وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
When you left your family at dawn to settle the faithful in their positions for battle —and Allah is all-hearing, all-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:121
[Pooya/Ali Commentary 3:121] Twelve months after the battle of Badr, when the third year of the Holy Prophet's stay at Madina was drawing to a close, there burst out a storm of unprecedented violence. Abu Sufyan, a zealous votary of the idols, a mortal foe of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt, the chief of the pagan Makkan tribes and head of the brand of Umayyah, had mobilised an army of 3000 warriors to avenge the defeat at Badr. He secretly negotiated an alliance with the Jews of Madina who agreed to attack the small band of Muslims when the major offensive would begin. After exceedingly elaborate preparations, the Quraysh commenced their march, 3000 strong; 700 were mailed warriors, and 200 well-mounted cavalry; the remainder rode on camels. Women were allowed to accompany them. Taking timbrels in their hands, they sang to their wild cadence songs of vengeance for kinsmen slain at Badr. The Muslims, able to fight, all told, were one thousand. To confront the enemy in an open field, the Holy Prophet reached Uhad. At the last moment on the pretext that his advice to wait and offer defence in Madina was not accepted Abdullah bin Ubay along with his 300 followers suddenly turned round and, deserting the Muslims, took the road back to Madina. Thus the Holy Prophet was left with 700 followers, facing a well-equipped army four times their number. There was a pass in the hills of Uhad through which the enemy soldiers could come and attack, so, the Holy Prophet stationed 50 archers under the command of Abdullah bin Jubayr at the mouth of the pass with strict instructions not to leave the post at any event. All the authentic books of history record that as soon as the fight began Ali and Hamza slashed the rows after rows of the enemy soldiers and sooner than expected the enemy took to their heels. Fascinated by the abrupt flight of the Makkan pagans, the unscrupulous companions of the Holy Prophet went in for loot and plunder. The archers also yielded to temptation and left their post by disobeying the orders of their commander. Khalid bin Walid, who was yet an unbeliever, with his men, attacked the unwary Muslims busy in collecting the booty from this opening and caught them off their guard. There was confusion and disorder. The pagans availed the opportunity and surrounded the Holy Prophet. He was wounded and fell into a pit. At this time some one or Shaytan raised the cry "Muhammad has been killed." On hearing this cry even some of the closest companions of the Holy Prophet (who later became the leaders of the Muslims ) also took to flight. The whereabouts of some of them became known after three days. One deserter suggested to send a messenger to Abdullah bin Obay so that he might obtain amnesty from Abu Sufyan. Tabari, Ibn Hisham and Tarikh al Khamis report that the second caliph was also among the deserters. Shibli says desperate despondency had seized the companions. All deserted the messenger of Allah except Ali, Abu Dajjana and Sahl ibn Hunayf. The hand of Allah (yadullah), Ali, unsheathed his sword; the fearless, unconquerable and ever-overpowering strength of Allah (asdadullah), Ali, demonstrated his singular prowess as the executor of wonders {mazhar al aja-ib). Ali put so memorable a fight that Jibrail gloried Ali's action with the celebrated sentence: "la fata illa Ali" (there is no man save Ali) and "la sayf illa dhulfiqar" (there is no sword save dhulfiqar). The scene again changed and the three thousand proud warriors of Arabia ran from the battlefield like frightened rats, with Abu Sufyan in the front, and stopped at Hamra ul Asad, 8 miles away from Uhad. There he reviewed his misadventure to know the reason which changed certain victory into humiliating defeat. He was planning to launch another attack, but, before he could regroup the disheartened soldiers, the news of a possible pursuit by Ali ibn abi Talib broke his spirit and he at once took the road to Makka. Hamza, a valiant warrior, the uncle of the Holy Prophet, was martyred in this battle. Hinda, the wife of Abu Sufyan, the mother of Mu-awiyah, had hired an Abyssinian slave to kill the Holy Prophet, Hamza and Ali. He took out the liver of Hamza and gave it to Hinda. She chewed it and tried to eat it but could not. Then she washed the pieces, made a garland and wore it around her neck. In view of verses 2 to 4 of al Ankabut it can be stated that the battle of Uhad was a trial and a test for those who professed to believe in Allah and His messenger.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:121-122
اسباب جنگ
اس مقام پر ضروری ہے کہ پہلے جنگ احد کے مجموعی واقعات کا تزکرہ کیا جائے ۔روایات اور اسلامی تواریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب کفار مکہ جنگ بدر میںشکست خوردہ ہوئے اور ستر مقتول ستر قیدی چھوڑکر مکہ کی طرف پلٹ گئے تو ابو سفیان نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنی عورتوںکو مقتولین بدر پر گریہ و زاری نہ کرنے دیں کیونکہ آنسو غم و اندوہ کو دور کردیتے ہیں اور اس طرح محمد کی دشمنی اور عداوت ان کے دلوں سے زائل ہو جائے گی ۔ ابو سفیان نے خود یہ عہد کر رکھا تھا کہ جب تک جنگ بدر کے قاتلوں سے انتقام نہ لے لے اس وقت تک وہ اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کرے گا ۔بہر حال قریش ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے تھے اور انتقام کی صدا شہر مکہ میں بلند ہو رہی تھی ۔ ہجرت کے تیسرے سال قریش تین ہزار سوار اور دو ہزار پیدل فوج کے ساتھ بہت سا سامان جنگ لے کر آپ سے جنگ کرنے کے لئے مکہ سے نکلے اور میدان جنگ میں ثابت قدمی سے لڑنے کے لئے اپنے بڑے بڑے بت اور اپنی عورتیں بھی ہمراہ لے آئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:121-122
جناب عباس کی بر وقت اطلاع
حضرت رسول خدا کے چچا حضرت عباس جو ابھی مسلمان ۱ # نہیں ہوئے تھے اور قریش کے درمیان ان کے ہم مشرب اہم مذہب تھے ۔ لیکن اپنے بھتیجے سے فطری محبت کی بناء پر جب انہوں نے دیکھا کہ قریش کا ایک طاقتور لشکر پیغمبر سے جنگ کرنے کے لئے مکہ سے نکلا ہے تو فوراً ایک خط لکھا اور قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی کے ہاتھ مدینہ بھیجا ۔ عباس کا قاصد بڑی تیزی سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا ۔ جب آپ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے سعد بن ابی کو پیغام پہنچایا اور حتیٰ الامکان اس واقعے کو پردہ راز میں رکھنے کی کوشش کی گئی پیغمبر نے مسلمانوں سے مشورہ کیا جس دن عباس کا قاصد آپ کو موصول ہوا آپ نے چند مسلمانوںکو حکم دیا کہ وہ مکہ مدینہ کے راستے پر جائیں اور لشکر کفار کے کوائف معلوم کریں ۔ آپ کے دو نمائندے ان کے حالات معلوم کرکے بہت جلدی واپس آئے اور قریش کی قوت و طاقت سے آنحضرت کو مطلع کیا اور یہ بھی اطلاع دی کہ یہ طاقتور لشکر خود ابو سفیان کی کمان میں ہے۔ پیغمبر اکرم نے چند روز کے بعد تمام اصحاب اور اہل مدینہ کو بلایا اور ان در پیش حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے میٹنگ کی ۔ اس میں عباس کے خط کو بھی ہیش کیا گیا اور اس کے بعد مقام جنگ کے بارے میں رائے لی گئی ۔ اس میٹنگ میں ایک گروہ نے رائے دی کہ جنگ دشمن سے مدینہ کی تنگ گلیوں میں کی جائے کیونکہ اس صورت میں کمزور مرد ، عورتیں بلکہ کنیزیں بھی مددگار ثابت ہو سکیں گی ۔ عبد اللہ بن ابی نے تائیداً کہا یا رسول اللہ !آج تک ایسا نہہیں ہوا کہ ہم اپنے قلعوں اور گھروں میں ہوں اور دشمن ہم پر کامیاب ہو گیا ہو ۔ اس رائے کو آپ بھی اس وقت کی مدینہ کی پوزیشن کے مطابق بنظر استحسان دیکھتے تھے کیونکہ آپ بھی مدینہ ہی میں ٹھرنا چاہتے تھے لیکن نو جوانوں اور جنگجو لوگوںکا ایک گروپ اس کا مخالف تھا ۔ چنانچہ سعد بن معاذ اور قبیلہ اوس کے چند افراد نے کھڑے ہوکر کہا اے رسول خدا ! گذشتہ زمانہ میں عربوں میں سے کسی کو یہ جراٴت نہ تھی کہ ہماری طرف نظر کرے جبکہ ہم مشرک اور بت پرست تھے ، اب جبکہ ہمارے درمیان آپ کی ذات ستودہ صفات موجود ہے ۔ کس طرح وہ ہمیں دبا سکتے ہیں اس لئے شہر سے باہر جنگ کرنی چاہئے ۔ اگر ہم میں سے کوئی مارا گیا تو وہ جام شہادت نوش کرے گا اور اگر کوئی بچ گیا تو اسے جہاد کا اعزاز و افتخار نصیب ہو گا ۔ اس قسم کی باتوں اور جوش شجاعت نے مدینہ سے باہر جنگ کے حامیوں کی تعداد کو بڑھا دیا یہاں تک کہ عبداللہ بن ابی کی پیش کش سرد خانے میں جا پڑی ۔ خود پیغمبر نے بھی اس مشورہ کا احترام کیا اور مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کے طرفداروں کی رائے کو قبول فرما لیا اور ایک صحابی کے ساتھ مقام جنگ کا انتخاب کرنے کے لئے شہر سے باہر تشریف لے گئے آپ نے کو احد کا دامن لشکر گاہ کے لئے انتحاب کیا کیونکہ جنگی نقطہ نظر سے یہ مقام زیادہ بہتر تھا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:121-122
مسلمانوں کی دفاعی تیاریاں
جمعہ کے دن آپ نے یہ مشورہ لیا اور نماز جمعہ کا خطبہ پڑھتے ہوئے آپ نے حمد و ثنا کے بعد مسلمانوں کو لشکر قریش کے آنے کی اطلاع دی اور فرمایا کہ تہ دل سے جنگ کے لئے آمادہ ہو جاوٴ اور پورے جذبہ سے دشمن سے لڑو تو خدا وند قدوس تمہیں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرے گا اورا سی دن آپ ایک ہزار افراد کے ساتھ لشکر گاہ کی طرف روانہ ہوئے ۔آپ خود لشکر کی کمان کر رہے تھے ۔ مدینہ سے نکلنے سے قبل آپ نے حکم دیا کہ لشکر کے تین علم بنائیں جائیں جن میں ایک مہاجرین اور دو انصار کے ہوں ۔ پیغمبر اکرم نے مدینہ اور احد کے درمیانی فاصلہ کو پا پیادہ طے کیا اور سارے اور سارے راستہ لشکر کی دیکھ بھال کرتے رہے ۔ خود لشکر کی صفوں کو منظم و مرتب رکھا تا کہ وہ ایک ہی صف میں مارچ کریں ۔ ان میں سے کچھ ایسے افراد کو دیکھا جو پہلی دفعہ آپ کو نظر پڑے۔پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں ، بتایا گیا کہ یہ عبداللہ بن ابی کے ساتھی کچھ یہودی ہیں اور اس مناسبت سے مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے میں مشرکین سے مدد نہیں لی جا سکتی مگر یہ کہ یہ اسلام قبول کر لیں ۔ یہودیوں نے اس شرط کو قبول نہ کیا اور سب مدینہ کی طرف پلٹ آئے ۔ یوں ایک ہزار میں سے تین سو افراد کم ہو گئے ۔2 # لیکن مفسرین نے لکھا ہے کہ چونکہ عبد اللہ بن ابی کی رائے کو رد کیا گیا تھا اس لئے وہ اثنائے راہ میں تین سو سے زیادہ افراد کو لے کر مدینہ کی طرف پلٹ آیا ۔بہر صورت پیغمبر اکرم لشکر کی ضروری چھان پھٹک (ہیودیوں یا بن ابی کے ساتھیوں کو نکالنے ) کے بعد سات سو افراد کو ہمراہ لے کر کوہ احد کے دامن میں پہنچ گئے اور نماز فجر کے بعد مسلمانوں کی صفوں کو آراستہ کیا۔ عبد اللہ بن جبیر کو پچاس ماہر تیر اندازوں کے ساتھ پہاڑ کے درہ پر تعینات کیا اور انہیں تاکید کی کہ وہ کسی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں اور فوج کے پچھلے حصہ کی حفاظت کریں اور اس حد تک تاکید کی کہ اگر ہم دشمن کا مکہ تک پیچھا کریں یا ہم شکست کھا جائیں اور دشمن ہمیں مدینہ تک جانے پر مجبور کر دے پھر بھی تم اپنا مورچہ نہ چھوڑنا ۔ دوسری طرف سے ابو سفیان نے خالد بن ولید کو منتخب سپاہیوں کے ساتھ اس درہ کی نگرانی پر مقرر کیا اور انہیں ہر حالت میں وہیں رہنے کا حکم دیا اور کہا کہ جب اسلامی لشکر اس درہ سے ہٹ جائے تو فوراً لشکر اسلام پر پیچھے سے حملہ کردو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:121-122
آغاز جنگ
دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے صف بستہ ہوکر جنگ کے لئے آمادہ ہو گئے اور یہ دونوں لشکر اپنے نوجوانوںکو ایک خاص انداز سے بر انگیختہ کرتے تھے۔ ابو سفیان کعبہ کے بتوں کے نام لے کر اور خوبصورت عورتوں کے ذریعے اپنے جنگی نوجوانوں کی توجہ مبذول کر کے ان کو ذوق و شوق دلاتا تھا جب کہ پیغمبر اسلام خدا کے اسم مبارک اور انعامات اعلیٰ کے حوالے سے مسلمانوں کو جنگ کی ترغیب دیتے تھے ۔ اچانک مسلمانوں کی صدائے اللہ اکبر سے میدان اور دامن کوہ کی فضا گونج اٹھی جبکہ میدان کی دوسری طرف قریش کی لڑکیوں نے دف اور سارنگی اشعار گا گا کر قریش کے جنگجو احساسات کو ابھارا ۔ جنگ کے شروع ہوتے ہی مسلمانوں نے ایک شدید حملہ سے لشکر قریش کے پرخچے اڑا دئے اور وہ حواس باختہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اور لشکر اسلام نے ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا ۔ خالد بن ولید نے جب قریش کی یقینی شکست دیکھی تو اس نے چاہا کہ درہ کے راستے سے نکل کر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کیا جائے۔ لیکن تیر اندازوں نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا قریش کے قدم اکھڑتے دیکھ کر تازہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے دشمن کو شکست خوردہ دیکھ کر مال غنیمت جمع کرنے کے لئے اچانک اپنی پوزیشن چھوڑ دی ۔ ان کی دیکھا دیکھی درہ پر تعینات تیر اندازوں نے بھی اپنا مورچہ چھوڑ دیا ۔ ان کے کمانڈر عبداللہ بن جبیر نے انہیں آپ کا حکم یاد دلایا مگر سوائے چند (تقریباً دس افراد ) کے کوئی اس اہم جگہ پر نہ ٹھہرا۔ حکم پیغمبر کی مخالفت کا نتیجہ یہ نکلا کہ خالد بن ولید نے درہ خالی دیکھ کربر تیزی سے عبداللہ بن جبیر پر حملہ کیا اور اسے اس کے ساتھیوں سمیت قتل کر دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کر دیا ۔ مسلمانوں نے ہر طرف چمکیلی تلواروں کی تیز دھاروں کو اپنے سروں پر دیکھا تو حواس باختہ ہو گئے اور اپنے آپ کو منظم نہ رکھ سکے ۔ قریش کے بھگوروں نے جب یہ صورتحال دیکھی تو وہ بھی پلٹ آئے اور مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا ۔ اسی موقعے پر لشکر اسلام کے بہادر افسر سید الشھدا حضرت حمزہ (ع) نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا ۔سوائے چند شمع رسالت کے پروانوں کے باقی مسلمانوں نے وحشت زدہ ہو کر میدان کو دشمن کے حوالہ کر دیا ۔ اس خطرناک جنگ میں جس نے سب سے زیادہ خدا کاری کا مظاہرہ کیا اور پیغمبر پر ہونے والے ہر حملہ کا دفاع کیا وہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے ۔ حضرت علی (ع) بڑی جراٴت اور بے جگری سے جنگ کر رہے تھے یہاں تک کہ آپ کی تلوار ٹوٹ گئی اور پیغمبر اکرم نے اپنی تلوار آپ (ع) کو عنایت فرمائی جو ذوالفقار کے نام سے مشہور ہے ۔ بالآخر آپ ایک مورچہ میں ٹھہر گئے اور حضرت علی (ع) مسلسل آپ کا دفاع کرتے رہے یہاں تک کہ بعض مورخین کی تحقیق کے مطابق حضرت علی (ع) کے جسم کو ساٹھ زخم آئے اور اسی موقع پر قاصد وحی نے پیغمبر سے عرض کیا : اے محمد ! یہ ہے مواسات و معانت کا حق ۔ تو آپ نے فرمایا (ایسا کیوں نہ ہو کہ ) علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں ۔ تو جبرئیل نے اضافہ کیا : میں تم دونوں سے ہوں ۔ امام صادق (ع) ارشاد فرماتے ہیں کہ پیغمبر نے قاصد وحی کو یہ کہتے ہوئے دیکھا کہ ”لا سَیفَ الاّ ذُوالفقَار وَلاَ فتیٰ الاّ علی “(ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں اور علی کے سوا کوئی جوانمرد نہیں )۔ اس اثنا میں یہ آواز بلند ہوئی کہ محمد قتل ہو گئے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:121-122
کون پکارا کہ محمد قتل ہو گئے ہیں
بعض سیرت نگار رقمطراز ہیں کہ ابن قمعہ نے اسلامی سپاہی مصعب کو پیغمبر سمجھ کر اس پر کا ری ضرب لگائی اور بآواز بلند کہا : لات و عزیٰ کی قسم محمد قتل ہو گئے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ افوا چاہے مسلمانوں نے اڑائی یا دشمن نے لیکن مسلمانوں کے لئے نفع رساں ثابت ہوئی اس لئے کہ جب آواز بلند ہوئی تو دشمن میدان چھوڑ کر مکہ کی طرف چل پڑے ورنہ قریش کا فاتح لشکر جو حضور کے لئے دلوں میں کینہ رکھتا تھا اور انتقام لینے کی نیت سے آیا تھا کبھی میدان نہ چھوڑتا ۔ قریش کے پانچ ہزار افراد پر مشتمل لشکر نے میدان جنگ میں مسلمانوںکی کامیابی کے بعد ایک رات بھی صبح تک وہاں نہ گذاری اور اسی وقت مکہ کی طعف چل پڑے ۔ پیغمبر کی شہادت کی خبر نے بعض مسلمانوں میں زیادہ اضطراب و پریشانی پیدا کردی ۔ جو مسلمان اب تک میدان کارزار میں موجود تھے ، انہوں نے اس خیال سے کہ دوسرے مسلمان پراگندہ نہ ہوں ، آنحضر ت کو پہاڑکے اوپر لے گئے تا کہ مسلمانوں کو پتہ چل جائے کہ آپ بقیہ حیات ہیں ۔ یہ دیکھ کر بھگوڑے واپس آگئے اور آنحضرت کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہو گئے آپ نے ان کو ملامت اور سر زنش کی کہ تم نے ان خطرناک حالات میں کیوں فرار کیا ، مسلمان شمندہ تھے انہوں نے معزرت کرتے ہوئے کہا : اے رسول خدا !ہم نے آپ کی شہادت کی خبر سنی تو خوف کی شدت سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ یو مسلمانوں کو جنگ احد میں جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا مسلمانوں کے سر افراد شہید ہوئے اور بہت سے زخمی ہو گئے لیکن مسلمانوں کو اس شکست سے بہت بڑا درس ملا جو بعد کی جنگوں میں ان کی کامیابی و کامرانی کا سبب بنا، آیندہ آیات میں انشاء اللہ اس کا ذکر آجائے گا ۔ ۱۲۳۔ وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللَّہُ بِبَدْرٍ وَ اٴَنْتُمْ اٴَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ۔ ۱۲۴۔ إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنینَ اٴَ لَنْ یَکْفِیَکُمْ اٴَنْ یُمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِکَةِ مُنْزَلینَ ۔ ۱۲۵۔ بَلی إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا وَ یَاٴْتُوکُمْ مِنْ فَوْرِہِمْ ہذا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِکَةِ مُسَوِّمینَ ۔ ۱۲۶۔وَ ما جَعَلَہُ اللَّہُ إِلاَّ بُشْری لَکُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُکُمْ بِہِ وَ مَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ الْعَزیزِ الْحَکیمِ ۔ ۱۲۷۔ لِیَقْطَعَ طَرَفاً مِنَ الَّذینَ کَفَرُوا اٴَوْ یَکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوا خائِبینَ ترجمہ ۱۲۳۔ خدا نے بدر میں تمہاری مدد کی ( اور تم خطرناک دشمن پر فتحیاب ہوئے ) جبکہ تم ان کی نسبت ناتواں تھے پس خدا سے ڈرو (اور دشمن کے مقابلہ میں حکم پیغمبر کی نا فرمانی نہ کرو ) تا کہ تم اس کی نعمت کا شکر ادا کرنے والوں میں شمار رہو ۔ ۱۲۴۔ جس وقت تم مومنین سے کہتے تھے کہ کیا ییہ کافی نہیں کہ تمہارا پر ور دگار تین ہزار ملائکہ ( آسمان سے) اتار کر تمہاری مدد کرے۔ ۱۲۵۔ ہاں!( آج بھی ) اگر تم صبر اور استقامت اور پرہیزگاری اختیار کرو اور جب دشمن تم پر چڑھ آئے تو خدا پانچ ہزار مخصوص نشان رکھنے والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد کرےگا ۔ ۱۲۶۔لیکن یہ سب تو صرف تمہیں بشارت دینے کے لئے ہے اور تمہارے اطمینان کی خاطر ہے ورنہ کامیابی تو فقط خدائے توانا و حکیم کی طرف سے ہے ۔ ۱۲۷۔ (یہ وعدہ جو خدا نے تمہارے ساتھ کیا ہے ) اس لئے ہے تا کہ لشمر کفار کے ایک حصہ کو قطع کر دے یا انہیں ذلت کے ساتھ پلٹائے تاکہ وہ مایوس ہو کر ( اپنے علاقہ کو ) پلٹ جائیں ۔ ۱# ابھی ظاہراً مسلمان نہیں ہوئے تھے 2 # سیرت جلی ، جلد ۲ ، واقعہ جنگ احد ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:121-122
جنگ اُحد
تفسیر ” وَ إِذْ غَدَوْتَ مِنْ اٴَہْلِکَ تُبَوِّءُ الْمُؤْمِنِینَ مَقاعِدَ لِلْقِتالِ وَ اللَّہُ سَمیعٌ عَلیمٌ ۔“ یہاں سے ایک اہم اور وسیع اسلامی واقعہ یعنی جنگ احد کے بارے میں آیات شروع ہوئی ہیں ۔ گذشتہ آیات کے قرائن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں آیات جنگ احد کے بعد نازل ہوئیں ہیں اور اس وحشتناک کے بعض پہلووٴں کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور بہت سے مفسرین کا بھی یہی نظریہ ہے ۔ سب سے پہلے یہ پیغمبر کے مدینہ سے کوہ احد کے دامن میں لشکر گاہ کے انتخاب کے لئے باہر آنے کی طرف اشارہ کرتی ہےں اور ارشاد ہوتا ہے : اے پیغمبر یاد کرو ! اس دن کو کہ صبح کے وقت تم اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر مدینہ سے باہر آئے تاکہ دشمن سے جنگ کرنے کے لئے مومنین کے لئے کوئی لشکر گاہ تیار کر سکو ۔ اس روز مسلمانوں کے درمیان چہ میگوئیاں ہوئیں اس کی طرف ہم واقعے احد کی تفصیل میں اشارہ کریں گے۔مقام جنگ کے انتخا ب کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف تھا کہ آیا مدینہ میں ہو یا باہر اور رسالتماب نے اکثریت کے نظریہ کو قبول کر لیا اور لشکر گاہ شہر سے باہر کوہ احد کے دامن میں منتقل کر دی ۔ فطری طور پر ان میں کچھ ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے کچھ باتیں دل میں چھپا رکھی تھی اور کئی وجوہات کی بنا پر انہیں ظاہر کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ ”وَ اللَّہُ سَمیعٌ عَلیمٌ ۔“ کاجملہ گویاانسب کی حالت کی غمازی کرتاہے کہ خدا تمہاری باتوں کو بھی سنتا ہے اورتمہارے مخفی بھیدوں کو بھی جانتا ہے ۔ ”إِذْ ہَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْکُمْ اٴَنْ تَفْشَلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔“ اس جملہ کا روئے سخن اس ماجرے کے ایک اور پہلو کی طرف ہے اور وہ یہ کہ اس وقت مسلمانوں کے دو گروہ (تاریخ کے مطابق قبیلہ اوس میں سے بنو سلمہ اور خزرج میں سے بنو حارثہ )نے پختہ ارادہ کر لیا کہ وہ جنگ سے پہلو تہی کرتے ہوئے ایک راستے سے مدینہ کی طرف پلٹ آئیں گے اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ مدینہ کے اندر جنگ کرنےکے حق میں تھے لیکن پیغمبر اکرم نے اس بات کو قبول نہ کیا علاوہ ازایں جیسا کہ واقعے کی تفصیل سے ہو جائے گا کہ عبداللہ بن سلول تین سو یہودیوں کے ہمراہ لشکر اسلام میں آیا تھا اور اس صورتحال کی وجہ سے وہ لوگ بھی مدینہ کی طرف واپس آگئے ۔ اس بات نے دو مسلمان گروہوں کے لوٹ جانے کے پختہ ارادوں کو متزلزل اور کمزور کردیا لیکن جیسا کہ آیت کے ذیل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں گروہ اپنے ارادہ سے پلٹ آئے اور دیگر مسلمانوں سے آ ملے ۔ اس لئے قرآن کہتا ہے کہ ”وَ اللَّہُ وَلِیُّہُما وَ عَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ “۔یعنی خدا ان دو گروہوں کا معاون و مددگار ہے اور اہل ایمان کو خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ضمنی طور پر اس بات کی طرف بھی متوجہ رہنا چاہیے کہ واوقعے احد کا زکر ان آیات کے بعد جو کفار پر اعتماد نہ کرنے کے بارے میں تھیں ۔اس زندہ حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح پہلے بھی گذر چکا ہے اور بعد میںبھی تفصیل کے ساتھ بتائیں گے کہ پیغمبر اکرم نے ان یہودیوں کو اجازت نہ دی جو بظاہر مسلمانوں کی حمایت کے لئے کھرے ہوئے تھے اور وہ اسلامی لشکر گاہ میں ٹہرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ پھر بھی بیگانے تھے اور ان نازک حالات میں ان کا مسلمانوں کے ساتھ ہونا مناسب نہ تھا۔