أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
What, when an affliction visits you—while you have inflicted twice as much—do you say, ‘How is this?’! Say, ‘This is from your own souls.’ Indeed Allah has power over all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:165
[Pooya/Ali Commentary 3:165] "What!" is a reproach. Those converts who accepted Islam with half a heart showed their dissatisfaction at the slightest reverse or disadvantage. They began to waver after the battle of Uhad on the pretext as to how that reverse came about when they were believers. It is pointed out to them that it was due to their disobeying the Holy Prophet's command and yielding to satanic promptings. Verse 14 of al Hujurat says that those who had become Muslims were not sincere believers.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:165
جنگ احد پر ایک اور نظر
جنگ احد پر ایک اور نظر اس آیت میں واقعہ احد پر ایک اور نگاہ ڈالی گئی ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ بعض مسلمان جنگ کے المناک نتائج پر غمگین اور پریشان تھے اور بار برا اپنی پریشانی کا اظہار کرتے تھے ۔ خدا وند عالم مندرجہ بالا آیت میں ان سے تین نکات کا ذکر کرتا ہے ۔ ۱ ۔ تم صرف ایک ہی جنگ کے نتائج سے پریشان نہ ہو جاوٴ بلکہ جتنی مرتبہ دشمن سے مقابلہ ہوا ہے اس کا موازنہ کرو۔ اگر اس میدان میں تم پر مصیبت آئی ہے تو دوسرے میدان (بدر ) میں اس سے دو گنا دشمن پر تم بھی غالب آچکے ہو کیونکہ انہوں نے احد میں تمہارے ستر آدمی شہید کئے ہیں جب کہ تم میں سے کوئی قید نہیں ہوا لیکن جنگ بدر میں تم نے ان کے ستر آدمی قتل کئے اور ستر ہی گرفتار کئے تھے ۔ اٴَ وَ لَمَّا اٴَصابَتْکُمْ مُصیبَةٌ قَدْ اٴَصَبْتُمْ مِثْلَیْہا ۔۔۔ حقیقت میں ” قد اصبتم مثلیھا “ یعنی تم نے دشمن کو دو گنا نقصان پہنچایا تھا ۔ ایک جواب ہے جو سوال سے پہلے آیا ہے ۔ ۲ ۔ تم کہتے ہو کہ یہ مصیبت ہمیں کہاں سے دامن گیر ہوئی ۔ ”قلتم انّ ھٰذا “لیکن اے پیغمبر ! ان سے کہئے : اس مصیبت کا باعث تم خود ہو عوامل شکست کو اپنی ہی ذات میں تلاش کرو ۔ ( قل ھو من عند انفسکم ) تم ہی تو تھے جنہوں نے حکم پیغمبر کی مخالفت میں کوہ عینین کا حساس موچہ چھوڑ دیا اور تمہی نے جنگ ختم ہونے سے پہلے اور اسکے حتمی فیصلے سے قبل مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا اور تم ہی دشمن کے نئے حملے کے وقت میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ تمہاری یہی کوتاہیاں اور گناہ اس شکست اور اتنے لوگوں کے قتل کا سبب بنیں ۔ ۳۔ اب آئندہ تمہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خدا ہر چیز پر قادر و تونا ہے اور اگر تم اپنی کمزوریوں کی تلافی کر لو تو اس کی حمایت تمہارے شامل حال ہوگی ( ان اللہ علیٰ کل شیء قدیر ) ۔ ۱۶۶۔وَ ما اٴَصابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعانِ فَبِإِذْنِ اللَّہِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنینَ۔ ۱۶۷۔ وَ لِیَعْلَمَ الَّذینَ نافَقُوا وَ قیلَ لَہُمْ تَعالَوْا قاتِلُوا فی سَبیلِ اللَّہِ اٴَوِ ادْفَعُوا قالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتالاً لاَتَّبَعْناکُمْ ہُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اٴَقْرَبُ مِنْہُمْ لِلْإیمانِ یَقُولُونَ بِاٴَفْواہِہِمْ ما لَیْسَ فی قُلُوبِہِمْ وَ اللَّہُ اٴَعْلَمُ بِما یَکْتُمُونَ ۔ ترجمہ ۱۶۶۔ اور اس روز ( احد کے دن ) جب دو گروہ ( مومنین و کفار ) آپس میں نبرد آزما ہوئے تو تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ حکم خدا ( اور قانون مکافات ) کے مطابق تھی اور اس بناء پر تھی کہ اہل ایمان پہچانے جائیں ۔ ۱۶۷۔ اور ( یہ بھی وجہ تھی کہ ) جن لوگوں نے منافقت کی ہے وہ پہچانے جائیں ۔ وہ جنہیں کہہ دیا گیا تھا کہ آوٴ اور راہ خدا میں جنگ کرو یا ( کم از کم ) اپنے حریم کا دفاع کرو۔ انہوں نے کہا اگر ہمیں یقین ہوتا کہ واقعا ً جنگ ہوگی تو تمہاری پیروی کرتے ( لیکن ہمیں تو پتہ ہے کہ جنگ نہیں ہو گی ) ۔ وہ لوگ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ نزدیک تھے ۔ وہ اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے تھے جو ان کے دل میں نہیں ہو تا تھا اور خدا اس چیز کو جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں ۔