وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
[We also sent] Lot, when he said to his people, ‘What! Do you commit this indecency while you look on?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:54
[Pooya/Ali Commentary 27:54] Refer to the commentary of Araf: 80 to 84; Hud: 77 to 83 and Hijr 57 to 77 for prophet Lut.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:54-55
سوره نمل / آیه 54 - 55
(54) وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٓ ٖ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَاَنْتُـمْ تُبْصِرُوْنَ (55) اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ ۚ بَلْ اَنْتُـمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ ترجمہ (54) اور لوط کو یاد کیجیے جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم برے کاموں کی طرف جاتے ہو ؟ جبکہ (ان کی برائی اورغلط نتائج) تم دیکھ رہے ہو۔ (55) کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت سے مردوں کے پاس آتے ہو ؟ تم تو جاہل قوم ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:54-55
قوم لوط کی بے راہروی
تفسیر قوم لوط کی بے راہروی حضرت موسٰیؑ ، حضرت داؤدؑ ، حضرت سلیمان اور حضرت صالح اور ان کی اقوام کے واقعات بیان کرنے کے بعد جس پانچویں پیغمبر کی زندگی کی طرف اس سورہ میں اشارہ کیا گیا ہے وہ خدا کے باعظمت نبی حضرت لوط علیہ السلام ہیں۔ قرآن نے ان کے واقعات صرف اسی مقام پر بیان نہیں کیے بلکہ کئی اور مقامات پربھی ان کے واقعات بیان کیے جا چکے ہیں مثلًا سورة حجر ، ہود ، شعراء اور اعراف میں ان کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔ ایسے واقعات کا تکرار اس پیسے ہے کیونکہ قرآن کوئی تاریخی کتاب تو ہے نہیں کہ ایک مرتبہ کسی واقعے کومکمل تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کے بعد پھر اس کا تذکرہ بھی نہ کرے بلکہ یہ ایک انسان ساز اور تربیتی کتاب ہے اور برایک کومعلوم ہے تربيتي مسائل میں بعض اوقات ضرورت پیش آجاتی ہے کسی کی واقعے کو ایک نہیں کئی مرتبہ دہرایا جائے اس کے مختلف زاویوں کو دیکھاجانے اور مختلف لحاظ سے اس سے تاریخ اخذ کیے جائیں۔ بہرحال قوم لوط کی جنسی بے راہروی ، ہم جنس بازی اور دوسری برائیوں کی داستانی مشہور عالم ہیں اوراس طرح اس قوم کا دردناک و انجام ان لوگوں کے لیے درس عبرت ثابت ہوسکتا ہے جو شہرت اور خواہشات نفسانی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور چونکہ یہ آلودگی اور بے حیائی لوگوں میں سرایت کرچکی ہے لہذا ضروری ہوجاتا ہے کہ اس واقے کو بار بار دہرایا جائے۔ زیرنظر آیات میں سب سے پہلے فرمایا گیا ہے : اور لوط کو یاد کیجیے جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا : کیاتم نے برے کاموں کی طرف جاتے ہو۔ جبکہ (ان کی برائی اور غلط نتائج)رتم دیکھ رہے ہو (ولوطًا اذ قال لقومه أتأتون الفاحشة و انته تبصرون )۔ ؎1 " فاحشة" کے بارے میں ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کاموں کو کہا جاتا ہے جن کی برائی اور قباحت واضح اور آشکار ہو۔ یہاں پر اس سے مراد "لواطہ" - اورہم جنسی بازی کافعل قبیح ہے. " انتم تبصرون" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے اس قبیح فعل کی قباحت اور برائیاں نیز شرمناک اور خطرناک نتائج دیکھ رہے ہو کس طرح اس نے متھارے معاشرے کو ناپاک اور آلودہ کر کے رکھ دیا ہے حتی کہ تمھارے چھوٹے چھوٹے اور کمسن بچے بھی اس گناہ سے محفوظ نہیں ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجودتم بیدار نہیں ہوتے۔ بعض مفسرین نے اس مقام پر یہ احتمال پیش کیا ہے کہ یہ آیت شاید اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ فعل قبیح که ارتکاب ایک دوسرے کے سامنے کرتے تھے یہ بات ظاہری عبارت سے ہرگز مطابقت نہیں کھتی کیونکہ لوط چاہتے تھے کہ ان کے خوابیدہ ضمیر کو جھنجھوڑیں اور بیدارکریں اور ان کی باطنی آواز کوان کے کانوں تک پہنائیں ۔ درحقیقت وہ ان کی بصیرت کو دعوت د ے ر ہے تھے۔ اس فعل کے تباہ کن نتایج اور انھیں بیدار کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ آگے چل کر قرآن فرماتا ہے : کیا تم عورتوں کی بجائے شہوت کے ساتھ مردوں کے پاس جاتے ہو ؟ (اینکه لتأتون الرجال شهوة من دوان النساء)۔ درحقیقت پہلے تو اس قبیح فعل کو"فاحشہ" (برا کام) کہا پھر اسے مزید واضح کرکے بیان کر دیا تاکہ کسی قسم کی شک و شہ باقی رہ جائے یہ انداز اہم ترین مسائل کو بیان کرنے کے فنوان بلاغت میں سے ایک ہے چونکہ اس برے کام کا سبب جہالت اور نادانی ہے لہذا قرآن کے فرماتا ہے: تم نادان اور جاہل قوم ہو (بل انتم قوم تجهلون)۔ خداے جہالت ، مقصد تخلیق سے جہالت: ناموس خلقت سے جہالت اور اس بے شرمانہ گناہ کے آثان رونتائج سے جہالت اگر خوب غور سے کام لو اور خوب سوچو تواس حقیقت کو یقینًا سمجھ لوگے کہ یہ قبیح فعل کس حد تک جاہلانہ کام ہے ۔ اس جملے کو استفہام کی صورت میں بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس کا جواب وہ اپنے ضمیر سے خود سنیں تاکہ اس کا بہتراثر ہو۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 ممکن ہے کہ "لوطًا" "ارسلنا" فعل کی وجہ منصوب ہو تو سابقہ آیات میں گزر چکا ہے یا "اذکر" جیسے مقدر فعل کے وجہ سنے کے منصوب ہو لیکن "اذقال" کے جملے کے پیش نذر دوسرا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔