أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ
Is He who created the heavens and the earth, and sends down for you water from the sky, whereby We grow delightful gardens, whose trees you could never cause to grow...? What! Is there a god besides Allah? Indeed, they are a lot who equate [others with Allah].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:60
[Pooya/Ali Commentary 27:60] Refer to the commentary of An-am: 100.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 27:60-66
God in proof of His Being personal indispensable cause puts forward the following proofs: 1. Cosmological – He having created (under knowledge and Might, nothing having emanated from Him and thus disproving doctrine of Pantheism). The Heavens and Earth were energized solely by Him, without assistance of a partner or a son, thus dispensing with claims of infidels, Christians, Jews, who maintain the angels to be daughters of God, Jesus and Ezra to be sons of God to look after the Administration of the world. His object of creation is to afford a definite time within which to attain Divine proximity, through instruments of Divine Lights with revelation, being made capable beforehand, He being inaccessible by virtue of His being unlike creation. 2. In proof of His further existence, He directs our attention to where human hearts seek relief in distress, when material means, placed at their disposal, fail to function. 3. He then points out revealed sources created for human guidance ad be no more agnostic. 4. He then lays down teleological objects of creation and reversion, which is to secure the final destination of paradise or perdition, depending upon belief or unbelief of Him and action through Divine Lights or otherwise. Eternal hell is for him who denies foundations of faith, which are five already enunciated. 5. When means provided by the Indispensable Cause to proximate Him are forsaken, what right has humans, how much able, intellectual wise and philosophical be he to claim Divine proximity? How can he claim even intelligence, wisdom, etc. when these are Divine gifts and have been misused, by being ungrateful to God, for acknowledging His Sovereignty and commands? Divination by means of evil spirits as occultism is illegal and depracated, except genuine cases duly tested religiously.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:60-64
1- مضطر کون ہے ؟
چند اہم نکات 1- مضطر کون ہے ؟ اگرچہ خداوند عالم (شرائط کی موجودگی میں) ہرایک کی دعا کوقبول فرماتا ہے: لیکن مندرجہ بالا آیات میں "مضطر" کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ قبولیت دعا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ انسان اپنی اورآنکھیں مکمل طور عالم اسباب سے ہٹاکر اپنے دل وجان کو پوری طرح خدا کے اختیارمیں دے دے۔ سب کچھ اسی کی طرف سے جانے اور ہرمشکل کا حل اسی کی طرف سے سمجھے اور یہ سب اضطرار کی حالت میں حاصل ہوتاہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ دنیا عالم اسباب ہے اور مومن شخص اس بارے میں اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتا ہے لیکن کسی بھی صورت میں عالم اسباب میں کھو نہیں جاتا ۔ بلکہ عالم اسباب کے وسائل و ذرائع کو بھی اسی کا عطیہ سمجھتا ہے اوراسباب کے پس پردہ "مسبب الاسباب" کی ذات کو دیکھتا ہے اور سب کچھ اسی سے طلب کرتا ہے۔ یہ امر بی لائق توجہ ہے کہ بعض روایات میں اس آیت کی تفسیر حضرت مہدی (صلوات الله وسلامیہ علیہ) کے ظہور سے کی گئی ہے چناچہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک روایت میں ہے : و الله لكاني انظر الى القائم وقد أسند ظهره الى الحجرثم ینشد الله حقه .... قال هو و الله المضطر في كتاب الله في قوله ، امن یجیب المضطر اذا دعاه و يكشف السوء ويجعلکم خلفاء الارض خدا کی قسم ! میں مہدی کو دیکھ رہا ہوں کہ حجراسود سے ٹیک لگائے خدا کو اپنے حق قسم دے کر دعا مانگ رہے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا : خدا کی قسم ! قرآن مجید کی آیت ” امن یجیب المضطر............." میں "مضطر" سے مراد بھی وہی ہیں"۔ ؎1 حضرت امام جعفرصادق علیہ اسلام کی ایک اور حدیث میں ہے: ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسير نورالثقلین جلد 4 ص 94۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- نزلت في القائم من آل محمد علیهم السلام هو و الله المضطر اذا صلي في المقام رکعتین و دعا الى الله عز و جل فاجابه و یكشف السوء و يجعله خليفة في الارض یہ آیت مهدی آل محمد کے بارے میں نازل ہوئی ہے ،خدا کی قسم وہی مضطر بے ، جب وہ مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز بجا لائے گا اور خدا کی بارگاہ میں دست بدعا ہو کر اس سے سوال کرے گا تو خدا اس کی دعا کو قبول فرمائے گا۔ اس کی مشکلات کو دور کرکے اسے زمین کا خلیفہ بنائے گا۔ ؎1 جیسا کہ اور مقامات پر بھی اس قسم کی تفسیر بیان ہوئی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ آیت کو حضرت مهدی کے وجودذی جود میں منحصر کیا جائے بلکہ آیت کا مفہوم وسیع ہے کہ جس کا ایک واضح مصداق حضرت مهدی کا وجود گرامی بھی ہے کہ اس دورمیں جبکہ ہرطرف فتنہ و فساد پھیل چکا ہوگا ، امیدوں کے تمام دروازے بند ہوچکے ہوں گے انسانی مصیبتیں انتہا کو پہنچ چکی ہوں گی ، بشریت چلارہی ہوگی تمام کائنات پر اضطرار کی حکومت ہوگی تو ایسی حالت میں وہ روئے زمین کے مقد ترین حصے پر دعا کے لیے ہاتھ بلند کرکے مشکلات کے دور ہونے کی دعا کریں گے اور خداوند عالم ان کی اس دعا کو مقدس عالمی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دے گا۔ "ويجعلکم خلفاء الارض " کے مصداق انھیں اور ان کے یاروانصار کوروئے زمین کا وارث اور خلیفہ بنائے گا۔ ؎2 دعا کی اہمیت، اس کی قبولیت کی شرائط اور بعض دعاؤں کے قبول نہ ہونے کے اسباب کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہ بقرہ کی آیت 186 کے ذیل میں تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:60-64
2- ہرجگہ منطقی دلائل کی دعوت
2- ہرجگہ منطقی دلائل کی دعوت :- ہم قرآن مجید میں کئی مرتبہ پڑھ چکے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین سے دلیل کا مطالبہ کرتا ہے خاص کر "هاتوا برهانكم" (اپنی دلیل لے آؤ)کا جملہ چار مقامات پر دہرایا گیا ہے (سورہ بقرہ کی آیت 111 ، سورہ انبیا کی آیت 24 ، سورہ نمل کی آیت 64 اور سورہ قصص کی آیت 75 میں) اور ان کے علاوہ دوسرے کئی مقاماست پرلفظ "برهان" خصوصی طور پر زور دیا گیا ہے (برہان ایسی حکم دلیل کو کہتے ہیں جس میں ہمیشہ سچائی پائی جائے)۔ اسلام کی برہان طلبی کی یہ منطق درحقیقت اس کے قوی اور بے نیاز ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اسلام کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے بھی منطق کی رو سے مقابلہ کرتا ہے جب وہ دوسروں سے برہان و دلیل کا مطالبہ کرتا ہے تو پھر خود اس سے کیونکر بے پرواہ ہوسکتا ہے ؟ قرآنی آیات مختلف مسائل میں مختلف سطح پر منطقی دلائل اورعلمی براہین سے جھلک رہی ہیں ۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسير نورالثقلین جلد 4 ص 94۔ ؎2 عجیب حسن اتفاق ہے کہ گفتگو بھی ٹھیک 15 شعبان المعظم 1403ھ بروز ولادت با سعادت حضرت مهدی آخرالزمان معرض تحریر میں آئی ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ چیزآج کی تحریف شده مسحیت کے بالکل برعکس ہے کہ جس پر آج کی عیسائیت انحصار کیے ہوئے ہے اور مذہب کو دل کک تابع سمجھے ہوئے ہے اور عقل کو مذہب سے کوسوں دور سمجھتی ہے کہ عقلی تضادات (توحید در تثلیث جیسے مسائل) کو مذہب کا جزو سمجھتی ہے یہی وجہ ہے کہ مذہب میں طرح طرح کے خرافات داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے حالانکہ اگر مذہب کو عقل سے جدا کرديا جائے تو اس کی حقانیت کی دلیل ہی باقی نہیں رہ جاتی اور مذہب اور اس کی ضد میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ اسلام کے اس طرزعمل (برہان پر اخصاراورمخالفین کو منطقی دلائل کی دعوت) کی اہمیت اس وقت زیادہ آشکار ہوتی ہے جب ہم اس بات کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ اسلام ایک ایسے ماحول میں نمودار ہوا تھا جس میں بے اساسی خرافات اور غیرمنطقی مسائل کی حکمرانی تھی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:60-64
سوره نمل / آیه 60 - 64
(60) اَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍۚ مَّا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْبِتُـوْا شَجَرَهَا ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ بَلْ هُـمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ (61) اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلَالَـهَآ اَنْهَارًا وَّجَعَلَ لَـهَا رَوَاسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ بَلْ اَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (62) اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوٓءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ (63) اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِىْ ظُلُمَاتِ الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَىْ رَحْـمَتِهٖ ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ تَعَالَى اللّـٰهُ عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (64) اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيْدُهٝ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ ترجمہ (60) کیا جو بت تمھارے معبود ہیں وہ بہتر ہیں یا وہ ذات جس نے آسمان اور زمین کوخلق فرمایا ہے اور تمھارے لیے آسمان سے پانی نازل کیا ہے پھر ہم ہی نے اس کے ذریعے خوبصورت اور سرورانگیزباغات اگائے اور تمھارے بس کی تو بات ہی نہ تھی کہ تم ان کے درخت اگاسکتے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ نہیں بلکہ وہ تو ایسے نادان ہیں کہ خدا کی مخلوق کو ا س کے برابر قرار دیتے ہیں۔ (61) یا وہ جس نے زمین کو جائے آرام و قرار بنایا ہے اور اس میں دریا جاری کیے ہیں اور زمین کے لیے ثابت و محکم پہاڑ بنائے ہیں اور دو سمندروں کے درمیان حد فاصل بنائی ہے (تاکہ وہ آپس میں مل نہ جائیں ، تو اس حالت میں) کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ نہیں کہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے (اور جاہل ہیں)۔ (62) یا وہ جو مضطر و بے چین کی دعا قبول کرتا ہے اور اس کی مصیبت دور کرتا ہے اور تمھیں زمین پرخلیفہ بناتا ہے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ تم میں سے بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (63) یا وہ جو تمھیں صحرا کی تاریکیوں اور سمندر میں راستہ دکھاتا ہے اور وہ جو اپنی رحمت کے نازل ہونے سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بناکر بھیج دیتا ہے۔ کیا خدا کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟ اللہ اس بات سے برتر و بالا تر ہے کہ اس کے ساتھ شریک قرار دیں ۔ (64) یا وہ جس نے خلقت کا آغاز کیا اور پھراسے پلٹائے گا اور وہ جوتمھیں زمین و آسمان سے روزی عطا کرتا ہے کیا کوئی اور معبود خدا کے ساتھ ہے ؟ کہہ دیجیے کہ اپنی دلیل پیش کرو اگرتم سچے ہو؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:60-64
یہ دلائل اور پھر بھی شرک
تفسیر یہ دلائل اور پھر بھی شرک گزشتہ گفتگو کے سلسلہ آیات کی آخری آیت میں (پانچ عظیم انبیاء کی چونکا دینے والی داستانوں کے بعد) ایک مختصر مگرجامع سوال کیا گیا ہے کہ "کیا خداوند قادر و توانا بہتر ہے یا ان کے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بے قدر قمیت بت؟ زیر نظر آیات میں اس جملے کی تشریح کی گئی ہے اور پانچ آیات میں پانچ جچے تلے سوال کیے گئے ہیں ۔ اور مشرکین کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرکے ان سوالات کا جواب طلب کیا گیا ہے تو پانچ آیات میں خداوند عالم کی بارہ عظیم نعمتیں توحید کے دلائل کے طور پر ذکر کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے آسمان و زمین کی خلقت ، باران رحمت کا نزول اور اس سے پیدا ہونے والی برکتوں کو بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : کیا وہ بت بہتر ہیں جو تمهارے معبود ہیں یا وہ جس نے انسانوں اور زمین کو خلق فرمایا ہے اور تمھارے لیے آسمان سے پانی نازل کیا ہے اور ہم نے اس سے خوبصورت اور سرور انگیزباغات آگائے ہیں (من خلق السماوات والارض وانزل لكم من السماء ماء فانبتنابه حد ائق ذات بهجة)۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 درحقیقت اس کا ایک محذوف ہے اوراس کی تقدیر یوں ہے "ما یشرکون خيرا من خلق السماوات والارض" درحقیقت اس سے پہلی آیت میں سوال یوں تھا کہ آیا وہ خدا جو بندوں کو نجات دیتا ہے یا وہ بت کہ جنھیں لوگ اس کا شریک بناتے ہیں ؟ لیکن اس آیت میں سوال بتوں سے شروع کرتا ہے کہ آیا وہ بہتر ہیں یا خداوند متعال جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ "حدائق" "حديقه" کی جمع ہے اور اس طرح بہت مسفرین نے کہا ہے کہ اس باغ کے معنی میں ہے جس کے اطراف میں دیوار کھینچی گئی ہو اور ہر لحاظ سے محفوظ ہو جیسا کہ آنکھ کما "حدقه" (ڈھیلا) پلکوں کے درمیان محصور بے، راغب اصفهانی اپنی کتاب " مفردات" میں کہتے ہیں: حدیقہ دراصل اس زمین کو کہتے ہیں جس میں پانی ٹھہر ہے جیسا کہ آنکھ کا حدقہ (ڈھیلا) ہے کہ ہمیشہ پانی اس میں موجودرہتاہے۔ توان دونوں اقوال کو ملا کر یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ "حدیقہ" اس باغ کو کہتے ہیں جس کے اطراف میں دیواربهی ہو اور اس میں پانی بھی خوب موجود ہو۔ "بهجة" (بروزن "لهجة ") کا معنی رنگ کی ایسی زیبائی اور ظاہری خوبصورتی ہے جسے دیکھتے ہی لوگ خوشی میں ڈوب جائیں۔ ؎1 اسی آیت میں روئے سخن بندوں کی طرف کرکے فرمایا گیا ہے : تمھارے بس سے یہ بات باہر ہے کہ تم ایسے خوش نما درخت اگا سکو (ما کان لکم ان تثبتواشجرها). تمھارا کام صرف اور صرف بیج ڈالنا اور آبپاشی کرنا ہے اور بس! جو ذات ان بیجوں کے دل میں روح حیات ڈالتی ہے اوران کے اگانے کے لیے نورافتاب ، قطرات باران اور ذرات خاک کومامورکرتی ہے وہ ذات خداوند ذوالجلال ہے۔ یہ ایسے حقائق ہیں جن سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا اورنہ ہی انھیں غیر خدا کی طرف نسبت دے سکتا ہے وہ خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کوخلق فرمایا ہے ، اور بارش نازل کرتا ہے اور وہی عالم حیاتی حسن و جمال اورزمان کا خوشنمائی کا خالق ہے۔ حتی کہ اگرایک خوش نما پھول کی امیزی کے بارے میں غور کیا جائے اور لطیف اور منظم پتیوں کو غور سے دیکھا جائے جو ایک دوسرے کے اندر رہ کر پھول کے مرکزی حصے کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے زندگی کا راگ الاپ رہے ہیں تو کافی ہوجاۓ گا کہ انسان اس کے خالق کی عظمت ، قدرت او رحمت کو سمجھ جائے ، یہی چیز انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں اور خالق کا کائنات کی طرف متوجہ کرتی ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں خلقت میں توحید (توحید کے خالق) اور ربوبیت میں توحید (مدبر کائنات کی توحید) کو "معبود کی توحید" ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "ذات بهجة " میں " ذات " کا لفظ مفرد آیا ہے جبکہ " حدائق" جمع کا صیغہ ہے اوراس کو موصوف ہے ۔ یا اس لیے ہے کہ حدائق جمع مکسر اور جمع مکسر کبھی" جماعت کے مفہوم میں بھی آتی ہے جو کہ مفرد ہے اور مفرد کی صفت بھی مفرد ہوا کرتی ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کے بنیادی ستون شمار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے ، کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (ء اله مع الله)۔ لیکن وہ نادان لوگ ہیں جو پروردگار عالم سے منہ موڑ کر غیراللہ کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں جس میں کچھ بھی قدرت نہیں ہے (بل هم قوم یعد لون)۔ ؎1 دوسرا سوال زمین کی آرام و سکون کی نعمت اور اس جہان میں انسان کی قرار گاہ کے بارے میں ہے : کیا ان کے بناوٹی معبود بہتر ہیں اور یہ وہ جس نے زمین کو آرام کی جگہ بنایا ہے اوراس میں دریا چلائے ہیں اور زمین کے لیے حکم اور ٹھہرے ہوئے پہاڑ بنائے ہیں (تاکہ زمین کو زلزلے سے محفوظ رکھیں ) ۔ (امن جعل الارض قرارًا و جعل خلالها انهارًا وجعل لھا رو اسی)۔ ؎2 نیز دو (میٹھے اور کڑوے) سمندروں کے درمیان ایک حد فاصل قرار دی ہے تاکہ وہ آپس میں مل نہ جائیں ( وجعل بین البحرین حاجزًا)۔ تو اس طرح سے اس آیت میں چار عظیم نعمتوں کا ذکر آیا ہے اور تین حصوں میں آرام و سکون کی بات کی گئی ہے۔ زمین کا اپنا آرام کہ اس کے اپنے محور اور سورج کے گرد تیزرفتاری کے ساتھ گھومنے اور مجموعی طور پر نظام شمسی کی حرکت کے باوجود یہ زمین اس قدر ایک حالت پر قائم اور پر سکون ہے کہ اس کے اوپر رہنے والوں کو اس کی حرکت کا کچھ بھی احساس نہیں ہوتا گویا وہ ایک جگہ پرایسی گڑی ہوئی ہے کہ حرکت کا نام و نشان ہی نہیں ملتا۔ دوسری نعمت پہاڑوں کی ہے (جیسا کہ ہم پیلے بھی بتا چکے ہیں کہ وہ زمین کے چاروں اطراف میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی بنیادیں آپس میں پیوستہ ہیں جوایک طاقتور زرہ کا کام دیتے ہیں اور زمین کے اندرونی دباؤ اور بیرونی مدو جزر کا جو چاند کی کشش کی وجہ سے پیدا ہوتاہے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور ایسے عظیم طوفانوں سے زمین کو بچاتے ہیں جو زمینی زندگی کو تہ و بالا کرکے رکھ دیں۔ ؎3 ایک اورنعمت قدرتی حد فاصل ہے جو سمندروں کے میٹھے اور کڑوے پانی کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھتی ہے اور یہ نادیدہ حجاب میٹھے اور کڑوے پانی کے ہلکے اور بھاری درجوں کے فرق کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں جسے اصطلاح میں مخصوص ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "يعدلون" کے بارےمیں ایک احتمال یہ ہے کہ ممکن ہے کہ وہ "عدول" انحراف اورحق کے باطل کی طرف لوٹ جانے کے معنی میں ہو اوریہ بھی ممکن ہے کہ"عدل" (بروزن "قشر") با برابر مشابہ اور نظیر کے معنی میں ہو ، پہلی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ خدائے وحدۂ لاشریک سے انحراف وعدول کرتے ہیں اور دوسری صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ انھیں اس کے مشابہ ، ہم پلہ اور نظیرتسلیم کرتے ہیں۔ ؎2 "خلال" دراصل دو چیزوں کے درمیان شگاف کو کہتے ہیں اور "رواسی" "راسية" کی جمع ہے جس کا معنی ہے ٹھہرا ہوا اور برقرار۔ ؎3 زمین کےبرقراراور رکے رہنےمیں پہاڑ کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کے اور کیا فوائد ہیں ۔ اس کی تفصيل ہم تفسیرنمونہ جلد 10 ( سوره رعد کی آیت 3 کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- وزن کا فرق" کہا جاتا ہے اور یہ اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ جب بڑے بڑے دریاؤں کا پانی سمندروں میں گرتا ہے توبہت عرصے میں نمکین پانی میں تحلیل ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس پانی کو سمندر کا مدجزر ساحل کے وسیع وعریض علاقے میں دھکیل دیتا ہے اوراس سے زراعت کے لیے آبپاشی کی جاتی ہے۔ اس کی تفصیل ہم اسی جلد سورہ فرقان کی آیت 53 کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں ۔ اس کے باوجود زمین کے مختلف حصوں میں پانی کی نہری اور دریا جاری ہیں جو حیات اور زندگی کا سرمایہ شادابی وتازگی کا سرچمشہ اور لہلہاتت کھیتوں اور ثمراور باغات کا ذریعہ حیات ہیں ۔ یہ پانی کچھ تو پہاڑوں کے اندر موجودہے اور کچھ خود زمین کے اندر۔ تو کیا اس قسم کے منظم اور جچا تلا نظام اندھے اور بہرے "اتفاق" اور عقل و خرد سے عاری ”مبداء" کا شاہکار ہوسکتاہے؟ کیا اس حیرت انگیز اورتعجب خیز نظام میں بتوں کو کوئی حصہ ہوسکتا ہے؟ (نہیں اور ہرگز نہیں ! !) حتی کہ خود بت پرستوں نے بھی اس بات کا دعوی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں اس سوال کو ایک بار پھر دہراتا ہے کہ کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی بے؟ (ءاله مع اللہ ) - نہیں کوئی نہیں "بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان اور بے خبر ہیں (بل اکثرهم لا يعلمون). اسی سلسلے کے پانچ سوال ہیں جو درحقیقت ایک معنوی اور باطنی مقدمے کی تفتیش کے سلسلہ میں ہیں ۔ تیسرے سوال میں حل مشکلات ، رکاوٹوں کے دور کرنے اور دعا کے قبول ہونے کی بات ہوتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے: کیا تمھارے بے قدرقميت و معبودہ بہترہیں یا وہ جو عاجزودرمانده اور مضطر انسان کی دعا قبول کرتا اور اس کی مشکلات کو دور کرتا ہے (امن يجيب العضطر اذا دعاہ یكشف السوء). جی ہاں ! جب عالم اسباب کے تمام دروازے انسان پر بند ہو جاتے ہیں ، جب وہ مایوس اور پریشان اور درماندہ اور و مضطر ہوجاتا ہے توخدا ہی ان مشکلات کوحل کرتا ہے، مایوسیوں کو دور کرتا ہے ، امید کی کرن دلوں میں روشن کرتا ہے اور عاجز دور ماندہ لوگوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ یہ صرف اور صرف اس کی پاک ذات ہوسکتی ہے اور کوئی نہیں۔ چونکہ حقیقت ایک فطری احساس کے طور پر تمام انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے تو بت پرست بھی جب سمندر کی بے رحم موجوں کا شکار ہوجاتے ہیں تو اپنے تمام بناوٹی خداؤں کو فراموش کرکے حقیقی معبود "اللہ" کی رحمت کا سہارا طلب کرتے ہیں جیسا کہ قران فرماتا ہے : فاذا ركبوا في الفلک دعوا الله مخلصين له الدين جب وہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو خدا ہی کو پکارتے اور عبادت و پرستش بھی اسی کے لیے مخصوص سمجھتے ہیں۔ (عنکبوت ـــــــــ 65)۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ نہ صرف ان مشکلات اور مصائب کو دور کرتا ہے بلکہ ”تمھیں زمین کے خلفاء بھی قرار دیتا ہے۔ (ويجعلکم خلفاء الارض )- تو کیا پھر بھی خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (ءاله مع الله)۔ " تم لوگ بہت کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو اور ان واضح دلائل کے باوجود تم کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتے"۔ (قليلًا ماتذكرون)۔ ؎1 "مضطر" کے مفہوم اور قبولیت دعا اور ان کی شرائط کے بارے میں انھی آیات کے آخری نکات کی بحث میں مفصل گفتگو ہوگی ۔ "خلفاء الارض " سے ممکن ہے ساکنین و صاحبان زمین مراد ہوں کیونکہ خداوند عالم نے زمین میں جو امن وسکون ، آرام و اطمینان ، نعمتیں اور اسباب رفاه قرار دیئے ہیں اس کے باوجود انسان کو اس کره خاکی کا حکمران بنا دیا ہے اوراس پر تسلط حاصل کرنے کے لیے اسے صلاحیت عطا کی ہے۔ خاص طور پر جب انسان حالت اضطرار میں ہوتا ہے اور مشکلات میں گھر جاتا ہے تو وہ بارگاہ خداوندی کی طرف رخ کرتا ہے اور خدا کی اپنی مہربانی سے اس کی تمام مشکلات و مصائب کو دور کر دیتاہے تواس خلافت کا پایہ اور مضبوط ہوجاتا ہے (اور یہیں سے آیت کے ان دونوں حصوں کا باہمی ربط بھی واضح ہو جاتاہے)۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خداوند عالم نے سلسلہ حیات کو کچھ اس طرح خلق فرمایا ہے ہمیشه کچھ قومیں آتی رہتی ہیں اور دوسری قوموں کی جانشین ہوتی رہتی ہیں ۔ اگر باریوں کا یہ سلسلہ نہ ہو تو ارتقاء اور تکامل کبھی بھی واقع نہ ہو ۔ ؎2 چوتھے سوال میں مسئلہ ہدایت پیش کیاگیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کیا یہ بہتر ہیں یا وہ جوتمھیں صحراؤں اور سمندروں کی تاریکیوں میں (ستاروں کے ذریعے) ہدایت کرتا ہے؟ (امن یھدیکم في ظلمات البر والبحر). " اور وہ جو اپنی رحمت کے نزول سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے والا بناکر بھیجتا ہے" (ومن یرسل الرياح بشرًا بين يدي رحمته)۔ ہوائیں بارش کے نزول کا پیش خیمہ ہوتی ہیں اور خوشخبری دینے والے قاصد کی مانند اس کے آگے آگے چلتی رہتی ہیں درحقیقت ان کا کام بھی نزول باران کی جانب لوگوں کو ہدایت کرنا ہوتا ہے ہواؤں کے بارے میں "بشرًا" (خوشخبری دینے والی) اور بارش کے بارے میں "رحمت" کی تعبیریں بھی دلچسپ ہیں کیونکہ ہوائیں ہی ہوتی ہیں جو سمندروں سے رطوبت اور بادلوں کے ٹکڑوں کو اپنے دوش پر سوار کرکے خشک اور پیاسے علاقوں میں لے جاتی ہیں اور بارش کی تشریف آوری کی خبردیتی ہیں۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "قليلًا" ما تذکرون" میں بظاہر "ما" زائدہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بہت سے مقامات پر حروف زائدہ کا فائدہ ہوتا ہے کہ وہ تاکید کامعنی دیتے ہیں اور "قليلًا" مصدر محذوف کی صفت ہے جو تقدیری طور پر یوں ہے "تتذکرون تذکرًا قليلًا "۔ ؎2 بنابریں "خلفاء الارض" کے معنی " خلفاء في الارض " ہوگا ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اسی طرح بارش ہے جو تمام کرہ کی زندگی اور حیات کا اعلان کرتی ہے اور جہاں پر بھی نازل ہوتی ہے خیرو برکت اور رحمت وحیات کو وجود میں لے آتی ہے۔ ؎1 (مزید تفصیل تفسیرنمونہ کی جلد 6 سوره اعراف کی 57 ویں آیت کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں کہ بارش برسانے میں ہوائيں کیا کردار ادا کرتی ہیں؟) آیت کے آخر میں مشرکین کو ایک بار پرخطاب کرکے قرآن فرماتا ہے : آیا خدا کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟ (ء اله مع الله) . پھران کے جواب کا انتظار کیے بغیر خودی فرماتا ہے : خدا اس سے بلند و بالا ہے کہ اس کو شریک قرار دیں۔ وتعالى الله عما يشركون). اسی سلسلے کی آخری آیت میں پانچویں سوال کو پیش فرماتا ہے جومبداء اور معاد سے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے: کیا تمھارے وہ معبود بہتر ہیں یا وہ جس نے خلقت کا آغاز کیا ہے اور پھراس کا اعادہ کرے گا (امن بيدوا الخلق ثم بعيدہٰ)۔ اور وہ جو تمہیں آغاز اور انجام کے اس دورانیے میں آسمان وزمین سے روزی عطاکرتاہے (ومن یرزقکم من السماء والأرض) کیا پھر بھی تمھارا عقیدہ یہی ہے کہ خدا کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟(ءاله مع الله)۔ " تو آپ ان سے کہ دیجیے کہ اگر تمھارا عقیدہ یہی ہے تو اپنی دلیل لے آؤ اگر سچ کہتے ہیں (قل هاتوا برهانكم ان کنتم صادقين)۔ درحقیقت گزشتہ آیات سب کی سب مبداء اور عالم ہستی میں خداوند عالم کی عظمت اوراس کی نعمتوں کی علامات کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں لیکن آخری آیت میں بڑے لطیف انداز میں گفتگو کا رخ معاد کی طرف موڑ دیا گیا ہے ۔ کیونکہ آغاز آفرنیش بذات خود اس کے انجام کی دلیل ہے اور تخلیق کی قدرت ہذاتہ معاد کی ایک واضح اور روشن برہان ہے۔ اسی سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے جسے بہت سے مفسرین پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ان آیات کا روۓ سخن مشرکین کی طرف ہے اور مشرکین میں ان کے مخاطب ہیں اور اکثر مشرکین معاد (جسمانی ) کے قائل نہیں ہیں تو پھریہ کیونکرممکن ہے کہ ان سے سوال کرکے اس چیز کا اقرار لیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سوال دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے میں سے فریق مخالف کو اقرار پر آمادہ کیا گیا ہے کیونکہ اگر وہ صرف یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ آغاز آفرینش اسی کی طرف سے ہے اور یہ تمام نعمتیں اور رزق وروزی بھی وہی ذات کردگارعطا ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "بشر" (بروزن " عشر") جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ یہ "بُشُر" (بروزن "کُتُب") کامخفف ہے جس کی جمع "بشور" (بروزن "قبول") آتی ہے جس کا معنی ہے مبشر یعنی بشارت دینے والا ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- فرماتی ہے تو یہی بات اس اقرار کے لیے کافی ہے کہ یہ چیز بھی تسلیم کرلیں کہ بروز قیامت دوبارہ جی اٹھنے کا امکان بھی موجود ہے۔ ضمنی طور پر بھی بتاتے چلیں کہ "آسمان کے رزق" سے مراد بارش ، سورج کی روشنی اور ان جیسے امور ہیں اور "زمین کے رزق" سے مراد نباتات اور مختلف غذائیں اور اناج ہے جو یاتو براه راست زمین سے اگتے ہیں یا بالواسطہ اس سے کمک حاصل کرتے ہیں جیسے چوپائے وغیرہ یا معدنیات اور دوسری گوناگوں چیزیں کہ جن سے انسان اپنی زندگی میں بہرومند ہوتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:60-64
3- گزشتہ آیات کا خلاصہ
3- گزشتہ آیات کا خلاصہ :- گزشتہ آیات میں قرآن مجید نے توحید معبود کو ثابت کرنے کے لیے "توحید خالق " اور "توحیدرب" (تخلیق و تدبیرکی توحید) پر زیادہ زور دیا ہے اور کائنات میں خداوند عالم کی بارہ عظیم نشانیوں کا ذکر کیا ہے (آسمان و زمین . نزول باران ، بارش کے حیات بخش اثرات ، انسان کی قرارگاہ کا سکون ، جاری دریا ، عظیم اور ساکن پہاڑ ، میٹھے اور کڑوے پانی کے درمیان حد فاصل . بندوں کی دعا کی قبولیت ، خشکی اور تری میں ان کی راہنمائی ، نزول باران کا پیغام لانے والی ہوئیں ، مخلوق کی تجدید حیات اور انسان کو زمین و آسمان سے روزی کی فراہمی)۔ یہ بارہ نعمتیں پانچ آیات میں پانچ سوالوں کے ضمن میں بیان ہوئی ہیں جو بالترتیب ان پانچ مسائل کو بیان کرتی ہیں۔ خلقت ، سکون ، حل مشکلات ، ہدایت اور دوبارہ زندگی کی طرف بازگشت ۔ اس ہرایک سوال کے ذیل میں اس جملے کو دہرایا گیا ہے۔ ء اله مع الله آیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ اس سوال کے پہلی آیت میں فورًا ہی ان کے حق سے انحراف کی طرف اشارہ ہوا ہے ،دوسری آیت میں ان کی جہالت و نادانی کی طرف تیسری آیت میں ان کے سوچ بچار سے کام نہ لینے، چوتھی آیت میں ان کی فکری پستی کی طرف اور پانچویں آیت میں ان سے استدلال کا مطلبہ کیا گیا ہے جو مل کرایک متحد اورمنظم بات کی نشاندہی کرتا ہے۔