وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
Certainly Allah helped you at Badr, when you were weak [in the enemy’s eyes]. So be wary of Allah so that you may give thanks.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:123
[Pooya/Ali Commentary 3:123] For the battle of Badr see commentary of Ali Imran: 10 to 13. Badr was a camping ground and market, about twenty miles south-west of Madina. Hamza and Ali were the heros of the battle of Badr, which was of the greatest importance for the spread of Islam. On the hands of Hamza and Ali, under the command of the Holy Prophet, Islam had won its first and decisive military victory. Allah had reinforced the Muslims with three thousand angels, a heavenly aid given to the Holy Prophet, not actually to fight the enemy but to increase the very small group of men he had with him so that the Muslims could muster courage; and the enemy might be frightened at the sight of a large assemblage. It was Allah alone, not the angels, who really caused victory through the valour of Ali and Hamza which brought the enemy to their knees. The Muslim were poor in numbers, mounts and armour. The spirit of discipline and contempt of death manifested by the heroes of Badr (mentioned above), evident in all the battles the Holy Prophet fought, was due to their total reliance on Allah with whom they always took refuge and unto whom they always turned thankful. Verse 127 infers the facts that seventy of the chosen chiefs of the Quraysh were slain and seventy others were taken captive, a complete rout, through Ali (yadullah-hand of Allah) after which, broken, in utter despair they went back to their homes.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:123-127
جنگ کا خطرناک مرحلہ
جنگ ا حد کے اختتام پر مشرکین کا فتحیاب لشکر بڑی تیزی کے ساتھ مکہ کی طرف پلٹ گیا لیکن راستہ میں انہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ انہوں نے اپنی کامیابی کو ناقص کیوں چھوڑ دیا ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مدینہ کی طرف پلٹ جائیں اور اسے غارت وتاراج کر دیں اور اگر محمد زندہ ہوں تو انہیں قتل کر دیں تا کہ ہمیشہ کے لئے اور مسلمانوں کی فکر ختم ہو جائے ۔ اسی بناء پر انہیں واپس لوٹنے کا حکم دیا گیا اور در حقیقت جنگ احد کا یہ خطرناک مرحلہ تھا کیونکہ کافی مسلمان شہید اور زخمی ہو چکے تھے اور فطری طور پر وہ از سر نو جنگ کرنے پر آمادہ نہیں تھے ۔ جبکہ اس کے بر عکس اس مرتبہ دشمن مضبوط جذبہ کے ساتھ جنگ کر سکتا تھا اور اس کا حتمی نتیجہ حاصل کر سکتا تھا ۔ اس بات کی اطلاع جلد ہی آپ تک پہنچ گئی۔ اگر اس موقعے پر آپ غیر معمولی جراٴت اور بے مثال ہممت کا مظاہرہ نہ کرتے تو تاریخ اسلام یہیں پر ختم ہو جاتی یہ آیات اس نازک مرحلہ پر نازل ہوئیں اور ان سے مسلمانوں کے جذبے کع تقویت پہنچی ۔ اس کے فوراً بعد آپ کی طرف سے مشرکین جانے کا ایک حکم ہوا ۔ یہاں تک کہ جنگ کے زخمی ( جن میں حضرت علی (ع) بھی تھے جنہیں ساٹھ سے زیادہ زخم آئے تھے ) بھی دشمن سے لڑنے کے لئے آمادہ ہو گئے اور مدینہ سے چل پڑے یہ خبر سرداران قریش تک پہنچی اور وہ مسلمانوں کے اس عجیب و غریب جذبہ سے وحشت زدہ ہوئے اور سوچنے لگے کہ شاید تازہ دم فوج مدینہ سے مسلمانوں کے ساتھ آملی ہے اور ہو سکتا ہے کہ نئی جنگ کا نتیجہ ان کے لئے نقصان کا باعث ہو ۔ لہذا انہوں نے اپنی سابقہ کامیابی پر اکتفا کرنے اور مکہ کی طرف پلٹ جانے میں ہی بہتری سمجھی اور وہ تیزی کے ساتھ مکہ کی طرف چل پڑے ۔ ” وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللَّہُ بِبَدْرٍ وَ اٴَنْتُمْ اٴَذِلَّةٌ ۔ “ جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ آیات مسلمانوں کے جذبے کو تقویت دینے کے لئے نازل ہوئےں اور ان میں پہلے مسلمان کی میدان ۱ # بدر کی کامیابی طرف اشارہ کیا گیا تا کہ اس کے ذکر سے ان کے دلوں میں آئندہ کے لئے جوش و جذبہ بڑھ جائے ۔ ارشاد ہو ہے کہ خدا نے تمہیں بدر میں کامیابی سے سرفراز فرمایا جب کہ تم دشمن کی بنسبت کمزور تھے تو تعداد اور جنگی ساز و سامان کے لحاظ سے تمہارا اور دشمن کا کوئی تقابل ہی نہ تھا (تمہاری تعداد ۳۱۳ اور بہت کم ساز و سامان تھا جب کہ مشرکین کے پاس بہت زیادہ سامان تھا اور ان کی تعداد ایک ہزار سے زیدہ تھی ) ان حالات میں تم خدا سے ڈرو اور اپنے پیشوا (پیغمبر اکرم ) کی حکم عدولی کو نہ دہراوٴ تاکہ اس طرح سے اس کی گونا گوں نعمات کا شکر بجا لاوٴ ( فَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ )۔ ”إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنینَ اٴَ لَنْ یَکْفِیَکُمْ اٴَنْ یُمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِکَةِ ۔۔۔۔۔ ۔“ بعد از آں میدان بدر میں فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد کرنے کے واقعہ کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ اس دن کو فراموش نہ کرو جب پیغمبر نے تم سے کہا تھا کہ کیا تمہاری مدد کے لئے تین ہزار فرشتے کافی نہیں ہیں ۔ ” بَلی إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا وَ یَاٴْتُوکُمْ مِنْ فَوْرِہِمْ ۱ # ہذا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ۔۔۔۔۔ ۔“ ۱ #۔” فور “ کا صلی معنیٰ ہے دیگ وغیرہ کا جوش اور ابال ۔ اسی منا سبت سے تیزی سے انجام پذیر ہونے والے کاموں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے یعنی جیسے دیگ میں ابال سے کھانے والی چیز تیزی سے اوپر نیچے آتی ہے یہ کام بھی اسی طرح انجام پذیر ہوا ہے ۔ ہاں ! اگر آج بھی پائداری اور استقامت کا مظاہرہ کرو ، قریش کے مقابلہ میں نکلو، تقوی ٰ و پرہیزگاری اختیار کرو اور گذشتہ کی طرح فرمان رسول کی مخالفت نہ کرو تو اس صورتحال میں اگر مشرکین تیزی کے ساتھ تمہاری طرف پلٹ آئیں تو خدا پانچ ہزار مخصوص نشانیوں والے فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۔ ”وَ ما جَعَلَہُ اللَّہُ إِلاَّ بُشْری لَکُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُکُمْ بِہِ وَ مَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ ۔۔۔۔۔۔۔۔“ لیکن یہ بات یاد رہے کہ تمہاری مدد کے لئے ملائکہ کی آمد تو صرف تمہاری تشویق ، اطمینان قلب اور تقویت جذبہ کے لئے ہے۔ ورنہ کامیابی تو سرف خدا کی طرف سے ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور تمام کاموں میں اس کی حکمت کار فرما ہے ۔ وہ کامیابی کے راستے بھی جانتا ہے اور اسے جاری کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے ۔ ” لِیَقْطَعَ طَرَفاً مِنَ الَّذینَ کَفَرُوا اٴَوْ یَکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوا خائِبینَ ۔“ اگر چہ مفسرین حضرات اس آیت کی تفسیر میں اختلافات کے شکار ہیں لیکن اگر سابقہ آیات کی طرح خود آیات اور موجودہ تاریخ سے مدد لی جائے تو اس آیت کی تفسیر بھی واضح ہوتی ہے ۔ ارشاد خدا وندی ہے کہ یہ جو دشمن سے نئی جنگ کرنے کی صورت میں فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کا وعدہ کیا گیا ہے یہ اس بناء پر ہے کہ لشکر مشرکین کے حصہ کو قطع کر دے اور انہیں ذلت کے ساتھ پلٹا دے ۔ آیت میں ” طرف “ کا معنی ٹکڑا ہے اور ”یکبتھم“کبت سے ہے جس کے معنی کسی کو زبر دستی اور ذلیل کر کے واپس کرنے کے ہیں۔ اس مقام پر فرشتوں کا مسلمانوں کی مدد کرنا ، اس کی کیفیت اور اس کی ضرورت کے سلسلہ میں چند سوالات ہو سکتے ہیں جن کا جواب شرح و بسط کے ساتھ سورہٴ انفال آیت ۷ تا ۱۲ کے ذیل میں پیش کیا جائے گا ۔ ۱۲۸۔ لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاٴَمْرِ شَیْء ٌ اٴَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ اٴَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظالِمُونَ ۔ ترجمہ ۱۲۸۔ کسی قسم کا ختیار (کفار اور جنگ سے فرار کرنے والے مسلمانوں کے فیصلہ کے بارے میں) تمہیں نہیں ہے مگر یہ کہ خدا چاہے کہ انہیں در گذر کردے یا سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں ۔ ۱ #۔”بدر “ ایک شحص کا نام تھا ۔ وہ مکہ و مدینہ کے درمیانی علاقہ میں رہتا تھا ۔ اس کا ایک کنواں تھا ۔ اسی کے نام سے اس علاقے کا نام بھی ” بدر “ ہو گیا لغوی لحاظ سے ”بدر “ ” پر “ اور ” کامل “ کو کہتے ہیں ، اسی لئے چودھویں کے چاند کو بھی بدر کہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:123-127
یہ گروہ کیسے فلاح پائے گا
اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں بہت اختلاف ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ یہ آیت جنگ احد کے بعد نازل ہوئی اور اس کے واقعات سے متعلق ہے ۔ سابقہ آیات بھی اس کی تائید کرتی ہیں ۔ البتہ آیت کی تفسیر میں دوباتیں توجہ طلب ہیں پہلی یہ کہ آیت مستقل ایک جملہ ہے لہٰذا ”اویتوب“ کا معنی ”الاّ ان یتوب علیھم“ہے اس آیت کا مطلب یو بنتا ہے کہ ان کے انجام کار کے بارے میں تم کچھ نہیں کر سکتے مگر یہ کہ خدا انہیں بخش دے یا اس ظلم کی وجہ سے انہیں سزا دے اور لفظ ”انہیں “ سے مراد کفار ہیں ، جنہوں نے مسلمانوںکو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ۔ حتیٰ کہ انہوں نے پیغمبر اکرم کے دندان مبارک کو شہید کیا اور جبیں مارک کو زخمی کر دی یا وہ مسلمان مراد ہیں جنہوں نے میدان کارزار سے فرار کیا اور جنگ کے اختتام پر نادم و پشیماں ہوئے اور آپ معافی طلب کی ۔ آیت بتلا رہی ہے کہ ان کے عفو و بخشش یا سزا و عذاب خدا کے ہاتھ میں ہے اور پیغمبر اکرم حکم خدا کے بغیر کوئی کام انجام نہیں دیتے ۔ دوسری تفسیر اس طرح کی گئی ہے ”لیس لک من امر شیءٍ “جملہ معترضہ ہے (جس کا پہلے ار بعد والے جملوں سے ربط نہ ہو ) اور جملہ ” او یتوب علیھم “ کا عطف ”او یکبتھم “ پر ہے ۔ اس صورت میں دونوں آیات کا مفہوم یہ ہوگا کہ خدا کامیابی کے اسباب تمہارے قبضہ میں دے دیگا اور کفار کے لئے چار قسم کا انجام مقرر کرے گا یس لشکر مشرکین کے ایک حصہ کو نیست و نابود کر دے گا یا انہیں کسی ذریعے سے واہس جانے پر مجبور کرے گا یا انہیں شائشتگی اور توبہ کی صورت میں بخش دے گا اور یا انہیں ظلم کی وجہ سے سزا دے گا ۔ خلاسہ یہ کہ ان کے ہر گروہ کے ساتھ عدالت و حکمت کا برتاوٴ روا رکھے گا اور تم ان کے بارے میں اپنی طرف سے کسی قسم کا اقدام نہیں کر سکتے ۔ اس آیت کی شان نزول روایات میں مختلف انداز سے پیش کی گئی ہے ۔ ان میں سے یہ بھی ہے کہ جب جنگ احد میں آنحضرت کے دندان مبارک شہید ہوئے اور جبین مبارک زخمی ہوگئی اور مسلمانوں کو بہت سخت نقصان پہنچا تو پیغمبر کفار کے امروز وفردا کے متعلق سوچنے لگے کہ یہ لوگ کس طرح راہِ ہدایت پر آئیں گے اور فرمایا : ”کیف یفلح قوم فعلوا ھٰذا بنبیھم و ھو یدعو ھم الیٰ ربھم “ یہ گروہ کیسے فلاح پائے گا جس نے اپنے پیغمبر سے یہ سلوک کیا جبکہ وہ انہیںخدا کی طرف دعوت دیتا ہے ۔ اس مقام پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور پیغمبر کو تسلی و تشفی دی گئی کہ آپ ان کی ہدایت کے جوابدہ نہیںہیں بلکہ آپ کی ذمہ داری صرف تبلیغ ہے ۔