قَالَ يَاأَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
He said, ‘O [members of the] elite! Which of you will bring me her throne before they come to me in submission?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:38
[Pooya/Ali Commentary 27:38] (see commentary for verse 20)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:38-40
5- تخت کو کیسے حاضر کر دیا
5- تخت کو کیسے حاضر کر دیا؟ یہ پہلا خارق عادت کام نہیں ہے جو ہم حضرت سلیمان علیہ اسلام کی داستان میں پڑھ رہے ہیں یا بطور کلی انبیا کی داستان میں دیکھ رہے ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی تعبیرات کی توجیہہ کرکے ان کے ظاہری معنی کو بدل دینا چاہتے ہیں اور انھیں کنایہ یا کوئی اورمعنوی رنگ دینا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ انبیاء کے معجزات کے بارے میں اپنے نظریے کا دو ٹوک کا اظہار کریں اور بتائیں معجزات کے بارے میں ان کیا عقیدہ ہے۔ کیا وہ انبیاء یا ان کے جانشینوں سے خارق عادت کاموں کے انجام پانے کو محال سمجھتے ہیں اور مکمل طور پراس کا انکار کرتے ہیں؟ اگر ان کم یہی عقیدہ ہے تو پھر یہ عقیدہ نہ تو توحید اورکائنات پر حکم فرما قدرت خداوندی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے جو تمام قوانین ہستی پر حکم فرم ہیں اور نہ ہی قرآن کی بہت صریح آیات سے مطابقت رکھتا ہے۔ لیکن اگر وہ معجزے کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر حضرت عیسٰیؑ کے ہاتھوں مردوں کا زندہ ہونا ہویا مادر زاد انادھوں کو شفا ملنا ہو یا آصف بن برخیا کے ذریعے سباسے ملکہ کا تخت آنا ہو ان سب میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یہاں پر مرموز روابط اوران جانی علتیں کار فرما ہیں جن سے ہمارا محدود علم بالکل ناآشنا ہے ۔ ہم تو صرف اس قدر جانتے ہیں کہ اس قسم کا کام محال ہرگز نہیں ہے۔ آیا آصف بن برخیا نے ملکہ سبا کے تخت کو نور کی لہروں میں تبدیل کرکے ایک ہی لٓمحے میں اسے سلیمان کے پاس پہنچایا اور دوبارہ اسے اپنے اصلی مادے میں تبدیل کردیا ؟ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمیں اس کا پورا علم نہیں ہے۔ ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ سائنس کی موجودہ ترقی کے ذریعہ آج انسان ایسے ایسے کارنامے انجام دے رہا ہے کہ اگر ان کارناموں کا ذکر آج سے دو سو سال قبل کیا جاتا تو ممکن ہے لوگ اسے محال سمجھتے ۔ مثلًا اگر چند سو سال پہلے کسی کو کہا جاتا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اگرایک شخص مشرق میں بیٹھ کر گفتگو کرے گا تو اسی وقت مغرب میں رہنے والے لوگ اس کی باتوں کو بھی سنیں گے اور اس کی صورت کو بھی دیکھیں گے تو اس زمانے کے لوگ اسے مجذوب کی بڑیا پریشان خیالی کا نمونہ سمجھتے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسان ہر چیز کو اپنے محدود علم کے پیمانوں میں پرکھنا چاہتا ہے جبکہ اس کے علم و قدرت کے ماوراء کروڑوں اسرار و رموز موجود ہیں۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 شکر کی اہمیت اورنعمتوں کی فروانی میں اس کی تاثیر اور شکر کی اقسام (شکرتکوینی اور تشریعی ) کے بارے میں ہم نے تفسیرنمونہ جلد 10 (سورہ ابراہیم کی آیت 7 کے ذیل) میں تفصیل سے بحث کی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:38-40
سوره نمل / آیه 38 - 40
(38) قَالَ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِىْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ (39) قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ ۖ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ اَمِيْنٌ (40) قَالَ الَّـذِىْ عِنْدَهٝ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٝ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْۖ لِيَبْلُوَنِـىٓ ءَاَشْكُـرُ اَمْ اَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَـرَ فَاِنَّمَا يَشْكُـرُ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّىْ غَنِىٌّ كَرِيْـمٌ ترجمہ (38) (سلیمان نے )کہا : اے سردارو! تم میں سے کون شخض اس کا تخت ، ان کے مجھ تک پہنچنے سے پہلے لاسکتا ہے۔ (39) جنوں میں سے ایک عفریت نے کہا : میں اسے آپ کے حلس سے اٹھنے سے پہلے آپ کے پاس لےآوں گا اور میں اس کو لانے کی طاقت بھی رکھتا ہوں اور امین بھی ہوں۔ (40) لیکن جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا کچھ علم تھا، اس نے کہا ، میں اسے آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آوں گا اور جب سلیمان نے اس (تخت) کو اپنے پاس موجود دیکھا تو کہا کہ یہ سب میرے پروردگار فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ کیا میں اس کا شکرادا کرتا ہوں یا کفران نعمت ، کیونکہ جو شخص شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے میں شکرکرتا ہے اور جوکفران نعمت کرتا ہے ، سو میرا رب بے نیاز اور کریم ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:38-40
3- علم من الكتاب اور علم الكتاب میں فرق
3- "علم من الكتاب" اور "علم الكتاب" میں فرق :- زیرنظر آیات میں ہر شخص نے ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکنے کی تھوڑی سی مدت میں سلیمانؑ کے دربار میں لاکر حاضر کیا اس کے بارے میں ہے کہ اس کے پاس" علم من الكتاب" (کتاب کا کچھ علم) تھا۔ جبکہ سورہ رعد کی آیت 43 میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوران کے گواہوں کی حقانیت کے بارے میں ہے : قل کفی بالله شهیدًا بینی و بینکم و من عنده علم الكتاب کہہ دیجیے کہ میرے اور تمھارے درمیان گواہی کے لیے ایک تو خدا کافی ہے اور دوسرے وہ شخص جس کے پاس "کتاب کا علم" ہے۔ ابوسعید خدری سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (سلیمان کی داستان میں مذکور)" الذي عندہ عالم من الكتاب" کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ میرے بھائی سلیمان بن داؤد کے وصی تھے۔ تو پھر میں نے "ومن عنده علم الكتاب" کے متعلق پوچھا تو فرمایا : ذاك اخي علي بن ابي طالب وہ میرے بھائی علی بن ابی طالب ہیں "علم من الكتاب" جزوی علم کو ظاہر کرتا ہے اور "علم الکتاب" جو کلی علم کوظاہرکرتا ہے ۔ ان کے ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس حدیث کو بہت سے مفسرین اور علماء اہل سنت نے بیان فرمایا ہے بالکل اس عبارت کے ساتھ یا اس سے ملتی جلتی عبارت کے ساتھ ۔ مزید تفصیل کے لیے احقاق الحق کی تیسری جلد ص 280 اور ص 281 ملاحظہ فرمائیں۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- درمیان فرق کو دیکھا جائے تو اچھی طرح واضح ہوجائے گا کہ جناب آصف اور حضرت علی کے درمیان کتنا فرق ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بہت سی روایات میں ہے کہ خداوند عالم کے اس اسم اعظم کے تہتر حروف ہیں جن میں سے سرف ایک "آصف بن برخیا" کے پاس تھا جس کی وجہ سے انھوں نے ایسا معجزانہ کام انجام دیاکہ پلک جھپکنے کی دیر میں تخت ملکہ سبا کو سلیمانؑ کے قدموں میں پہنچادیا اور ان اہل بیت علیهم السلام کے پاس بہتر حروف ہیں اور ایک حرف صرف اور صرف ذات خداوند عالم کے ساتھ مخصوص ہے۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:38-40
4- هذا من فضل ربی
4- " هذا من فضل ربی" :- مغرور دنیا پرست جب برسراقتدار آجاتے ہیں تو اپنے سوا سب کو بھلا دیتے ہیں اور جب تمام مادی وسائل پرقابض ہوجاتے ہیں تو قارون کی مانند ہرچیز کو اپنی طرف سے سمجھتے ہیں کسی اور کی جانب سے نہیں جیسا کہ قارون نے کہا ہے: انما اوتيته علٰى علم عندی میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ میرے اپنے علم کی بناء پر ہے ۔ (قصص / 78) جبکہ خدا کے نیک بندے کسی بھی اعلی سے اعلی عہدے اورمنصب پر پہنچ جانے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں: هذا من فضل ربی سب کچھ میرے پروردگار کا عطیہ ہے ۔ پھر قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے ملکہ سبا کا تحت اپنے پاس پاکر صرف یہی نہیں کہا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ یہ اس لیے ہے۔ تاکہ میرا خدا مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکربھی ادا کرتا ہوں یا نہیں ؟ اسی سورت کے اوائل میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ جناب سلیمانؑ اپنی تمام نعمتوں کو خداوند عالم کا عطیہ سمجھتے ہیں اور نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں : پروردگارا ! مجھے ان تمام نعمتوں کے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنی رضا کے حصول کی توفیق دے۔ مغرور دنیا پرستوں اور خدا کے خالص توحید پرستوں کے فرق کا یہی معیار ہے اور کم ظرف خود پرستوں اور باظرف و باکردار شخصیتوں میں یہی فرق ہے۔ اگرچہ اب یہ معمول سا بن گیا ہے کہ بعض ظاہر پسند اور ریا کار لوگ جناب حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس معنی خیز جملے "هذا من فضل ربی" کو اپنے طاغوطی محلات اورعمارتوں کی پیشانی پر ہڑے جلی حروف میں تحریرکرتے ہیں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اصول کافي اور تفسیر نورالثقلین کی طرف رجوع فرمائیں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ جبکہ نہ تو اس پر ان کا ایمان ہوتا ہے اورنہ ہی ان کے عمل سے ذرہ برابر بھی کوئی اشارہ ملتا ہے۔ لیکن جو چیزاہم ہے وہ یہ ہے کہ اسی طرح عمارتوں کی پیشانی پر اسے جلی حروف میں لکھا جاتا ہے اسی طرح ہر انسان کی اپنی پیشانی پر اور اس کے دل میں بھی نقش ہو اور وہ اپنے عمل سے یہ بات ظاہر کرے کہ اس کے پاس تو جس کچھ بھی بے وہ فضل خداوندی ہے اوراسی کی جانب سے عطا کردہ ہے۔ پراس کا شکر بجا لائے اور شکربھی ایسا جو اس کے اعمال اور وجود سے ظاہر ہو نہ کہ صرف زبان سے۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:38-40
2- دو اہم چیزیں ۔ طاقت اور امانت
2- دو اہم چیزیں ۔ طاقت اور امانت :- مندرجہ بالا آیات اور سوره قصص کی آیت 26 میں کسی اچھے اور مثالی کارکن اور کام کرنے والے کے لیے دو چیزيں اہم شرائط کے طور پر بیان ہوئی ہیں ایک طاقت و توانائی اور دوسرے امانت و دیانت داری ۔ البتہ کبھی تو انسان کی اپنی فکری اور اخلاقی بنیادی اس بات کی متقاضی ہوتی ہیں کہ اس میں یہ شرائط پائی جائیں (جیسا کہ سورہ قصص میں حضرت موسیی علیہ اسلام کے بارے میں مذکور ہوا ہے) اور کبھی معاشرتی نظام اور صالح حکومت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کی عفریت جن جیسے افراد بھی ان دو صفات سے ضرور متصف ہوں لیکن صورت خواہ کچھ ہو جب تک معاشرے یہ دو بنیادی شرائط نہ پائی جائیں کوئی بھی چھوٹا یا بڑا کام انجام کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا ۔ شرائط خواہ انسان کے ذاتی تقویٰ کی وجہ سے پیدا ہوں یا معاشرے کے قانونی نظام کی وجہ سے (غور کیجئے گا)۔