قَالَ نَكِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِي أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ
He said, ‘Disguise her throne for her, so that we may see whether she is discerning or if she is one of the undiscerning ones.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:41
[Pooya/Ali Commentary 27:41] (see commentary for verse 20)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:41-44
ملکہ سبا کے دل میں نورایمان
تفسیر ملکہ سبا کے دل میں نورایمان ان آیات میں سلیمان اور ملکہ سبا کی سبق آموزداستان سے متعلق ایک اور پہلو پیش کیا گیا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کی عقل و خرد کو آزمانے اور خدا پر اس کے ایمان لانے کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے اس کے تخت میں کچھ تبدیلی کرنے کا حکم دیا ۔ تاکہ وہ پہچانا نہ جاسکے چنانچہ انھوں نے کہا : اس کے تخت میں کچھ تبدیلی کردو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سمجھ پاتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو ہدایت نہیں پاتے (قال نكرو الها عرشها نتظر انھتدی ام تكون من الذين لا يهتدون)۔ اگرچہ ملکہ کے تخت کا سبا سے شام میں آجانا ہی اس بات کے لیے کافی تھا کہ وہ اسے آسانی کے ساتھ نہ پہچان سکے لیکن اس کے باوجود جناب سلیمانؑ نے حکم دیا کہ اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کر دی جائیں ممکن ہے کہ یہ تبدیلیاں بحض علامتوں اور جواہرات کو ادھر ادھر کرکے کی گئی ہوں یا بعض رنگوں کو تبدیل کردیا گیا ہو لیکن یہاں پر جو سوال درپیش ہے وہ یہ ہے کا آخرجناب سلیمان ، اس کی عقل خرد اور فہم و ذکا کو کیوں آزمانا چاہتے تھے۔ ہوسکتا ہے اس لیے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ اس کے ساتھ کس انداز میں پیش آنا چاہیے اور اپنے عقیدہ کے اثبات کے لیے کون سی دلیل پیش کرنی چاہیے۔ یا ان کا خیال تھا کہ اسے شادی کی پیش کش کریں لہذا وہ دیکھنا یہ چاہتے تھے کیا اس میں آپ کی زوجیت کی لیاقت بھی ہے یانہیں ؟ یا ہوسکتا ہے کہ اس کے ایمان لانے کے بعد کچھ اہم امور کی زمہ داری اسے سوپنناچاہتے ہیں لہزا وه اس طرح سے اس زمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی اہلیت کو جاننا چاہتے ہوں۔ " اتهتدی" کے بارے میں دو تفسیریں ذکر ہوئی ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد اس کے اپنے تخت کی پہچان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد معجزات دیکھ کر راہ خدا کی ہدایت حاصل کرنا ہے۔ لیکن ظاہرًا پہلا معنی زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اگرچہ پہلا معنی دوسرے کا مقدمہ ہے۔ صورت حال خواہ کچھ ھو جب ملکہ پہنچی تو کسی نے (تخت کی طرف اشارہ کرکے) کہا : کیا آپ کا تخت اسی طرح کاہے (فلما جاءت قیل اھكذ اعرشك)۔ ظاہرًا یہ جملہ کہنے والے خود حضرت سلیمانؑ نہیں تھے وگرنہ "قیل" (کہا گیا) کی تعبیر مناسب نہیں تھی کیونکہ جناب سلیمان کا نام اس سے پہلے آچکا ہے اور بعد میں بھی ۔ اور ان کی باتوں کو "قال" کے ساتھ بیان کیا گیا هے۔ پھر جناب سلیمان کے شایان شان بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے آتے ہی اپنی بات کا آغاز ان الفاظ سے کرتے۔ لیکن سوال خواہ کسی نے کیا ہو ملکہ سبا نے نہایت ہی زہرکانہ انداز میں ایک بہت شستہ اور جچا تلا جواب دیتے ہوئے کہا یہ خود وہی تخت معلوم ہوتا ہے (قالت كانه هو)۔ اگر وہ کہتی کہ اس جیسا ہے تو جواب صحیح نہ ہوتا اوراگر کہتی کہ بالکل وہی ہے تو خلاف احتیاط بات تھی کیونکہ اس قدر لمبے فاصلوں سے اس کے تخت کا سرزمین سلیمان میں آنا عام حالات میں ممکن نہیں تھا ۔ اس کی صرف ایک ہی صورت رہ جاتی اور وہ ہے معجزہ - اس کے علاوہ تاریخ میں ہے کہ ملکہ نے اپنے اس گراں قیمت تخت کی بڑی حفاظت کی تھی اسے اپنے خصوصی محل کے اس خاص کمرے میں اہم مقام پر نصب کیا ہوا تھا جس کی حفاظت کے لیے خصوصی دستہ مقرر تھا اور اس محل کو نہایت مضبوط دروازے لگے ہوئے تھے۔ لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجود ملکہ نے اپنے تخت کو پہچان لیا تھا۔ اس نے فورًا کہا : ہم تو اسے پہلے ہی جان چکے تھے اور سرتسلیم خم کرچکے تھے (و او تینا العلم من قبلها وكنا مسلمين)۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ ان سارے کاموں سے سلیمان کا مقصد تھا کہ ہم اس کے معجزے پر ایمان لے آئیں لیکن ہم اس سے پہلے ہی دوسری علامتوں کی وجہ سے ان کی حقانیت کے معترف ہوچکے ہیں اوران غیرمعمولی چیزوں کو دیکھنے سے پہلے ہی ان ایمان لاچکے ہیں اس طرح کے کاموں کی اب چنداں ضرورت نہیں تھی۔ تو اس طرح سے اس بیان نے اسے ہر غیر خدا کی عبادت سے روک دیا (و صدها ما كانت تعبد من دون الله)۔ ہرچند کہ وہ اس سے پہلے کافروں میں سے تھی (انها كانت من قوم کافرین)۔ تو اس نے یہ واضح اور روشن علامات دیکھ کر اپنے تاریک ماضی کو الوداع کہا اوراپنی زندگی کے نئے مرحلے میں قدم رکھا ، جو نورایمان و یقین سے بھرپورتھا۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں ایک داستان کا ایک اور منظر پیش کیا گیا ہے اور وہ ہے ملکہ سباء کا حضرت سلیمان کے ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "صد" کا فاعل کون ہے اوراسی طرح "ما کانت" میں "ما" موصولہ ہے یا مصدریہ ؟ اس سلسلے میں مفسرین نے مخلف آراء پیش کی ہیں۔ بعض نے (جیسا کہ ہم اوپر بتاچکے ہیں) اس کا فاعل سلیمان کو جانا ہے اور بعض نے خداوند عالم کو ۔ لیکن نتیجے کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ ان دونوں تفسیروں کے مطابق "ها" کی ضمیر مفعول اول ہے اور "ما كانت" حرف " "جار" کے حذت کے ساتھ دوسرا مفعول ہے اوران کی تقدیر یوں ہوگی "صدها سلیمان ۔یا۔ صدها الله عما كانت تعبد من دون الله" لیکن بعض دوسرے مفسرین نے "ماكانت" کو "صدها " کا فاعل جانا ہے تو ایسی صورت میں اس کا معنی یوں ہوگا : ملکہ کے معبودوں نے اسے حق کی پرستش سے روک دیا۔ لیکن چونکہ یہاں پر اس کے ایمان کی گفتگو ہورہی ہے نہ کفر کی . لہذا پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے اورممکن ہے کہ "ما" یہاں پر موصولہ ہو یا مصدریہ ہو۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- خصوصی محل میں داخلہ ۔ حضرت سلیمانؑ نے حکم دے دیا تھا کہ ان کے ایک محل کے صحن کو بلور سے تیار کیا جائے اور اس کے نیچھے پانی چلا دیاجائے۔ توجب ملکہ اس سباء وہاں پہنچی تو اسے کہا گیا کہ محل کے صحن میں داخل ہوجاؤ ( قيل لها ادخلى الصرح)۔ ؎1 ملکہ نے جب صحن کو دیکھا تواس نے سمجھا کہ پانی کی نہر چل رہی ہے اس نے پنڈلی سے کپڑا اٹھایا تاکہ پانی کو عبور کرے (اور وہ تعجب میں غرق تھی کہ پانی کی نہر کا یہاں کیا کام (فلما راته حسبته لجة و كشفت عن ساقيها)۔ ؎2 لیکن سلیمانؑ نے اسے کہا محل کا صحن صاف و شفان بلورسے بنا ہوا ہے (یہ پانی نہیں ہے کہ جسے عبور کرنے کے لیے تم نے پائنچے اٹھا رکھے ہیں) (وقال انه صرح ممرد من قواریر )۔ ؎3 اس مقام پر ایک نہایت ہی اہم سوال پیش آتا ہے اور وہ یہ کہ جناب سیمانؑ اللہ کے ایک عظیم پیغمبر تھے وہ اس قدر آرائشی اور زیبائشی کاموں میں کیوں لگ گئے ؟ یہ ٹھیک ہے کہ وہ ایک بادشاہ اور فرمانروا تھے لیکن دوسرے انبیا کی طرح کیا وہ سادگی کو اختیار نہیں کرسکتے تھے؟ جوابًا عرض ہے کہ اگر حضرت سلیمانؑ نے ملکہ سبا کو مسلمان بنانے کے لیے اس طرح کی آرائش و زیبائش سے کام لیا ہے تو اس میں کیا حرج ہے ؟ خصوصا جبکہ ملک اپنی تمام طاقت و عظمت خوبصورت تاج و تخت ، باشکوہ محل و قصر اور زرق برق و آرائش و زیبائش میں ہی سمجھتی تھی چنانچہ حضرت سلیمان نے اسے اپنی سلطنت کی ایک جھلک دکھائی تو ملکہ کی آنکھوں کے سامنے اپنی حکومت کی تمام سج دھج ماند پڑ گئی اور حقیر دکھائی دینے لگی اور یہی بات اس کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی جس میں اسے اقدار اور معیار زندگی کے بارے میں تبدیلی کرنا پڑی۔ آخراس بات میں کیا حرج ہے انھوں نے نقصان دہ اور خونریزلشرکشی کی بجائے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ ملکہ کا دماغ چکرانے لگا وہ اس قدر مہبوت ہوگئی کہ جنگ کا تصور ہی اس کے دماغ سے کافور ہوگیا خصوصًا جبکہ وہ ایک عورت تھی اور عورت کی سب سے بڑی کمزوری اس قسم کے تکلفات ہوتے ہیں کیونکہ عورت ایسے تکلفات کو بہت اہمیت دیتی ہے ۔ بہت سے مفسرین نے اس بات کی تصریح بھی کی ہے کہ ملکہ سبا کے سرزمین شام میں قدم رکھنے سے پہلے حضرت سلیمان نے حکم ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "صرح" (بروزن "طرح") کا ایک معنی تو وسیع و عریض فضا ہے اور دوسرا معنی بلند و بالا عمارت یا محل . لیکن یہاں پر بظاہر محل کے دالان کے معنی میں ہے ۔ ؎2 "لجه" "دراصل "لجاح " کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے کسی کام کی انجام دہی میں سختی کرنا ۔ پھر گلے میں آواز کی آمدورفت پر "لجہ" (بروزن"ضجۃ") کا اطلاق ہونے لگا اور سمندر کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی موجوں کو "لجہ" (بروزن "جبہ") کہتے ہیں۔ مذکورہ آیت میں موجزن اور ٹھاٹھیں مارتے ہوئے پانی کی طرف اشارہ ہے۔ ؎3 "صمود "کے معنی "صاف و شفاف" کے ہیں اور "قواریر" "قارورة" کی جمع ہے جس کا معنی بلوراور شیشہ ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- جاری کر دیا تھاکہ اس قسم کاایک عظیم محل تیار کیا جائے جس سے ان کا مقصد ملکہ کو مطیع کرنے کے لیے اپنی طاقت کے مظاہره کرنا تھا اوراس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ ظاہری طاقت کے لحاظ سے بھی عظیم جناب سلیمانؑ کے پاس ایک بڑی طاقت ہے جس کے ذریعے انھوں نے ایسا کام انجام دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک وسیع وعریض علاقے کا امن وامان، دین حق کی قبولیت اور بے پناہ جنگی اخراجات سے بچنے کے لیے اس قسم کے اخراجات کوئی بڑی بات نہیں تھے یہی وجہ ہے کہ جب ملکہ سبا نے ان مناظر کو دکھا تو فورًا کہا : پروردگارا ! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے (قالت رب أني ظلمت نفسي)۔ اور اب میں سلیمان کے ساتھ مل کر اس اللہ کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کرتی ہوں جو تمام جہانوں کا پروردگارہے (واسلمت مع سليمان لله رب العالمين) . میں پہلے سورج کی پوجایا کرتی تھی ، زیب وزینیت میں کھو چکی تھی اور خود کو دنیا کا سب سے بہتر اور برتر انسان سمجھتی تھی۔ لیکن اب پتہ چلا ہے کہ میری طاقت کتنی کمزور اور حقیرتھی بلکہ اصولی طور پر یہ زروجواہر اور قیمتی زیورات انسانی روح کو کبھی سیراب نہیں کرسکتے۔ خداوندا ! میں اپنے رہبر سلیمانؑ کے ساتھ مل کر تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، اپنے کیے پر نادم ہوں اور تیرے آستان قدسی پر میں نے اپنا سرجھکا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں پر لفظ"مع" استعمال کیا گیا ہے (یعنی سلیمانؑ کے ساتھ )تاکہ واضح ہوجائے کہ راہ خدا میں سب برابر ہیں نہ کہ ظالم اور جابر بادشاہوں کی مانند کہ جن کے ہاں ایک دوسرے پر مسلط ہوتا ہے خدا کے سامنے نہ کوئی غالب ہے اور نہ مغلوب ، حب حق کو قبول کرلیا تو سب ہې صف میں کھڑے ہوگئے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ملکہ اس سے بھی اپنے ایمان کا اعلان کر چکی تھی جیسا کہ ہم گزشتہ آیات میں اس کی اپنی زبانی سن چکے ہیں کہ : واو تيتا العلم من قبلها وكنا مسلمين ہم اس تخت کو یہاں پر لائے جانے سے پہلے ہی جان چکے تھے اور اسلام قبول کرچکے تھے۔ لیکن اس مرحلے پر پہنچ کر ملکہ کا اسلام اپنے عروج کو جا پہنچا لہذا اس نے پہلے سے زیادہ زور دار طریقے سے اس کا اظہار کیا۔ ملکہ دعوت سلیمان کی حقانیت کی علامتیں پہلے سے دیکھ چکی تھی : ہدہد کا خاص انداز میں آنا۔ ملکہ کی طرف سے ارسال شدہ عظیم تحائف کا واپس لوٹا دینا۔ مختصر سے عرصہ میں دور دراز کے سفر سے اس کے تخت یہاں پر لانا ۔ المختصر سلیمانؑ کی انتہائی زیادہ عظمت و طاقت کا مشاہدہ کرنا اور پھر اس سب کچھ کے باوجود جناب سلیمان کی عظیم اخلاق دیکھنا کہ جو بادشاہوں کے اخلاق سے ذرہ بھر بھی مشابہت نہیں رکھتا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:41-44
سوره نمل / آیه 41 - 44
(41) قَالَ نَكِّـرُوْا لَـهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِىٓ اَمْ تَكُـوْنُ مِنَ الَّـذِيْنَ لَا يَـهْتَدُوْنَ (42) فَلَمَّا جَآءَتْ قِيْلَ اَهٰكَـذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَاَنَّـهٝ هُوَ ۚ وَاُوْتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِيْنَ (43) وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ ۖ اِنَّـهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كَافِـرِيْنَ (44) قِيْلَ لَـهَا ادْخُلِى الصَّرْحَ ۖ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّّكَشَفَتْ عَنْ سَاقَـيْـهَا ۚ قَالَ اِنَّهٝ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيْـرَ ۗ قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِىْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ترجمہ (41) (سلیمانؑ نے) کہا : اس کے تخت ہی کچھ تبدیلی کردو تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ سمجھتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو ہدایت نہیں پائیں گے۔ (42) جب وہ آگئی تو اسے کہا گیا کہ کیا تمھارا تخت اس جیسا ہے (جواب میں) اس نے کہا : یہ تو خود وہی معلوم ہوتا ہے۔ ہم تو پہلے ہی جان چکے تھے اور اسلام لاچکےتھے۔ (43) اور اسے (سلیمانؑ نے) غیرخدا کی عبادت سے روک دیا کیونکہ وہ کافروں میں سے تھی۔ (44) اسے کہا گیا کہ محل کے صحن میں داخل ہوجائے لیکن جب اس نے دیکھا تو سمجھا کہ یہ پانی کی نہر ہےاس نے (گزرنے کے لیے پائنچے اٹھائے اور) اپنی پنڈلیاں ظاہرکردیں (لیکن سلیمان نے) کہا یہ (پانی نہیں بلکہ) صاف بلور کا محل ہے (ملکہ سبا) کہنے لگی : پروردگارا ! میں تو اپنے آپ پر ظلم کرتی رہې اور اب سلیمان کے ساتھ مل کر عالمین کے پروردگار کو تسلیم کرتی ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:41-44
1- ملکہ سباء کا انجام
چند اہم نکات 1- ملکہ سباء کا انجام:- ملکہ سبا کے بارے میں جو کہ قرآن مجید نے بیان کیا ہے وہی ہے جو ہم نے ابھی پڑھا ہے. آخر کار وہ ایمان لے آئی اور صالحین کے کارواں میں شامل ہوگئی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ ایمان اختیار کرنے کے بعد وہ ا پنے ملک کو واپس لوٹ گئی اور سلیمان کی طرف سے ملک پر حکمرانی کرتی رہی یا سلیمان کے پاس رہ گئی اورانہی کے ساتھ شادی کرلی ۔یا سلیمانؑ کے مشورے پر یمن کے کسی بادشاہ سے جسے "تبع" کہا جاتا تھا کے ساتھ عقد کرلیا۔ اس بارے میں قرآن نے کچھ نہیں کہتا۔ چونکہ قرآن کا ہدف اصلی تربیتی مسائل بیان کرنا ہے اور یہ بات ان مسائل سے غیر معتلق تھی لہذا اسے بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی لیکن مفسرین اور مورخین نے اس بارے میں مختلف راستے اختیار کیے ہیں جن کی تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین کے بقول مشهور ومعروف یہی ہے کہ وہ حضرت سلیمان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئی۔ ؎1 البتہ اس مقام پرایک نکتے کی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جناب سلیمان اور ان کے لشکر و حکومت کے بارے میں نیز ملکہ سبا اوراس کی تفصیلی زندگی کے بارے میں بہت ہی افسانہ طرازی کی گئی ہے کہ بعض مواقع پر تو عوام الناس کے لیے حق و باطل میں تمیز کرنا ہی مشکل ہوجاتا ہے اور بعض موقعوں پر اس صحیح تاریخی واقعے پر ایسے تاریکی پردے ڈال دیئے جاتے ہیں کہ تو اس کی اصلیت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اور یہ سب کچھ ان خرافات کا غلط نتیجہ ہوتا ہے جوحقائق کے ساتھ ملا دیئے جاتے ہیں لہذا ایسے خرافات سے پوری طرح چوکنا رہنا چاہیئے .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:41-44
2- سلیمان کی داستان کا خلاصہ
2- سلیمان کی داستان کا خلاصہ :- حضرت سلیمان کے حالات کا کچھ حصہ جو مندرجہ بالا تیس آیات میں ذکر ہوا ہے، بہت سے مسائل بیان کرتا ہے جن میں سے کچھ تو تفصیلی طور پر پڑھ چکے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن پر ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہیں۔ 1- داستان حضرت سلیمانؑ اور حضرت داؤد علیہ اسلام کو خدا کی طرف سے علم ہونے کے ذکر سے شروع ہوتی ہے ، توحید و فرمان الہی کے سامنے جھک جانے پر ختم ہو جاتی ہے اور توحید بھی اسی کہ کس کا مرکز "علم" ہے۔ 2- یہ داستان بتاتی ہے کہ کسی پرندے کا غائب ہوجانا اور کسی علاقے پر اس کا پرواز کرنا بعض اوقات کسی ملت کی تاریخ کے دھاروں کو بھی بدل سکتا ہے اسے شرک سے ایمان کی طرف اور برائی سے اچھائی کی طرف پلٹا سکتا ہے اور یہی چیز پروردگارعالم کی قدرت کاملہ اور حکومت حقہ کا ایک ادنی سا نمونہ ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 روح المعانی از آلوسی۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 3- اس داستان سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ نور توحید تمام دلوں میں جلوہ فگن ہے حتی کہ ایک پرنده بھی جو ظاہرًا خاموش ہے توحید کے اسرار پوشیدہ کی خبردیتا ہے۔ 4- کسی انسان کو اس کی اصلی قدروقیمت کی طرف توجہ دلانے اور اسے اللہ کی طرف ہدایت دینے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کی رعونت اور تکتبر کو توڑا جائے تاکہ آنکھوں پر پڑے ہوئے تاریک پردے اس کی حقیقت میں نگاہوں کے آگے سے ہٹ جائیں جیسا کہ جناب سلیمانؑ نے دو کام کر کے ملکہ کے غرور وتکبر کو چکنا چور کرٓدیا ، ایک تو اس کا تخت منگا کر اور دوسرے اپنے محل کے ایک حصے میں اسے مغالطے میں ڈال کر۔ 5- انبیاء کرام کی حکومت میں ان کا منتہائے مقصود کشورکشائی نہیں ہوتا بلکہ وہی کچھ ہوتا ہے جو اس سلسلے کی آخری آیت میں ہم نے پڑھا ہے یعنی سرکش لوگ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور رب العالمین کے حضور سرتسلیم خم کر دیں اسی لیے قرآن مجید بھی اس داستان کا اختتام اسی نکتے پر کیا ہے۔ 6- "ایمان" کی روح "تسلیم" ہے یہی وجہ ہے کہ جناب سلیمانؑ نے بھی اپنے خط میں اسی بات پر زور دیا تھا اور ملکہ سبا بھی آخر میں یہی کہتی رہی ہے ۔ 7- کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کسی انسان کے پاس دنیا کی بہت طاقت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اسے پرندے جیسی کمزور سی مخلوق کی ضرورت پڑجاتی ہے کہ وہ نہ صرف اس کے علم سے کہ اس کے کام سے بھی استفادہ کرتا ہے اور کبھی چیونٹی جیسی کمزور و ناتواں مخلوق اس کی تحقیر کردیتی ہے۔ 8- ان آیات کا مکہ میں اس وقت نازل ہونا جب مسلمان زبردست مشکلات کا شکار تھے اور دشمن نے ہر طرف سے ان گھراؤ کر رکھا تھا ، مسلمانوں کی دلجوئی اور ان کی تقویت کا باعث تھا اور انھیں مستقبل میں خدا کی طرف سے کامیابیوں کی امید دلانے کا باعث تھا۔