يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِيَسۡتَـٔۡذِنكُمُ ٱلَّذِينَ مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَبۡلُغُواْ ٱلۡحُلُمَ مِنكُمۡ ثَلَٰثَ مَرَّـٰتٖۚ مِّن قَبۡلِ صَلَوٰةِ ٱلۡفَجۡرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ ٱلظَّهِيرَةِ وَمِنۢ بَعۡدِ صَلَوٰةِ ٱلۡعِشَآءِۚ ثَلَٰثُ عَوۡرَٰتٖ لَّكُمۡۚ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ وَلَا عَلَيۡهِمۡ جُنَاحُۢ بَعۡدَهُنَّۚ طَوَّـٰفُونَ عَلَيۡكُم بَعۡضُكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
O you who have faith! Your slaves and any of you who have not yet reached puberty should seek your permission three times: before the dawn prayer, and when you put off your garments at noon, and after the night prayer. These are three times of privacy for you. Apart from these, it is not sinful of you or them to frequent one another [freely]. Thus does Allah clarify the signs for you, and Allah is all-knowing, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:58
[Pooya/Ali Commentary 24:58] Aqa Mahdi Puya says: The three occasions refer to the usual hours during which people want to avail the blessings of privacy. Even for a domestic servant or a child it is not proper to come into anyone's room without notice. Such are the Islamic rules of decorum.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 24:58-61
1. This is a fine instance of how practical training on morality is imparted to youngsters and discipline to servants who had not an early training. 2. This is another instance in which self-denial is acquired and pride set aside.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:58-60
۱۔ اجازت لینے کا فلسفہ
برائی اور بدکاری کی روک تھام کے لئے صرف مجرموں کو کوڑے لگانا کافی نہیں ہے کسی بھی معاشرتی مسئلے میں اس قسم کا طریقہٴ کار مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرسکتا بلکہ ضروری ہے کہ فکری تربیت کا اہتمام ہو، اچھی ثقافت کی تعلیم، اخلاقی آداب سکھائے جائیں، صحیح اسلامی تعلیمات عام کی جائیں اورایک پاک صاف صحت مند معاشرہ اور ماحول پیدا کیا جائے، اس کے بعد سزا، حدود اور تعزیرات کو ان عوامل کے ساتھ ایک عامل کی حیثیت سے انتخاب کیا جائے ۔ سورہٴ نور میں اسی لئے یہی روش اختیار کی گئی ہے، پہلے تو اس میں زانی عورتوں اور مردوں کی سزا کا ذکر ہے اور پھر اس کے بعد صحیح طریقے سے شادی کے وسائل فراہم کرنے کا حکم ہے، پردے کا بیان ہے، نظر بازی سے منع کیا گیا ہے، تہمت کی ممانعت کی گئی ہے اور آخر میں ماں باپ کی خلوت میں جاتے وقت اولاد کے لئے اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا ہے، اس اعتبار سے مجموعی طور پر یہ عفت وپاکدامنی کی صورت میں ہے ۔ اس قدر تفصیلات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام نے اس مسئلے سے مربوط چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی غفلت نہیں برتی۔ خدمت گاروں کی ذمہ داری ہے کہ جس کمرے میں بیوی اور شوہر موجود ہیں اس میں داخل ہوتے وقت اجازت لیں ۔ بالغ بچوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ بلا اجازت اند رنہ جائیں یہاں تک کہ نابالغ بچے بھی ہمیشہ ماں باپ کے پاس ہوتے ہیں کم از کم تین اوقات میں ان سے اجازت لئے بغیر ان کے کمرے میں نہ جائیں (نماز صبح سے پہلے، نماز عشاء کے بعد اور دوپہرکے وقت کہ جب ماں باپ آرام کررہے ہوں) ۔ یہ اسلامی آداب ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ان کا بہت کم لحاظ رکھا جاتا ہے حالانکہ قرآن نے اس سلسلے میں بڑی صراحت سے کام لیا ہے ۔ تحریروں، تقریروں اور بیان کے احکام کے وقت بھی بہت کم دیکھا گیا ہے کہ اس اسلامی حکم اور اس کے ظاہری فلسفہ کے بارے میں بات ہوتی ہو، معلوم نہیں کہ اس قطعی حکم سے کس وجہ سے غفلت برتی جارہی ہے، اگرچہ آیت ظاہری اعتبار سے اس حکم کا واجب ہونا ظاہر کررہی ہے لیکن بالفرض اسے مستحب بھی سمجھا جائے تب بھی اس کے بارے میں گفتگو ہونا چاہیے اور اس کی تفصیلات پر بات ہونا چاہیے ۔ اس کے برخلاف یہ ہے کہ بعض سادہ لوح افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ چھوٹے بچے ایسے مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے اور خادم وغیرہ بھی ان امور میں نہیں پڑتے لیکن بہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ چھوٹے بچے (چہ جائیکہ بڑے) اس مسئلے میں بہت حساس ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات ماں باپ غفلت برتتے ہیں اور سہل انگاری سے کام لیتے ہیں اور بچوں کے سامنے ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ جو نہیں کرنا چاہئیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے بعض اوقات اخلاقی بے راہ روی کا یا نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ہم خود ایسے افراد سے ملے ہیں کہ جنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس امر سے ماں باپ کی بے توجہی کی وجہ سے اور ماں باپ سے نفرت پیدا ہوئی کہ وہ انھیں قتل کرنے تک پر تل گئے اور بعض اوقات خود بھی خود کشی تک جاپہنچے ۔ ایسے ہی مقامات پر اس حکم اسلامی کی قدر وقیمت واضح ہوتی ہے، وہ مسائل کہ جن تک آج ماہرین اور دانشور پہنچے ہیں اسلام چودہ سو سال پہلے اپنے احکام میں ان کے بارے میں اپنا موقف واضح کرچکا ہے ۔ اس مقام پر ہم یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ماں باپ کو نصیحت کریں کہ ان آداب ورسوم کو سنجیدگی سے اپنائیں اور اپنی اولاد کو اپنے کمرے میں آنے کے لئے اجازت لینے کا عادی بنائیں ۔ ہاں یہ خیال رہے کہ دوسرے امور کے علاوہ عورت اور مرد کا اس کمرے میں سونا بھی بچوں میں تحریک کا سبب بنتا ہے جس میں ممیز بچے سوئے ہوئے ہوں ۔ ا س سلسلے میں جتنا ممکن ہو پرہیز کرنا چاہیے اور یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ تربیتی امورمیں ان احکام وآداب کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ یہ بات لائق توجہ ہے ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: ”ایّاکم وان یجامع الرجل امرئتہ والصبی فی المھد ینظر الیھا“. ”جب بچہ گہوارہ میں پڑا دیکھ رہا ہو تو اس وقت مباشرت نہ کرو“(1)۔ 1۔ بحارالانوار، ج۱۰۳، ص۲۹۵.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:58-60
سوره نور / آیه 58 - 60
۵۸ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لِیَسْتَاٴْذِنْکُمْ الَّذِینَ مَلَکَتْ اٴَیْمَانُکُمْ وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِینَ تَضَعُونَ ثِیَابَکُمْ مِنَ الظَّھِیرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَاعَلَیْھِمْ جُنَاحٌ بَعْدَھُنَّ طَوَّافُونَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلیٰ بَعْضٍ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ الْآیَاتِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ۵۹ وَإِذَا بَلَغَ الْاٴَطْفَالُ مِنْکُمْ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاٴْذِنُوا کَمَا اسْتَاٴْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ آیَاتِہِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ۶۰ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللاَّتِی لَایَرْجُونَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اٴَنْ یَضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَةٍ وَاٴَنْ یَسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَھُنَّ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ترجمہ ۵۸۔اے ایمان والو! جو تمھارے مملوک ہیں اور تمھارے وہ بچے جو ابھی سنِ بلوغ تک نہیں پہنچے انھیں تین وقت تمھارے پاس اجازت لے کر آنا چاہیے، نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم اپنا (معمول کا) لباس اتار دیتے ہو اور نماز عشاء کے بعد، یہ تین تمھارے خصوصی اوقات ہیں لیکن ان تین اوقات کے علاوہ تمھارے لئے اور ان کے لئے ہر مرج نہیں کہ (بااجازت آجائیں) ایک اور دوسرے کے گرد جمع ہوں (اور خلوص ومحبت سے ایک دوسرے کی خدمت کریں) الله اپنی آیات اسی طرح تمھارے لئے بیان کرتا ہے اور خدا علیم وحکیم ہے ۔ ۵۹۔ اور جب تمھارے بچے بالغ ہوجائیں تو انھیں اجازت لینا چاہیے، جیسے ان سے بڑے اجازت لیتے رہتے ہیں اور الله اپنی آیات اسی طرح تمھارے لئے بیان کرتا ہے اور خدا علیم حکیم ہے ۔ ۶۰۔ اور جو عورتیں جوانی گزار بیٹھی ہوں اور اب نکاح کی امیدوار نہ ہوں اگر وہ اپنی چادر اتار رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ لوگوں کے سامنے خود آرائی نہ کریں لیکن اگر وہ پردہ ہی کریں تو ان کے لئے بہتر ہے او سننے والا اور جاننے والا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:58-60
۲۔ سن رسیدہ عورتوں کے لئے پردے کا حکم
علمائے اسلام کے درمیان اس بات میں اختلاف نہیں ہے کہ عمر رسیدہ عورتیں پردے کے حکم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ قرآن نے اس سلسلے میں واضح حکم دیا ہے، البتہ اس استثناء کی تفصیلات میں اختلاف موجود ہے مثلاً: ان عورتوں کی عمر کیا ہے اور یہ کہ کس حد تک پہنچ جائیں تو ”قواعد“ کا لفظ ان پر صادق آتا ہے، اس میں اختلاف ہے بعض اسلامی روایات میں ان کے لئے لفظ ”مسنة“ (سن رسیدہ) استعمال ہوا ہے(1)۔ جبکہ بعض دوسری روایات میں ”قعود از نکاع“ کی تعبیر آئی ہے یعنی وہ شادی کے قابل نہ رہی ہوں(2) ۔ لیکن بعض فقہاء اور مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد ماہواری کا خاتمہ، بچہ جننے کے قابل نہ رہنا اور کسی سے اس کا نکاح کی خواہش نہ کرنا ہے (3) ۔ لیکن ظاہراً یہ سب تعبیرات ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور وہ یہ کہ عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ جن میں عموماً کوئی عورت شادی نہیں کرتی اگرچہ ممکن ہے شاذ ونادر ایسا ہوجائے ۔ ایسی عورتوں کے لئے کس قدر بدن ظاہر کرنا جائز ہے اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں جبکہ قرآن میں اجمالی طور پر فرمایا گیا ہے کہ کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنا لباس اتار دیں البتہ یہ بات واضح ہے کہ ا س سے اوپر والا لباس مراد ہے ۔ بعض روایات میں اس سوال کے جواب میں کہ وہ کونسا لباس اتارسکتی ہیں، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”الجلباب“ ”چادر اور برقعہ“۔ جبکہ ایک اور روایت میں ”جلباب وخمار“(4)کے الفاظ ہیں ”خمار“ دوپٹے کو یا اس رومال کوکہتے ہیں جو عورتیں سر پر باندھتی ہیں) ۔ ظاہراً ایسی احادیث ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں ، مراد یہ ہے کہ کوئی حرج نہیں اگر وہ اپنا سر کھلا رکھیں اور اپنے بال وگردن اور چہرہ نہ چھپائیں، بعض احادیث اور کلماتِ فقہاء میں ان کی کلائی کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے لیکن اس سے زیادہ کے بارے میں استثناء کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ بہرحال یہ سب اس صورت میں ہے کہ خود آرائی نہ کریں (غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَةٍ) ۔ اور اپنی پنہاں زینتوں کو دوسری عورتوں کی طرح چھپائیں اس طرح زیب وزینت کے لباس بھی نہ پہنیں ۔ دوسرے لفظوں میں ان کے لئے جائز ہے کہ وہ چادر اور دوپٹے کے بغیر سادہ لباس میں بغیر آرائش کے گھر سے باہر آئیں ۔ لیکن اس کے باوجود ایسا کرنا ان کے لئے ضروری نہیں بلکہ اگر وہ دوسری عورتوں کی طرح پردے کی پابندی کریں تو یہ بہتر ہے جیسا کہ زیرِ بحث آیت میں بھی اس سلسلے میں صراحت موجود ہے کیونکہ اگرچہ شاذونادر ہی ہو لغزش کا امکان بھی موجود ہے(5). 1۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۴. 2 ۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۵. 3۔ جواہر، ج۲۹، ص۸۵ اور کنز العرفان، ج۲، ص۲۲۶. 4۔ وسائل الشیعہ، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۱. 5 ۔ وسائل الشیعہ، کتاب النکاح، باب۱۱۰، حدیث۲ و۴.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:58-60
والدین کے کمرے میں آنے کے آداب
ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اس سورہ میں سب سے زیادہ روز عفت وپاکدامنی پر دیا گیا ہے اور ہر قسم کی بدکاری اور بے حیائی سے روکا گیا ہے، اس موضوع پر مختلف حوالوں اور پہلووٴں سے بات کی گئی ہے، زیرِ بحث آیات کا بھی عنوان گفتگو یہی ہے، ان آیات میں میاں بیوی کے خصوصی کمرے یا خلوت گاہ میں بالغ اور نابالغ بچوں کے داخلے کے آداب بیان کئے گئے ہیں ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان والو! جو تمھارے مملوک (اور غلام) ہیں اور اسی طرح تمھارے وہ بچے جو ابھی حدّ بلوغ کو نہیں پہنچے انھیں چاہیے کہ تین اوقات میں تم سے اجازت لیا کریں (یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لِیَسْتَاٴْذِنْکُمْ الَّذِینَ مَلَکَتْ اٴَیْمَانُکُمْ وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ) ۔ نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جبکہ تم اپنا لباس اتار دیتے ہو اور نماز عشاء کے بعد (مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِینَ تَضَعُونَ ثِیَابَکُمْ مِنَ الظَّھِیرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ) ۔ ”ظھیرة“ جیسا کہ راغب مفردات میں اور فیروز آبادی نے قاموس میں کہا ہے، دوپہر اور حدودِ ظہر کے معنیٰ میں ہے جس وقت عموماً لوگ اپنے اوپر والے لباس اتار دیتے ہیں اور بعض اوقات میا ں بیوی آپس میں خلوت کرتے ہیں ۔ یہ تین اوقات تمھارے لئے پردے کے اور خصوصیت کے اوقات ہیں (ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ) ۔ ”عورة“ بعض اوقات دیوار یا لباس وغیرہ کے سوراخ کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور کبھی مطلق عیب کے معنیٰ ہیں ۔ بہرحال ان تین اوقات پر اس لفظ کا اطلاق اس لئے ہوا کہ لوگ ان اوقات میں اپنے آپ کو چھپانے کا باقی اوقات کی طرح اہتمام نہیں کرتے اور ایک خاص حالت میں ہوتے ہیں ۔ واضح ہے یہ حکم بچوں کے سرپرستوں کے لئے ہے کہ وہ انھیں ایسا کرنے کے لئے کہیں کیونکہ وہ ابھی بالغ ہی نہیں ہوئے لہٰذا ان پر شرعی اور الٰہی ذمہ داریاں ابھی عائد نہیں ہوتیں لہٰذا یہاں ان کے والدین اور سرپرستوں سے خطاب ہے ۔ ضمناً واضح رہے کہ آیت کا اطلاق لڑکوں اور لڑکیوں دونوں پر ہوتا ہے، آیت میں جمع مذکّر کا صیغہ ”الذین“ آیت کے مفہوم کی عمومیت میں مانع نہیں ہے کیونکہ بہت سے مواقع پر تغلیب کی وجہ سے یہ لفظ سب کے لئے یکساں بولا جاتا ہے جیسا کہ وجوبِ روزہ والی آیت میں ”الذین“ استعمال ہوا ہے جس سے سب مسلمان مراد ہیں(سورہٴ بقرہ/۸۳) ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آیت ان بچوں کے بارے میں بات کررہی ہے جو حدّتمیز کو پہنچ گئے ہوں اور جنسی امور اور شرمگاہ کے بارے میں کچھ سوجھ بوجھ رکھتے ہوں کیونکہ اجازت لینے کا حکم خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس قدر سمجھتے ہیں کہ اجازت لینے کے کیا معنی ہیں اور ”ثلاث عورات“ کی تعبیر بھی اس مفہوم کے لئے ایک شاہد ہے ۔ اب ہم مملوک اور غلاموں کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ کیا یہ حکم ان میں سے مردوں کے لئے مخصوص ہے یا کنیزوں کے لئے بھی ہے؟ اس سلسلے میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں، آیت کا ظاہری مفہوم تو عام ہے اور اس میں دونوں شامل ہیں لہٰذا ہم ان روایات کو ترجیح دے سکتے ہیں کہ جو ظاہر آیت سے مطابقت رکھتی ہیں ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: تم پر اور ان پر کوئی گناہ نہیں کہ ان اوقات کے بعد اجازت لئے بغیر آئیں، ایک دوسرے کی خدمت کریں اور (خلوص ومحبّت کے ساتھ) ایک دوسرے کے پاس جمع ہوں (لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَاعَلَیْھِمْ جُنَاحٌ بَعْدَھُنَّ طَوَّافُونَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلیٰ بَعْضٍ) ۔ جی ہاں! الله اسی طرح اپنی آیتیں تمھارے لئے بیان کرتا ہے اور خدا علیم وحکیم ہے (کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ الْآیَاتِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ) ۔ لفظ ”طوافون“ اصل میں ”طواف“ کے مادے سے ہے جس کا معنیٰ ہے کسی چیز کا گردش کرنا، یہاں لفظ چونکہ مبالغے کے صیغے میں آیا ہے اس لئے اس میں کثرت سے گردش کرنا مفہوم پایا جاتا ہے، اس کے بعد ”بَعْضُکُمْ عَلیٰ بَعْضٍ“ آیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے عبارت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ان تین اوقات کے علاوہ تمھیں اجازت ہے کہ ایک دوسرے کے گرد پھرو، آوٴ، جاوٴ اور ایک دوسرے کی خدمت بجالاوٴ۔ ”کنزالعمال“ میں فاضل مقداد کے بقول یہ تعبیر در حقیقت باقی اوقات میں اجازت لینے کی دلیل بیان کررہی ہے کیونکہ اگر ہر وقت آنا جانا ہو اور ہر وقت اجازت لینے کا مسئلہ درپیش ہو تو معاملہ بہت مشکل ہوجائے(1)۔ اگلی آیت میں بالغوں کے بارے میں حکم دیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: جب تمھارے بچے بالغ ہوجائیں تو ہر وقت اجازت لیا کریں جیسے کہ ان سے بڑے لوگ اجازت لیا کرتے تھے (وَإِذَا بَلَغَ الْاٴَطْفَالُ مِنْکُمْ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاٴْذِنُوا کَمَا اسْتَاٴْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ) ۔ لفظ ”حلم“ بروزن ”کُتُب“) عقل کے معنیٰ میں آیا ہے اور بلوغ کے لئے کنایہ ہے کیونکہ بلوغت کے ساتھ عموماً انسان کو عقلی اور فکری تحرّک بھی ملتا ہے، بعض نے کہا ہے کہ ”حلم“ خواب دیکھنے کے معنیٰ میں ہے اور چونکہ نوجوان بالغ ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے خواب دیکھتے ہیں کہ جوان کے احتلام کا سبب بنتے ہیں لہٰذا یہ لفظ کنائے کے طور پر بلوغ کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے ۔ بہرحال اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بالغوں کا حکم نابالغوں سے مختلف ہے کیونکہ گزشتہ آیت کے مطابق نابالغ بچوں کے ذمہ صرف تین اوقات میں اجازت لینا ہے کیونکہ ان کی زندگی اور بودو باش ہی ایسی ہوتی ہے کہ ان کا ماں باپ کے پاس بہت آنا جانا ہوتا ہے اگر ہر وقت وہ اجازت لیں تو مشکل ہوجائے، علاوہ ازیں ان کے جنسی احساسات ابھی پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوئے ہوتے لیکن اس سے بعد والی آیت میں بالغ بچوں کے لئے مطلق طور پر اجازت لینا قرار گیا ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ ہر حالت میں ماں باپ کے پاس جاتے وقت اجازت لیں ۔ یہ حکم اس جگہ اور کمرے کے لئے مخصوص نہیں ہے کہ جس میں ماں باپ آرام کررہے ہوں ورنہ عمومی کمرے میں جہاں دوسرے لوگ بھی ہوں اور کوئی رکاوٹ یا ممانعت بھی نہ ہو، اجازت لینا ضروری نہیں ۔ اس نکتے کا بھی ذکر ضروری ہے کہ ”کَمَا اسْتَاٴْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ“ کا جملہ ان بڑے افراد کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر وقت ماں باپ کے پاس ان کے کمرے میں جاتے ہوئے اجازت لینے کے ذمہ دار ہیں، اس آیت میں جو ابھی نئے سن بلوغ میں داخل ہوئے انھیں ان بڑوں کی طرح اجازت لینے کا حکم دیا جارہا ہے ۔ آیت کے آخر میں بطور تاکید اور میزد توجہ دلانے کے لئے فرمایا گیا ہے: اس طرح الله تمھارے لئے اپنی آیتیں واضح کرتا ہے اور الله علیم وحکیم ہے ( کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ آیَاتِہِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ) ۔ یہ تقریباً وہی جملہ ہے جو گزشتہ آیت کے آخر میں بھی آیا ہے فرق یہ ہے کہ وہاں ”الآیات“ تھا اور اس میں ”آیاتہ“ آیا ہے کہ معنیٰ کے لحاظ سے جس میں کوئی خاص فرق نہیں ۔ اس حکم کی خصوصیات اور اس کے فلسفے کے بارے میں ہم ”چند اہم نکات“ کے ذیل میں بات کریں گے ۔ زیرِ بحث آخری آیت میں عورتوں کے لئے پردے کے حکم میں ایک استثناء بیان کیا گیا ہے عمر رسیدہ بوڑھی عورتوں کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو عورتیں جوانی گزار بیٹھی ہیں اور شادی کی امیدوار نہیں ان کے لئے کوئی گناہ نہیں اگر چادر اتار رکھیں جبکہ لوگوں کے سامنے خود آرائی نہ کریں (وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللاَّتِی لَایَرْجُونَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اٴَنْ یَضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِینَةٍ) ۔ اس استثناء کے لئے درحقیقت دوشرطیں ہیں: پہلی یہ کہ وہ اس عمر کو پہنچ جائیں گے اب شادی بیان کی امید اور آرزو نہ رکھتی ہوں، دوسرے لفظوں میں ان کے جنسی جذبات بالکل ختم ہوچکے ہوں ۔ دوسرا یہ کہ پردہ اٹھا رکھنے کے بعد بناوٴ سنگھار نہ کریں ۔ واضح رہے کہ ان دوشرطوں کی موجودگی میں اگر پردہ نہ ہو تو اس میں کوئی برائی نہیں اسی لئے اسلام نے ایسی خواتین کے لئے یہ گنجائش رکھی ہے ۔ یہ نکتہ بھی واضح ہے کہ یہاں مراد یہ نہیں کہ انھیں عریاں ہونے کی اجازت مل گئی ہے اور وہ سارا لباس اتار سکتی ہیں بلکہ صرف اوپر کا لباس مراد ہے جسے بعض روایات میں برقعے، چادر اور دوپٹّے سے تعبیر کیا گیا ہے، روایت کے الفاظ میں: ”الجلباب والخمار“ ”یعنی چادر اور دوپٹّہ“۔ ایک حدیث میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے اما صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”الخمار والجلباب، قلت بین یدی من کان؟ قال: بین یدی من کان غیر متبرجة بزینة“. ”راوی کہتا ہے: میں نے پوچھا جس شخص کے سامنے بھی ہو؟ فرمایا: جس کسی کے سامنے بھی ہو البتہ خودنمائی اور یناوٴسنگھار نہ کرے“(2) . اس مضمون کی اور اس سے ملتی جلتی متعدد روایات ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی ہیں (3) ۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: اس سب کے باوجود اگر پاکدامنی اختیار کریں اور پردہ سے کیسے رہیں تو ان کے لئے زیادہ بہتر ہے (وَاٴَنْ یَسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَھُنَّ) ۔ کیونکہ عورت جس قدر بھی عفّت وحجاب کو ملحوظ رکھے اسلام کی نظر میں اسی قدر پسندیدہ ہے اور تقویٰ سے اسی قدر قریب ہے ۔ ممکن ہے بعض سن رسیدہ عورتیں اس سوچی سمجھی اور جائز آزادی سے غلط فائدہ اٹھائیں اور بعض اوقات مردوں سے غیر مناسب باتوں میں مشغول ہوجائیں یا طرفین کے دل میں گندے خیالات پیدا ہوں لہٰذا آیت کے آخر میں خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور الله سننے والا اور جاننے والا ہے (وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ) ۔ جو کچھ تم کہتے ہو وہ سنتا ہے اور جو کچھ تمھارے دل میں یا دماغ میں ہے اسے جانتا ہے ۔ 1۔ کنز العمال، ج۲، ص۲۲۵. 2۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴،کتاب النکاح، ص۱۴۷، باب۱۱۰. 3۔ روایات کے تفصیلی مطالعے کے لئے وسائل الشیعہ کے محررہ بالا باب کی طرف رجوع کریں ۔