو لوگوں میں سے بعض کسی بہانے سے اس میدان سے کنارہ کش ہو گئے ۔ اس کے بعد قرآن نے ان می پا مردی و استقامت کی ایک درخشاں نشانی کا یوں تذکرہ کیا ہے : الَّذینَ قالَ لَہُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزادَہُمْ إیماناً وَ قالُوا حَسْبُنَا اللَّہُ وَ نِعْمَ الْوَکیلُ ۔ یعنی یہ وہی لوگ تھے جنہیں کچھ لوگوں نے ( قبیلہ عبدالقیس کے لوگ یا ایک روایت کے مطابق نعیم بن مسعود جو خبر لائے تھے ) کہا کہ دشمن کی فوج جمع ہو گئی ہے اور وہ حملہ کرنے کو تیار ہے ، ان سے ڈرو لیکن وہ نہ صرف یہ کہ ڈرے نہیں بلکہ اس کے بر عکس ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے کہا خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین حامی ہے ۔ اس استقامت، ایمان اور زبر دست پا مردی کے کے تذکرہ کے بعد قرآن ان کے عمل کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : ” فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّہِ وَ فَضْلٍ “ یعنی وہ اس میدان سے اللہ سے فضل و نعمت کے ساتھ لوٹے ۔ نعمت و فضل اس سے بڑھکر اور کیا ہوگاکہ دشمن ان سے بھاگ گیا اور یہ صحیح سالم بغیر کوئی زحمت اٹھائے مدینہ پلٹ آئے ۔ فضل و نعمت میں ممکن ہے یہ فرق ہو کہ نعمت استحقاق کے طور پر اجرت کے مفہوم میں ہو اور فضل استحقاق سے بڑھ کر اور اس پر اضافہ ہو ۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر ہے : لم یمسسھم سوء ۔ یعنی انہیں اس واقعہ میں تھوڑی سی تکلیف بھی نہیں پہنچی ۔ جبکہ ”و اتبعوا رضوان اللہ “ خوشنودی خدا ان کے ہاتھ آئی انہوں نے فرمان خدا کی اتباع کی ” و اللہ ذو فضل عظیم “ اور خدا کے پاس عظیم فضل انعام ہے جو حقیقی مومنین اور سچے مجاہدین کے انتظار میں ہے ۔ ۱ ۔ نورالثقلین ، مجمع البیان ، المنار اور دیگر کتب ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:172-174
تربیت الٰہی کی فوری تاثیر
جنگ احد اور واقعہ حمراء الاسد جس کی تفصیل گذر چکی ہے ، ان دونوں مواقع پر مسلمانوں کے جذبہ کا موازنہ کیا جائے تو انسان کو تعجب ہوتا ہے کہ ایک شکست خوردہ جماعت جس کے جذبے بلند تھے ، تعداد کافی نہ تھی اور جس میں بہت سے زخمی بھی موجود تھے اتنی تھوڑی سی مدت میں جو شاید چوبیس گھنٹے بھی نہ بنتی تھی اس کی حالت اتنی بدلی کہ وہ عزم راسخ اور بڑے ولولے اور جذبے کے ساتھ دشمن کے تعاقب پر آمادہ ہوگئی یہاں تک کہ قرآن ان لوگوں کے متعلق کہتا ہے جب انہیں اطلاع ملی کہ دشمن نے ان پر حملے کے لئے اکٹھ کر لیا ہے تو وہ صرف یہ کہ ڈرے نہیں بلکہ ان کاایمان اور بڑھ گیا اور ان کے استتقامت میں اضافہ ہوگیا ۔ در اصل یہ ہدف و مقصد پر ایمان رکھنے کی خاصیت ہے کہ انسان پر مشکلات و مصائب جس قدر بڑھیں اور وہ انہیں زیادہ قریب سے دیکھے اس کی پامردی اور استقامت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے ۔ در حقیقت ایسے میں اس کی تمام روحانی و مادی قوتیں خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے مجتمع ہو جاتی ہیں ۔ ایک چھوٹی سی جماعت میں یہ عجیب و غریب تغیر انسانی تربیت کرنے والی آیات قرآن اور پیغمبر اسلام کے موثر و دل آویز ارشادات کی فوری اور گہری تاثیر کا غماز ہے اور یہ بات بذات خود ایک معجزے سے کم نہیں ۔ ۱۷۶ ۔ وَ لا یَحْزُنْکَ الَّذینَ یُسارِعُونَ فِی الْکُفْرِ إِنَّہُمْ لَنْ یَضُرُّوا اللَّہَ شَیْئاً یُریدُ اللَّہُ اٴَلاَّ یَجْعَلَ لَہُمْ حَظًّا فِی الْآخِرَةِ وَ لَہُمْ عَذابٌ عَظیمٌ ۔ ۱۷۷۔ إِنَّ الَّذینَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بِالْإِیْمانِ لَنْ یَضُرُّوا اللَّہَ شَیْئاً وَ لَہُمْ عَذابٌ اٴَلیمٌ ۔ ترجمہ ۱۷۶۔ جو لوگ راہ کفر میں دوسرے پر سبقت کرتے ہیں وہ تمہیں غمگین نہ کردیں کیونکہ ہو ہر گز خدا کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ (علاوہ ازیں ) خدا چاہتا ہے ( کہ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیں اور اس کے نتیجے میں ) آخرت میں ان کاکوئی حصہ قرار نہ دے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ۔ ۱۷۷ ۔ لنہوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا ہے وہ خدا کو ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔