وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ
There were nine persons in the city who caused corruption in the land and did not set things right.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:48
[Pooya/Ali Commentary 27:48] (see commentary for verse 45)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:48-53
نومفسد ٹولوں کی سازش
تفسیر نومفسد ٹولوں کی سازش یہاں پر حضرت صالح اور ان کی قوم کی داستان کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے جو درحقیقت گزشتہ حصے کا تمۃ ہے اور اسی پراس داستان کا اختتام ہوتا ہے اس میں حضرت صالح علیہ اسلام کے قتل کے منصوبے کا ذکر ہے جو نو کافراور منافق لوگوں نے تیار کیا تھا اور خدا نے ان کے اس منصوبے کو ناکام بنادیا۔ فرمایاگیا ہے : اس شہر (وادئی القریٰ) میں نوٹولے تھے جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے (وكان في المدينة تسعة رهط يفسدون في الارض و لا يصلحون). چونکہ "رهط " کا معنی ہے دس سے کم یا چالیس سے کم افراد ک مجموعہ ۔ اس لیے یہاں سے یہ بات بخوبی سمجھی جآسکتی ہے کہ دو چھوٹے چھوٹے ٹولے نے جن میں سے ہرایک کی اپنی علیحدہ پالیسی تھی اوران کی قدر مشترک زمین میں فساد پھیلانا اور اجتماعی نظام کو درہم برہم کرنا اور اعتقادی و اخلاقی بنیادوں کا اکھیڑنا تھا اور "لايصلحون " اسی بات کی تاکید ہے کیونکہ بعض اوقات انسان فساد برپا کرتا ہے لیکن ایک وقت ایسابھی آجاتا ہے کہ وہ اپنے کیے پر نادم ہوجاتا ہے اور پھر اصلاح کی ترکیبیں سوچتا ہے۔ لیکن حقیقی مفسد ایسا نہیں کرتے ان کا کام ہمیشہ فساد برپا کرنا ہوتا ہے وہ کبھی بھی اصلاح کی نہیں سوچتے ۔ بالخصوص جبکہ "يفسدون" فعل مضارع ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے اور بتار ہے کہ ان کا یہ کام مسلسلل ہوتا ہے۔ ان نو میں سے ہر گروہ کا ایک ایک سربراہ بھی تھا اور شایاد ن میں سے ہرا کی کسی نہ کسی قبیلے کی طرف منسوب بھی تھا۔ ظاہر ہے کر جب صالح علیہ اسلام نے ظہور فرمایا اور اپنا مقدس اوراصلاحی آئین لوگوں کے سامنے پیش کیا تو ان ٹولوں پر عرصہ حیات تنگ ہونے لگا ۔ یہی وجہ ہے کہ بعد والی آیت کے مطابق انھوں نے کہا : خدا کی قسم اٹھا کر عہد کریں کہ صالح اور ان کے خاندان پر شب خون مار کر انھیں قتل کر دیں گے پھران کے خون کے وارث سے کہیں گے کہ ہمیں اس کے خاندان کے قتل کی کوئی خبر نہیں اوراپنی اس بات میں ہم بالکل سچے ہیں ( قالوا تقاسموا بالله لبيتنه و اهله ثم لنكولن لولي، ما شهدنا مهلك أهله و انا لصادقون)۔ "تقاسموا" فعل امر ہے جس کا معنی ہے قسم اٹھانے میں سب شریک ہوجاؤ اور اس بڑی سازش میں ایساعہد کرو جس میں کوئی لچک نہ ہو۔ پھرلائق غور بات یہ ہے کہ انھوں نے قسم بھی "الله" کی اٹھائی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بتوں کو پوجنے کے علاوہ زمین و آسمان کے خالق اللہ پر بھی عقیدہ رکھتے تھے اور اپنے اہم مسائل میں اسی کے نام کی قسم کھاتے تھے۔ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنے مغرور اور بدمست ہو چکے تھے کہ اس قدر ہولناک جرم کے ارتکاب کے لیے بھی انھوں نے خدا ہی نام لیا۔ گویا وہ کوئی اہم عبادت یا کوئی ایسا کام انجام دینے لگے ہوں اللہ کو منظور ہے ، خدا سے بے خبر مغرور اور گمراه لوگوں کا وطیرہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ "لنبيته" "تنبیت" کے مادہ سے ہے جس کا معنی شب خون مارنا اور رات کے وقت غافل پاکر حملہ کرنا ہے ۔اس تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صالحؑ کے ہمنواؤں اور ان کے قوم و قبیلے سے خوف کھاتے تھے ۔ لہذا انھوں نے ایسا منصوبہ بنایا کہ جس سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں اور صالح کے طرفداروں کے غینظ و غضب کا شار بھی نہ ہوں ۔ گویا وہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے تھے ۔ بنابریں انھوں نے رات کے وقت حملے کی ترکیب سوچي اور طے کر لیا کہ جب بھی کوئی شخض ان سے پوچھ گچھ کرنے کا توسب متفق ہو کر قسم اٹھائیں گے کہ اس منصوبے میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا حتی کہ وہ اس وقت موجودبھی نہیں تھے ۔ (کیونکہ ان کی ساتھ مخالفت پہلے سے دنیا کومعلوم تھی)۔ تاریخوں میں ہے کہ ان کی سازش کچھ یوں تھی کہ شہر کے اطراف میں ایک پہاڑ تھا اور پہاڑ میں ایک غارتھی جب بھی جناب صالح علیہ اسلام عبادت کیا کرتے تھے اور کبھی کبھار وہ رات کو اسی غارمیں جاکر اپنے پروردگار کی عبادت کرتے تھے اوراس سے رازونیار کیا کرتے تھے۔ انھوں نے طے کرلیا کہ وہاں کمین لگا کر بیٹھ جائیں گے جب بھی صالح وہاں آئیں کے انھیں قتل کر دیں گے ۔ ان کی شهادت کے بعد ان کے اہل خانہ حملہ کرکے انھیں بھی راتوں رات موت کے گھاٹ اتار دیں گئے مچھر اپنے اپنے گھر کی انہیں چلے جائیں گے اگر ان سے اس بارے میں کسی نے پوچھ ہی لیا تو اس سے لاعلمی کا اظہار کردیں گے۔ بین خداوند عالم نے ان کی ا س سازشی کوطبیب فریب طریقے سے ناکام بنا دیا اور ان کے اس منصوبے کو نقش باآب کر دیا۔ جب وہ ایک کونے میں گھات لگائے بیٹھے تھے تو پہاڑ سے پتھر گرنے لگے اور ایک بہت بڑا ٹکڑار اپاڑ کی چوٹی سے گا اور ان کی آن میں اس نے ان سب کا صفایا کر دیا۔ لہذا قران مجید بعد والی آیت میں کہتا ہے : ادھر انھوں نے ایک اہم منصوبہ بنایا اور ادھر ہم نے زبردست منصوبہ تیار کیا اور انھیں اس کا کوئی علم نہیں تھا (و مكرًاو مكرًا و مکرنا مکرًا وهم لا يشعرون)۔ پھر فرمایا گیا ہے ، ذرا دیکھو کہ ان کی سازش اور مکاری کا انجام کیا ہوا کہ ہم نے ان کو اور ان کی تمام قوم اور طرفداروں کو نیت نابود کر دیا (فانظر كيف كان عاقبة مكرهم انا دمرناهم وقومهم اجمعين )۔ " مکر" کا لفظ جیسا کہ ہم پہلے (تفسیر نمونہ کی دوسری جلد ص 339 پر) بھی بتا چکے ہیں کہ عربی ادب میں ہر قسم کی چارہ جوئی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے آج کل فارسی میں یہ لفظ شیطانی چالوں اور نقصان دہ منصوبوں کے لیے استعمال ہوتا ہے عربی میں ایسا نہیں ہے بلکہ اچھے اور برے دونوں طرح کے منصوبوں اور چارہ جوئی کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ ؎1 راغب "مفردات" میں کہتے ہیں: ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اردو میں بھی یہ لفظ فارسی مفہوم سے ہم آہنگ ہے۔ (مترجم) ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- المکرصرف الغيرعما يقصده مکریہ ہے کہ کسی کو اپنے مقصد تک پہنچنے سے روکا جائے۔ بنا بریں جب یہ لفظ خدا اور ان کے بارے میں استعمال ہو تو اس کا مفهوم موگا کسی نقصان دہ م صوبے اور سازش کو ناکام بنانا اور جب فسادی لوگوں کے بارے میں استعمال ہوگا تو اس کا معنی ہوگا اصلاحی منصولوں کو پا تکمیل تک پہنچنے سے روکنا۔ پھر قرآن پاک ان کی ہلاکت کی کیفیت اور ان کے انجام کو یوں بیان کرتا ہے ، دیکھو یہ ان لوگوں ہی کے گھر ہیں کہ جو اب ان کے ظلم وستم کی وجہ سے ویران ہے ہیں (فتلك بيوتهم خاوية بما ظلموا ) - نہ وہاں سے کوئی آوانہ سنائی دیتی ہے، نہ کسی قسم شور شرابہ سننے میں آتا ہے۔ اور نہ ہی زرق برق گناہ بھری محفلیں دکھائی دیتی ہیں، جی ہاں! وہاں پرظلم وستم کی آگ بھڑکی جس نے سب کو جلاکر راکھ کر دیا۔ ظالموں کے اس انجام میں خداوند عالم کی قدرت کی واضح نشانی اور درس عبرت ہے ان لوگوں کے لیے علم و آگہی رکھتے ہیں (ان في ذلك لاية لقوم يحلمون) - لیکن اس بھٹی میں سب خشک و تر نہیں ہے بلکہ بے گناہ افراد گناہ کاروں کی آگ میں جلنے سے بچ گئے۔ ہم نے ان لوگوں بچالیا اور ایمان لا چکے تھے اورتقوی اختیار کر چکے تھے (و انجينا الذين آمنوا وكانوا بیتتون ).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:48-53
سوره نمل / آیه 48 - 53
(48) وَكَانَ فِى الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ (49) قَالُوْا تَقَاسَـمُوْا بِاللّـٰهِ لَنُـبَيِّتَنَّهٝ وَاَهْلَـهٝ ثُـمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِـيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِـهٖ وَاِنَّا لَصَادِقُوْنَ (50) وَمَكَـرُوْا مَكْـرًا وَّمَكَـرْنَا مَكْـرًا وَّهُـمْ لَا يَشْعُرُوْنَ (51) فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِـمْ اَنَّا دَمَّرْنَاهُـمْ وَقَوْمَهُـمْ اَجْـمَعِيْنَ (52) فَتِلْكَ بُيُوتُهُـمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوْا ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُوْنَ (53) وَاَنْجَيْنَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَكَانُـوْا يَتَّقُوْنَ ترجمہ (48) اوراس شہر میں نو ٹولے تھے جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح کرنے والے نہیں تھے۔ (49) انھوں نے کہا آؤ اور خدا کی قسم اٹھا کہ اس (صالح) پراوراس کے خاندان پر شب خون ماریں گے اور انھیں قتل کر دیں گے پھر اس کے خون کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہمیں اس کے اہل خاندان کی ہلاکت کی کوئی خبر میں ہے اور اپنی اس بات میں بالکل سچے ہیں ۔ (50) انھوں نے ایک اہم منصوبہ بنایا اور ہم نے بھی اہم منصوبہ بنایا جبکہ وہ اس سے بے خبر تھے۔ (51) تو دیکھو کہ ان کی سازش کا کیا انجام ہوا ؟ کہ ہم نے انھیں اوران کی ساری قوم کو نیست و نابود کر دیا۔ (52) سو یہ ان کے گھرمیں جو ان کے ظلم و ستم کی وجہ سے خالی ہوچکے ہیں اس میں ان لوگوں کے لیے واضح نشانی ہے جو آگاہی رکھتے ہیں۔ (53) اور ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:48-53
1- قوم ثمود کو کیا سزاملی
چند اہم نکات 1- قوم ثمود کو کیا سزاملی ؟ اس سرکش اور ظالم قوم کے بارے میں بھی تو قرآن یوں فرماتا ہے ؟ فاخذتهم الجفة انھیں زلزلے نے آلیا اور تباہ و برباد کر دیا ۔ ( اعراف / 78)۔ کبھی فرماتا ہے: فاخذتهم الصاعقة کڑ کنے والی، بجلی ان پر گری۔ ( ذاریات/ 44)۔ اور کبھی کہتا ہے: واخذ الذين ظلموا الصيحة آسمانی چیخ نے ان کا کام تمام کر دیا ۔ (ہود / 67 ) اگر غور کیا جائے تو ان تینوں تعبیروں میں کسی قسم کا تضاد نہیں پایا جاتا کیونکہ "صاعقه" بجھی بجلی کی بہت بڑی چنگاری ہوتی ہے جو بادل کے ٹکڑوں اور زمین کے درمیان کی آتی رہتی ہے ۔ عظیم اور مہیب آواز بھی اس کے ہمراہ ہوتی ہے اور دا اور جب ہمارا حکم پہنچ گیا تو ہم نے صالح اور ان لوگوں کو نجات دے دی جوصالح پر اینان لا " چکے تھے اور ظالموں کو آسمانی چیخ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ اپنے ہی گھروں میں زمین پر گر پڑے اور مرگئے بنابریں حضرت صالح کے قتل کی سازش کے بعد ہی عذاب نازل نہیں ہوا بلکہ قوی احتمال یہ ہے کہ خدا کے اس پیغمیر کے قتل کی سازش کے واقعے میں فقط سازشی ٹولے ہلاک ہوئے اور دوسرے ظالموں کو سنبھل جانے کے لیے مہلت دی گئی، لیکن ناقہ کے قتل کے بعد تمام ظالم اور بے ایمان گناہ گارفنا ہو گئے۔ لہذا اس سورہ کی اور سورہ ہود اور سورہ اعراف کی آیات کے ملانے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ بالفاظ دیگر زیرنظر آیات میں حضرت صالح اور ان کے اہل خانہ کے قتل کی سازش کے نیتجے میں نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ ہے اور سوره اعراف اور ہود کی آیات میں ناقہ صالح کے قتل کے نتیجے میں عذاب کے نازل ہونے کا بیان ہے توان دونوں صورتوں کو مل کر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ ان ظالموں نے پہلے تو جناب صالح کے قتل کے منصوبے بنائے لیکن جب اس میں انھیں کامیابی نہ ہوئی تو پھران کے عظیم معجزہ یعنی ناقہ کوقتل کر دیا اور تین دن کی مہلت کے بعد انھیں دردناک عذاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ انھوں نے پہلے تو ناقہ کو قتل کیا ہو اور جب جناب صالح عبدالسلام نے انھیں تین دن کے نازل مرنے والے عذاب سے ڈرایا ہو تو انھین بھی شہید کرنے کی ٹھان لی ہو لیکن اس شیطانی منصوبے میں ناکامی کے بعد تباہ و بربارباد ہوگئےہوں، ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "تفسير روح البیان" اسی آیت کے ذیل میں۔