وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
Allah certainly fulfilled His promise to you when you were slaying them with His leave, until you lost courage, disputed about the matter, and disobeyed after He showed you what you loved. Some among you desire this world, and some among you desire the Hereafter. Then He turned you away from them so that He might test you. Certainly He has excused you, for Allah is gracious to the faithful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:152
[Pooya/Ali Commentary 3:152] Refer to the commentary of verses 121 and 122 of this surah to know how Ali and Hamza were extirpating the enemy but, when the victory was in sight, the Muslims fell to plundering the enemy's camp, by casting the Holy Prophet's strict injunction to the winds. This "worldliness" put them in an awkward position. Fearing total destruction they ran away to save their lives, and failed in the test Allah planned for them. There were they who desired this world. There were some who desired the hereafter, so, on account of their steadfastness and readiness to die in the cause of Allah, He forgave all of them and through Ali, as asadullah, created terror in the hearts of the enemy soldiers who made a hasty retreat in spite of having an upper hand.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:152-154
کامیابی کے بعد شکست
کامیابی کے بعد شکست جنگ احد کے واقعات میں گزر چکا ہے کہ مسلمان ابتداء جنگ میں اتحاد اور بڑی دلیری کے ساتھ لڑے اور جلد ہی کامیاب ہو گئےاور دشمن کا لشکر پرا کندہ و منتشر ہو گیا جس سے سارے لشکر اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن کوہ عینین کے درے میں عبداللہ بن جبیر کی سر کردگی میں لڑنے والے تیر اندازوں کی نا فرمانی اور ان کے حساس مورچے کو چھوڑنے اور دوسرے لوگوں کی مال غنیمت جمع کرنے کی مشغولیت سے ورق ہی الٹ گیا اور لشکر اسلام زبر دست شکست سے دو چار ہوا۔ کافی شہید دے کر اور بہت نقصان اٹھا کر جب مسلمان مدینہ کی طرف پلٹ آئے تو ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ کیا خدا نے ہم سے فتح کامیابی کاوعدہ نہیں کیا تھا ۔ پھر اس جنگ میں ہمیں کیوں شکست ہوئی ؟ اس پر مندرجہ بالا آیات میں جواب دیا گیا اور شکست کے اسباب کی بشاندہی کی گئی ۔ اب ہم آیات کی تفصیلی تفسیر کی طرف آتے ہیں ۔ ۔وَ لَقَدْ صَدَقَکُمُ اللَّہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُمْ ۱ #بِإِذْنِہِ حَتَّی إِذا فَشِلْتُمْ ۔۲ # اس جملہ میں ارشاد خدا وندی ہے کہ کامیابی کے بارے میں خدا کا وعدہ بالکل درست تھا اور اس کی وجہ ہی سے تم ابتداء جنگ میں کامیاب ہوئے اور حکم خدا سے تم نے دشمن کو تتر بتر کر دیا ۔ کامیابی کا یہ وعدہ اس وقت تک تھا جب تک تم اسقتامت وپامردی اور فرمان پیغمبر کی پیروی سے دست بردار نہیں ہوئے اور شکست کا دروازہ اس وقت کھلا جب سستی اور نا فرمانی نے تمہیں آ گھیرا ۔ یعنی اگر تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ کامیابی کا وعدہ بلا شرط تھا تو تمہاری بڑی غلط فہمی ہے بلکہ کامیابی کے تمام وعدہ فرمان خدا کی پیروی کے ساتھ مشروط ہیں ۔ البتہ یہ خدا نے مسلمانوں سے اس جنگ میں کامیابی کا وعدہ کب کیا تھا ، اس بارے میں دو احتمال ہیں ۔ پہلا یہ کہ مراد عمومی وعدے ہیں جو خدا کی طرف سے مسلمانوں کو دشمنوں پر کامیابی کے بارے مں دئے جا چکے تھے ۔ دوسرا یہ کہ پیغمبر خدا کی صریحی طور پر جنگ احد سے پہلے وعدہ دے چکے تھے اور ان کا وعدہ خدا کا وعدہ ہے ۔ وَ تَنازَعْتُمْ فِی الْاٴَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ ما اٴَراکُمْ ما تُحِبُّونَ ۔ اس میں کوہ عینین کے تیر اندازوں کی طرف اشارہ ہے اور ان کی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ وہ تیر انداز جو پہاڑ کے درے پر تھے ان میں مورچہ چھوڑنے کے بارے میں اختلاف پڑ گیا اور ان میں بیشتر نے نا فرمانی اور مخالفت کی ۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے کہ جیسی تمہاری آرزو تھی ویسی ہی نظروں میں سما جانے والی کامیابی دیکھ لینے کے بعد تم نے راہ عصیان اختیار کی اور حقیقت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے تم نے جو لازمی تھی وہ کوشش کی لیکن اس کو بر قرار رکھنے کے لئے تم نے استقامت اور پا مردی نہیں دکھائی اور ہمیشہ کامیابیوںکی حفاظت کرنا ان کے حصول سے زیادہ مشکل ہوا کرتا ہے ۔ مِنْکُمْ مَنْ یُریدُ الدُّنْیا وَ مِنْکُمْ مَنْ یُریدُ الْآخِرَةَ اس موقع پر تم میں سے ایک گروہ دنیا چاہتا تھا وہ مال غنیمت اکھٹا مرنے لگا جبکہ دوسرا گروہ جس میں عبد اللہ بن جبیر اور دیگر تیر انداز شامل تھے جو ثابت قدم رہے وہ آخرت اور خدائی جزا و ثواب کے خواہاں تھے ۔ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ یہاں ورق الٹ گیا اور خدا نے تمہاری کامیابی کو شکست سے بدل ڈالا تا کہ تمہاری آزمائش کرے اور تمہیں تنبیہ کرے اور تمہاری تربیت کرے ۔ وَ لَقَدْ عَفا عَنْکُمْ وَ اللَّہُ ذُو فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنینَ اس کے بعد خدا نے تمہاری ان سب نا فرمانیوں سے در گذر کیا جب کہ تم سزا کے مستحق تھے کیونکہ خدا وند عالم مومنین کے لئے ہر قسم کی نعمتوں کو فرو گذار نہیں کرتا ۔ إِذْ تُصْعِدُونَ 3# وَ لا تَلْوُونَ عَلی اٴَحَدٍ وَ الرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ فی اٴُخْراکُمْ 4# اس آیت میں خدا تعالیٰ مسلمانوں کے لئے جنگ احد کے انجام کا نقشہ کھینچتا ہے اور فرماتا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب تم ہر طرف منتشر تھے اور بھاگ رہے تھے اور پیچھے کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے کہ تمہارے باقی بھائی کس حالت میں ہیں جبکہ پیغمبر پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے : الیّ عباد اللہ الیّ عباد اللہ فانی رسول اللہ خدا کے بندوں میری طرف پلٹ آوٴ میں خدا کا رسول ہوں لیکن تم میں سے کوئی ان کی پکار پر کان نہیں دھرتا تھا ۔ فاثابکم غما بغمٍّ اس وقت یکے بعد دیگر غم و اندوہ تم پر ٹوٹے کیونکہ تم ایک طرف جنگ میں شکست ، کئی افسروں اور بہادر سپاہیوں کی شہادت اور کئی زخمیوں کے غم میں مبتلا تھے تو دوسری طرف پیغمبر اکرم کی خبر شہادت کے پھیل جانے کی پریشانی اور پھر ان کے زخمی ہونے کا غم تھا اور یہ سب کچھ مخالفتوں اور نا فرمانیوں کا نتیجہ تھا ۔ لِکَیْلا تَحْزَنُوا عَلی ما فاتَکُمْ وَ لا ما اٴَصابَکُمْ۔ غم و اندوہ کا یہ سیلاب اس لئے تھا کہ اب تم مال غنیمت ہاتھ سے جانے پر غمگین نہ ہونے پاوٴ اور کامیابی کی راہ میں جو مشکلات اور زخم تمہیں پہنچے ہیں ان کی فکر کرو۔ وَ اللَّہُ خَبیرٌ بِما تَعْمَلُونَ ۔ خدا تمہارے اعمال سے آگاہ تھا اور پوری طرح سے اطاعت کرنے والوں ، حقیقی مجاہدین اور اسی طرح بھاگنے والوں کی کیفیت جانتا تھا ۔بنا بریں تم میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو فریب نہ دے اور جو کچھ جنگ احد میں ہوا ہے اس کے بر خلاف دعویٰ نہ کرے اور اگر واقعاً تم پہلے گروہ میں داخل ہو تو خدا کا شکر ادا کرو ورنہ گناہوں سے توبہ کرو ۔ ۱ # تحسونھم۔مادہ حس سے ہے ۔ اس کا معنی ہے کسی کسی کے حواس ختم کر دینا اور اسے قتل کر دینا۔یعنی تم انھیں قتل کرتے تھے ۔ ۲ # ”اذا “یہاں پر شرطیہ نہیں ”حین “ اور ” وقت“ کے معنی میں ہے 3 #” تصدون “ مادہ اصعاد سے ہے ۔ مفردات میں راغب کے بقول اس کا معنی ہے زمینوں پر چلنا یا اوپر کیطرف جانا جبکہ صعود کا معنی صرف اوپر کی طرف جانا ہے ۔ آیت میں یہ لفظ شاید اس لئے آیا ہے کہ بھاگنے والوں میں کچھ پہاڑ پر چڑھ گئے تھے اور بعض بیاباں میں سر گرداں تھے ۔ 4#۔”اخریکم“ یہاں ” ورائکم “ کے معنی میں ہے یعنی تمہارے پیچھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:152-154
زمانہ جاہلیت کے وسوسے
زمانہ جاہلیت کے وسوسے ثُمَّ اٴَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ اٴَمَنَةً نُعاساً 1# واقعہ احد کی بعد والی رات بہت درد ناک اور اضطراب انگیز تھی ۔ مسلمان سمجھتے تھے کہ قریش کے فاتح سپاہی دوبارہ مدینہ کی چعف پلٹ آئےں گے اور مسلمانوں کے باقی ماندہ مقابلہ کی طاقت ختم کر دیں گے اور شاید کسی طور پر بت پرستوں کے واپس آنے کی خبر بھی انہیں آ پہنچی تھی اور یہ مسلم تھا کہ اگر وہ پلٹ آتے تو جنگ کا خطرناک ترین مرحلہ پیش آتا ۔ اس دوران مجاہدین اور فرار کرنے والوں میں سے پشیمان افراد جنہوں نے توبہ کر لی تھی اب پر ور دگار کے لطف و کرم پر اعتماد رکھتے تھے اور آئندہ کے لئے پیغمبر اکرم کے وعدوں پر مطمئن تھے۔ اس حالت وحشت میں وہ آرام کی نیند سو گئے تھے جبکہ جنگی لباس میں ملبوس اور ہتھیاروں سے لیس تھے لیکن منافق ، ضعف الایمان اور بز دل گروہ ساری رات فکر و پریشانی میں مبتلا رہا اور با دل نخواستہ حقیقی مومنین کی پہرہ داری کرتا رہا ۔ درج بالا آیت رات کی اس کیفیت کی تشریح کرتے ہوئے کہتی ہے کہ پھر احد کے دن ان تمام غم و اندوہ کے بعد تم پر امن و امان اور راحت و آرام نازل کیا اور یہ وہی ہلکی پھلکی نیند تھی جو تم میں سے ایک گروہ کو آئی ۔ لیکن ایک ایسا گروہ بھی تھا کہ جسے صرف اپنی جان کی فکر تھی وہ لوگ سوائے اپنی جانیں بچانے کے اور کوئی چیز نہیں سوچتے تھے ۔ اس لئے وہ راحت و آرام سے محروم ہو گئے تھے ۔ یہ ایمان کاایک اہم تریں ثمرہ ہے کہ مر د مومن اس دنیا میں بھی راحت و آرام سے رہتا ہے جبکہ بے ایمان یا منافق اور کمزور ایمان والے افراد کبھی بھی اس کا ذائقہ نہیں چکھتے ۔ بعد ازاں قرآن منافقین اور کمزور ایمان والے افراد کی گفتگو اور طرز فکر کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے : یظنون بااللہ غیر الحق ظن الناہیة ۔ وہ خدا کے بارے میں زمانہ جا ہلیت کا غلط اور نا حق گمان رکھتے اور اپنی گفتگو میں کہتے شاید پیغمبر کے وعدہ غلط ہی ہوں ۔ اپنے آپ کو یا ایک دوسرے کو کہتے تھے ۔” ھل لنا من الامر من شیءٍ “ یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ اس دل خراش کیفیت کے بعد ہمیں کامیابی نصیب ہو یعنی بہت ہی بعید یا ناممکن ہے قرآن ان کو جواباً کہتا ہے :” قل ان الامر کلہ للہ“ کہ دو ، جی ہاں ! کامیابی تو خدا کے ہاتھ میں ہے ، اگر وہ چاہے اور تمہیں اس لائق سمجھے تو کامیابی نصیب کرے ۔ وہ اب بات کو ظاہر کرنے کے لئے تیار نہیں تھے جو وہ اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے تھے کیونکہ وہ اس سے ڈرتے تھے کہ کہیں کفار کی صف میں ان کا شمار نہ ہو۔ یخفون فی انفسھم مالا یبدون لَکََ اسی لئے خدائے تعالیٰ فر ماتا ہے کہ : وہ لوگ جو میدان احد سے فرار کر گئے شیطان نے انہیں چند ایک گناہوں کی وجہ سے پھیلا دیا مگر خدا نے انہیں بخش دیا اور خدا بخشنے والا اور حلیم ہے ۔ یوں خدا ان کی آزمائش کرتا ہے تا کہ وہ آئندہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے کوشش کریں وہ پہلے اپنے دل کو گناہ سے پاک کریں ۔ اس بات کا امکان ہے کہ اس گناہ مراد وہی دنیا پرستی ، مال غنیمت کو جمع کرنا اور دوران جنگ پیغمبر کی حکم عدولی کرنا ہو یا دوسرے گناہ مراد ہوں جن کے وہ جنگ احد سے پہلے مرتکب ہوئے تھے اور انہوں نے ان کی ایمانی قوت کمزور کر دی تھی ، مفسر عظیم مرحوم طبرسی اس آیت کے ذیل میں ابوالقاسم بلخی سے نقل کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن (پیغمبر کے علاوہ ) سوائے تیرہ افراد کے تمام بھاگ گئے تھے اور ان تیرہ میں سے آٹھ انصار اور پانچ مہاجر تھے ۔ جن میں سے حضرت علی (ع) اور طلحہ کے علاوہ باقی ناموں میں اختلاف ہے البتہ دونوں کے بارے میں تمام کا اتفاق ہے کہ انہوں نے فرار نہیں کیا ۔ ۱۵۶۔یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَکُونُوا کَالَّذینَ کَفَرُوا وَ قالُوا لِإِخْوانِہِمْ إِذا ضَرَبُوا فِی الْاٴَرْضِ اٴَوْ کانُوا غُزًّی لَوْ کانُوا عِنْدَنا ما ماتُوا وَ ما قُتِلُوا لِیَجْعَلَ اللَّہُ ذلِکَ حَسْرَةً فی قُلُوبِہِمْ وَ اللَّہُ یُحْیی وَ یُمیتُ وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیرٌ ۔ ۱۵۷۔وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فی سَبیلِ اللَّہِ اٴَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّہِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ۔ ۱۵۸۔وَ لَئِنْ مُتُّمْ اٴَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَی اللَّہِ تُحْشَرُونَ۔ ترجمہ ۱۵۶۔ اے ایماندارو ! تم کفار کی مانند نہ ہو جاوٴ کہ جب ان کے بھائی سفر پر یا جنگ کے لئے جاتے ہیں (اور مر جاتے ہیں یا قتل ہو جاتے ہیں )تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور قتل نہ ہوتے (تم ایسا نہ کہو ) تا کہ خدا یہ حسرت ان کے دلوں میں رکھ دے اور زندہ کرنے والا اور مارنے والا خدا ہے (اور زندگی اور موت اس کے ہاتھ میں ہے ) اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے ۔ ۱۵۷۔ (اب) اگر راہ خدا میں قتل ہو جاوٴ یا مر جاوٴ ( تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے ) کیونکہ خدا کی رحمت اور مغفرت ان تمام چیزوں سے جو انہوں نے (ساری زندگی میں)جمع کیا ہے بہتر ہے۔ ۱۵۸۔ اور اگر تم مر جاوٴ یا قتل ہو جاوٴ تو خدا کی طرف پلٹ جاوٴ گے ( لہذا تم فنا نہیں ہو گے کہ اس سے تم پریشان ہو)۔ 1 # ۔” امنہ “کا معنی ہے امن و امان اور نعاس کا مطلب ہے ہلکی سی نیند یا اونگھ۔