وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
Do not suppose those who were slain in the way of Allah to be dead; no, they are living and provided for near their Lord,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:169
[Pooya/Ali Commentary 3:169] Those slain in the way of Allah are not dead. They are alive, getting sustenance from their Lord. The unending life or continuous existence of the martyrs has been fully discussed in the commentary of al Baqarah: 154 and 155. Death is not the destruction of the ruh (spirit). It applies to all human beings, but as said in verse 163 of this surah "of diverse ranks they shall be with Allah", therefore, the martyrs who are nearest to Him and occupy highest positions are in direct communion with their Lord. Their active consciousness perceives that which is happening in this world even after their departure from here. They can reach us and we can have access to them. Through the grace of Allah, on account of their direct relationship with Him, they can carry into effect that which they desire by His permission. As mentioned in al Baqarah: 154 and 155, they are the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:169-171
روح کی بقاء کا شاہد
روح کی بقاء کا شاہد جو آیات صراحت کے بقائے روح پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے زیر نظر آیات بھی ہیں جو موت کے بعد حیات شہداء کے بارے میں ہیں ۔ بعض نے یہ جو احتمال دیا ہے کہ حیات سے مراد ان کی مجازی زندگی ہے اور مقصد ان کے زحمات کے آثار اور نام و نشان کی بقا ہے یہ مفہوم آیات کے معنی سے بہت بعید ہے ۔ یہ مفہوم مندرجہ بالا کے کسی جملے سے پیدا نہیں ہوتا چاہے شہداء کے روزی حاصل کرنے کا معاملہ ہو یا مختلف حوالوں سے ان کے سرور و انبساط کا تذکرہ ۔ علاوہ ازیں زیر نظر آیات وجود برزخ اور نعمات برزخ پر واضح دلیل ہیں ۔اس کی تشریح سورہٴ مومنون کی آیت ۱۰۰ کے ذیل میں تفصیل سے پیش کی جائے گی ۔ مذکورہ آیت یوں ہے : و من ورآئھم برزخ الیٰ یوم یبعثونَ شہیدوں کا اجر مقام شہداء کی اہمیت کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے ۔ ہر قوم و ملت اپنے شہداء کے لئے ایک مخصوص مرتبے کی قائل ہے لیکن اسلام نے راہ خدا کے شہداء کو جو احترام دیا ہے وہ بے نظیر ہے ۔ ذیل میں ایک مثال پیش کی جا رہی ہے جو اسلام کی نظر میں احترام شہداء کا ایک واضح نمونہ ہے ۔ اسلام کی اپنی تعلیمات کی وجہ سے ایک مختصر سی پس ماندہ جماعت میں ایسی قوت و طاقت آگئی جس نے دنیا کے عظیم ترین شاہی نظاموں کو گھٹنے ٹکینے پر مجبور کر دیا ۔ مزکورہ روایت یہ ہے : امام علی بن موسیٰ رضا علیھما السلام امیرالمومنین ضحرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ آنحضرت خطبہ دے رہے تھے اور لوگوں کو جہاد کا شوق دلا رہے تھے ۔ اس دوران میں ایک نو جون کھڑا ہوگیا ۔ اس نے عرض کیا: اے امیرالمومنین (علیه السلام) : مجھ سے راہ خدا میں جنگ کرنے والوں کی فضیلت بیان فرمائیے ۔ امام نے جواب میں فرمایا : ایک دفوہ میں پیغمبر کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار تھا ۔ ہم جنگ ذات السلاسل سے واپس آ رہے تھے یہی سوال جو تو نے مجھ سے کیا ہے میں نے رسول اللہ سے کیا ، تو آپ نے فرمایا : جب مجاہد میدان جہاد میں شرکت کا پختہ ارادہ کر لیتے ہیں تو خدا وند عالم جہنم سے آزادی ان کے لئے مقدر کر دیتا ہے اور جب وہ ہتھیار اٹھا کر میدان جنگ کا رخ کرتے ہیں تو ملائکہ ان پر فخر کرتے ہیں اور جب ان کی بیوی بچے ، عزیز و اقارب انہیں الوداع کہتے ہیں تو وہ اپنے گناہوں سے آزاد ہو جاتے ہیں ------ پھر وہ جو بھی کام کرتے ہیں اس کا اجر دو گنا زیادہ ہو جاتا ہے اور ہر دن کے بدلے ان کے لئے ہزار عابد کی عبادت کا اجر لکھا جاتا ہے اور جب وہ دشمن کے آمنے سامنے ہوتے ہیں تو پورے عالم کے لوگ ان کے میزان ثواب کا اندازہ نہیں کر سکتے اور جب وہ میدان جنگ میں قدم رکھتے ہیں ، نیزہ و تیر کا تبادلہ ہونے لگتا ہے اور پھر دست بدست لڑائی شروع ہو جاتی ہے تو فرشتے اپنے پر و بال سے انہیں گھیر لیتے ہیں اور خدا سے میدان میں ان کی ثابت قدمی کی دعا کرتے ہیں ۔ اس وقت ایک منادی ندا دیتا ہے : الجنة تحت ظلال السیوف ۔( یعنی جنت تلواروں کے سائے میں ہے ) ۔ اس وقت شہید کے جسم پر دشمن کے وار زیادہ آسان اور گرمیوں میں ٹھنڈا پانی پینے سے زیادہ خوش گوار ہوتے ہیں اور جب شہید اپنی سواری سے نوٹتا ہوا گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے حوران بہشت اس کے استقبال کو آتی ہیں اور اسے ان تمام عظیم روحانی و مادی نعمتوں کی خبر دیتی ہیں جو خدا تعالیٰ نے اس کے لئے فراہم کر رکھی ہیں اور جب شہید زمین پر گر چکتا ہے تو زمین کہتی ہے : آفرین ہے پاکیزہ روح کے لئے جو پا کیزہ بدن سے پرواز کر رہی ہے ، تیرے لئے خوش خبری ہے ، ان لک ما لا عین راٴت و لا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر ۔ یعنی تیرے انتظارمیں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سان ہے اور نہ کسی دل میں ان کا خیال آیا ہے ۔ نیز خدا فرماتا ہے : میں اس کے پس ماندگان کا سر پرست ہوں ، جو کوئی انہیں خوش کرے گا اس نے مجھے کوش کیا اور جو نہیں ناراض کرے گا اس نے مجھے ناراض اور غضب ناک کیا ۔ ۱۷۲۔الَّذینَ اسْتَجابُوا لِلَّہِ وَ الرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ ما اٴَصابَہُمُ الْقَرْحُ لِلَّذینَ اٴَحْسَنُوا مِنْہُمْ وَ اتَّقَوْا اٴَجْرٌ عَظیمٌ ۔ ۱۷۳۔الَّذینَ قالَ لَہُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزادَہُمْ إیماناً وَ قالُوا حَسْبُنَا اللَّہُ وَ نِعْمَ الْوَکیلُ ۔ ۱۷۴۔فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّہِ وَ فَضْلٍ لَمْ یَمْسَسْہُمْ سُوء ٌ وَ اتَّبَعُوا رِضْوانَ اللَّہِ وَ اللَّہُ ذُو فَضْلٍ عَظیمٍ ۔ ترجمہ ۱۷۲۔ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی خدا اور رسول کی دعوت کو قبول کیا ( اور بھی ان کے جنگ احد کے زخم تازہ تھے کہ وہ حمراء الاسد کے میداں کی طرف چل پڑے ) ان میں سے نیک عمل کرنے والوں اور تقوی ٰ اختیار کرنے والوں کے لیے اجر عظیم ہے ۔ ۱۷۳۔ وہ ایسے اشخاص تھے جن سے (بعض ) لوگوں نے کہا کہ ( لشکر دشمن کے ) افراد نے تم پر ( حملہ کرنے کے لیے ) اکٹھ کر لیا ہے ، ان سے ڈرو لیکن ان کا ایمان اور زیادہ وہ گیا اور وہ کہنے لگے کہ خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ ہمارا بہترین حامی ہے ۔ ۱۷۴۔اسی وجہ سے وہ ( اس میدان سے ) پر ور دگار کی نعمت و فضل کے ساتھ اس عالم میں لو ٹے کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور خدا صاحب فضل و بخشش ہے ۔ تفسیر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:169-171
زندہٴ جاوید
زندہٴ جاوید بعض مفسرین کے نزدیک مندرجہ بالا آیات شہدائے احد کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں اور بعض دوسرے سمجھتے ہیں کہ یہ شہدائے بدر سے متعلق ہیں لیکن حق یہ ہے کہ گذشتہ آیات سے ان کا ربط ظاہر کرتا ہے کہ یہ جنگ احد کے بعد نازل ہوئیں ہیں لیکن ان کا عمومی مفہوم بھی ہے جو تمام شہداء جن میں بدر کے چودہ شہدا بھی شامل ہیں پر محیط ہے ۔ اسی لئے امام محمد باقر (علیه السلام) سے یاک حدیث میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : یہ آیات شہداء بدر و احد ، ہر دو کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔ ۱ ابن مسعود پیغمبر سے روایت کرتے ہیں : خدا نے شہداء احد کی ارواح کو خطاب کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا آرزو ہے تو نہوں نے کہا : پروردگار ہم اس سے زیادہ کیا آرزو کر سکتے ہیں کہ ہم ہمیشہ کی نعمتوں میں مستغرق ہیں اور تیرے عرش کے سائے میںرہتے ہیں ، ہمارا تقاضا صرف یہ ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں اور پھر تیری راہ میں شہید ہوں ۔ اس پر خدا نے فرمایا : میرا اٹل فیصلہ ہے کہ کوئی شخص دوبارہ دنیا کی طرف نہیں پلٹے گا ۔ ۲ انہوں نے عرض کیا : جب ایسا ہی ہے تو ہماری تمنا ہے کہ ہمارا سلام پیغمبر اسلام کو پہنچا دے، ہمارے حالات ہمارے پسندگان کو بتا دے اور انہیں ہماری حالت کی بشارت دے تا کہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو ۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں ۔ یوں لگتا ہے کہ جنگ احد کے بعد کچھ کمزور ایمان لوگ بیٹھ جاتے اور اپنے ان دوستوں اور عزیزوں کا افسوس کرتے جو اس جنگ میں شہید گئے تھے اور کہتے کہ وہ کیوں مارے گئے اور ختم ہو گئے ۔ خصوصا ً جب انہیں کوئی نعمت ملتی اور ان کی عدم موجودگی کے خیال سے انہیں بہت دکھ ہوتا ۔ وہ اپنے آپ سے کہتے کہ ہم تو ایسے ناز و نعمت سے بہرہ ور ہیں لیکن ہمارے بھائی بیٹے قبروں میں سوئے یوئے ہیں اور ان کے ہاتھ بالکل خالی ہیں ۔ ایسے افکار اور ایسی باتیں نہ فقط یہ کہ درست اور واقع کے مطابق نہ تھیں بلکہ رہ جانے والوں کے جذبوں کو بھی ک کمزور کرنے کا باعث تھیں ۔ زیر نظر آیات نے ایسے افکار پر خط بطلان کھینچ دیا اور شہیدوں کے بلند مقام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:لا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا ۔ یہاں روئے سخن فقط پیغمبر کی طرف ہے تا کہ دوسرے خود اندازہ کر لیں ۔ آیت کے اس حصہ کا مفہوم ہے کہ اے پیغمبر ! یہ گمان ہر گز نہ کیجئے کہ جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ہیں وہ مردہ ہیں ۔بلْ اٴَحْیاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ ۔بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پر ور دگار کے ہاں سے نعمتیں حاصل کرتے ہیں ۔ یہاں زندگی سے مراد برزخ کی زندگی ہے جو موت کے بعد کے زمانے میںارواح کو حاصل کرتی ہے ۔ یہ مادی و جسمانی زندگی نہیں ۔ البتہ یہ زندگی شہداء سے مخصوص نہیں اور دیگر بہت سے لوگ بھی اس زندگی کے حامل ہیں ۔ ۱ ۱ ۔بعض محقیقین دو طرح کے لوگوں کے لئے حیات بر زخ کے قائل ہیں ایک بہت زیادہ نیک اور دوسرے بہت زیادہ برے ۔ لیکن شہیدوں کی زندگی چونکہ بہت انوع واقسام کی نعمتوں سے مالا مال ہے ۔علاوہ ازیں آیت میں موضوع سخن شہداء ہی ہیں اس لئے صرف انہی کا نام لیا گیا ہے اور وہ اس قدر حیات معنوی کی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں گویا برزخ میں رہنے والے باقی لوگوں کی زندگی ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ اس کے بعد شہداء کی حیات برزخ کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ۔فَرِحینَ بِما آتاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ ۔ ۔ ۔ وہ فراواں نعمتیں جو خدا نے اپنے فضل و کرم سے انہیں دی ہیں ان سے وہ خوش حال ہیں ۔ ان کی دوسری مسرت اپنے ان بھائیوں کے بارے میںہے جنہوں نے میدان جنگ میں جام شہادت نوش نہیں کیا اور ان سے مل نہیں پائے ۔ وہ ان کے مقامات اور اجر و ثواب کو اس جہان میں اچھی طرح دیکھتے ہیں اس بنا پر وہ مسرور اور شاداں ہیں جیسا کہ قرآن کہتا ہے : وَ یَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذینَ لَمْ یَلْحَقُوا بِہِمْ مِنْ خَلْفِہِمْ ۲ ۲ ۔استبشار کا معنی ہے بشارت پانا یا خود نعمت حاصل کرنے پر خوش ہونا یا دوستوں کے نعمت پانے پر مسرور ہونا اور اس کا معنی بشارت دینا نہیں ہے ۔ اس کے بعد فرماتا ہے : اٴَلاَّ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لا ہُمْ یَحْزَنُونَ ۔ یعنی شہداء محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مجاہد بھائی ان چیزوں کے بارے میں کوئی غم نہیں کرتے جو وہ بعد از موت دنیا میں چھوڑ آئے ہیں اور نہ ہی انہیں قیامت اور اس کے وحشتناک حوادث کا خوف ہے ۔ اس جملے کی ایک اور تفسیر بھی ہو سکتی ہے ، وہ یہ کہ شہداء اپنے ان مجاہد بھائیوں کے مقامت بلند دیکھ کر خوش ہوتے ہیں جو ان کے ساتھ نہیں سکے اور اس کے علاوہ انہیں خود بھی آئندہ کا کوئی خوف اور گذشتہ کا غم نہیں ہے ۔ ۳ ۳ ۔دوسرے الفاظ میں پہلی تفسیر کی رو سے ”اٴَلاَّ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لا ہُمْ یَحْزَنُونَ “۔کی ضمیریں دنیا میں رہ جانے والوں کی طرف لوٹتی ہیں جبکہ دوسری تفسیر کی رو سے خود شہداء کی طرف لوٹتی ہیں ۔ یَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّہِ وَ فَضْلٍ یہ آیت در حقیقت ان بشارتوں کی زیادہ تاکید اور توضح ہے جو شہادت کے بعد شہداء کو حاصل ہوئی ہیں ۔ وہ دو وجوہ کی بناء پر خوش اور مسرور ہیں: پہلی یہ کہ وہ خدا کی نعمتیں پا لیتے ہیں ، نعمتیں ہی نہیں بلکہ اس کا فضل جس کا معنی ہے ان نعمتوں کی زیادتی اور تکرار ۔ دوسری یہ کہ وہ دیکھتے ہیں کہ خدا مومنین کا اجر ضائع نہیں کرتا نہ شہیدوں اور سچے مجاہدین جو جام شہادت نوش نہیں کر سکے ، کا اجر ضائع نہیں کرتاہے ۔ وَ اٴَنَّ اللَّہَ لا یُضیعُ اٴَجْرَ الْمُؤْمِنینَ ۔در حقیقت جو کچھ انہوں نے پہلے سنا ہوا تھا اب وہ اسے واضح طور پر دیکھیں گے ۔ ۱- نورالثقلین جلد ۱ ، صفحہ ۴۰۹ بحولہ عیاشی ۔ ۲ ۔ عموما ً ایسا ہی ہوتا ہے البتہ بعض مواقع استثنائی حیثیت رکھتے ہیں جیسے امام زمانہ کے دور حکومت میں رجعت (مترجم) 3 ۔یہ اس روایت کا خلا صہ ہے جوعظیم اسلامی مفسر مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں درج کی ہے ۔