إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُم مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Indeed those who initiated the calumny are a group from among yourselves. Do not suppose it is bad thing for you. No, it is for your good. Each man among them bears [the onus for] his share in the sin, and as for him who assumed its major burden from among them, there is a great punishment for him.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:11
[Pooya/Ali Commentary 24:11] The particular incident referred to here occurred on the return from the defensive expedition of the Bani Mustaliq in 5-6 Hijra. At one of the halts, A-isha, the Holy Prophet's wife, withdrew from the camp to cleanse herself in the nearby desert. There she lost her necklace. As it was dark there she took time to discover it. In the meantime the march was ordered. As her litter was veiled, it was not noticed that she was not in it. When she returned to the camp, she could do nothing but wait. She fell asleep. Next morning she was found by Safwan who had been left behind to pick up anything inadvertently left behind. He put her on his camel and brought her, leading the camel on foot. This episode furnished some malicious enemies of the Holy Prophet, particularly the hypocrites, with an opportunity to raise a scandalous storm in order to hurt the feelings of the Holy Prophet. The ringleader among them was the chief of the Madina hypocrites, Abdullah ibn Ubay. Mistah, her uncle, also helped him. Ibn Ubay is referred to as the man who "took on himself the lead among them" to spread the scandal. Ali ibn abi Talib knew that it was an obvious lie (as said in verse 12), concocted to hurt the Holy Prophet, so he asked Burayrah, the maid of A-isha, to tell the mischief-makers the truth about her mistress. On Burayrah's report the scandal was diffused. For verse 13 refer to the commentary of verse 4. Mistah was a sahabi (companion) of the Holy Prophet but because of his role in the incident he was punished by the Holy Prophet. It shows that every sahabi was not righteous. According to Allah's law (indallah) four witnesses have to be produced even if the accusation is true. People may think it is an insignificant matter to speak lightly of something which damages a person's character or reputation, but with Allah it is a most serious matter in all cases, particularly when it involves the honour and reputation of pious men and women. Dissemination of scandalous news and gossip is a wide-spread social evil. In modern times it is carried out through books and magazines. For thorough purification see commentary of Ahzab: 33 and for partial purification verse 26 of this surah. Verse 22 refers to Abu Bakr, the father of A-isha, and Mistah, his cousin. Abu Bakr was given ample means by Allah. He used to support Mistah, but after this incident he withdrew his help. According to the highest standards of Islamic ethics, as said in this verse, a truly generous patron should not, in personal anger, withdraw his support even from a delinquent if he is in need. The general application holds good for all time. Those who desire that Allah should forgive their faults must be forgiving and merciful in their dealings with men who have wronged them.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 24:11-20
This is an important paragraph wherein Aysha, wife of the Prophet, when she saw the Prophet in grief on his son, Ibrahim’s, death, born of Mary (Kutbia), she accused Ibrahim born of Jarih Kutbi, who was put on trial at the Prophet’s instance, on hearing this allegation of Aysha under deputation of Ali, to conduct the inquiry on the alleged charge and was declared eunuch and these couplets are a warning to Aysha (this has been interpreted otherwise and is avoided to enter into vain litigation, retaining exposition by Divine Light). Violent natures make history. All history is but a romance unless it is studied as an example.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:11-16
شان نزول کے بارے میں تحقیق
پہلی شان نزول جیسا کہ ہم نے کہا ہے بہت سی کتب میں موجود ہے لیکن اس میں کئی ایک مبہم نقاط موجود ہیں مثلاً: ۱۔ اس حدیث میں الفاظ کے اختلاف کے باوجود اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ رسول الله اس پراپیگنڈا کے زیر اثر آگئے تھے، یہاں تک کہ آپ نے اس سلسلے میں مشورے اور بات چیت کے لئے اپنے اصحاب کے ساتھ ایک میٹنگ کی بلکہ عائشہ سے بھی اپنا رویہ تبدیل کرلیا اور طویل عرصے تک ان سے کنارہ کشی اختیار کئے رکھی اور اسی طرح دیگر کئی ایک ایسے اقدامات کئے کہ جو اس امر کی حکایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے اس پراپیگنڈا کو بہت حد تک قبول کرلیا تھا، یہ امر نہ فقط آپ کے مقامِ عصمت کے خلاف ہے بلکہ ایک باایمان ثابت قدم مسلمان کو بھی اس قسم کے بے دلیل پراپیگنڈا کا اثر قبول نہیں کرنا چاہیے اور اگر فکری طور پر کوئی اس سے متاثر ہو بھی تو عملاً اس کی وجہ سے اپنا طرزِ عمل نہیں بدلنا چاہیے اور اسے تسلیم نہیں کرنا چاہیے، چہ جائیکہ ایک معصوم کہ جس کا مقام اور قدر ومنزلت واضح ہے ۔ اگلی آیتوں میں اس پراپیگنڈا کا اثر قبول کرنے والے مومنین کو شدید سرزنش کی گئی ہے کہ انھوں نے چار گواہوں کا مطالبہ کیوں نہیں کیا، کیا باور کیا جاسکتا ہے کہ یہ شدید عتاب اور سرزنش پیغمبراکرم کے لئے بھی ہو؟ یہ ایک اہم اعتراض ہے کہ جو کم از کم اس شانِ نزول کے بارے میں شک ضرور پیدا کرتا ہے ۔ ۲۔ ظاہرِ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قذف سے مربوط حکم واقعہ افک سے پہلے نازل ہوا ہے، اگر ایسا ہی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے باوجود رسول الله نے عبد الله بن ابی سلول اور دیگر ان لوگوں پر اسی دن حد کیوں جاری نہ کی کہ جنھوں نے یہ تہمت لگائی تھی (البتہ اگر آیہٴ قذف اور واقعہ افک سے مربوط آیتیں اکھٹی نازل ہوئی ہوں تو پھر یہ اعتراض ہوجائے گا لیکن پہلا اعتراض اسی شدّت سے باقی رہے گا)(1) ۔ رہی دوسری شانِ نزول کی بات تو اسے قبول کرنا تو اور بھی مشکل ہے کیونکہ: اوّلاً: اس شانِ نزول کے مطابق یہ تہمت صرف ایک خاتون نے لگائی تھی جبکہ آیات صراحت کے ساتھ کہتی ہیں کہ یہ متعدد افراد کا کام تھا اور انھوں نے مل کر یہ پروپیگنڈا کیا تھا اور بات پورے ماحول میں پھیل گئی تھی، اسی لئے ان مسلمان پر عتاب وسرزنش کے لئے جو ضمیریں استعمال ہوئی ہیں سب جمع کی ہیں اور یہ امر دوسری شانِ نزول سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔ ثانیاً: یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اگر یہ تہمت صرف عائشہ نے لگائی تھی اور بعد ازاں معاملہ اس کے برخلاف ثابت ہوگیا تو پھر رسول الله نے ان پر حد تہمت کیوں جاری نہیں کی؟ ثالثاً: کیونکر ممکن ہے کہ صرف ایک عورت کی گواہی پر رسول الله کسی ملزم کے قتل کا حکم صادر فرمادیں جبکہ سوکنوں میں رقابت وحسد تو معمول کی چیز ہے، یہ امر تقاضا کرتا تھا کہ آپ کو اس الزام میں حق و عدالت سے انحراف کا احتمال پیدا ہوتا کم از کم یہ احتمال پیدا ہوتا کہ ہوسکتا ہے اسے اشتباہ ہوا ہو ۔ بہرحال ہمارے لئے جو کچھ اہم ہے وہ یہ شانِ نزول نہیں، اہم یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ مجموعی طور پر ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت ایک بے گناہ شخص پر کچھ لوگوں نے بدکاری کا الزام لگایا تھا اور یہ پراپیگنڈا معاشرے میں پھیل چکا تھا، نیز آیت میں موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص پر تہمت لگائی تھی کہ جو اس معاشرے میں خاص اہمیت کا حامل تھا اور منافقین کہ جو ظاہراً مسلمانوں میں شامل تھے اس سے غلط مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے اور اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے، لہٰذا یہ آیات نازل ہوئیں اور بے مثال قاطعیت کے اس حادثے کا مقابلہ کیا، ان آ یات نے بدزبان منحرفین اور سیاہ دل منافقین کی سازشوں کو بری طرح ناکام بنادیا۔ واضح رہے کہ شان نزول کچھ بھی ہو ان آیات کے مفہوم کو زمان ومکان میں منحصر نہیں کیا جاسکتا اور ان کا حکم ہر معاشرے اور ہر زمانے کے لئے ہے ۔ ان تمام باتوں کے بعد اب ہم تفسیر آیات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں تاکہ ہم دیکھیں کہ قرآن نے کیسی فصاحت وبلاغت سے اس واقعے کو باریکیوں کے ساتھ بیان کیا ہے یہاں تک کہ مسئلہ حل ہوگیا اور سچ جھوٹ میں فرق نمایاں ہوگیا۔ 1۔ المیزان، ج۱۵، ص۱۱۱.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:11-16
ایک بہت بڑی تہمت
زیرِ نظر پہلی آیت واقعہ بیان کئے بغیر کہتی ہے: جن لوگوں نے یہ بہتان باندھا ہے وہ تمہی میں سے تھے (إِنَّ الَّذِینَ جَائُوا بِالْإِفْکِ عُصْبَةٌ مِنْکُمْ) ۔ بلاغت کے فنون میں سے ایک یہ ہے کہ زیادہ جملوں کو حذف کرکے ایسے الفاظ پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ جو ضروری مفہوم پر دلالت کرتے ہوں ۔ لفظ ”افک“ (بروزن ”فکر“) بقول راغب ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے کہ جس کی اصلی وطبیعی حالت بدل جائے، مثلاً اپنے اصلی راستے ہے ہٹ جانے والی مخالف ہواوٴں کو ”موٴفکہ“ کہتے ہیں، بعد ازاں حق سے منحرف اور خلاف واقعہ ہر گفتگو کے لئے یہ لفظ استعمال ہونے لگا، اسی لحاظ سے جھوٹ، تہمت اور بہتان کو ”افک“ کہا جاتا ہے ۔ مجمع البیان میں مرحوم علامہ طبرسی نے کہا ہے کہ ہر جھوٹ ”افک“ کو نہیں کہتے بلکہ ایسے بڑے جھوٹ کو کہتے ہیں کہ جو معاملے کی اصل صورت ہی بدل دے، اس لحاظ سے لفظ ”افک“ بذات خود تہمت کے اس واقعے کی اہمیت ظاہر کرتا ہے ۔ لفظ ”عصبة“ (بروزن ”غصّہ“) در اصل ”عصب“ کے مادے سے ان خاص ریشوں اور رگوں کے معنی میں ہے کہ جو انسانی اعضاء کو آپس میں جوڑتے ہیں، مجموعی طور پر انھیں ”اعصاب“ کہتے ہیں، بعد ازاں یہ لفظ اس گروہ اور جمعیت کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہ جس کے افراد باہم متحد ومربوط ہوں، آپس میں ہم فکر اور ہمکار بھی، خصوصیت سے اس لفظ کا استعمال نشاندہی کرتا ہے کہ واقعہٴ افک کا منصوبہ بنانے والے باہم بہت قریب اور مربوط تھے اور انھوں نے اس کے لئے بہت مضبوط جال بُنا تھا۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ لفظ عموماً دس تا چالیس افراد کے لئے استعمال ہوتا ہے (۱) ۔ بہرحال اس جملے کے بعد قرآن ان مومنین کی دلجوئی کرتا ہے کہ جو ایک پاکدامن شخص پر یہ تہمت لگنے کی وجہ سے شدید ناراحت تھے ۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ گمان نہ کرو کہ یہ واقعہ تمھارے لئے باعث خیر ہے (لَاتَحْسَبُوہُ شَرًّا لَکُمْ بَلْ ھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ) ۔ کیونکہ اس واقع نے شکست خوردہ دشمنوں اور کوردل منافقوں کے ارادوں سے پردہ اٹھادیا ہے اور اس نے ان بدسیرت خوش نما افراد کو رسوا کردیا ہے، نیز یہ بات کتنی اچھی ہے کہ ایک امتحان کی وجہ سے وہ لوگ روسیاہ ہوکر سامنے آجائیں کہ جو دل میں کھوٹ رکھتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے اگر یہ واقعہ پیش نہ آتا تو یہ لوگ پہچانے نہ جاتے اور آئندہ خطرناک ضرب لگاتے ۔ اس واقعے نے ایک درس مسلمانوں کو یہ بھی دیا کہ واقعات کے صرف ظاہر پر نظر نہ رکھیں کیونکہ بعض اوقات ظاہراً اچھے نہ لگنے والے واقعات باطنی طور پر بہت باعث خیر ہوتے ہیں ۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ ”لکم“ کی ضمیر استعمال کرکے اس واقعے میں تمام مسلمانوں کو شریک گردانا گیا ہے اور دراصل ہے بھی ایسا ہی کیونکہ معاشرتی اور اجتماعی حوالے سے مسلمان ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں بلکہ غموں اور خوشیوں میں ایک دوسرے کے شریک ہیں ۔ اس آیت کے دو نکتوں کی مزید اشارہ کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: جن لوگوں نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے ان میں سے ہر ایک کے لئے جوابدہی اور سزا کا ایک حصّہ ہے (لِکُلِّ امْرِءٍ مِنْھُمْ مَا اکْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ) ۔ اس طرف اشارہ ہے کہ اس گناہ کی بھاری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جو اس کے بانی اور منصوبہ ساز ہیں اور ان کی اس ذمہ داری کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے کے سر کوئی ذمہ داری نہیں آتی بلکہ جو کوئی بھی جس قدر اس کام میں شریک ہے اتنی ہی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے ۔ مزید فرمایا گیا ہے: جس کا اس گناہ میں بڑا حصّہ ہے اس پر عذاب بھی بڑا ہوگا (وَالَّذِی تَوَلَّی کِبْرَہُ مِنْھُمْ لَہُ عَذَابٌ عَظِیمٌ) ۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہ شخص عبد الله بن ابی سلول تھا، یہ شخص اصحابِ افک کا سرغنہ تھا، بعض دیگر مفسرین نے مسطح بن اثاثہ اور حسان بن ثابت کو اس کا مصداق قرار دیا ہے ۔ بہرحال جو شخص اس واقع کا زیادہ محرک تھا جس نے اس آگ کا پہلا شعلہ بھڑکایا تھا اور ان لوگوں کا لیڈر تھا اس گناہ کا بڑا ہونے کی مناسبت سے اس کی سزا بھی بہت یادہ ہے (بعید نہیں کہ لفظ تولی یعنی ”جو اس کا رہبر بنا“ اس واقعے کی رہبری کی طرف اشارہ ہوا۔ اس کے بعد روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف ہے کہ جو اس واقعے میں دھوکے میں آگئے، چند ایک آیات میں ان کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جس وقت تم نے یہ تہمت سنی تو مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں کیا (لَوْلَاإِذْ سَمِعْتُمُوہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاٴَنفُسِھِمْ خَیْرًا) ۔ یعنی جب تم نے مومن افراد کے بارے میں منافقین کی باتیں سنیں تو دوسرے مومنین کے بارے میں حسنِ ظن سے کام کیوں نہ لیا کہ جو تمھارے لئے خود تمہی جیسے ہیں ۔ اور کیوں نہیں کہا کہ یہ ایک بڑا اور سفید جھوٹ ہے (وَقَالُوا ھٰذَا إِفْکٌ مُبِینٌ) ۔ جبکہ تم ان منافقین کا برا اور رسوا کن ماضی جانتے تھے ۔ اور تم تو ان افراد کی پاک دامنی سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ جو دشمن پیغمبرِ اکرم کے خلاف کرتے رہتے ہیں ۔ اس کے باوجود اس قسم کا جھوٹا پراپیگنڈا سن کر تمھارا خاموش رہنا لائق ملامت ہے ۔ اس طرح تم تو شعوری بالا شعوری طور پر اس الزام کی نشر واشاعت کا ذریعہ بن گئے ہو ۔ یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ جس پر تہمت لگائی گئی تھی اس کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تمھیں اپنے بارے میں حسنِ ظن رکھنا چاہیے تھا۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنین کا وجود ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے اور سب کے سب گویا ایک ہی وجود ہیں ۔ اگر کسی ایک پر تہمت لگے تو گویا سب پر لگی ہے اور اگر کسی ایک حصّے کا تکلیف پہنچے تو باقی حصّے قرار نہیں سے نہیں رہ سکتے اور جس طرح کسی ایک شخص پر تہمت لگے تو وہ اس کے دفاع کی کوشش کرتا ہے اسی طرح اس کے دینی بھائی بہنوں کو بھی اس کا دفاع کرنا چاہیے (۲) ۔ قرآن نے ایسے دیگر مواقع پر بھی لفظ ”انفس“ استعمال کیا ہے ۔ سورہٴ حجرات کی آیت ۱۱ میں ہے: <وَلَاتَلْمِزُوا اٴَنفُسَکُمْ ”اپنے آپ کی غیبت نہ کرو“۔ نیز جو با ایمان مردوں اور عورتوں کا ذکر کیا ہے تو یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ایمان ایک ایسی صفت ہے کہ جو بدگمانیوں کو روک سکتی ہے ۔ یہاں تک تو اخلاقی اور روحانی پہلو سے سرزنش کی گئی تھی اور متوجہ کیا گیا تھا کہ کسی لحاظ سے بھی مناسب نہ تھا کہ ایسی بری تہمت پر مومنین خاموش رہتے یا کور دل سازشیوں کے لئے آلہٴ کار نہ بنتے ۔ اس کے بعد فیصلے اور حکم کا مرحلہ آتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: انھیں چار گواہ پیش کرنے کے لئے کیوں نہ کیا گیا (لَوْلَاجَائُوا عَلَیْہِ بِاٴَرْبَعَةِ شُھَدَاءَ) ۔ یہ احتمال معقول معلوم نہیں ہوتا اور اس سے تو کلام کی لطافت وبلاغت جانی جاتی ہے ۔ اب جبکہ وہ گواہ پیش نہیں کرسکے تو الله کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں (فَإِذْ لَمْ یَاٴْتُوا بِالشُّھَدَاءِ فَاٴُوْلٰئِکَ عِنْدَ اللهِ ھُمَ الْکَاذِبُونَ) ۔ اس مواخذہ اور سرزنش سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار گواہوں کی شہادت اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں حدّقذف کا حکم آیات افک سے پہلے نازل ہوچکا تھا۔ رہا سوال یہ کہ خود رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے حد جاری کیوں نہ کی تو اس کا جواب واضح ہے کہ جب تک لوگ ساتھ نہ دیں اس طرح کا اقدام ممکن نہیں کیونکہ بعض اوقات قبائلی تعصب آڑے آجاتا ہے اور بعض احکام وقتی طور پر ہی سہی نافذ نہیں ہوپاتے اور تاریخ شاہد ہے کہ اس واقعے میں بھی یہی معاملہ درپیش تھا۔ آخر میں مجموعی طور پر فرمایا گیا ہے: اگر الله کا فضل اور رحمت دنیا وآخرت میں تمھارے شامل حال نہ ہوتی تو تمھیں اس کام کے باعث کہ جس میں تم داخل ہوگئے تھے عذابِ عظیم دامنگیر ہوتا (وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّکُمْ فِی مَا اٴَفَضْتُمْ فِیہِ عَذَابٌ عَظِیمٌ) ۔ ”افضتم“ ”افاضة“ کے مادہ سے زیادہ پانی نکلنے کے معنی میں ہے نیز کبھی یہ لفظ پانی میں داخل ہونے کے معنی میں آتا ہے ۔ اس تعبیر سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ مذکورہ تہمت کی شہرت اس قدر ہوگئی تھی کہ گویا مومنین اس کے اندر داخل ہوگئے تھے ۔ اگلی آیت درحقیقت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ اتنے بڑے گناہ میں کیسے سادگی کے ساتھ اور آرام سے جاپڑے تھے ۔ ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کا سوچو کہ جب تم اس بڑے جھوٹ کے استقبال کے لئے جارہے تھے اور ایک دوسرے کی زبان سے یہ پراپیگنڈا اڑائے لئے جاتے تھے (إِذْ تَلَقَّوْنَہُ بِاٴَلْسِنَتِکُمْ) ۔ اور اپنے منھ سے تم ایسی باتیں کرتے تھے کہ جن کے بارے میں تمھیں علم ویقین نہ تھا (وَتَقُولُونَ بِاٴَفْوَاھِکُمْ مَا لَیْسَ لَکُمْ بِہِ عِلْمٌ) ۔ اور تمھیں یہ گمان تھا کہ یہ معمولی سا معاملہ ہے حالانکہ خدا کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے (وَتَحْسَبُونَہُ ھَیِّنًا وَھُوَ عِنْدَ اللهِ عَظِیمٌ) ۔ آیت دراصل ان کے تین عظیم گناہوں کی طرف اشارہ کررہی ہے: پہلا: اس پراپیگنڈا کا استقبال کرنا اور اسے ایک دوسرے کی زبان سے لینا۔ (پراپیگنڈا کو قبول کرنا) ۔ دوسرا: اس پراپیگنڈا کو ہوا دینا جبکہ وہ اس کے بارے میں علم ویقین نہ رکھتے تھے اور اسے دوسروں تک نہ پہنچانا (پراپیگنڈا کی کسی تحقیق کے بغیر کے تشہیر کرنا) ۔ تیسرا: اس عمل کو معمولی سمجھنا حالانکہ اس کا تعلق نہ فقط دومسلمانوں کی عزت وآبرو اور مقام ومنزلت سے تھا بلکہ اس کی زد اسلامی معاشرے کی حیثیت وآبرو پر بھی پڑتی تھی (پراپیگنڈا کو معمولی سمجھنا اور اسے شغل کے طور پر لینا) ۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ اس موقع پر لفظ ”بالسنتکم“ (تمھاری زبانیں) اور ”بافواھکم“ (تمھارے منھ) استعمال کئے گئے ہیں جبکہ تمام باتیں زبان اور منھ ہی سے کی جاتی ہیں ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تم نے اس پراپیگنڈا کو قبول کرنے میں دلیل کا مطالبہ کیا اور نہ پھیلانے میں دلیل کا سہارا لیا۔ زبان اور منھ کی ہوائی باتوں کو ہی تم اڑاتے رہے ۔ یہ واقعہ بہت اہم تھا مگر بعض مسلمانوں نے اسے معمولی سمجھ لیا تھا۔ اس لئے ایک مرتبہ پھر انھیں سرزنش کا زوردار تازیانہ لگایا کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جب تم نے اتنا بڑا جھوٹ سنا تو یہ کیوں نہیں کہا کہ ہمیں اجازت نہیں ہے کہ ہم اس بارے میں گفتگو کریں (کیونکہ یہ ایک بے دلیل تہمت ہے) اے پروردگار! تو پاک ہے، یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے (وَلَوْلَاإِذْ سَمِعْتُمُوہُ قُلْتُمْ مَا یَکُونُ لَنَا اٴَنْ نَتَکَلَّمَ بِھٰذَا سُبْحَانَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیمٌ) ۔ درحقیت پہلے تو انھیں اس لئے ملامت کی گئی تھی کہ جن پر تہمت لگائی گئی تھی انھیں حسن ظن کی نگاہ سے کیوں نہیں دیکھا لیکن اب فرمایا گیا ہے حسنِ ظن کے علاوہ تمھیں نہیں چاہیے تھا کہ اس تہمت کے بارے میں لب کشائی کرتے چہ جائیکہ تم اس کی تشہیر کرنے لگ جاوٴ۔ چاہیے تھا کہ اتنی بڑی تہمت پر تم تعجب کرتے اور پروردگار کو باد کرتے اور ایسی تہمت کی کی تشہیر کی آلودگی سے خدا کی پناہ چاہتے ۔ مگر افسوس کہ تم بڑی سادگی کے ساتھ اس کے قریب سے گزر گئے اور بغیر سوچے سمجھے پراپیگنڈاباز منافقین کے آلہٴ کار بن گئے ۔ تہمت بازی کے گناہ کی اہمیت، اس کے اسباب اس کے سدّباب کے طریقے کے بارے میں اور اسی طرح دیگر موضوعات پر ہم انشاء الله آئندہ آیات کے ذیل میں بات کریں گے ۔ 1۔ تفسیر روح المعانی میں یہ معنی کتاب ”صحاح“ کے حوالے سے لکھا گیا ہے ۔ 2۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے اور تقدیر یوں تھی: ”ظن الموٴمنون والموٴمنات بانفس بعضھم خیراً“۔ ”مومن مرد اور عورتیں اپنے بعض افراد کے بارے میں اچھا گمان کرے“۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:11-16
سوره نور / آیه 11 - 16
۱۱ إِنَّ الَّذِینَ جَائُوا بِالْإِفْکِ عُصْبَةٌ مِنْکُمْ لَاتَحْسَبُوہُ شَرًّا لَکُمْ بَلْ ھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ لِکُلِّ امْرِءٍ مِنْھُمْ مَا اکْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِی تَوَلَّی کِبْرَہُ مِنْھُمْ لَہُ عَذَابٌ عَظِیمٌ ۱۲ لَوْلَاإِذْ سَمِعْتُمُوہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاٴَنفُسِھِمْ خَیْرًا وَقَالُوا ھٰذَا إِفْکٌ مُبِینٌ ۱۳ لَوْلَاجَائُوا عَلَیْہِ بِاٴَرْبَعَةِ شُھَدَاءَ فَإِذْ لَمْ یَاٴْتُوا بِالشُّھَدَاءِ فَاٴُوْلٰئِکَ عِنْدَ اللهِ ھُمَ الْکَاذِبُونَ ۱۴ وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّکُمْ فِی مَا اٴَفَضْتُمْ فِیہِ عَذَابٌ عَظِیمٌ ۱۵ إِذْ تَلَقَّوْنَہُ بِاٴَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُولُونَ بِاٴَفْوَاھِکُمْ مَا لَیْسَ لَکُمْ بِہِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَہُ ھَیِّنًا وَھُوَ عِنْدَ اللهِ عَظِیمٌ ۱۶ وَلَوْلَاإِذْ سَمِعْتُمُوہُ قُلْتُمْ مَا یَکُونُ لَنَا اٴَنْ نَتَکَلَّمَ بِھٰذَا سُبْحَانَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیمٌ ترجمہ ۱۱۔ اتنی بڑی تہمت لگانے والا تمھارے ہی اندر کا ایک گروہ تھا لیکن یہ خیال نہ کرو کہ یہ ماجرا تمھارے لئے بُرا تھا بلکہ اس میں تمھارے لئے خیر ہے، جس کسی نے اس میں جس قدر حصّہ لیا اس قدر گناہ اس کے ذمے ہے اور جس نے اس کا بڑا حصہ اپنے ذمے لیا اس کے لئے عذاب عظیم ہے ۔ ۱۲۔ جس وقت تم نے یہ (تہمت والی) بات سنی تو مومن مردو اور مومن عورتوں نے اپنے نیک گمان کیوں نہیں کیا تم نے کیوں نہیں کہا کہ یہ بہت بڑا اور واضح جھوٹ ہے ۔ ۱۳۔ ان لوگوں نے چار گواہ کیوں پیش نہیں کیے، اب جبکہ وہ گواہ پیش کرسکے تو الله کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں ۔ ۱۴۔ اور اگر دنیا وآخرت میں الله کا فضل اور اس کی رحمت تمھارے شاملِ حال نہ ہوتی تو تمھارے اس خود کردہ گناہ پر تمھیں سخت عذاب پہنچتا۔ ۱۵۔ وہ وقت یاد کرو جب تم اتنے بڑے جھوٹ کے پیچھے چل پڑے اور تمھاری ایک زبان سے یہ جھوٹ دوسری زبان تک پہنچتا چلا گیا اور تم اپنے منھ سے ایسی بات کہتے رہے جس کا تمھیں یقین نہیں تھا اور تم اسے ایک معمولی سا مسئلہ سمجھ رہے تھے حالانکہ الله کے نزدیک یہ بہت بڑی جھوٹ بات تھی۔ ۱۶۔ تم نے اسے سن کر یہ کیوں نہ کہا کہ ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم یہ بات کریں، خداوندا! تو منزّہ ہے یہ تو عظیم بہتان ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:11-16
مندرجہ بالا آیات کے لئے دو شان نزول نقل ہوئی ہیں:
پہلی شان نزول جو زیادہ مشہور ہے اہلِ سنت کی کتب تفاسیر میں نقل ہوئی، شیعہ تفاسیر میں بالواسطہ طور پر شانِ نزول نقل ہوئی ہے، یہ شان نزول زوجہٴ رسول عائشہ سے منقول ہے وہ کہتی ہیں: رسول الله جب کسی سفر پر جانے لگتے تو اپنی ازواج کے لئے قرعہ ڈالتے قرعہ جس کے نام نکلتا اُسے اپنے ساتھ لے جاتے، ایک جنگ(1)کے موقع پر قرعہ میرے نام نکلا، میں رسول کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوئی، اس وقت پردے کی آیت نازل ہوچکی تھی، اس لئے میں ایک محمل میں سوار تھی، جنگ ختم ہوئی اور ہم واپس چل پڑے، مدینے کے قریب پہنچے تو رات ہوگئی، میں رفع حاجت کے لئے لشکرگاہ سے کچھ دور چلی گئی، جب واپس آئی تو نظر پڑی کہ یمنی منکوں والا میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ہے، میں اسے ڈھونڈنے نکل گئی اور مجھے دیر ہوگئی، واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ لشکر چلا گیا ہے، وہ میرا محمل بھی اونٹ پر رکھ کر لے گئے، ان کا خیال تھا کہ میں اس میں موجود ہوں کیونکہ ان دنوں غذا کی کمی کے باعث عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں علاوہ ازیں میری عمر بھی کم تھی، بہرحال میں وہاں تن تنہا رہ گئی میں نے سوچا کہ جب گھر پہنچیں گے اور مجھے نہیں پائیں گے تو میری تلاش میں نکلیں گے، رات میں نے اس بیابان میں بسر کی، اتفاق کی بات ہے کہ لشکر اسلام کا ایک فرد ”صفوان“ بھی لشکرگاہ سے دور رہ گیا تھا ، وہ بھی رات اسی بیابان میں تھا، دن چڑھا تو دور سے اس نے مجھے دیکھا تو قریب آیا، اُس نے مجھے پہچان لیا اس نے ”انّا لله وانّا الیہ راجعون“ کہا۔ اس نے مجھ سے ایک لفظ بھی نہ کہا ، اس نے اپنا اونٹ بھٹایا اور میں اس پر سوار ہوگئی، اس نے ناقہ کی مہار پکڑلی اور چلتا رہا یہاں تک کہ ہم لشکرگاہ میں پہنچ گئے ۔ یہ منظر دیکھا تو کچھ لوگ میرے بارے میں پراپیگنڈا کرنے لگے اور اپنے آپ کو (عذاب الٰہی میں گرفتار کرکے) ہلاکت میں ڈالنے لگے، اس تہمت طرازی میں عبدالله بن ابی سلول نے سب سے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ ہم مدینہ میں پہنچے اور یہ پراپیگنڈا پورے مدینہ میں پھیل گیا جبکہ اس کی کوئی خبر نہ تھی۔ اس دوران میں میں بیمار ہوگئی، رسول الله مجھے دیکھنے کے لئے تو آئے لیکن مجھے وہ پہلے سی مہربانی دکھائی نہ دیتی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ معاملہ کیا ہے، میری صحت اچھی ہوگئی، باہر نکلی تو رفتہ رفتہ مجھے اپنی قریب کے عورتوں سے منافقین کے پراپیگنڈے کا پتہ چلا تو میں سخت بیمار ہوگئی۔ رسول الله مجھے دیکھنے کے لئے آئے تو میں نے آپ سے اپنے باپ کے گھر جانے کی اجازت چاہی۔ جب میں اپنے باپ کے گھر آئی تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ لوگ کیا کہتے ہیں، انھوں نے کہا: غم نہ کرو، جن عورتوں کو امتیاز حاصل ہے اور دوسرے ان سے حسد کرتے ہیں، ان کے بارے میں بہت کچھ باتیں ہوتی رہتی ہیں ۔ اس موقع پر رسول الله نے علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام اور اسامہ بن زید سے مشورہ کیا کہ ان باتوں کے بارے میں میں کیا کروں ۔ اسامہۻ نے کہا: یا رسول الله! وہ آپ کی زوجہ ہیں، ہم نے اُن سے بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا (لہٰذا لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں) ۔ لیکن علیعلیہ السلام نے کہا: الله نے آپ پر کوئی سختی نہیں کی، ان کے علاوہ بھی بیویاں ہیں، آپ ان کی کنیز سے اس کے بارے میں تحقیق کرلیجئے ۔ رسول الله نے میری کنیز کو بلایا اور اس سے پوچھا: کیا تونے عائشہ کے بارے میں کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جو شک وشبہ پیدا کرے، کنیز نے کہا: اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں نے ان سے کوئی غلط کام نہیں دیکھا۔ اس وقت رسول الله نے ارادہ کیا کہ یہ باتیں لوگوں کے سامنے پیش کریں، آپ منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا: اے مسلمانو! اگر کوئی شخص (آپ کا اشارہ عبدالله بن ابی سلول کی طرف تھا) مجھے میری اس بیوی کے معاملے میں رنج پہنچائے جس سے میں نے پاکیزگی کے سوا کچھ نہیں دیکھا تو اگر میں اسے سزا دوں تو مجھے معذور سمجھنا اور اگر کسی ایسے شخص پر تہمت لگائی جائے کہ جس سے میں نے ہرگز کوئی برائی نہیں دیکھی تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ سعد بن معاذ انصاری کھڑے ہوگئے، انھوں نے عرض کی: آپ حق رکھتے ہیں، اگر وہ شخص شخص قبیلہ اوس سے ہوا تو اس کی گردن اڑادوں گا (سعد بن معاذقبیلہٴ اوس کے سردار تھے) اور اس کا تعلق قبیلہٴ خزرج کے ہمارے بھائیوں سے ہے تو آپ حکم دیجئے تاکہ ہم اس پر عمل کریں ۔ سعد بن عبادہ قبیلہٴ خزرج کے سردار تھے وہ ایک صالح شخص تھے لیکن اس موقع پر انھیں قوی تعصّب نے آگھیرا (عبد الله بن ابی سلول جس نے یہ جھوٹا پراپیگنڈا کیا تھا اس کا تعلق قبیلہٴ خزرج سے تھا) سعد بن عباد نے سعد بن معاذ کی طرف رخ کیا اور کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، اگر وہ ہمارے قبیلے سے ہوا تو ایسے شخص کو قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اسید بن خضیر سعد بن معاذ کا چچازاد تھا، اس نے سعد بن عبادہ کی طرف رخ کیا اور کہا: تو غلط کہتا ہے والله ہم ایسے شخص کو قتل کرکے رہیں گے، تو منافق ہے اور منافقوں کی حمایت کرتا ہے ۔ کوئی کسر نہ رہ گئی تھی کہ اوس وخزرج باہم دست وگریبان ہوجائیں اور ان کے درمیان جنگ چھڑ جائے جبکہ رسول الله منبر پر بیٹھے تھے، آخرکار آنحضرت نے انھیں خاموش کیا۔ معاملہ اسی طرح رہا، میں بہت غمزدہ تھی، ایک مہینہ گزرگیا کہ رسول الله میرے پاس نہ بیٹھے تھے ۔ میں جانتی تھی کہ میرا دامن پاک ہے اور آخرکار الله اس بات کو واضح کردے گا۔ بالآخر ایک روز رسول الله میرے پاس آئے، آپ بہت خوش تھے، آپ نے آتے ہی یہ فرمایا: تجھے خوش خبری ہو کہ الله نے تجھے اس الزام سے بری قرار دیا ہے ۔ ا س موقع پر <إِنَّ الَّذِینَ جَائُوا بِالْإِفْک....کی تمام آیات نازل ہوئیں اور ان آیات کے نزول کے بعد ان سب افراد پر حدّقذف جاری گئی جنھوں نے یہ جھوٹ پھیلایا تھا (۲) ۔ ایک اور شان نزول جو پہلی شان نزول کے ساتھ بعض کتب میں مذکور ہے، کچھ اس طرح ہے: رسول الله کی زوجہ عائشہ نے آپ کی زوجہ ماریہ قبطیہ پر تہمت لگائی کیونکہ ماریہ کا رسول الله سے ایک بیٹا تھا، ابراہیم ان کا نام تھا، وہ دنیا سے چل بسے تو رسول الله شدید غمگین ہوئے ۔ عائشہ نے کہا: آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں، وہ تو در حقیقت آپ کا بیٹا ہی نہ تھا وہ تو جریح قطبی کا بیٹا تھا۔ آنحضرت نے یہ بات سنی تو حضرت علی علیہ السلام کو جریح کے قتل پر مامور کیا کہ جو اس قسم کے جرم کا مرتکب ہوا تھا۔ جب علی علیہ السلام برہنہ شمشیر لئے جریح کی تلاش میں نکلے تو اس کی آپ پر نظر پڑی، اس نے علی علیہ السلام کے چہرے پر آثار غضب دیکھے تو بھاگ کھڑا ہوا اور کھجور کے درخت پر چڑھ گیا۔ جب اس نے محسوس کیا کہ ہوسکتا ہے علی علیہ السلام اس تک آپہنچیں گے تو اس نے درخت سے چھلانگ لگادی، اس اثنا میں اس کا لباس اوپر ہوگیا تو معلوم ہوا کہ اس کا آلہٴ تناسل بالکل ہی نہیں ۔ علیعلیہ السلام ، رسول الله کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کی: آپ کے حکم پر قطعی طور پر عمل کروں یا تحقیق کروں؟ رسول الله نے فرمایا: تحقیق کرو ۔ اس پر علی علیہ السلام نے وہ واقعہ رسول الله کی خدمت میں عرض کیا۔ اس پر پیغمبر خدا الله کا شکر بجالائے اور فرمایا: اس الله کا شکر ہے جس نے بدی اور آلودگی کو ہمارے دامن سے دور رکھا۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کیا (۳) ۔ 1۔ جنگ بنی المصطلق، پانچ ہجری ۔ ۲ ۔ جو کچھ سطور بالا میں ذکر کیا ہے یہی روایت تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اکثر کتب تفاسیر میں موجود ہے، ہم نے اسے کچھ اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ ۳۔ تفسیر المیزان، نور الثقلین اور صافی، تلخیص کے ساتھ .