وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولًا
When they see you they just take you in derision: ‘Is this the one whom Allah has sent as an apostle!?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:41
[Pooya/Ali Commentary 25:41]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:41-44
۱۔ ہوس پرستی اور اس کا دردناک انجام:
اس میں شک نہیں کہ انسان کے اندر مختلف قسم کی خواہشات اور طرح طرح کی جبلتیں موجود ہیں جو سب کی سب اس کی زندگی کے لئے ضروری ہیں غیظ و غضب، اپنے کمال کے لئے ودیعت فرمایا ہے ۔ جو چیز زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے ہ چیزیں حد سے تجا وز کرجاتی ہیں اور عقل کے لئے ایک مطیع خد متگار کی بجائے اسے قید و بند میں ڈال کر بغاوت اور سر کشی پر اتر آتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے سارے وجود پر حاکم ہو کر زمام ِ اختیاراپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہیں۔ اسی صورت حال کو ہوس پرستی کہتے ہیں جو بت پرستی کا تمام اقام سے زیادہ خطر ناک ہے بلکہ بت پرستی بھی اسی سے پیدا ہو تی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے عظیم پیغمبر نے ”ہوا و ہوس کے بت “ کو سب سے بڑا اور سے سے بُرا بت شمارکیا ہے چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں : ما تحت ظل السماء من اٰلہ یعبد من دون اللہ اعظم عند اللہ من ھوی متبع آسمان کے نیچے کوئی بت اللہ کے نزدیک ہوا و ہوس کے بت سے بڑا نہیں ہے جس کی پرستش کی جاتی ہو (1) ۔ ایک اور حدیث میں کسی پیشوائے اسلام کا ارشاد گرامی ہے : ابغض الہ عبد علی وجہ الارض الھویٰ سب سے بڑھ کر قابل نفرت بت جس کی روئے زمین پر پرستش کی جاتی ہے خواہشات کا بت ہے ۔ اگر اس بارے میں مزید غو ر فکر سے کام لیں تو اس حقیقت سے بخوبی واقف ہو جائیں گے کیونکہ ہوس پرستی غفلت اور بے خبری کا پیش خیمہ اور سر چشمہ ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے :۔ ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا و اتبع ھواہ اس شخص کی اطا عت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے تابع ہے ۔ (کہف ۔۲۸) ہوس پرستی کفر اور بے ایمانی کا سر چشمہ بھی ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے : ”فلا یصدنک عنھا لا یوٴمن بھا و اتبع ھواہ “ تمہیں قیامت پر ایمان لانے سے وہ شخص نہ روکے جو خود اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی ہوا و ہوس کا پیرو کار ہے ۔( طٰہٰ۔۱۶) تیسری بات یہ ہے کہ ہوا و ہوس پرستی بد ترین گمراہی بھی ہے چنانچہ ارشاد ہو تا ہے : و من اضل ممن اتبع ھواہ بغیرھدی من اللہ اس شخص سے بڑھ کر اور کون شخص گمراہ ہوسکتا ہے جو اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کرتا ہے اور خدا کا ہدایت یافتہ نہیں ہے ۔( قصص۔۵۰) چوتھی بات یہ ہے کہ ہوس پرستی ، حق طلبی کے مقابلے میں ہے اور انسان کو راہ ِ راست سے ہٹا دیتی ہے جیسا کہ قرآن مجید کی سورة ص آیت ۶۶ میں ارشاد ہوتا ہے : فاحکم بین الناس بالحق و لا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ لوگوں کے درمیان حق اور انصاف کا فیصلہ کرو اور خواہشات پیروی مت کرو کیونکہ یہ تمہیں راہ خدا سے ہٹا دے گی ۔ پانچویں بات یہ ہے کہ خواہشات ِ نفسانی کی اتباع عدل و انصاف سے روک دیتی ہے ، قرآن فرماتا ہے : فلا تتبعوا الھویٰ ان تعدلوا خواہشات ِ نفسانی کی اتباع تمہیں عدل و انصاف سے نہ روک دے ۔( نساء ۔۱۳۵) چھٹی اور آخری بات یہ ہے کہ اگر زمین و اسمان کا نظام انسانوں کی خوا ہشات کے محور پر گر دش کرنے لگ جائے تو ساری کائنات فساد کی لپیٹ میں آجائے ، ارشاد ہوتا ہے : و لو اتبع الحق اھوائھم لفسدت السماوات والارض و من فیھن اگر حق ان لوگوں کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمان و زمین اور ان میں رہنے والے سب کے سب فاسد ہو جائیں (موٴمنون ۔۷۱) اسلامی روایات میں بھی اس سلسلے میں ہلادینے والی تعبیرات ملتی ہیں۔چنانچہ ایک روایت میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : اشقیٰ من انخدع لھواہ و غرورہ بد بخت ہے وہ انسان جو خواہشات اور غرو ر سے دھوکا کھا جائے (2) ۔ ایک اور روایت میں حضرت علی علیہ اسلام ہی سے منقول ہے کہ : الھویٰ عدو العقل خواہشات ِ نفسانی عقل کی دشمن ہوتی ہیں (3) ۔ آپ علیہ اسلام ہی فرماتے ہیں :۔ الھوٰی اس المحن ہوا و ہوس تمام رنجم و غم کی بنیاد ہیں(4)۔ حضرت امیر علیہ السلام ہی فرماتے ہیں :۔ لادین مع ھویٰ (5) ۔ اور ولا عقل مع ھویٰ (6) ۔ کبھی بھی دین اور خواہشات ِ نفسانی ، اور عقل اور خواہشات ِ نفسانی اکھٹے نہیں ہو سکتے۔ خلاصہ کلام یہ کہ جہاں خواہشات ِنفسانی اور ہوا و ہوس ہیں وہاں پر دین ہے نہ عقل ، وہاں پر بد بختی ، رنج و غم اور بلائیں ہیں اور بس ، وہاں پر یائے بے چارگی ہے یا شقاوت اور فساد۔ ہماری اپنی اور دوسروں کی زندگی کے دوران جو تلخ تجربے حاصل ہوئے ہیں وہ ہوا وہوس پرستی اور خواہشات ِ نفسانی کے بارے میں وارد ہونے والی آیات و روایات کے تما م نکات کا زندہ ثبوت ہیں ۔ ہم ایسے افراد کو بھی جانتے ہیں جنہوں نے ایک گھڑی کے لئے ہوائے نفس کی اتباع کی اور ساری عمر اس کا خمیازہ بھگتتے رہے ۔ ایسے نواجوانوں کو بھی دیکھا جائے جو ہوائے نفس کی پیروی میں ایسی خطرناک عادتوں اور جنسی اور اخلاقی بے راہروی کا شکار ہو گئے جن کی وجہ سے اب وہ معاشرے اور خاندان والوں کے لئے وبال ِ جان بن گئے ہیں اور اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھے ہیں ۔اپنی تمام توانائیاں صلاحیتیں گنواچکے ہیں ۔ معاصراور گزشتہ زمانے کی تاریخ میں ہمیں ایسے لوگوں کے نام بھی ملتے ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اوراپنے نام کا ہمیشہ کے لئے داخل دشنام کردیا۔ یہ ایک اٹل اصول ہے اس میں استثناء کی کوئی گنجائش نہیں حتیٰ کہ عابد اور زاہد لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ جیسا کہ ”بلعم باعورا“ جیسے لوگوں نے جب اپنی خواہشات کی اتباع کی تو عظمت ِ انسانی کی بلندیوں سے یوں گرے کہ قرآن نے انھیں ہمیشہ بھوکنے والے نجس کتے کے ساتھ تشبیہ دی ( ملاحظہ ہو اعراف ۱۷۶)۔ بنابریں باعث تعجب نہیں ہو گا کہ جب پیغمبر اکرم اور حضرت علی علیہ اسلام ایسی بات فرمائیں کہ : ان اخوف ما اخاف علیکم اثنان اتباع الھوٰی و طول الامل ۔ اماتباع الھوٰی فیصد عن الحق و اما طول الامل فینسی الاٰخرة (7) ۔ تمہاری سعادت کی راہ میں جو سب سے زیادہ خطرناک لغزش کا مقام ہے ، وہ ہوائے نفس کی اتباع اور لمبی لمبی آرزوئیں ہیں کیونکہ ہوائے نفس کی تکمیل تمہیں حق سے روک دے گی اور لمبی آرزوئیں تمہیں آخرت سے بے خبر کر دیں گی۔ ہوائے نفس کے مد مقابل یعنی تر ک خواہشات کے بارے میں میں قرآن وحدیث میں جو تعبیرات وارد ہوئی ہیں اسلامی نقطل نظر سے اس مسئلے کی گہرائی اور گیرائی کو بخوبی واضح کرتی ہیں ۔یہاں تک کہ خوفِ خدا اور نفس کی مخالفت کو جنت کی کنجی قرار دیا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : و اما من خاف مقام ربہ و نھی النفس عن الھوٰ فان الجنة ھی الماٴوٰی جو شخص اپنے پروردگار کی عظمت سے ڈرے اور اپنے آپ کو خواہشات ِ نفسانی سے روکے یقینا بہشت اس کا ٹھکانا ہے ۔( نازعات۔ ۴۰ ۔۴۱) حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :۔ اشجع الناس من غلب ھواہ شجاع ترین آدمی وہ ہے جو اپنی خواہشات پر غالب آجائے (8) ۔ اللہ کے نیک بندوں ، خدا کے دوستوں ، علماء اور بزرگان ِ دین کے بارے میں ایسے ایسے واقعات بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اس سے عظیم اور بلند مرتبہ صرف خواہشات ِ نفسانی کی مخالفت کی وجہ سے حاصل ہوا ہے جس کا حصول عام طریقوں سے ناممکن ہے ۔ 1۔ تفسیر المیزان جلد ۱۵ ص۲۵۷بحوالہ تفسیر در منثور ، اسی آیت کے ذیل میں ۔ 2 ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۸۶ ۔ 3 ۔غرر الحکم جملہ ۲۶۵۔ 4 ۔غرر الحکم جملہ۔۱۰۴۸۔ 5 ۔غرر الحکم جملہ۔۱۰۵۳۱۔" 6۔غرر الحکم جملہ۔۱۰۵۴۱۔ 7 ۔سفینةالبحار جلد ۲ ص ۷۲۸( مادہ ہویٰ کے ذیل میں ) اور نہج البلاغہ خطبہ، ۴۲۔ 8 ۔ سفینة البحار جلد ۱ ص ۶۸۹( مادہ شجع )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:41-44
جانوروں سے بھی گمراہ
یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید نے اس سورت میں مشرکین کی باتوں کو ایک جگہ بیان نہیں کیا بلکہ کچھ حصہ بیان کیا پھر اس بات کا جواب دیا اور وعظ و نصیحت کی پھر دوسرا حصہ بیان کیا اسی طرح یہ سلسلہ چل رہا ہے ۔ زیر نظر آیات میں مشرکین کی منطق اور آنحضرت کے ساتھ ان کے سلوک اور دعوت اسلام کے مقابلے میں ان کا ردّ عمل بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے فرمایا گیا : جب بھی وہ تجھے دیکھتے ہیں تو سب سے پہلا کام یہ انجام دیتے ہیں کہ آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں اورکہتے ہیں یہ وہی شخص ہے جسے خدا نے پیغمبر کے طور پر مبعوث کیا ہے ( وَإِذَا رَاٴَوْکَ إِنْ یَتَّخِذُونَکَ إِلاَّ ھُزُوًا اٴھَذَا الَّذِی بَعَثَ اللهُ رَسُولً)(1) ۔ کتنا بڑا دعویٰ کررہا ہے ؟ کیا عجیب باتیں کررہا ہے ؟ واقعاًمضحکہ خیز باتیں کررہا ہے ؟ یہ بات قطعا ً فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ پیغمبر اسلام وہی تو ہیں جو قبل از اعلان رسالت چالیس سال تک ان میں رہ چکے ہیں ، اس دوران میں آپ کی امانت صداقت اور عقل و شعورکے ڈنکے بجتے تھے لیکن جب کفر کے سر داروں کے مفادات خطرے میں پڑ گئے تو انہوں نے آپ کی تمام خوبیان بھی بھلا دیں اور ٹھٹھا مذاق شروع کردیا ،آنحضرت کی دعوت اسلامی ِکا شواہد اور دلائل کے باوجود ہنسی مذاق کے ذریعہ انکار کرنے لگے یہاں تک کہ خود سر کار ِ رسالت مآب کو جنون کی تہمت سے متہم کرنے لگ گئے ۔ قرآن مجید مشرکین کی بات کو ان کی اپنی زبانی اگے بڑھتے ہوئے کہتا ہے :اگر ہم اپنے خدا وٴں کی پرستش پر ڈٹے نہ رہیں تو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ میں گمراہ کر ڈالے اور ہمارا رابطہ ان سے منقطع کردے ( إِنْ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ آلِھَتِنَا لَوْلاَاٴَنْ صَبَرْنَا عَلَیْھَا )(2) ۔ لیکن قرآن اس بات کئی طریقوں سے جواب دیتا ہے پہلے تو اس غیر منطقی ٹولے کو من توڑ جواب دیتا ہے :جب وہ عذاب الہٰی کو دیکھیں گے تو انھیں فوراً پتہ چل جائے گا کہ کون گمراہ تھا (وَسَوْفَ یَعْلَمُونَ حِینَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اٴَضَلُّ سَبِیلًا)۔ ہوسکتا ہے اس عذاب سے مراد قیامت کا عذاب ہو جیسا کہ طبرسی مرحوم کی مانند کئی مفسرین اس بات کے قائل ہیں اور طبرسی نے مجمع البیان میں یہ لکھا ہے یا دنیا وی عذاب ہو جیسا کہ بدر وغیرہ کے دن کی عبرتناک اور دردناک شکست ،جیسا کہ قر طبی نے اپنی مشہور تفسیر میں بیان کیا ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر دو طرف اشارہ ہو ۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ یہ گمراہ لوگ اپنی گفتگومیں متضاد باتیں کررہے ہیں ایک طرف تو پیغمبر اسلام اور ان کی اسلامی دعوت کو حقیر سمجھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آنحضرت کی شخصیت اور مشن کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے ہیں دوسری طرف وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اپنے باپ دا دا کے طریقے پر مضبوطی سی کار بند نہ رہیں تو ممکن ہے کہ رسول اللہ کی باتیں انھیں اس راہ سے بھٹکا دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کی باتوں کو اہمیت دیتے تھے اور آپ کے کام کو نہایت ہی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اہم اقدام کرتے تھے اور اس طرح کی پریشانی خیالی اورتضادگوئی اس سے پھرے اور ہٹ دھرم گروہ سے بعید بھی نہیں ہے ۔ پھر عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ حق کے دشمنوں کو جب خدائی رہبروں کی منطق کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ہنسی مذاق میں اس کو ٹال جاتے ہیں جو ان کی ایک قسم کی حکمت عملی ہوتی ہے تاکہ وہ اس طرح سے اسے حقیر اور ناقابل ِ توجہ ظاہر کریں جبکہ در پردہ اس سے خائف ہوتے ہیں یا پھر اسے حقیقی خطرہ سمجھ کر کھلم کھلا اس کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ ان کی گفتگو کا دوسرا جواب بعد والی آیت میں پیش کیا گیا ہے جس میں پیغمبر اکرم کو مخاطب کر کے ایک تو ان کی دلجوئی کی گئی ہے اور دوسرا مشرکین کی دعوت حق کو قبول نہ کرنے کی اصل وجہ بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : آیا تو نے اسے دیکھا ہے جس میں اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا معبود مان لیا ہے (اٴَرَاٴَیْتَ مَنْ اتَّخَذَ إِلَھَہُ ھَوَاہُ )۔ تو کیا ایسی حالت میں تو اسے ہدایت کرسکتا ہے یا اس کا دفاع کرسکتا ہے (اٴَفَاٴَنْتَ تَکُونُ عَلَیْہِ وَکِیلًا )۔ یعنی اگر انہوں نے آپ کی دعوت اسلامی کے مقابلے میں استہزاء ، انکار اور ہنسی مذاق کی پالیسی اپنا رکھی ہے تو اس لئے نہیں کہ آپکی منطق کمزور اور دلائل قانع کنندہ نہیں یا آپ کے دین و آئین میں کسی قسم کا شک و شبہ ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وہ عقلی اور منطقی بات کی پیروی نہیں کرتے ان کا معبود ان کی نفسیاتی خواہشات ہوتی ہیں تو کیا ایسے لوگوں سے اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کریں یا آپ ان پر کوئی اثر و رسوخ استعمال کر سکیں ۔ ”اٴَرَاٴَیْتَ مَنْ اتَّخَذَ إِلَھَہُ ھَوَاہُ “کے بارے میں بعض بزرگ مفسرین کی مختلف آراء ہیں ۔ کچھ مفسرین تو یہ کہتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ ان کا ایک بت ہے جسے خواہشات ِ نفسانی کہا جاتا ہے اور ان کے تمام کام اسی کے حکم سے انجام پاتے ہیں۔ جبکہ کچھ مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس سے مراد یہ ے کہ کافر لوگ پرستش کے لئے بت کے انتخاب تک میں بھی عقل و خرد سے کام نہیں لیتے اور کسی منطقی دلیل کو مد نظر نہیں رکھتے بلکہ جب بھی ان کی نگاہ کسی پتھر یا اچھے سے درخت پر جاپڑتی ہے یا کسی ایسی چیز کو دیکھ لیتے ہیں جو دل لبھا نے والی ہوتی ہے تو اسے اپنا معبود بنا لیتے ہیں ان کے آگے زانوئے ادب تہہ کرتے ہیں ، قربانیاں پیش کرتے ہیں اور ان کے اپنی مشکل کشائی کی درخواست کرتے ہیں ۔ اتفاق سے اس آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں مفسرین نے ایک روایت بیان کی ہے جو ہمارے اس مدعا کی تائید کرتی ہے روایت یہ ہے :۔ ایک مرتبہ قریش مکہ پر سخت قحط سالی کا دور آیا اور و ہ ادھر اُدھر منتشر ہو گئے کچھ لوگ ایسے تھے جو سکی خوبصورت پتھر یا کسی اچھے سے درخت کو دیکھ لیتے اس کی پوجا پاٹ شروع کردیتے اگر وہ پتھر ہو تا تو اسے ” سعادت کی چٹان “ کا نام دیتے اس کے لئے قربانی کرکے ، قربانی کے خون سے اسے رنگین کردیتے حتی کہ اپنے جانوروں کی بیماری کے لئے دوا بھی اسی سے طلب کرتے ۔ ایک دن اتفاق ایسا ہوا کہ ایک عربی اپنے اونٹ اس پتھر کے ساتھ مس کرنے اور بر کت حاصل کرنے کی غرض سے لے آیا لیکن اونٹ بھاگ کر جنگل کو چلے گئے اور اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے اس نے کچھ اشعار پڑھے جن کا مفہوم یہ تھا : میں ”سعادت کی چٹان “ کے پاس اس غرض سے آیا تھا کہ وہ ہمارے اندر موجود انتشار کو دور کرے لیکن اس نے تو ہمارے اجتماع میں انتشار ڈال دیا ہے ۔ سعادت کا یہ پتھر کیا ہے ؟ زمین کی طرح کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے جو نہ تو انسان کو گمراہی کی طرف لے جا سکتا ہے اور نہ ہی ہدایت کی جانب۔ ایک اور عرب نے دیکھا کہ اس پتھر پر لومڑی پیشاب کررہی ہے تو اس نے یہ شعر پڑھا : اٴرب یبول الثعلبان براٴسہ لقد ذل مابالت علیہ الثعالب آیا وہ چیز بھی معبود ہو سکتی ہے جس پر لومڑی پیشاب کرے ؟یقینا وہ چیز ذلیل ہے جس پر لومڑیاں پیشاب کریں(3) ۔ اوپر والی دونوں تفسیروں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ بت پرستی پیداوارہی خرافات کی ہے جو خواہشات ِ نفسانی کی ایک قسم ہے کسی دلیل و منطق کے بغیر مختلف بتوں کا انتخاب بھی خواہشات کی تکمیل کا ایک حصہ ہے ۔ ”ہواو ہوس “ کے سلسلے میں نکات کی بحث میں تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی ۔ انشاء اللہ ۔ آخر میں قرآن مجید اس گرماہ گروہ کے اعتراض کا تیسرا جواب یوں دے رہا ہے : آیا تو سمجھتا ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ( اٴَمْ تَحْسَبُ اٴَنَّ اٴَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُونَ اٴَوْ یَعْقِلُونَ)۔ جو چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیاد ہ گمراہ ہیں ( إِنْ ھُمْ إِلاَّ کَالْاٴَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اٴَضَلُّ سَبِیلًا )۔ یعنی اے پیغمبر !آپ ان کے ٹھٹھا، غیر منطقی اور ناگوار باتوں سے ہر گز پریشان نہ ہوں کیونکہ یا تو انسان کے پاس اپنی عقل ہونی چاہئیے جس سے وہ سوچ سکے اور” یعقلون “کا مصداق بنے اگر اس کے پاس اپنی عقل نہیں تو دانشوروں اور صاحبان عقل کی باتوں کو سنے اور ”یسمعون“ کا مصداق قرار پائے ۔ لیکن یہ لوگ نہ تو پہلے زُمرے میں آتے ہیں اور نہ ہی دوسرے میں اسی لئے ان میں اور چوپایوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور چوپایوں سے سوائے چیخنے چلانے، لاتیں مارے اور غیر معقول کا م کے اور توقع ہی کیا کی جا سکتی ہے ؟ بلکہ یہ دونوں جانوروں سے بھی بد تر ہیں کیونکہ جانوروں سے عقل و اندیشہ کی وتو توقع نہیں رکھی جا سکتی جبکہ ان میں عقل بھی ہے اور شعور بھی لیکن وہ اس سے کام نہیں لیتے لہٰذا انھیں یہ دن دیکھنا پڑے۔ پھر قابل غور یہ بات بھی ہے کہ قرآن نے یہاں پر ”اکثرھم“ کا لفظ استعمال کیا ہے اور حکم کو عمومیت نہیں دی ،کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں کچھ فریب خوردہ لوگ بھی ہو ں جب حق ان کے سامنے آجائے تو ان کی آنکھوں کے آگے سے غفلت اور غلط فہمی کے پردے ہٹ جائیں اور وہ حق کو قبول کرلیں اور یہ بات قرآن کی بحثوں میں اصول عدل مدنظر رکھنے پر ایک واضح دلیل ہے ۔ 1”ھزواً“مصدر ہے اور یہاں مفعول کے معنی میں آیا ہے نیز یہ احتمال بھی مصدر ہے کہ تقدیر طور پر مضاف کا مضاف الیہ ہویعنی ” موضع ھزو“ اور ھٰذا “ کی تعبیر کفار کی طرف سے آنحضرت کی حقارت اور توہیں کی طرف اشارہ ہے ۔ 2۔” إِنْ کَادَ لَیُضِلُّنَا“میں ”ان“مخففہ اور تاکید کے لئے ہے اور تقدیر میں”انہ کاد“ تھا اور اس کی ضمیر شان ہے ۔ 3 ۔ تفسیر علی بن ابراہیم ( منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص۲۰) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:41-44
۲۔ جانورں سے بڑھ کر گمراہ کیوں ؟
مندر جہ بالا آیات میں مطلب کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے پہلے ارشاد فرمایا گیا ہے : جن لوگوں کا معبود خواہش ِ نفسانی ہیں وہ چوپایوں کی مانند ہیں ۔ پھر اس سے بڑھ کر فرمایا گیا ہے : بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔ اس جیسی ایک تعبیر سورہ اعراف کی آیت ۱۷۲ میں بھی آئی ہے جس میں بتا یا گیا ہے کہ اہل جہنم آنکھ، کان اور عقل و خرد سے کام نہ لینے کی وجہ سے اس طرح کے انجام سے دو چار ہوں گے : اولٰئک کالانعام بل ھم اضل وہ لوگ جو چوپایوں کی مانند بلکہ ان سے بھی بڑھ کر گمراہ ہیں ۔ اگر چہ اجمالی طور پر ان کا چوپایوں سے بھی بڑھ کر گمراہ ہونا واضح ہے لیکن اس بارے میں مفسرین نے دلچسپ وضاحت کی ہے جسے تجزیہ و تحلیل اور کچھ اضافوں کے ساتھ ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں ۔ ۱۔اگر چوپائے کسی چیز کو نہیں سمجھ سکتے ، گوش شنوا اور چشم بینا نہیں رکھتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں یہ استعداد نہیں ہے لیکن کتنا بد بخت ہے انسان کہ جس میں تمام سعادتوں کی صلاحیت مخفی ہے اور خدا نے اسے اس قدر استعداد بخشی ہے کہ وہ زمین میں خدا کا نمائدہ اور خلیفة اللہ بن سکتا ہے لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ خود کو اس قدر پست کردیتا ہے کہ اپنے آپ کو ایک جانور کی حد تک گرادیتا ہے اپنی تمام لیاقتوں کو ضائع کردیتا ہے خود مسجود الملائکہ ہونے کی سر بلندی سے گرا کر شیاطین کے ذلت آمیز گڑھوں میں ڈال دیتا ہے ۔کتنے دور کی بات ہے ، اس سے بڑھ کر اور کیا گمراہی ہو سکتی ہے ۲۔جانوروں سے تقریباً حساب و کتاب نہیں لیا جائے گا نہ ہی وہ کسی سزا اور جزا کے مستحق ہوں گے لیکن انسانوں کا حساب و کتاب بھی ہوگا اور گمراہ لوگوں کو اپنے گناہوں کا بوجھ اپنے شانوں پر اٹھا نا ہو گا لیکن بغیر کسی کمی بیشی کے اپنے گناہوں کی سزا بھگتنا ہوگی ۔ ۳۔چوپائے ، انسان کی بہت خد مت کرتے ہیں اور مختلف کام انجام دیتے ہیں لیکن سر کش اور باغی انسان نہ صرف کوئی کام نہیں کرتے بلکہ طرح طرح کے مصائب و آلام اور خطرات بھی پیدا کرتے رہتے ہیں ۔ ۴۔چوپائے کسی کے لئے خطرہ نہیں بنتے اگر بنیں بھی تو ان کا خطرہ محدود ہوتا ہے لیکن افسوس ہے بے ایمان ، مستکبر اور ہوس پرست انسان پر جو کبھی جنگ کی ایسی آگ بھڑکادیتا ہے کہ جس میں ہزاروں ، لاکھوں انسان جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں ۔ ۵۔اگر چہ جانوروں کا کوئی آئین اور قانون نہیں ہے لیکن فطرت نے جبلت کی صورت میں ان کے لئے جو راستہ مقرر کردیا ہے وہ اس پر گامزن ہیں ،لیکن سر کش اور متکبر انسان نہ تو تکوینی قوانین کوکوئی اہمیت دیتا ہے او رنہ ہی تشریعی کو ، بلکہ اپنی خواہشات کو سب چیزوں پر حاکم سمجھتا ہے ۔ ۶۔ چوپایوں نے کبھی اپنے کاموں کی توجیہ پیش نہیں کی اگر خلاف ِ قانون کرتے ہیں تو بھی اور اگر قانون کے مطابق کرتے ہیں تو بھی وہ اپنی مستی میں مست اور مگن چلے جارہے ہیں لیکن خود پرست ہوائے نفسانی کا پیرو کار اور خونخوار انسان اپنے جرائم کی یوں توجیہ کرتا ہے گویا اس نے خدائی فریضے کی تکمیل اور شرعی ذمہ داری پر عمل در آمد کیا ہے ۔ اس لحاظ سے دنیا کی کوئی چیز ہواو ہوس کے پیرو کار ، بے ایمان اور سر کش انسان سے بڑھ کر خطر ناک اور نقصان دہ نہیں ہے ۔اسی وجہ سے ایسے انسان کو سورہٴ انفال کی آیت ۲۲ میں ” شر الدواب“( ہر چلنے والی چیز سے بد تر ) کے عنوان سے موسوم کیا گیا ہے اور یہ کیا ہی عمدہ تعبیر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:41-44
سوره فرقان / آیه 41 - 44
۴۱۔ وَإِذَا رَاٴَوْکَ إِنْ یَتَّخِذُونَکَ إِلاَّ ھُزُوًا اٴھَذَا الَّذِی بَعَثَ اللهُ رَسُولًا۔ ۴۲۔ إِنْ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ آلِھَتِنَا لَوْلاَاٴَنْ صَبَرْنَا عَلَیْھَا وَسَوْفَ یَعْلَمُونَ حِینَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اٴَضَلُّ سَبِیلًا۔ ۴۳۔ اٴَرَاٴَیْتَ مَنْ اتَّخَذَ إِلَھَہُ ھَوَاہُ اٴَفَاٴَنْتَ تَکُونُ عَلَیْہِ وَکِیلًا ۔ ۴۴۔ اٴَمْ تَحْسَبُ اٴَنَّ اٴَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُونَ اٴَوْ یَعْقِلُونَ إِنْ ھُمْ إِلاَّ کَالْاٴَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اٴَضَلُّ سَبِیلًا ۔ ترجمہ ۴۱۔جب بھی وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو (کوئی منطقی بات کرنے کے بجائے ) مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں( اورکہتے ہیں ) آیا یہی وہ شخص ہے جسے خدانے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ ۴۲۔اگر ہم اپنے خدا وٴں کی پرستش پر قائم نہ رہیں تو ا س بات کا خدشہ ہے کہ وہ ہمیں گمراہ کرڈالے لیکن جب وہ عذب الٰہی کو دیکھیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ کون گمراہ تھا ؟ ۴۳۔آیا تو نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی نفسیاتی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا ہے ؟تو کیا تو اسے ہدایت کرسکتا ہے ؟ یا اس کا دفاع کرسکتا ہے ؟ ۴۴۔ آیا تو سمجھتا ہے کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ وہ تو صرف چوپایوں کی مانند بلکہ ان سے بھی گمرا ہ تر ہیں ۔