أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللَّهِ كَمَن بَاءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
Is he who follows [the course of] Allah’s pleasure like him who earns Allah’s displeasure and whose refuge is hell, an evil destination?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:162
[Pooya/Ali Commentary 3:162]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:162-163
جہاد میں شرکت نہ کرنے والے
جہاد میں شرکت نہ کرنے والے اٴ فمن اتبع رضوان اللہ۔ آیات گذشتہ میں جنگ احد کے مختلف پہلووٴں اور اس کے نتائج پر بحث ہو چکی ہے ۔ اب باری ہے منافقین اور ان کمزور ایمان والے مسلمانوں کی جو منافقین کی اتباع کرتے ہوئے میدان جنگ میں حاضر نہ ہوئے ۔ روایات میں ہے کہ جب پیغمر اکرم نے جنگ احد کے لئے چلنے کا حکم صادر فرمایا تو منافقین کا ایک گروہ اس بہانے شامل نہ ہوا کہ بقول ان کے انہیں جنگ کے وقوع پذیر ہونے کا یقین نہیں تھا ۔ بعض کمزور ایمان والے مسلمان بھی ان کے ساتھ شریک ہو گئے ۔ زیر نظر آیت ان کی اسی حاکت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہے : وہ لوگ جو حکم خدا وندی کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی رضا کی پیروی کرتے ہیں کیا وہ ان لوگوں کی طرح ہیںجو غضب خداکی طرف لوٹ گئے ہیں اور انکا ٹھکاناجہنم اوران کا انجام کار برا اور تکلیف دہ ہے ۔ اس کے بعد فرمایا :ھم درجات عند اللہ۔ یعنی ان میںہر کوئی بارگاہ الہی میں درجہ اور اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ نہ فقط یہ کہ تن پرور منافق اور مجا ہدین آپس میں فرق رکھتے ہیں بلکہ ہر شخص جو ان دو صفوں میں سے کسی میں کھڑا ہے فدا کاری و جانبازی یا نفاق و حق دشمنی میں فرق کا ایک خاص درجہ رکھتا ہے جو صفر سے شروع ہو کر حد تصور سے بالا تر تک جاری و ساری رہتا ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک روایت میں حضرت امام علی بن موسیٰ رضا (علیه السلام) سے منقول ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا ۔ ہر درجہ کے درمیان آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے جتنا فاصلہ ہے ۔ ۱ ایک اور روایت میں ہے : اہل بہشت درجات بالا میں رہنے والوں کو اس طرح دکھیں گے جیسے آسمان پر ستارہ دکھائی دیتا ہے ۔۲ البتہ توجہ رہے کہ عموماً درجہ سیڑھیوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کے ذریعے انسان بلند نقطے کی طرف جاتا ہے انہیں ” درک “ ( بر وزن مرگ ) کہا جاتا ہے ۔ اسی لئے سورہٴ بقرہ آیة ۲۵۳ میں انبیاء کے بارے میں ہے : و رفع بعضھم فوق بعض درجات سورہٴ نساء آیة ۱۴۵ میں منا فقین کے بارے میں ہے: ان المنا فقین فی الدرک الاسفل من النار لیکن زیر بحث آیت میں کیونکہ دونوں گروہوں کے متعلق گفتگو ہے اس لئے مومنین سے متعلقہ تعبیر اختیار کی گئی اور لفظ ” درجہ “ استعمال کیا گیا ( اس طرز بیان کو ادبی اصطلاح میں تغلیب کہتے ہیں ) ۔ آیت کے آخرمیں فرمایا گیا ہے : واللہ بصیر بما یعملون۔ یعنی خدا سب کے اعمال دیکھتا ہے اور کامل طور پر جانتا ہے کہ ہر شخص اپنی نیت ، ایمان اور عمل کے لحاظ سے کس درجہکا اہل ہے ۔ ۱ ۔تفسیر نور الثقلین ، جلد ۱ ، صفحہ ۴۰۶ ۔ ۲ ۔ تفسیر مجمع البیان ، زیر نظر آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:162-163
ایک موثر طریقہٴ تربیت
ایک موثر طریقہٴ تربیت قرآن مجید میں دینی ، اخلاقی اور اجتماعی معارف سے مربوط حقائق کو سوال کے قالب میں ڈھالا گیا ہے اوراس مسئلہ کے دونوں پہلو سننے والے کے سامنے پیش کر دئے گئے ہیں تا کہ وہ اپنی عقل و فکر سے ایک کو انتخاب کر لے یہ طریقہ جسے غیر مستقیم کہنا چاہیے تربیتی امور میں بہت موثر ہوتا ہے کیونکہ انسان عموماً مختلف امور میں سے سب سے زیادہ اہمیت اپنے افکار و نظریات کو دیتا ہے ۔ جب کوئی مسئلہ ایک قطعی اور حتمی صورت میں پیش کیا جائے تو بعض اوقات انسان اس کے مقابلے کی کوشش کرتا ہے اور اسے ایک اجنبی فکر کی حیثیت سے دیکھتا ہے لیکن جب اسے سوال کی صورت میں پیش کیا جائے اور اس کا جواب وہ اپنے وجدان اور دل کے اندر سے سنے تو اسے اپنی فکر اور اپنی رسائی سمجھتا ہے اور اسے ایک جانی پہچانی فکر کی حیثیت سے قبول کرتا ہے لہذا اس کے مقابلہ کی کوشش نہیں کرتا ۔ یہ طرز تعلیم بالخصوص ہٹ دھرم لوگوں اور بچوں کے لئے موثر ہے ۔ قرآن مجید میں اس طرح سے بہت کام لیا گیا ہے ، اس کے چند نمونے یہ ہیں ۔ ۱ ۔ ھل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون یعنی ۔ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں ۔ ( زمر ۔۹ ) ۲۔ قل ھل یستوی الاعمیٰ و البصیر اٴ فلا تتفکرون۔ یعنی ۔ کہیے : کیا نا بینا اور بینا برابر ہیں ، کیا تم سوچتے نہیں ۔ ( انعام۔ ۵۰ ) ۳۔ قل ھل یستوی الاعمیٰ و البصیر ام ھل تستوی الظلمٰت و النور ۔ یعنی ۔ کہیے : کیا نا بینا اور بینا برابر ہیں ، آیا تاریکیاں اور روشنی برابر ہیں ۔ (رعد ۔۱۶ ) ۱۶۴۔ لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنینَ إِذْ بَعَثَ فیہِمْ رَسُولاً مِنْ اٴَنْفُسِہِمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیاتِہِ وَ یُزَکِّیہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتابَ وَ الْحِکْمَةَ وَ إِنْ کانُوا مِنْ قَبْلُ لَفی ضَلالٍ مُبینٍ ۔ ترجمہ ۱۶۴۔ خدا نے مومنین پر احسان کیا ( انہیں ایک عظیم نعمت بخشی ) جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک پیغمبر مبعوث کیا جو ان کے سامنے اس کی آیت پڑھتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگر چہ اس سے پہلے وہ واضح گمراہی میں تھے ۔ تفسیر