فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
It is by Allah’s mercy that you are gentle to them; had you been harsh and hardhearted, they would have surely scattered from around you. So excuse them and plead for forgiveness for them, and consult them in the affairs, and once you are resolved, put your trust in Allah. Indeed Allah loves those who trust in Him.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:159
[Pooya/Ali Commentary 3:159] The deserters who had caused a disaster at Uhad deserved to be punished but the leniency shown to them did not wipe out their evil deed of desertion. If the Holy Prophet had been stern and hard of heart they would surely have broken away from him. So he was asked to pardon them in order to prevent them from making mischief and let the divine mission of guidance and salvation progress unhampered. As an individual the Holy Prophet was always inclined to mildness. He never first withdrew his hand out of another man's palm. He never struck any one in his life. He was the sweetest and most agreeable in conversation. Those who saw him were suddenly filled with reverence; those who came near him loved him. He was generous and considerate even to his enemies, both open and hidden. He was sent by Allah as the "mercy unto the worlds". His kind and generous attitude towards his erring companions does not mean that their actual low station in the spiritual realm can be raised to the level of the true faithfuls, because they remain in the category of those described in verse 16 of al Anfal, particularly when time and again they showed the same tendency of defection and renunciation demonstrated at Uhad. The Holy Prophet received the book and wisdom directly from Allah. He was the city of knowledge (and Ali its gate). He needed no advice from any body. "Take their counsel in the affairs" has been mentioned in this verse to educate the companions to reflect and use their intelligence, to understand the issues which confronted them in their lives so that by consulting each other they might arrive at a rational conclusion and follow the reasonable advice. Whatever be the counsel of the companions but the Holy Prophet has been asked to put his trust in Allah and act according to his own judgement.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:159-160
آخری فیصلہ کا مرحلہ
فاذا عزمت فتوکل علیٰ اللہ مشورہ کرتے وقت نرم مزاجی اور محبت سے کام لینا چاہیے لیکن جب پختہ ارادہ کر لیا جائے تو اتنا ہی مضبوط بھی ہونا چاہیے اور اپنے آپ کو ہر قسم کے تردد اوراختلاف آراء سے دور رکھتے ہوئے مصمم ارادہ کر لینا چاہیے ۔ اسی کو قرآن مجید نے مندرجہ بالا آیت میں عزم سے تعبیر کیا ہے اور یہی تصمیم قاطع ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں جمع ( و شاورھم )کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے لیکن آخری فیصلہ پیغمبر اکرم کے ذمہ کر دیا گیا اور یہاں واحد کا صیغہ (عزمت) استعمال ہوا ہے ۔ جمع مفرد کا یہ فرق ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ کہ اجتماعی معاملات کے مختلف پہلووٴں کا مل جل کر اور اجتماعی صورت میں جائزہ لینا چاہیے اور تحقیق کرنا چاہیے لیکن جب ایک چیز کو درست سمجھ لیا جائےتو پھر اس کے اجراء کے لئے ایک ہی ارادے کو کام میں لانا چاہیے ورنہ حرج مرج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ کیونکہ اگر ایک پروگرام پر کسی ایک سر پرست کی بجائے کسی رہبروں کے ذریعہ عمل در آمد ہو تو یقینی طور پر وہ اختلاف اور شکست سے دو چار ہوگا ۔ اسی بناء پر آج کی دنیا میں بھی مشورہ تو اجتماعی طور پرہوتا ہے لیکن فیصلہ کا نفاذ ایسی حکومتوں کے ذریعہ ہوتا ہے جس کے پرو گرام ایک شخص کے زیر نظر رہ کر انجام پاتے ہیں۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ زیر نظر آیت کہتی ہے کہ پختہ ارادہ کر تے ہوئے خدا پر توکل کرنا چاہیے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ عمومی اسباب و وسائل فراہم ہو جانے کے بعد خدا کی لا متناہی قدرت سے مدد طلب کرنا فرا موش نہ ہو جائے ۔ البتہ توکل کا یہ مطلب نہیں کہ انسان مادی دنیا میں خدا کے عطا کردہ اسباب و وسائل کو کام میں نہ لائے ۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ اکی مرتبہ ایک عرب نے ا)نے اونٹ کے پاوٴں نہیں باندھے تھے اور اسے محافظ کے بغیر چھوڑ دیا تھا اور اسے وہ خدا پر توکل کرنا سمجھتا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا : اعقلھا و توکل یعنی پہلے اس کا پاوٴں باندھو اور پھر توکل کرو۔ یہاں آیت میں یہ مقصد ہے کہ انسان عالم مادی کی چار دیواری اور اپنی محدود قدرت و توانائی پر انحصار نہ کرے اور اپنی نگاہیں پروردگار کی حمایت و لطف پر لگائے رکھے ۔ یہ مخصوص توجہ انسان کو امن و سکون ، اطمینان اور عظیم روحانی تقویت سے ہمکنار کرتی ہے جو مشکلات کے عالم میں انسان کے لئے بہت موثر ہوتی ہے ۔ اس کی مزید تفصیل مسئلہ توکل اور عالم طبیعت سے استفادہ کرنے کے زیر عنوان انشاء اللہ سورہ طلاق کی آیت ۳ و من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ۔کے ذیل میں پیش کی جائے گی۔ ان اللہ یحب المتوکلین بعد والی آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو صرف خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔ کیونکہ خدا توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلام ہوتا ہے کہ توکل کا مر حلہ مکمل مشورہ کرنے اور تمام امکانی وسائل جو انسانی اختیار میں ہیں سے استفادہ کرنے کے بعد آتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:159-160
جس سے مشورہ کیا جائے اس کی ذمہ داری
جس طرح اسلام میں مشورہ کرنے کی بہت تاکید کی گئی پے اسی طرح ان افراد کے بارے میں احکام ہیں جن سے مشورہ کیا جاتا ہے مثلا یہ کہ خیر خواہی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ مشورہ میں خیانت کرنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے یہاں تک کہ یہ حکم غیر مسلموں کے لئے بھی ہے کہ وہ مشورہ طلب کریں تو ان سے کسی قسم کی خیانت نہ کی جائے اور جو صحیح رائے ہو وہی انہیں دی جائے ۔ امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل شدہ ” رسالہ حقوق “ میں آپ نے فرمایا: ”و حق المستشیران علمت لہ رایاً اشرف علیہ وان لم تعلم ارسدتہ الی من یعلم وحق المشیر علیک ان لا تتھمہ فیما لا یوافقک من رایہ “ تجھ سے مشورہ کرنے والے کا حق یہ ہے کہ اگر کوئی نظریہ رکھتے ہو تو اسے بتا دو اور اگر اس کام کے بارے میں تجھے علم نہیں تو اسے ایسے شخص کی طرف رہنمائی کرو جو جانتا ہے اور مشورے دینے والے کا حق تجھ پر ہے کہ جس نظریئے میں وہ تمہارا موافق نہیں ہے اس میں اس پر تہمت تراشی نہ کرو۔ 1# 1۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۱ صفحہ ۴۰۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:159-160
اسلام میں مشورہ کی اہمیت
مشورہ اسلام میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ پیغمبر اکرم وحی آسمانی سے قطع نظر ایسی قوت فکر کے مالک تھے کہ انہیں کسی قسم کے مشورہ کی ضرورت نہ تھی ، پھر بھی آپ مسلمانوں کو مشورہ کی اہمیت بتلانے کے لئے قانون سازی کو چھوڑ کر دیگر عام معاملات میں مشورہ کیا کرتے تھے تا کہ ان کی قوت فکر و نظر پروان چڑھ سکے اور خصوصیت کے ساتھ صاحب الرائے افراد کی قدر افزائی کیا کرتے تھے یہاں تک کہ بعض دفعہ ان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کی رائے کو ترجیح دیا کرتے تھے جیسا کہ ایک واقعہ جنگ احد کے تذکرہ میں پیش کیا گیا ہے ۔ کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر کی اسلامی پرو گراموں میں کامیابی کا ایک اہم راز ان کا یہی طرز عمل تھا ۔ اصولی طور پر جو لوگ اپنے اہم کاموں کو ایک دوسرے کے صلاح مشورہ سے انجام دیتے اور متعلقہ امور کے ماہر غور و خوض کے بعد ان کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں اس کے بر عکس جو لوگ اپنے آپ کو دوسروں کے صلاح مشورہ سے بے نیاز سمجھتے ہیں وہ کتنے ہی بڑے صاحب فکر و نظر کیوں نہ ہوں زیدہ تر خطرناک اور المناک اشتباہات میں گرفتار ہو جاتے ہیں علاوہ ازیں مشورہ سے بے نیازی کی وجہ سے عامةالناس میں شخصیت کا وقار ختم ہو جاتا ہے اور افکار و نظریات کی ترویج میں رکاوٹ پڑ جاتی ہے اور موجود استعدادیں ختم ہو جاتی ہیں اور اس طرح کسی ملت کا بہت بڑا انسانی سرمایہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے ۔ مزید بر آں جو شخص اپنے کام دوسروں کی صلاح مشورہ سے کرتا ہے اگر وہ کامیابی سے ہمکنار ہو جائے تو دوسرے لوگ اس کو حسد کی نگاہ سے نہیں دیکھتے کیونکہ دوسرے لوگ اس کی کامیابی کو اپنی طرف سے ہی سمجھتے ہیں اور عموما ً انسان اس کام سے حسد نہیں کرتا جسے اس نے خود انجام دیا ہو اور اگر وہ کبھی شکست کھا جائے تو وہ دوسروں کے اعتراضات کا نشانہ نہیں بنتا کیونکہ کوئی شخص اپنے کام کے نتیجہ پر اعتراض نہیں کرتا نہ صرف یہ کہ اعتراض نہیں کرتا بلکہ ہمدردی اور غمخواری بھی کرتا ہے ۔ مشورہ کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان دوسرے افراد کی شخصیت کی قدر و قیمت اور ان کی دشمنی اور دوستی کا اندازہ بھی لگالیتا ہے اور یہ چیز کامیابی کے لئے در کنار شناسائی کا بھی سبب بنتی ہے ۔ اسلامی روایات میں مشورہ کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ایک حدیث میں رسول خدا نے فرمایا : ”ما شقی عبد قط بمشورة ولا سبد استغناء رای “ کو ئی شخص ہر گز مشورہ سے بد بخت اور اسبداد رائے سے خوش بخت نہیں ہو سکتا ۔ 1 # حضرت علی (ع) نے فرمایا : ”من استبد برایہ ھلک ومن شاور الرجال شارکھا فی عقولھم “ جو شخص استبداد رائے رکھتا ہو وہ ہلاک ہو جاتا ہے اور جو بڑے لوگوں سے مشورہ کرتا ہے وہ ان کی عقل میں شریک ہو جاتا ہے ۔ 2 # پیغمبر اکرم نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا : ” اذا کان امرائکم خیارکم و اغنیائکم سمحائکم و امرکم شوری بینکم فظھر وا الارض خیر لکم من بطنھا واذا کان من امرائکم شرارکم و غنیائکم بخلائکم ولم یکن امرکم شوری بینکم فبطن الارض خیر لکم من ظھرھا “ جس وقت تمہارے حاکم نیک لوگ ہوں اور تمہارے امیر سخی لوگ ہوں اور تمہارے کام مشورہ سے انجام پائیں تو اس وقت زمین کا ظاہری حصہ باطنی کی نسبت تمہارے لئے بہتر ہے ( یعنی یہ زمین جینے کے قابل ہے ) لیکن اگر تمہارے حکمران برے ہوں ، دولت مند بخیل ہوں اور کام ایک دوسرے کے مشورہ سے نہ ہوتے ہوں تو اس وقت تمہارے لئے زمین کا نچلا (باطنی) حصہ ، بالائی ، حصہ سے بہتر ہے ۔ 3 # یہ مسلم ہے کہ ہر شخص سے مشورہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بعض اوقات ان میں کمزوری کے پہلو ہوتے ہیں جن کی بنا پر ان کا مشورہ بد بختی اور پسماندگی کا سبب بن سکتا ہے جیسا کہ حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ تین قسم کے لوگوں سے مشورہ نہ کرو۔ ۱۔ بخیل افراد سے مشورہ نہ کرنا کیونکہ وہ تجھے بخشش اور دوسروں کی مدد کرنے سے روکیں گے اور فقر و غربت سے ڈرائیں گے (لا تدخلن فی مشورتک بخیلا یعدل بک عن الفضل و یعدک الفقر)۔ # ۲ ۔ بزدلوںسے مشورہ نہ کرنا کیونکہ وہ تجھے اہم کاموںکی انجام دہی سے روکیں گے (ولا جیاناًیضعفک عن الامور )۔4# ۳۔ حریص افراد سے مشورہ نہ کرنا کیونکہ وہ دولت کی طمع میں تمہیں ظلم و ستم کی طرف رغبت دلائیں گے (ولا حریصاً یزین لک الشرة بالجور )۔ 1۔ تفسیر ابو الفتوح رازی ۔ 2 ۔ نہج البلاغہ ۔ 3۔ تفسیر ابو الفتوح رازی ۔ 4۔ نہج البلاغہ فرمان بنام مالک اشتر ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:159-160
اب دیکھنا یہ ہے کہ پیغمبر کن مسائل میں لوگوں سے مشورہ کیا کرتے تھے ۔
اگر چہ آیت ” شاورھم فی الامر “لفظ امر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں ہر قسم کا کام شامل ہے ۔ لیکن مسلم ہے کہ آپ احکام الٰہی میں ان سے مشورہ نہیں کیا کرتے تھے بلکہ انہیں وہ وحی الٰہی کے تابع کرتے تھے ۔ اس بنا پر مشورہ کا دائرکار صرف ان احکام کے اجراء طرز و طریقہ اور ان کو عملی جامہ پہنانے تک محدود ہوتا تھا دوسرے لفظوں میں آپ صرف اجرائے قانون کے طریقہ کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ معلوم کر لیتے تھے ۔ قانون بنانے میں کبھی کسی سے مشورہ نہ کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت کوئی پروگرام ان کے سامنے پیش کرتے تو مسلمان یہ پوچھتے تھے کہ کیا یہ حکم الٰہی ہے جس میں اظہار رائے کی گنجائش نہ ہو یا قوانین کے اجرا سے مربوط ہے جس کے لئے وہ لوگ اپنا نظریہ پیش کر سکیں اور امر دوسری قسم کا ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے پیش کرتے ورنہ قبول کر لیتے چنانچہ جنگ بدر میں مسلمان آپ کے حکم کے مطابق ایک مقام پر پڑاوٴ ڈالنا چاہتے تھے تو ایک صحابی ”جناب بن منذر “ نے پوچھا کہ کیا اس مقام کو خدا کے حکم سے منتخب کیا گیا ہے یا آپ کی رائے ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اس سلسلہ میں کوئی خاص حکم تو نہیں آیا تو اس نے مختلف وجوہ پیش کیں اور کہا کہ یہ جگہ مناسب نہیں آپ حکم دیجئے کہ لشکر اسلام یہاں سے چل پڑے اور پانی کے قریب پڑاوٴ ڈالے ۔ آنحضرت نے اس کی رائے کو پسند کیا اور اس کے مطابق عمل فرمایا ۔ ۱# ۱ # تفسیر المنار جلد ۴ صفحہ ۱۰۰ ( ظاہر ہے اصولی طور پر یہ روایت درست معلوم نہیں ہوتی ۔ مترجم
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:159-160
مشورہ کرنے کا حکم
”وشاورھم فی الامر “ عام معانی دینے کے بعد ان کی شخصیتوں کی حیات تازہ اور فکری و روحانی طور پر انہیں پھر سے زندہ کرنے کے لئے حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے مختلف کاموں میں مژورہ کیجئے اور ان کی رائے اور نظریہ معلوم کیجئے ۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ پیغمبر اکرم نے جنگ احد کے شروع میں مختلف کاموں میں مشورہ کیا تھا کہ دشمن کا مقابلہ کس طرح کرنا چاہئے ۔ ان میں سے اکثر کا نظریہ یہ تھا کہ کوہ احد کے دامن میں لشکر گاہ اور پڑاوٴ ہونا چاہیے ۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس نکتہ نظر کے نتائج اچھے نہ نکل سکے اس لئے عمومی طور یہ رائے ابھری کہ پیغمبر اکرم کو آئندہ کس سے مشورہ نہیں کرنا چاہیے ۔ لیکن قرآن اس طرز فکر کا جواب دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ پھر بھی ان سے مشورہ کیجئے گا اگر چہ ان کے مشورے کئی مقامات پر مفید ثابت نہیں ہوئے تا ہم کلی طور پر مشورہ کے فوائد اس کے نقصانات سے زیادہ ہوتے ہیں اور انفرادی و اجماعی تربیت اور شخصیت کی سطح کو بلند کرنے میں اسکے فوائد نقصانات سے کہیں بالا تر ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:159-160
ام معافی کا حکم
ام معافی کا حکم فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّہِ لِنْتَ لَہُمْ اگر چہ اس آیت میں گردو پیش کے حوالہ سے عمومی پرو گراموں سے متعلق جو کام پیغمبر کو دئے گئے لیکن شان نزول کے لحاظ سے ان کا تعلق جنگ احد کے ساتھ ہے کیونکہ جو لوگ واقعہ احد کے دوران جنگ سے فرار ہو گئے تھے ، وہ پیغمبر کے گرد جمع ہو گئے اور انہوں نے ندامت وپشیمانی کے عالم میں معافی کی درخوست کی تو خدا تعالیٰ نے اس آیت میں پیغمبر سے انہیں عام معافی دینے کے لئے فرمایا لہذا یہ آیت نازل ہوتے ہی آپ نے فراخ دلی سے توبہ کرنے والے خطا کاروں کو معاف کر دیا ۔ درج بالا آیت میں پیغمبراکرم کی ایک بہت بڑی خوبی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم پرور دگار عالم کے لطف وکرم کے سبب سے ان پر مہربان ہو گئے اور اگر تم انکے لئے سنگ دل بخت مزاج اور تند خو ہونے اور عملاً ان پر لطف و عنایت نہ کرتے تو وہ تمہارے پاس بکھر جاتے ”خظ “ لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی باتیں تیز اور سخت ہوں اور غلیظ القلب اسے کہتے ہیں جو سنگ دل ہو اور لطف وجت کا عملی اظہار بھی نہ کر سکے ۔ اس بنا پر ان دونوں میں سختی کا معنی پایا جاتا ہے لیکن اول الذکر گفتگو میں سختی کرنے اور موخر الذکر کام میںسختی کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ گویا خدا تعالیٰ نا دانوں اور گنہگاروں کے لئے پیغمبر اکرم کی کامل نرم دلی اور لطف و عنایت کا ذکر کرتا ہے ۔ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَہُمْ اس کے بعد حکم دیا گیا کہ ان کی کوتاہیوں سے در گزر فرمائیے اور انہیں اپنے دامن عفو میں جگہ دیجئے اور اس جنگ میں انہوں نے جو بے وفائیاں آپ سے کی ہیں اور جو تکالیف آپ کو پہنچا ئی ہیں ، ان کے لئے ان کی مغفرت طلب کیجئے اور میں خود ان کے لئے تم سے شفارش کرتا ہوں کہ انہوں نے جو مخالفتیں کی ہیں ، مجھ سے ان کی مغفرت طلب کرو دوسرے لفظوں میں جو تم سے مربوط ہے اسے تم معاف کر دو اور جو مجھ سے ربط رکھتا ہے اسے میں بخش دیتاہوں ۔ آنحضرت نے فرمان خدا پر عمل کرتے ہوئے ان تمام کو عام معافی دے دی ۔ واضح ہے کہ عفو و در گزر کرنے کے لئے یہ ایک اہم اور بہت مناسب موقع تھا اور اگر آپ ایسا نہ کرتے تو لوگوں کے بکھر جانے کے لئے فضا ہموار تھی ۔ وہ لوگ جو اتنی بری شکست کا سامنا کر چکے تھے اور بہت سے مقتول و مجروح پیش کر چکے تھے ( اگر چہ یہ سب کچھ ان کی اپنی غلطی ہوا تا ہم ) ایسے لوگوں کو محبت ، دل جوئی اور تسلی کی ضرورت تھی تا کہ ان کے دل اور جسم کے زخم پر مرہم لگ سکے اور وہ ان سے جانبروآوکر آئندہ کے معرکوں کے لئے تیار ہو سکیں ۔ اس آیت میں ہر رہبر و رہنما کے لئے ایک نا گزیر صفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے ان لوگوں سے در گزر کرنا ، نرم مزاجی سے کام لینا اور محبت و مہربانی سے پیش آنا جن سے غلطی سرزد ہوئی ہو اور وہ بعد میں پشیمان ہوئے ہوں۔اس لئے ظاہر ہے اگر ایک رہبر سخت مزاج اور تند خو ہو اور محبت و ہمدردی کے جذبے سے سر شار نہ ہو تو وہ بہت جلد اپنے اپنے پرو گراموں میں نا کام ہو جائے گا اور لوگ اس کے پاس سے منتشر ہو جائیں گے اور وہ وہ رہبری کی ذمہ داری سے بحسن خوبی عہدہ برا نہ ہو سکے گا ۔ اسی لئے نہج البلاغہ کے کلمات قصار میں حضرت علی (ع) کا ایک فرمان ہے: ”آلة الریاسة سعة الصدر “ ” رہبری فراخ دلی کے ذریعے ہونی چاہیے۔ “
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:159-160
توکل کا نتیجہ
توکل کا نتیجہ ان ینصرکم اللہ فلا غالب لکم وان یخذ لکم فمن ذا الذی ینصرکممن بعدہ یہ گذشتہ آیت کی تکمیل کرتی ہے اس میں خدا پر توکل کے سلسلہ میں ایک نکتہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ خدا کی قدرت تمام قدرتوں سے بالا تر ہے لہذا وہ جس کی حمایت کرے گا دوسرا کوئی بھی اس پر کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ۔ وہ ذات جو ایسی تمام کامیابیوں کا سر چشمہ ہے اس پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اسی سے مدد مانگنی چاہیے ۔ یہ آیت اہل ایمان کو ترغیب دلاتی ہے کہ ہر قسم کے ظاہری وسائل میسر ہونےکے باوجود خدا تعالیٰ کی نا قابل شکست قدرت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ در اصل گذشتہ آیت میں روئے سخن پیغمبر کی طرف تھا اور انہیں حکم دیا گیا تھا لیکن اس آیت میں تمام مومنین مخاطب ہیں۔ انہیں فرمایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ کی طرح خدا کی ذات پاک پر بھروسہ کریں ۔ اسی لئے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : و علیٰ اللہ فلیتوکل الموٴمنون۔ یعنی مومنین کو صرف ذات خدا پر توکل کرنا چاہیے۔ بنا کہے واضح ہے کہ خدا تعالیٰ مومنین کی حمایت یا عدم حمایت بلا وجہ نہیںکرتا بلکہ ان کی اہلیت کے مطابق ہی کرتا ہے ۔ جو خدا کے حکم کو پاوٴں تلے روندتے ہیں اور مادی و روحانی توانائیاں فراہم کرنے سے غافل رہتے ہیں خدا کی مدد اور حمایت ان کے لئے نہیں ہوتی مگر جو لوگ صف بستہ خالص نیت اور عذم راسخ سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ، تمام ممکنہ دیگر وسائل بھی دشمن کے مقابلہ میں فراہم کرتے ہیں انہی کے سر پر خدا کا دست حمایت ہوتا ہے ۔ ۱۶۱۔وَ ما کانَ لِنَبِیٍّ اٴَنْ یَغُلَّ وَ مَنْ یَغْلُلْ یَاٴْتِ بِما غَلَّ یَوْمَ الْقِیامَةِ ثُمَّ تُوَفَّی کُلُّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ وَ ہُمْ لا یُظْلَمُونَ ۔ ترجمہ ۱۶۱۔( تم گمان کرتے ہو کہ ہو سکتا ہے پیغمبر تم سے خیانت کرے حالانکہ ) ممکن نہیں ہے کہ کوئی پیغمبر خیانت کرے اور جو شخص خیانت کرے گا وہ روزقیامت اسی چیز کے ہمراہ ( میدان حشر میں ) پیش ہو گا پھر ہر شخص کو وہ کچھ دیا جائے گا جو اس نے کمایا ہو گا ( اس بناء پر ) ان پر ظلم نہیں ہو گا ( بلکہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ ہی دیکھیں گے ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:159-160
حضرت عمر کی مجلس شوریٰ
اہل سنت کے مفسرین درج بالا آیت کے ذیل میں حضرت عمر کی اس چھ رکنی مشاورتی کمیٹی کا تذکرہ کرتے ہیں تیسرے خلیفہ کے انتخاب کے لئے تشکیل دی تھی یہ لوگ مندرجہ بالا آیت اور مشورہ کی تمام روایات کو اسی واقعہ پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر چہ اس موضوع کے متعلق عقائد کی کتابوں میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے لیکن یہاں چند ایک نکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امام اور جانشین پیغمبر کا انتخاب صرف اللہ کے حکم سے ہونا چاہیے کیونکہ اسے بھی پیغمبر کی طرح عصمت اور ایوے دیگر کمالات کا حامل ہونا چاہیے کہ جن کا علم صرف خدا کے پاس ہے ۔ دوسرے لفظوں میں جس طرح پیغمبر کو مشورے سے منتخب نہیں کیا جا سکتا ہے اسی طرح امام کا انتخاب بھی مشورہ سے نا ممکن ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ افرادکی مجلس شوریٰ میں ہر گز مشورے کے تقاضوں اور شرائط کو پورا کرتی کیونکہ اگر مقصود تمام مسلمانوں سے مشورہ کرنا تھا تو اسے چھ افراد میں منحصر کرنے کا کیا معنی ہے اور اگر مقصد امت کے صاحبان فکر و نظر سے مشورہ کرنا تھا تو وہ صرف چھ نہیں تھے ۔ امت کے دانا اور اہل رائے افراد مثلاً سلمان جو خود حضرت پیغمبر اکرم کے مشیر تھے اسی طرح ابوذر، مقداد ، ابن عباس اور ان جیسے دیگر افراد مجلس شوریٰ میں شامل تھے ۔ مجلس مشاورت کی ہیئت مشاورت کی بجائے ایک سیاسی چال زیادہ معلوم ہوتی ہے ۔ اگر مشورے کے لئے صاحبان اثر و رسوخ کو جمع کرنا مقصود تھا تا کہ دوسرے لوگ ان کی رائے قبول کر لیں پھر بھی ہیئت درست نہ تھی کیونکہ کئی ایک اہم شخصیتیں ان میں شامل نہ تھیں مثلاً سعد بن عبادہ جو انسار کے سر براہ تھے ، ابوذر غفاری جو قبیلہ غفارکی ایک عظیم شخصیت تھے اور ان جیسے دیگر افراد اس مجلس مشاورت سے الگ تھلگ تھے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اس مجلس شوریٰ کے لئے بڑی سخت اور سنگین شرائط مقرر کی گئیں تھی اور مخالفین کو موت کی دھمکی تک دی گئی تھی حالانکہ اسلام کے مشاورت اصولوں اور طریقوں میں ایسی کسی چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔