وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
As for those who accuse their wives [of adultery], but have no witnesses except themselves, the testimony of such a man shall be a fourfold testimony [sworn] by Allah that he is indeed stating the truth,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:6
[Pooya/Ali Commentary 24:6] The case of married persons is different from that of outsiders. If a man truly accuses his wife of unchastity, after having caught her in adultery, more often it is not possible to produce four witnesses, sometimes not even one, therefore he should bear witness four times, calling Allah four times as his witness, and solemnly swear to the fact, and in addition invoke the curse of Allah upon himself if he is telling a lie. It is a prima facie evidence of the wife's guilt. She should be punished. But if she swears similarly four times and similarly invokes Allah's curse on herself, she is acquitted of the guilt. In either case the marriage is dissolved, as it is against human nature that the two can live together happily after such an incident. Refer to fiqh. Refer to Nisa: 15.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:6-10
۲۔ ”لعان“ ایک مخصوص عمل
آیات کی تفسیر میں جو وضاحت ہوچکی ہے اس سے ہم یہاں تک پہنچے ہیں جو مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ چار دفعہ الله کو شاہد قرار دے کر کہے کہ اگر وہ جھوتا ہو تو اس پر الله کی لعنت ہو ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان احکام وقوانین کے اجراء کا تعلق عموماً ایک اسلامی ماحول اور مذہبی فضا ہے اور جب کوئی یہ دیکھے گا کہ اسے حاکمِ اسلامی کے سامنے اس طرح سے قطعی طور پر الله کی گواہی کے لئے بلانا ہے اور اپنے اوپر لعنت بھیجنا ہے تو اکثر اوقات وہ غلط اقدام سے بچے گا اور یہی چیز جھوٹے الزامات کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے ۔ یہ بات تو مرد کے بارے میں تھی باقی رہا یہ کہ عورت اپنی صفائی کے لئے چار مرتبہ الله کو گواہ قرار دیتی ہے تو یہ مرد اور عورت میں برابری برقرار رکھنے کے لئے ہے، نیز عورت پر چونکہ الزام عائد کیا گیا ہے اس لئے وہ پانچویں مرحلے میں مرد کی عبارت سے زیادہ شدید الفاظ میں اپنا دفاع کرے گی اور جھوٹی ہونے کی صورت میں وہ اپنے لئے غضبِ خدا خریدے گی۔ اور ہم جانتے ہیں کہ لعنت سے مراد رحمتِ خدا سے دوری ہے لیکن غضب لعنت سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ غضب اور سزا وعذاب لازم وملزوم ہیں کہ جو رحمت سے دوری سے بہت زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ سورہٴ فاتحہ کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ ”مغضوب علیھم“ ”ضالین“ سے بدتر ہیں جبکہ مسلّم ہے کہ ”ضالین“ رحمتِ خدا سے دور ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:6-10
بیوی پرتہمت لگانے کی سزا
جیسا کہ شان نزول سے ظاہرہے زیرِ نظر آیات حد قذف پر تبصرے کے طور پر استثنائی حکم بیان کررہی ہیں کہ اگر شوہر اپنی بیوی پر منافیِٴ عفت عمل کا الزام عائد کرے اور کہے کہ میں نے اسے غیر مرد کے ساتھ بدکاری کی حالت میں دیکھا ہے تو اس پر اسّی کوڑے کی حدّقذف جاری نہیں ہوگی لیکن اس کا دعویٰ بغیر دلیل وشاہد کے قبول بھی نہیں کیا جائے گاکیوں اس میں سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہے ۔ پہلے قرآن نے اس مسئلے کا حل ایسا پیش کیا ہے کہ جو بہترین بھی اور عادلانہ بھی اور وہ یہ کہ شوہر اپنے دعوے میں سچاہونے کے لئے چار مرتبہ گواہی دے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور اپنے علاوہ ان کے پاس گواہ نہیں تو دعویٰ کرنے والوں میں سے ہر شخص چار مرتبہ الله کے نام کی شہادت دے کہ وہ سچوں میں سے ہے (وَالَّذِینَ یَرْمُونَ اٴَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَھُمْ شُھَدَاءُ إِلاَّ اٴَنفُسُھُمْ فَشَھَادَةُ اٴَحَدِھِمْ اٴَرْبَعُ شَھَادَاتٍ بِاللهِ إِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ) ۔ اور پانچویں دفعہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر الله کی لعنت ہو (وَالْخَامِسَةُ اٴَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَیْہِ إِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِینَ) ۔ یعنی شوہر اپنے دعویٰ کے اثبات کے لئے اور حدّقذف سے بچنے کے لئے چار مرتبہ یہ جملہ کہے: ”اٴشھد بالله انّی لمن الصادقین فیما رمیتھا بہ من الزنا“. میں خدا کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں نے اس عورت پر الزام لگایا ہے اس میں میں سچا ہوں ۔ ”لعنة الله علیّ ان کنتُ من الکاذبین“. اگر میں جھوتا ہوں تو مجھ پر الله کی لعنت۔ ہاں عورت کے لئے دو راستے ہیں: ایک یہ کہ وہ مرد کے الزام کی نفی نہ کرے اور اس کی بات کی تصدیق کردے تو جیسا کہ بعد کی آیت میں آئے گا اس کے لئے حدّزنا ثابت ہوجائے گی۔ دوسرا راستہ زنا کی سزا سے بچنے کا ہے اور وہ یہ کہ چار مرتبہ الله کو گواہ قرار دے کہ اس مرد نے غلط الزام لگایا ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے (وَیَدْرَاٴُ عَنْھَا الْعَذَابَ اٴَنْ تَشْھَدَ اٴَرْبَعَ شَھَادَاتٍ بِاللهِ إِنَّہُ لَمِنَ الْکَاذِبِینَ) ۔ اور پانچویں مرتبہ کہے: اس پر خدا کا غضب ہو اگر مرد اس الزام میں سچّا ہے (وَالْخَامِسَةَ اٴَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَیْھَا إِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِینَ) ۔ یعنی مرد نے جو پانچ مرتبہ اس عورت کے خلاف گواہی دی ہے وہ عورت بھی پانچ مرتبہ اس کی نفی کرے، پہلے چار مرتبہ یوں کہے: ”اٴشھد بالله انّہ لمن الکاذبین فیما رمانی بہ من الزنا“. میں خدا کو گواہ بناتی ہوں کہ اس نے میری طرف جو نسبت دی ہے اس میں وہ جھوتا ہے ۔ اور پانچویں دفعہ یہ کہے: ”ان غضب الله علیّ ان کان من الصادقین“. اگر وہ سچ کہتا ہے تو مجھ پر خدا کا غضب ہو ۔ مندرجہ بالا آیت میں جو لفظ ”لعن“ آیا ہے اس کی مناسبت سے اس سارے عمل کو ”لعان“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس عمل سے چار نتیجے مرتب ہوں گے: ۱۔ صیغہٴ طلاق کی ضرورت کے بغیر ہی فوراً میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے ۔ ۲۔ یہ عورت اور مرد ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے پر حرام ہوجائیں گے، یعنی نئے سرے سے ان کی شادی کا امکان ختم ہوجائے گا۔ ۳۔ قذف کی حد مرد سے اور زنا کی حد عورت سے اٹھ جائے گی (لیکن اگر ان میں سے مرد یہ کام نہ کرے تو اس پر قذف کی حد جاری ہوگی اور عورت یہ کلمات نہ کہے تو اس پر زنا کی حد جاری ہوگی) ۔ ۴۔ اس واقع کے نتیجے میں جو بچہ پیدا ہوگا وہ اس مرد کا نہیں سمجھا جائے گا یعنی اس سے منسوب نہیں ہوگا البتہ عورت سے منسوب رہے گا۔ البتہ ان احکام کی تفصیلات زیرِ بحث آیات میں نہیں آئیں ، فقط آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے: اگر الله کا فضل اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہوتی اور وہ توبہ قبول کرنے والا اور حکیم نہ ہوتا تو بہت سے لوگ تباہ ہوجاتے یا سخت سزاوٴں میں مبتلا ہوجاتے (وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ وَاٴَنَّ اللهَ تَوَّابٌ حَکِیمٌ) ۔ یہ آیت در حقیقت مندرجہ احکام پر تاکید کے طور پر اجمالی اشارہ ہے کیونکہ یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ”لعان“ کا عمل ایک فضل وکرم ہے اور وہ اس سلسلے میں میاں بیوی کے ایک مشکل معاملے کو صحیح طریقے سے حل کردیتا ہے ۔ ایک طرف تو وہ شوہر کو مجبور نہیں کرتا کہ اگر اس نے اپنی بیوی کو بدکاری کے عالم میں دیکھا ہے تو وہ خاموش رہے اور فریادرسی کے لئے حاکم شرع کے پاس نہ آئے اور دوسری طرف عورت کو صرف الزام پر زنائے محصنہ کی حد جاری نہیں کردیتا بلکہ اسے صفائی کا حق دیتا ہے جبکہ تیسری طرف شوہر کے ضروری قرار نہیں دیتا کہ اگر اس نے کوئی ایسا کام دیکھا ہے تو لازماً چار گواہ ڈھونڈے اور اس المناک راز کو عریاں کرے اور چوتھی طرف اس عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے الگ کردیتا ہے کیونکہ اب وہ مل جل کر زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہے یہاں تک کہ انھیں آئندہ بھی ایک دوسرے سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اگر الزام سچا ہو تو وہ نفسیاتی طور پر اس ازدواجی زندگی کو جاری نہیں رکھ سکتے اور اگر جھوٹا الزام ہو تو عورت کے جذبات اس طرح سے مجروح ہوچکے ہوںگے کہ اب اس کے لئے مشکل ہوگا کہ وہ یہ زندگی جاری رکھ سکے کیونکہ اس عمل سے نہ صرف سرد مہری پیدا ہوجائے گی بلکہ عداوت شروع ہوجائے گی اور پانچویں رُخ سے اس معاملے میں بچے کے بارے میں ذمہ داری واضح کردی گئی ہے ۔ یہ ہے بندوں پر الله کا فضل ورحمت اور اس کا توّاب وحکیم ہونا، وہ الله کہ جس نے اس مسئلے کے نہایت باریک اور عادلانہ حل کی راہ کھول دی ہے اور اگر ہم صحیح طرح سے غور کریں تو چار گواہوں کے لزوم کا اصل حکم بھی کاملاً ختم نہیں ہوا بلکہ مرد اور عورت جو چار چار مرتبہ شہادت دیتے ہیں ان میں سے ہر شہادت ایک گواہ کا قائم مقام ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:6-10
شان نزول
ان آیات کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ: )انصارکے سردار) سعد بن عبادہ رسول الله کی خدمت میں موجود تھے، کچھ اور اصحاب بھی بیٹھے تھے کہ انھوں نے عرض کیا: یا رسول الله! اس منافیِٴ عفت عمل کی نسبت کسی کی طرف دینے کی سزا عدم ثبوت پر اسّی کوڑے ہے تو اگر میں اپنے گھر میں داخل ہوں، اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ ایک فاسق شخص میری بیوی کے ساتھ مشغولِ بدکاری ہے تو اگر میں اسے اسی عالم میں چھوڑکر چار گواہ ڈھونڈے چلا جاوٴں تو واپسی تک وہ انپا کام کرچکا ہوگا اور اگر قتل کردوں تو گواہ کے بغیر کوئی میری بات قبول نہیں کرے گا اور مجھ سے قاتل کے طور پر قصاص لیا جائے گا جبکہ جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ بیان کروں تو میری پشت پر اسّی کوڑے لگیں گے ۔ رسول اکرم نے اس گفتگو سے حکمِ الٰہی پر ایک طرح کا اعتراض محسوس کیا، آپ نے انصار کی طرف رخ کرکے شکوے کے اندازمیں میں فرمایا: کیا تم نے سنا کہ تمھارے سردار نے کیا کہا ہے ۔ وہ معذرت خواہانہ انداز میں کہنے لگے: یا رسول الله! میرے ماں باپ آپ پر قربان، خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ یہ حکم الٰہی ہے اور حق ہے لیکن اس کے باوجود مجھے اس کی بنیاد پر تعجب ہوتا ہے (اور میں اپنے ذہن میں اس سوال کا حل نہیں کرسکا) ۔ رسول الله نے فرمایا: حکم خدا یہی ہے ۔ انھوں نے بھی عرض کی:”صدق الله ورسولہ؛ الله اور اس کے رسول نے سچ کہا“۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ سعد کا چچا زاد بھائی ہلال بن امیہ دروازے سے داخل ہوا، اُس نے رات کے وقت ایک فاسق شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا تھا ، وہ شکایت کے لئے رسول الله کی خدمت میں آیا تھا۔ اس نے صراحت سے کہا: میں نے اپنی آنکھ سے یہ کچھ دیکھا ہے اور اپنے کان سے ان کی آواز سنی ہے ۔ رسول الله اتنے ناراحت ہوئے کہ خشکی کے آثار چہرہٴ مبارک پر نمایاں ہوگئے ۔ ہلال نے عرض کی: میں آپ کے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھ رہا ہوں لیکن قسم بخدا میں سچ کہہ رہا ہوں اور میں نے کچھ بھی جھوٹ نہیں کہا، مجھے امید ہے کہ الله اس مشکل کو خود حل فرمادے گا۔ بہرحال رسول الله نے ارادہ کیا کہ ہلال پر حدّقذف جاری کریں کیونکہ اس کے پاس اپنے دعویٰ پر گواہ موجود نہ تھے ۔ اس موقع پر انصار ایک دوسرے سے کہتے تھے دیکھا! وہی سعد بن عبادہ والی بات پوری ہوگئی تو کیا سچ مچ رسول الله پر وحی نازل ہوئی اور اس کے آثار آنحضرت کے چہرے پر ظاہر ہوئے، سب خاموش تھے کہ دیکھیں کہ الله کی طرف سے کیا نیا پیغام آیا ہے ۔ اس وقت مذکورہ بالا آیت نازل ہوئیں(1) ۔ 1. ان آیات میں الله تعالیٰ نے اس مسئلے کے حل کے لئے مسلمانوں کو ایک دقیق راہ بتائی کہ جس کی تفصیل آپ ذیل میں پڑھیں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:6-10
سوره نور / آیه 6 - 10
۶ وَالَّذِینَ یَرْمُونَ اٴَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَھُمْ شُھَدَاءُ إِلاَّ اٴَنفُسُھُمْ فَشَھَادَةُ اٴَحَدِھِمْ اٴَرْبَعُ شَھَادَاتٍ بِاللهِ إِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ ۷ وَالْخَامِسَةُ اٴَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَیْہِ إِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِینَ ۸ وَیَدْرَاٴُ عَنْھَا الْعَذَابَ اٴَنْ تَشْھَدَ اٴَرْبَعَ شَھَادَاتٍ بِاللهِ إِنَّہُ لَمِنَ الْکَاذِبِینَ ۹ وَالْخَامِسَةَ اٴَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَیْھَا إِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِینَ ۱۰ وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ وَاٴَنَّ اللهَ تَوَّابٌ حَکِیمٌ ترجمہ ۶۔ جو لوگ اپنی بیویوں پر (منافیِٴ عفت عمل کا) الزام لگاتے ہیں اور اپنے علاوہ ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تو ان میں سے ہر ایک الله کے نام کی چار شہادتیں دے کہ وہ سچوں میں سے ہے ۔ ۷۔ اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر خدا کی لعنت ہو اگر جھوٹوں میں سے ہو ۔ ۸۔ وہ عورت بھی اپنے تئیں (زنا کی) سزا سے بچا سکتی ہے اگر چار مرتبہ الله کو شاہد قرار دے کہ (عورت پر اس الزام میں) وہ مرد جھوٹا ہے ۔ ۹۔ اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر خدا کا غضب ہو اگر وہ مرد سچوں میں سے ہے ۔ ۱۰۔ اور اگر خدا کا فضل اور رحمت تمھارے شامل حال نہ ہوتی اور یہ کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور حکیم ہے (تو تم میں سے بہت سے عذابِ الٰہی میں گرفتار ہوجاتے) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:6-10
۳۔ آیت میں جملہٴ شرطیہ کی جزائے محذوف
آیات کی تفسیر میں جو وضاحت ہوچکی ہے اس سے ہم یہاں تک پہنچے ہیں جو مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ چار دفعہ الله کو شاہد قرار دے کر کہے کہ اگر وہ جھوتا ہو تو اس پر الله کی لعنت ہو ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان احکام وقوانین کے اجراء کا تعلق عموماً ایک اسلامی ماحول اور مذہبی فضا ہے اور جب کوئی یہ دیکھے گا کہ اسے حاکمِ اسلامی کے سامنے اس طرح سے قطعی طور پر الله کی گواہی کے لئے بلانا ہے اور اپنے اوپر لعنت بھیجنا ہے تو اکثر اوقات وہ غلط اقدام سے بچے گا اور یہی چیز جھوٹے الزامات کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے ۔ یہ بات تو مرد کے بارے میں تھی باقی رہا یہ کہ عورت اپنی صفائی کے لئے چار مرتبہ الله کو گواہ قرار دیتی ہے تو یہ مرد اور عورت میں برابری برقرار رکھنے کے لئے ہے، نیز عورت پر چونکہ الزام عائد کیا گیا ہے اس لئے وہ پانچویں مرحلے میں مرد کی عبارت سے زیادہ شدید الفاظ میں اپنا دفاع کرے گی اور جھوٹی ہونے کی صورت میں وہ اپنے لئے غضبِ خدا خریدے گی۔ اور ہم جانتے ہیں کہ لعنت سے مراد رحمتِ خدا سے دوری ہے لیکن غضب لعنت سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ غضب اور سزا وعذاب لازم وملزوم ہیں کہ جو رحمت سے دوری سے بہت زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ سورہٴ فاتحہ کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ ”مغضوب علیھم“ ”ضالین“ سے بدتر ہیں جبکہ مسلّم ہے کہ ”ضالین“ رحمتِ خدا سے دور ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:6-10
۱۔ حکم قذف صرف بیوی اور شوہر کے لئے مخصوص ہے؟
اس سلسلے میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیوی اورشوہر کو کیا خصوصیت حاصل ہے کہ الزام کے موقع پر ان کے لئے یہ استثنائی حکم صادر ہوا ہے ۔ اس سوال کا ایک جواب تو آیت کی شانِ نزول سے حاصل کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر مرد اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھے تو اس کے لئے ممکن نہیں کہ خاموش رہے، اس کی غیرت کیونکر اجازت دے سکتی ہے کہ اپنے حریمِ ناموس میں ایسے تجاوز پر کسی ردّعمل کا اظہار نہ کرے، جبکہ وہ قاضی کے پاس جاکر داد وفریاد کرے گا تو فوراً اس پر حدّقذف جاری ہوجائے گی کیونکہ قاضی کو کیا معلوم کہ وہ سچ کہتا ہے یا جھوٹ، نیز اگر وہ چار گواہ تلاش کرنا چاہے تو یہ بھی ہتک عزّت ہے علاوہ ازیں ہوسکتا ہے کہ گواہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ معاملہ ختم ہوجائے ۔ اس مسئلے کا ایک رخ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ غیر لوگ تو بہت جلد ایک دوسرے پر الزام دھر دیتے ہیں لیکن میاں بیوی بہت کم ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے ہیں، اسی بناء پر غیر لوگ ہوں تو چار گواہ ضروری ہیں ورنہ حدّقذف جاری ہوگی لیکن میاں بیوی کے بارے میں ایسا نہیں ہے، لہٰذا حکمِ مذکور انھیں کے لئے مخصوص ہے ۔