لِّكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُّسْتَقِيمٍ
For every nation We have appointed rites [of worship] which they observe; so let them not dispute with you concerning your religion, and invite to your Lord. Indeed, you are on a straight guidance.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 22:67
[Pooya/Ali Commentary 22:67] Rites and ceremonies may appear to be a less important matter compared with the higher needs of man's spiritual nature, but such visible public presentations are necessary for stimulating the latent spirit of mutual love and friendship among the believers in order to structure a just, fair and harmonious society. They manifest the inner attitude of a believing community towards the supreme authority of Allah. Aqa Mahdi Puya says: Rites and ritual have been prescribed, apart from their social advantages, mainly to test man's willingness to obey Allah's commands. From prophet to prophet these rites and rituals were changed and amended to suit the advancement and progress in human society. Refer to al Baqarah: 142 and 143.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 22:67-70
سوره حج / آیه 67 - 78
۶۷ لِکُلِّ اٴُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَکًا ھُمْ نَاسِکُوہُ فَلَایُنَازِعُنَّکَ فِی الْاٴَمْرِ وَادْعُ إِلَی رَبِّکَ إِنَّکَ لَعَلیٰ ھُدًی مُسْتَقِیمٍ ۶۸ وَإِنْ جَادَلُوکَ فَقُلْ اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ۶۹ اللهُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیمَا کُنْتُمْ فِیہِ تَخْتَلِفُونَ ۷۰ اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ إِنَّ ذٰلِکَ فِی کِتَابٍ إِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللهِ یَسِیرٌ ۷۱ وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَانًا وَمَا لَیْسَ لَھُمْ بِہِ عِلْمٌ وَمَا لِلظَّالِمِینَ مِنْ نَصِیرٍ ۷۲ وَإِذَا تُتْلَی عَلَیْھِمْ آیَاتُنَا بَیِّنَاتٍ تَعْرِفُ فِی وُجُوہِ الَّذِینَ کَفَرُوا الْمُنْکَرَ یَکَادُونَ یَسْطُونَ بِالَّذِینَ یَتْلُونَ عَلَیْھِمْ آیَاتِنَا قُلْ اٴَفَاٴُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِکُمْ النَّارُ وَعَدَھَا اللهُ الَّذِینَ کَفَرُوا وَبِئْسَ الْمَصِیرُ ۷۳ یَااٴَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَہُ إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لَنْ یَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوْ اجْتَمَعُوا لَہُ وَإِنْ یَسْلُبْھُمْ الذُّبَابُ شَیْئًا لَایَسْتَنقِذُوہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ ۷۴ مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہِ إِنَّ اللهَ لَقَوِیٌّ عَزِیزٌ ۷۵ اللهُ یَصْطَفِی مِنَ الْمَلَائِکَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللهَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ ۷۶ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اٴَیْدِیھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَإِلَی اللهِ تُرْجَعُ الْاٴُمُورُ ۷۷ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا ارْکَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ۷۸ وَجَاھِدُوا فِی اللهِ حَقَّ جِھَادِہِ ھُوَ اجْتَبَاکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ اٴَبِیکُمْ إِبْرَاھِیمَ ھُوَ سَمَّاکُمْ الْمُسْلِمینَ مِنْ قَبْلُ وَفِی ھٰذَا لِیَکُونَ الرَّسُولُ شَھِیدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُونُوا شُھَدَاءَ عَلَی النَّاسِ فَاٴَقِیمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ ھُوَ مَوْلَاکُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَی وَنِعْمَ النَّصِیرُ ترجمہ ۶۷۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک عبادت مقرر کی ہے تاکہ وہ (الله کے حضور) عبادت کرے، پس انھیں تیرے ساتھ اس سلسلے میں ہرگز جھگڑنا نہیں چاہیے، تو اپنے پالنے والے کی طرف دعوت دے، کیونکہ تو یقیناً ہدایتِ مستقیم پر ہے، (سیدھا اور صحیح راستہ یہی ہے جس پر تو گامزن ہے) ۔ ۶۸۔ پھر بھی وہ تیرے ساتھ جھگڑنے لگیں تو کہہ دے کہ جو کچھ تم کرتے ہو، الله اس سے خوف واقف ہے ۔ ۶۹۔ روز قیامت الله تمھارے اختلافات کا فیصلہ کردے گا ۔ ۷۰۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ زمین وآسمان کا سب کچھ الله کے علم میں ہے، یہ سب کچھ (الله کے لامتناہی علم کی کتاب میں لکھا ہوا ہے اور خدا کے لئے یہ آسان سی بات ہے ۔ ۷۱۔ الله کو چھوڑ کر وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لئے الله نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور نہ ہی ان کو اپنے خود ساختہ معبودوں کے بارے میں کوئی معلومات ہیں اور گناہگاروں کے لئے کوئی مددگار اور رہبر نہیں ۔ ۷۲۔ جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو تُو کفار کے چہروں پر انکار کے تیور ملاحظہ کرتا ہے (ایسا معلوم ہوتا ہے) کہ وہ جلد ان پر مکوں سے حملہ شروع کردیں جو ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھتے ہیں، یعنی بھسم کردینے والی (جہنّم) کی آگ جس کا الله نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے ۔ ۷۳۔ اے لوگو! ایک مثال غور سے سنو! الله کو چھوڑ کر تم جنھیں پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی پیدا نہیں کرسکتے، بلکہ مکھی اگر کچھ لے لے تو واپس نہیںلے سکتے، طالب ومطلوب (عابد ومعبود) دونوں ہی بڑے کمزور ہیں ۔ ۷۴۔ جس طرح پہچاننے کا حق تھا انھوںنے الله کو ہرگز نہی پہچانا، بیشک الله طاقتور اور ناقابل شکست ہے ۔ ۷۵۔ الله فرشتوں میں سے پیغامبر منتخب کرتا ہے اور اسی طرح انسانوں میں سے بیشک الله سننے والا اور دیکھنے والا ہے ۔ ۷۶۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جوکچھ ان کے پیچھے ہے، وہ جانتتا ہے اور تمام امور کی بازگشت الله کی طرف ہے ۔ ۷۷۔ اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ بجالاوٴ اور اپنے پالنے والی کی عبادت کرو اور نیک کام کرو تاکہ نجات پاجاوٴ۔ ۷۸۔ اور راہ خدا میں ایسا جہاد کرو جو جہاد کرنے کا حق ہے، اس نے تمھارا انتخاب کیا ہے اور دین میں تم پر مشقت طلب بوجھ نہیں ڈالتا، یہ وہی تمھارے باپ ابراہیم کا دین ہے، اس نے پہلی کتب اور اس کتاب میں تمھارا نام ”مسلمان“ رکھا ہے تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر، لہٰذا نماز پڑھو اور زکوٰة دو اور الله کے ساتھ وابستہ رہو، کیونکہ وہی تمھارا مولا اور سرپرست ہے اور وہ کیسا اچھا مولا اور کتنا عمدہ مددگار ہے ۔