لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
There is no blame upon the blind, nor any blame upon the lame, nor any blame upon the sick, nor upon yourselves if you eat from your own houses, or your fathers’ houses, or your mothers’ houses, or your brothers’ houses, or your sisters’ houses, or the houses of your paternal uncles, or the houses of your paternal aunts, or the houses of your maternal uncles, or the houses of your maternal aunts, or those whose keys are in your possession, or those of your friends. There will be no blame on you whether you eat together or separately. So when you enter houses, greet yourselves with a salutation from Allah, blessed and good. Thus does Allah clarify His signs for you so that you may exercise your reason.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:61
[Pooya/Ali Commentary 24:61] There were many Arab superstitions and fancies which are rejected in this verse. Aqa Mahdi Puya says: In order to create love and friendship among the believers the traditions based upon superstitions have been removed. Salute each other as done in every prayer: Assalamu alayna wa ala ibadillahis salihin-peace be on us and on the righteous servants of Allah. In Allah's grace and blessing is our peace.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:61
۲۔ اس حکمِ اسلامی کا فلسفہ
یہ ہوسکتا ہے غصب کے بارے میں اسلام کے واضح اور شدید احکام سے اس حکم کا موازنہ کیا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ اسلام نے دوسروں کے مال میں تصرف کے بارے میں اتنا سخت موٴقف اختیار کرنے کے باوجود اس امر کو کیسے جائز شمار کیا ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ سوال سو فیصد مادی امور پر نظر رکھنے کی وجہ سے اس معاشرے سے متعلق ہے جو آج کے مغربی ممالک کے ماحول کی طرح ہوں کہ جہاں اپنی حقیقی اولاد کو کچھ بڑا ہوجانے پر گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور ان کے کسی حق کا احترام نہیں کیا جاتا اور نہ ان سے کوئی اظہار محبّت کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں تمام مسائل مادی اور اقتصادی محور پر چکر لگاتے ہیں اور انسانی احساسات کا وہاں نام ونشان تک نہیں ہے لیکن مغربی تہذیب کی جو صورتِ حال ہے اس کے پیش نظر ایسا ہونا کوئی باعث تعجب نہیں لیکن اسلامی تہذیب اور سماجی نظام میں انسانی احساسات کو بہت اہمیت دی گئی ہے، خاص طور پر قریبی رشتہ داروں اور خاص دوستوں کے بارے میں اسلام بہت حساس ہے اسلامی کی نظر میں قرابتداری اور دوستی کے رشتے ان مادی حوالوں سے بہت بلند ہیں یہ رشتے اسلام کی نظر میں بہت مقدس ہیں، اسلام تنگ نظری، خود غرضی اور خود پرستی کو پاک کردینا چاہتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ غصب کے بارے میں اسلامی احکام ان حدود سے باہر ہیں، اسلام نے ان خاص حالات میں انسانی رشتوں اور احساسات کو غصب کے احکام پر مقدم شمار کیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:61
جن گھروں میں جاکر کھانا کھانا جائز ہے
گزشتہ آیات میں معین اوقات میں طا مطلق طور پر ماں باپ کے خصوصی کمرے میں داخل ہوتے وقت اجازت کے بارے میں بات کی گئی ٹھی، زیرِ بحث آیات میں در حقیقت ایک استثنائی پہلو پر بات کی گئی ہے، اس میں ان رشتے داروں اور دیگر لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جن کے ہاں خاص حالات میں جایا جاسکتا ہے اور اخراجات لیے بغیر کھانا کھایا جاسکتا ہے ۔ ارشاد فرمایا گیا: اندھے، لنگڑے اور بیمار اشخاص کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ تمھارے ساتھ مل کر کھاپی لیں (لَیْسَ عَلَی الْاٴَعْمَی حَرَجٌ وَلَاعَلَی الْاٴَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَاعَلَی الْمَرِیضِ حَرَجٌ) ۔ بعض روایات میں ہے کہ قبول اسلام سے پہلے اہلِ مدینہ اندھے، لنگڑے اور بیمار افراد کو اپنے دسترخوان پر بیٹھنے سے منع کرتے تھے اور ان کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھاتے تھے، انھیں اس کام سے نفرت تھی، ظہور اسلام کے بعد کچھ لوگ ایسے افراد کو الگ کھانا کھلاتے تھے البتہ اس بناپر نہیں کہ ان کے ساتھ کھانا کھانے سے نفرت کرتے تھے بلکہ اس بناء پر کہ شاید نابینا شخص کھانے کو اچھی طرح نہ دیکھ سکے اور یہ خود تو کھالیں مگر وہ نہ کھاسکے اور اسے وہ خلافِ اخلاق ومروّت سمجھتے تھے، اسی طرح لنگڑے اور بیمار افراد کے بارے میں اس خیال سے کہ ہوسکتا ہے وہ کھانا کھانے میں پیچھے رہ جائیں اور جو لوگ صحیح وسالم ہیں وہ کھاپی لیں بہرحال جو بھی وجہ تھی ان کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھاتے تھے، اس بناء پر، اندھے، لنگڑے اور بیمار افراد بھی اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھتے تھے اس خیال سے کہ ہوسکتا ہے وہ دوسروں کے لئے باعث زحمت ہوں اور اس زحمت دینے کو وہ اپنے لئے گناہ تصور کرتے تھے ۔ اس سلسلے میں رسول الله سے سوال ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی اور یہ واضح کیا گیا کہ اگر یہ افراد تمھارے ساتھ مل کر کھانا کھائیں تو کوئی حرج نہیں(1) ۔ البتہ اس جملے کی تفسیر میں مفسرین نے دیگر تفسیریں بھی ذکر کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ افراد حکمِ جہاد سے مستثنیٰ ہیں ۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ تمھیں اجازت ہے کہ ایسے معذور اور ناتواں افراد کو اپنے ساتھ ان گیارہ گھروں میں لے جاوٴ کہ جن کا ذکر آیت میں آیا ہے اور یہ کہ وہ بھی وہاں سے کھانا کھائیں ۔ لیکن یہ دونوں تفسیریں بہت بعید معلوم ہوتی ہیں اور آیت کے ظاہری مفہوم سے ہم آہنگ نہیں ہیں (غور کیجئے گا) ۔ اس کے بعد قرآن مجید مزید کہتا ہے: تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے جہاں تمھاری اولاد یا بیویاں رہتی ہیں کہ جو تمھارے اپنے گھر شمار ہوتے ہیں کھاپی لو (وَلَاعَلیٰ اٴَنفُسِکُمْ اٴَنْ تَاٴْکُلُوا مِنْ بُیُوتِکُمْ) ۔ یا اپنے باپ داد کے گھر سے (اٴَوْ بُیُوتِ آبَائِکُمْ) ۔ یا اپنے ماوٴں کے گھر سے (اٴَوْ بُیُوتِ اٴُمَّھَاتِکُمْ) ۔ یا اپنے بھائیوں کے گھر سے (اٴَوْ بُیُوتِ إِخْوَانِکُمْ) ۔ یا اپنی بہنوں کے گھر سے (اٴَوْ بُیُوتِ اٴَخَوَاتِکُمْ) ۔ یا اپنے چچوں کے گھر سے (اٴَوْ بُیُوتِ اٴَعْمَامِکُمْ) ۔ یا اپنی پھوپھیوں کے گھر سے (اٴَوْ بُیُوتِ عَمَّاتِکُمْ) ۔ یا اپنے مامووٴں کے گھر سے (اٴَوْ بُیُوتِ اٴَخْوَالِکُمْ) ۔ یا اپنی خالاوٴں کے گھر سے ( اٴَوْ بُیُوتِ خَالَاتِکُمْ) ۔ یا اُن گھروں سے جن کی چابی تمھارے پاس ہے (اٴَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَفَاتِحَہُ) ۔ یا اپنے دوستوں کے گھر سے (اٴَوْ صَدِیقِکُمْ) ۔ البتہ اس حکم کی کچھ شرائط اور توضیحات ہیں جنھیں ہم بعد میں ذکر کریں گے ۔ اس کے بعد سلسلہٴ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تمھارے لئے کوئی مضائقہ نہیں کہ مل کر کھاوٴ یا الگ سے (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَاٴْکُلُوا جَمِیعًا اٴَوْ اٴَشْتَاتًا) ۔ گویا بعض مسلمان ابتدائے اسلام میں علیحدہ علیحدہ کھانا کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور اگر انھیں کوئی ساتھ مل کر کھانا کھانے والا نہ ملتا تو بعض اوقات عرصے تک بھوکے رہتے، قر آن انھیں تعلیم دیتا ہے کہ اجتماعی صورت میں بھی اور الگ سے بھی ہر دو طرح سے کھانا کھانا جائز ہے (2) ۔ بعض نے کہا یہ بھی کہا ہے کہ بعض عربوں کے ہاں یہ رواج تھا کہ وہ مہمان کا کھانا احترام کے طور پر الگ لے کر جاتے تھے اور خود اس کے ساتھ مل کر نہیں کھاتے تھے(تاکہ کہیں وہ شرمندگی محسوس نہ کرے اور آزادی سے نہ کھاسکے) ۔ آیت نے ان پابندیوں کو ختم کردیا اور انھیں تعلیم دی کہ یہ کوئی اچھی رسم نہیں ہے(3)۔ بعض نے کہا ہے کہ کچھ مالدار ایسے تھے کہ جو غریب لوگوں کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے اور طبقاتی فاصلہ دسترخوان تک پر ملحوظ رکھتے تھے، قرآن نے اس آیت میں اس ظالمانہ روش کی نفی کی ہے(4) ۔ لیکن کوئی حرج نہیں کہ آیت کے پیش نظر یہ تمام امور ہوں ۔ اس کے بعد معاشرتی اخلاق کے بارے میں ایک اور حکم ہے، ارشاد ہوتا ہے: جب تم کسی گھر میں داخل ہوتے ہو تو اپنے اوپر سلام کرو، الله کی طرف سے مبارک وپاکیزہ سلام وتحیّت (فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوتًا فَسَلِّمُوا عَلیٰ اٴَنفُسِکُمْ تَحِیَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَکَةً طَیِّبَةً) ۔ ان ”بیوت“ سے کونسے گھر مراد ہیں؟ بعض مفسرین مذکورہ بالا گیارہ گھروں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، بعض دوسرے مفسرین نے ”بیوت“ سے مسجدیں مراد لیا ہے ۔ لیکن واضح ہے کہ آیت مطلق ہے اور ا س سے تمام گھر مراد ہوسکتے ہیں چاہے وہ مذکورہ گیارہ گھروں ہوں کہ جن میں آدمی کھانے کے لئے جاتا ہے یا دیگر رشتے داروں اور دوستوں کے گھر کیونکہ آیت کے وسیع مفہوم کو محدود کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں موجود نہیں ہے ۔ رہا یہ سوال کہ اپنے اوپر سلام کرنے سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں بھی متعدد تفاسیر نظر آتی ہیں: بعض نے کہا ہے کہ اس سے کچھ افراد کا دوسروں کو سلام کرنا ہے جیسا کہ سورہٴ بقرہ آیت ۵۴ کے مطابق بنی اسرائیل کے واقعے میں ہے: <فاقتلوا انفسکم ”تم ایک دوسرے کو سزا کے طور پر قتل کرو“۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد بیوی بچوں اور اہل خانہ کو سلام کرنا ہے، کیونکہ وہ انسان کی اپنی ذات ہی کی طرح ہیں اس لئے انھیں ”انفس“ کہا گیا ہے آیتِ مباہلہ (کو جو آل عمران کی اکسٹھویں آیت ہے) میں بھی یہ تعبیر دکھائی دیتی ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص دوسرے سے اس قدر نزدیک ہوجاتا ہے گویا خود اس کا نفس ہوگیا یعنی وہی ہوگیا ہو جیسے حضرت علی علیہ السلام رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے انتہائی قریب تھے اور ان کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد وہ گھر ہیں کہ جن میں کوئی نہیں رہتا تو انسان کو چاہئے کہ ان میں داخل ہوتے وقت اپنے آپ کو سلام کرے: ”السلام علینا من قبل ربّنا“ ”ہم پر ہمارے پروردگار کی طرف سے سلام ہو“۔ یا ان الفاظ میں سلام کرے: ”السلم علینا وعلیٰ عباد الله الصالحین“ ”ہم پر سلام ہو اور الله کے نیک بندوں پر سلام ہو“۔ ہماری رائے یہ ہے کہ ان تفاسیر میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے، ہر گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا چاہیے، اہلِ خانہ ایک دوسرے کو سلام کریں، مومنین ایک دوسرے کو سلام کریں اور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو پھر اپنے اوپر سلام کریں، کیونکہ ہر سلام کا نتیجہ در حقیقت اپنے ہی اوپر سلام ہے ۔ اسی لئے امام باقر علیہ السلام سے ایک حدیث مروی ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں آپ علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو فرمایا: ”ھو تسلیم الرجل علیٰ اٴھل البیت حین یدخل ثمّ یردّون علیہ فھو سلامکم علیٰ انفسکم“. ”اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی آدمی کسی گھر میں داخل ہو تو اہلِ خانہ کو سلام کرے، وہ جواب سلام دیں گے اور اس پر سلام کریں گے اور یہ گویا تمھارا خود اپنے اوپر سلام کرنا ہے (5) ۔ امام باقر علیہ السلام ہی سے مروی ہے کہ فرمایا: ”اذا دخل الرجل منکم بیتہ فان کان فیہ اٴحدیسلم علیہ، وان لم یکن فیہ اٴحد فلیقل السلام علینا من عند ربّنا یقول الله عزّوجل تحیّة من عند الله مبارکة طیّبة“. ”تم سے سے جب کوئی اپنے گھر میں داخل ہو، اگر اس میں کوئی موجود ہے تو اس پر سلام کرے اور اگر کوئی نہ ہو تو کہے: ہم پر ہمارے پروردگار کی طرف سے سلام، جیسا کہ الله نے قرآن میں فرمایا ہے: الله کی طرف سے مبارک وپاکیزہ تحیت وسلام“(6) ۔ 1۔ تفسیر درالمنثور، تفسیر نور الثقلین، زیر بحث آیت کے ذیل میں، ان کے علاوہ بھی بعض مفسرین نے اپنی تفسیر میں یہ روایت درج کی ہے مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں، مرحوم فیض نے تفسیر صافی میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں، شیخ طوسی نے تبیان میں اے درج کیا ہے ۔ 2تفسیر تبیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔ 3 ۔ تفسیر تبیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔ 4 ۔ تفسیر تبیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔ 5 ۔ نور الثقلین، ج۳، ص۶۲۷. 6۔ نور الثقلین، ج۳، ص۶۲۷.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:61
سوره نور / آیه 61
۶۱ لَیْسَ عَلَی الْاٴَعْمَی حَرَجٌ وَلَاعَلَی الْاٴَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَاعَلَی الْمَرِیضِ حَرَجٌ وَلَاعَلیٰ اٴَنفُسِکُمْ اٴَنْ تَاٴْکُلُوا مِنْ بُیُوتِکُمْ اٴَوْ بُیُوتِ آبَائِکُمْ اٴَوْ بُیُوتِ اٴُمَّھَاتِکُمْ اٴَوْ بُیُوتِ إِخْوَانِکُمْ اٴَوْ بُیُوتِ اٴَخَوَاتِکُمْ اٴَوْ بُیُوتِ اٴَعْمَامِکُمْ اٴَوْ بُیُوتِ عَمَّاتِکُمْ اٴَوْ بُیُوتِ اٴَخْوَالِکُمْ اٴَوْ بُیُوتِ خَالَاتِکُمْ اٴَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَفَاتِحَہُ اٴَوْ صَدِیقِکُمْ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَاٴْکُلُوا جَمِیعًا اٴَوْ اٴَشْتَاتًا فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوتًا فَسَلِّمُوا عَلیٰ اٴَنفُسِکُمْ تَحِیَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَکَةً طَیِّبَةً کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ الْآیَاتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ ترجمہ ۶۱۔ اندھے، لنگڑے اور بیمار شخص کے لئے کوئی حرج نہیں ہے (کہ وہ تمھارے ساتھ مل کر کھانا کھالے) اور تمھارے لئے بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ تم اپنے گھروں سے (کہ جن میں تمھاری اولاد یا بیویاں رہتی ہیں اور جو تمھارے گھر شمار ہوتے ہیں بغیر خصوصی اجازت کے) کھانا کھالو، اسی طرح تم اپنے باپ داد ا یا اپنی ماوٴں یا اپنے بھائیوں یا اپنی بہنوں یا اپنے چچاوٴں یا اپنی پھوپھیوں یا اپنے مامووٴں یا اپنی خالاوٴں کے گھر یا ان گھروں سے کہ جن کی چابی تمھارے پاس ہے یا اپنے دوستوں کے گھر سے کھا سکتے ہو، اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم مل جل کر کھاوٴ یا علیحدہ علیحدہ اور جب کسی کے گھر میں جاوٴ تو اپنے اوپر سلام کرو، الله تم سے اس طرح سے بیان کرتا ہے، شاید تم سمجھو اور غوروفکر کرو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:61
۵۔ سلام وتحیّت
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ”تحیّة“ بنیادی طور پر ”حیات“ کے مادہ سے ہے، یہ لفظ سلامتی کے لئے اور دوسری زندگی کے لئے دعا کرنے کا مفہوم رکھتا ہے چاہے یہ دعا ”سلام علیکم“ یا ”السلام علینا“ کی شکل میں ہو چاہے ”حیات الله“ کی صورت میں لیکن عام طور پر ہر قسم کے اظہار محبّت کو ”تحیّت“ کہتے ہیں کہ جو ابتدائے ملاقات میں لوگ ایک دوسرے سے کرتے ہیں ۔ ”تَحِیَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَکَةً طَیِّبَةً“ سے مراد یہ ہے کہ ”تحیّة“ کا ایک طرح سے الله سے رابطہ ہونا چاہیے یعنی ”سلام علیکم“ سے مراد یہ کہ ”الله کا تم پر سلام ہو“ ”الله تمھیں سلامت رکھّے“ کیونکہ موحّد اور خدا پرست جب بھی کوئی دعا مانگتا ہے تو آخر کار وہ الله ہی سے ہوتی ہے اور اسی سے درخواست ہوتی ہے، فطری بات ہے کہ جو دعا ایسی ہو وہ مبارک بھی ہے اور پاک وطیّب بھی (سلام اوراس کی اہمیت اور ہر قسم کے سلام وتحیّت کے جواب کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد چہارم میں سورہٴ نساء کی آیت۸۶ میں بحث کرچکے ہیں) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:61
۴۔ ”اٴَوْ مَا مَلَکْتُمْ“ کی تفسیر
متعدد شانہائے نزول میں آیا ہے کہ صدر اسلام میں جب مسلمان جہاد پر جاتے تھے تو کبھی کبھار اپنے گھر کی چابی ایسے افراد کو سونپ جاتے ہیں جومعذور ہونے کے باعث جہاد پر نہیں جاسکتے تھے، یہاں تک کہ انھیں یہ اجازت دے جاتے تھے کہ گھر میں موجود غذا بھی کھا سکتے ہیں اور لیکن وہ کبھی اس خوف کہ کہیں گناہ نہ ہو کھانے سے اجتناب کرتے تھے ۔ ان روایات کے مطابق ”اٴَوْ مَا مَلَکْتُمْ“(وہ گھر کہ جن کی چابیوں کے تم مالک ہو) سے یہی مراد ہے (1) ۔ ابن عبّاس سے بھی منقول ہے کہ اس سے مراد انسان کا وکیل اور نمائندہ ہے اور یہ وکالت پانی، جائداد، زراعت اور پالتو جانوروں میں ہوتی ہے، اس نمائندے کو اجازت دی گئی ہے کہ باغ کے پھلوں میں سے ضرورت کے مطابق کھالے اور جانوروں کا دودھ پی لے ۔ بعض نے اس سے گودام کا نگران مراد لیا ہے کہ جو حق رکھتا ہے کہ وہ غذا میں سے کھالے ۔ لیکن جن لوگوں کے نام اس آیت میں لئے گئے ہیں انھیں نظر میں رکھیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ افراد ہیں کہ جنھیں ان کے قریبی عزیز اعتماد اور تعلق کی بناء پر اپنے گھر کی چابی سپرد کردیتے ہیں، یہ قریبی ربط وتعلق اس بات کا سبب بنا کہ رشتہ داروں اور دوستوں کی فہرست میں انھیں بھی شمار کیا جائے ۔ بعض روایات کے مطابق اس سے مراد وہ وکیل ہے کہ جسے اوال کی سرپرستی سونپی جاتی ہے، یہ تفسیر در حقیقت اس جملے کا ایک مصداق ہے ۔ 1۔ تفسیر قرطبی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں (وسائل الشیعہ، ج۱۶، ص۴۳۶، باب۲۴، از ابواب مائدہ میں بھی اس مضمون کی حدیث موجود ہے) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:61
۳۔ ”صدیق“ سے کون مراد ہے؟
اس میں شک نہیں کہ دوستی کا ایک وسیع مفہوم ہے، یہاں ”صدق“ سے مراد خاص اور قریبی دوست ہیں، جن کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہے، جن کے درمیان قریبی تعلقات اور روابط کا تقاضا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ہاں آئیں جائیں اور ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھائیں، یہاں تک کہ اس میں اجازت شرط نہیں ہے صرف اتنا کافی ہے کہ یقین ہو کہ ان کی عدم رضامندی نہیں ہے ۔ اسی لئے اس جملے کے ذیل میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد ایسا دوست ہے کہ جو اپنی دوستی میں مخلص اور سچّا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ایسا دوست ہے کہ جو آپ سے ظاہر وباطن میں ایک جیسا ہو ۔ ظاہراً ان سب تفسیروں کا ایک ہی مفہوم نکلتا ہے ۔ مناسب ہے کہ اس مقام پر دوستی کے مفہوم اور ا س کی مکمل شرائط امام صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں پڑھیں، آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لاتکون الصداقة الّا بحدودھا، فمن کانت فیہ ھذہ الحدود اٴو شیء منھا فانسبہ الی الصداقة ومن لم یکن فیہ شیء منھا فلاتلبسہ الیٰ شیء من الصداقة، فاوّلھا ان تکون سریرتہ وعلانیتہ لک واحدة، والثانی اٴن یریٰ زینک زینہ وشینک شینہ، والثالثة اٴن لاتغیرہ علیک ولایة ولامال، والرابعة اٴن لایمنک شیئاً تنالہ مقدرتہ، والخامسة وھی تجمع ھٰذہ الخصال اٴن لایسلمک عند النکبات“. ”دوستی کے کچھ شرائط اور حدود ہیں جن کے بغیر دوستی کا مفہوم نہیں، جس شخص میں یہ شرائط یا ان کا کچھ حصّہ ہو اسے دوست سمجھو جس میں ان شرائط اور خصوصیات میں سے کوئی بھی شرائط نہ اس میں دوستی والی کوئی کوئی بات نہیں ہے پہلی شرط یہ ہے کہ اس کا ظاہر وباطن ایک جیسا ہو ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ تیرے وقار اور آبرو کا اپنا وقار اور آبرو سمجھے، اور تیری برائی اور نقصان کو اپنی برائی اور نقصان سمجھے ۔ تیسری شرط یہ ہے کہ مقام ومنصب اور مال و دولت کی وجہ سے وہ تجھ سے برتاوٴ میں تبدیلی نہ کرے ۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ جو کچھ اس کے اختیار میں ہے اس میں تیرے لئے دریغ نہ کرے ۔ پانچویں شرط یہ ہے کہ جس میں یہ تمام شرطیں ہیں یہ ہے کہ جب زمانہ تجھ سے منھ موڑ لے وہ تجھے تنہا نہ چھوڑے(1)۔ 1۔ اصول کافی، ج۲، ص۴۶۷.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:61
۱۔ کیا کسی کے ہاں سے کھانا کھانے کے لئے اجازت شرط نہیں؟
زیرِ بحث آیت میں ہم نے دیکھا کہ الله تعالیٰ نے انسان کو اجازت دی ہے کہ وہ نزدیکی رشتے داروں اور بعض دوستوں کے ہاں سے کھاپی لے، ایسے گیارہ قسم کے گھر گنوائے گئے ہیں، آیت میں ان سے اجازت حاصل کرنے کی شرط بھی عائد نہیں کی، ویسے بھی یہ بات مسلّم ہے کہ یہ اجازت کے ساتھ مشروط نہیں ہے کیونکہ اجازت سے تو پھر کسی کے ہاں سے بھی کھایا جاسکتا ہے اس میں پھر ان گیارہ گھروں کی کیا خصوصیت رہ جائے گی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا باطنی رضا مندی بھی ضروری نہیں کیونکہ ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ خانہ دل سے راضی ہے یا نہیں کیونکہ آدمی کو اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کا اندازہ ہو ہی جاتا ہے ۔ آیت اپنے ظاہر کے اعتبار سے جس طرح سے مطلق ہے اس سے تو اس شرط کی بھی نفی ہوتی ہے، یہی احتمال کافی ہے کہ صاحبِ خانہ راضی ہے ۔ لیکن اگر طرفین کے باہمی تعلقات یا کیفیت اس طرح کی ہے کہ راضی نہ ہونے کا یقین ہو تو پھر بعید نہیں کہ ایسے موقع پر حکم میں گنجائش ہو خصوصاً جبکہ ایسے مواقع شاذر ونادر ہوتے ہیں اور عموماً مطلق حکم میں ایسے شاذ ونادر امور کا استثناء ہوتا ہے ۔ لہٰذا یہ آیت ایک خاص حد تک ان آیات وروایات کی تخصیص کرتی ہے کہ جن میں دوسروں کی مال میں تصرف کرنے کو ان کی رضا مندی سے مشروط قرار دیا گیا ہے، لیکن ہم پھر یہ کہیں کہ اس اجازت بھی ایک معیّن حد ہے یعنی ضرورت کے مطابق کھانا کھانا اور اسے ضائع نہ کرنا اور اسراف سے پرہیز کرنا۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے وہ ہمارے فقہاء کے درمیان مشہور ہے اس کا کچھ حصّہ صراحت کے ساتھ روایات میں بھی آیا ہے، ایک معتبر روایت کے مطابق امام صادق علیہ السلام ”اوصدیقکم“ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”ھو والله الرجل یدخل بیت صدیقہ فیاٴکل بغیر اذنہ“. ”والله مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے دوست کے گھر داخل ہو اور بغیر اجازت کے کھانا کھالے“(1)۔ اس سلسلے میں اور بھی متعدد روایات ہیں کہ جن میں فرمایا گیا ہے کہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ فقہاء کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر صراحت سے منع کردیا جائے کہ یا ناپسندیدگی اور عدم رضامندی کا علم اور یقین ہو تو پھر جائز نہیں ہے اور ایسے مواقع پر حکم آیت لاگو نہیں ہوتا۔ کھانا کھاتے ہوئے ضائع، خراب اور اسراف نہ کرنے کے بارے میں روایات میں تصریح موجود ہے(2)۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ خاص قسم کی غذا کھانے اجازت ہے نہ کہ ہر غذا کو کھایا پیا جاسکتا ہے لیکن فقہاء نے اس روایت سے اعراض کیا ہے اس لئے اس سے استناد معتبر نہیں ہے ۔ بعض فقہاء نے ان اچھے اور بڑھیا کھانوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے کہ جو صاحبِ خانہ نے کسی خاص مہمان کے لئے یا خاص موقع کے لئے رکھے ہوں اور آیت کے حکم میں یہ استثنیٰ بعید نہیں ہے(3)۔ 1۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۴۳۴، کتاب اطعمہ واشربہ، ابواب آداب المائدہ، باب۲۴، حدیث۱. 2۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۴۳۴، کتاب اطعمہ واشربہ، ابواب آداب المائدہ، باب۲۴، حدیث۴. 3.مزید وضاحت کے لئے جوار الکلام، ج۳۶، ص۴۰۶ (کتاب اطعمہ واشربہ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔