وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوٓاْ أَوۡ مَاتُواْ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ ٱللَّهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰزِقِينَ
Those who migrate in the way of Allah and then are slain, or die, Allah will surely provide them with a good provision. Allah is indeed the best of providers.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 22:55-59
رزقِ حسن
تفسیر رزقِ حسن گذشتہ آیتیں، الله کی نشانیوں کو محو کرنے کے لئے مخالفین کی سرگرمیوں کے بارے میں تھیں، زیرِ بحث آیتوں میں انہی متعصّب اور ضدّی لوگوں کی ان مذموم کوششوں کے جاری رہنے کا ذکر ہے ۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ”کفار ہمیشہ قرآن مجید اور تیرے توحیدی دین کے بارے میں (روز قیامت تک) شکوک میں مبتلا رہیں گے، حتّیٰ کہ قیامت اچانک آجائے گی، یا یومِ عقیم کہ جس دن وہ کسی قسم کی تلافی کرنے کی صلاحیّت نہ رکھتے ہوں گے کا عذاب ان کو آلے گا (وَلَایَزَالُ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی مِرْیَةٍ مِنْہُ حَتَّی تَاٴْتِیَھُمْ السَّاعَةُ بَغْتَةً اٴَوْ یَاٴْتِیَھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیمٍ) ۔ واضح رہے کہ کافرین سے مراد تمام کفار نہیں ہیں، کیونکہ ان میں کے بہت سے تبلیغ کے دوران پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر ایمان لے آئے تھے اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوگئے تھے، یہاں کافرین سے مراد ان کے ضدّی اور متعصّب سردار اور ہٹ دھرم کینہ پرور لوگ جو آخر تک ایمان نہ لائے اور تخریبی کارروائیوں میں مصروف رہے ۔ لفظ ”مریہ“ جس کا معنیٰ رشک، تردد اور تذبذب ہے، یہ ظاہر کرتاہے کہ کفار قرآن اور اسلام کو یقین کی حد تک غلط نہیں سمجھتے تھے اگرچہ زبان سے ایسا ہی کہتے تھے، وہ اسلام کے خلاف یقین کی منزل سے گرکر کم از کم شک کی سطح پر آگئے تھے مگر تعصّب اور کینہ انھیں حقیقت کو پانے کے لئے مزید مطالعے کی اجازت نہیں دیتا تھا، لفظ ”ساعة“ کے متعلق اگرچہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس کا مطلب ”موت“ اور ”لمحاتِ مرگ“ ہے مگر بعد کی آیتیں بتلاتیں ہیں کہ اس سے مراد قیامت کا آنا ہے، علی الخصوص ”بغتة“ یعنی اچانک اور ”ناگہانی“ کے قرینے سے ”یوم عقیم“ کے عذاب سے مراد قیامت کی سزا ہے، اس کو ”بانجھ“ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے ان کا کوئی ایسا دن میسّر نہ آئے گا کہ اپنے گناہوں کا کفارہ، یا کوتاہیوں کا ازالہ کرسکیں اور اپنی حالت وکیفیت میں کسی قسم کی تبدیلی کرسکیں، اس کے بعد قیامت کے دن الله کی ہمہ جہت حاکمیت اعلیٰ کا ذکر کیا گیا ہے، اس دن صرف اور صرف الله ہی کا حکمرانی ہوگی (الْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ) ۔ یہ بات صرف قیامت کے دن سے ہی مخصوص نہیں ہے، کیونکہ الله تو ہمیشہ ہمہ جہت اور مطلق حاکم ہے، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا، البتہ دُنیا میں چونکہ دوسرے حکام اور فرمانروا بھی ہوتے ہیں، اگرچہ ان کی حکومت محدود اور کمزور ہوتی ہے اور اس کی صورت صرف ظاہری ہوتی ہے ۔ البتّہ یہی بات ہوسکتی ہے، اس امر کا باعث بنے کہ کہاجائے کہ الله کے علاوہ اور بھی حاکم ومالک موجود ہیں، لیکن روزِ قیامت جبکہ قیامت دنیاوی تمام حاکموں اور بادشاہوں کی بساط لپیٹ دی جائے گی، تب یہ حقیقت ہر زمانے سے زیادہ واضح ہوگی کہ حاکم ومالک صرف اور صرف الله ہی ہے ۔ بالفاظ دیگر حاکمیّت کی دوقسمیں ہیں، ایک حقیقی حاکمیت جو خالق کوو مخلوق پر حاصل ہے، دوسری اعتباری اور قراردادی گئی، حاکمیت جو لوگوں کے درمیان ایک نظام قائم رکھنے کے لئے ہوتی ہے، دُنیا میں دونوں قسم کی حاکمیتیں موجود ہیں، مگر آخرت میں اعتباری اور قرار دی گئیں حکومتیں سب کی سب ختم کردی جائیں گی اور صرف خلاق عالم کی حاکمیت باقی رہ جائے گی ۔(۱) بہرحال حقیقی مالک وہی ہے، چنانچہ حقیقی حاکم و فرمانروا بھی وہی ہوگا، لہٰذا وہ کافر ومومن تمام انسانوں کا فیصلہ کرے گا اس کا نتیجہ وہی ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں اس کے بعد کیا گیا ہے، یعنی: جو ایمان لائے اور نیک اعمال نجام دیئے ۔ بہشت میں طرح طرح کی نعمتوں والے ابغوں میں رہیں گے، ایسے باغات جہاں ہر وہ نعمت اور ہر خیر وبرکت موجود ہوگی ۔ جس کا وہ تصور کریں گے (یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ فَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ) ۔ البتہ جو منکر بنے اور جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا وہ ذلّت آمیز عذاب میں مبتلا رہیں گے (وَالَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِآیَاتِنَا فَاٴُوْلٰئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُھِینٌ) ۔ واقعی کیا منھ بولتی اور زندہ تصویر پیش کی گئی ہے یہ عذاب ان لوگوں کو رسوا اور پست کرے گا جو مغرور اور متکبّر تھے، جو اپنے آپ کو باقی مخلوق خدا سے برتر سمجھتے تھے، خودکو بڑے اور دوسروں کو پست اور چھوٹا سمجھتے تھے ۔ قرآن کی آیات میں عذاب کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں ”الیم“”عظیم“ اور ”مھین“ ان میں سے ہر قسم، گناہ کی اس قسم کے ساتھ مطابقت ومناسبت رکھتی ہے جو مغرور اور متکبّر لوگ کرتے رہے ہوں گے ۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ مومنین اور کفار دونوں کے ساتھ دو چیزوں کی نسبت دی گئی ہے، مومنین کے لئے ایمان اور عمل صالح، اور کفار کے لئے کفر اور تکذیب، در اصل یہ ہر گروہ کی اندرونی اعتقاد اور ظاہری آثار کی عکّاسی ہے، کیونکہ انسان کے اعمال وکردار کا سرچشمہ اس کے نظریات ہیں ۔ گذشتہ چند آیتوں میں الله اور اس کے دین کے لئے اپنے گھر بار چھوڑنے والے مہاجرین کا ذکر تھا، زیرِ بحث آیت میں ان کو ایک ممتاز طبقے کے طور پر پیش کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: جنھوں نے راہِ خدا میں ہجرت کی اور اس کے بعد جامِ شہادت نوش کیا یا ویسے ہی چل بسے، الله ان کو عمدہ روزی اور مخصوص نعمتوں سے نواز دے گا، کیونکہ وہ بہترین روزی دینے والا ہے (وَالَّذِینَ ھَاجَرُوا فِی سَبِیلِ اللهِ ثُمَّ قُتِلُوا اٴَوْ مَاتُوا لَیَرْزُقَنَّھُمْ اللهُ رِزْقًا حَسَنًا وَإِنَّ اللهَ لَھُوَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ) ۔ بعض مفسرین نے ”رزق حسن“ سے مراد وہ نعمتیں لیں ہیں جن پر اگر انسان کی نظر پڑے تو دیکھتا ہی رہ جائے اور اس میں ایسا کھوجاتا ہے کہ کسی دوسری چیز کا ہوش نہیں رہتا اور ایسی روزی صرف الله ہی دے سکتا ہے ۔ بعض علماء نے اس آیت کا شانِ نزول یہ بیان کی ہے: جب مسلمانوں نے مدینے کی طرف ہجرت کی، وہاں کچھ مسلمان تو طبعی موت سے دُنیا سے اُٹھ گئے اور بعض نے جامِ شہادت نوش کیا، اس موقع پر مسلمانوں کا ایک گروپ یہ تاٴثر دینے لگا کہ تمام درجات اور فضیلتیں صرف ان ہی سے مخصوص ہیں جو شہید ہوئے ہیں اور ویسے فوت ہونے والوں کے لئے کچھ نہیں ہے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور دونوں کو نعمتوں کا مستحق بتایا ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ اصل اہمیت راہِ خدا میں جان دینا ہے، چاہے میدانِ کارزار میں جام شہادت نوش کرے ہوئے دے یا اطاعت راہِ خدا میں فوت ہوجائے، الله کی فرمانبرداری کرتے ہوئے مرنے والا بھی شہداء کے ثواب کا حامل ہوتا ہے ۔ ”انّ المقتول فیسبیل الله والمبیت فی سبیل الله شہید“(2) آخری آیت میں عمدہ روزی کا ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے : الله انھیں ایسے مقام پر لے جائے گا کہ وہ خوش ہوجائیں گے (لَیُدْخِلَنَّھُمْ مُدْخَلًا یَرْضَوْنَہُ) ۔ یعنی اگر اس دنیا میں وہ اپنے گھر بار سے بڑی پریشانی اور دُکھ کے عالم میں نکلنے پر مجبور کردیئے گئے تو الله ان کو دوسرے جہان میں ایسی بارش گاہ اور مسکن دے گا، جو ہر لحاظ سے ان کے لئے لذّت انگیز اور نشاط وانبساط بخش ہوگا اور یوں ان کی جاں نثاری اور قربانی کی تلافی بہ طریق احسن کرے گا، آخر میں ارشاد ہوتا ہے کہ الله ان کے اعمال وکردار سے پوری طرح سے باخبر ہے، نیز حلیم وبردبار ہے اور سزاء وجزاء میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا، تاکہ اس امتحان گاہ میں مومنین کی تربیت بھی ہو، اور مکمل امتحان بھی (وَإِنَّ اللهَ لَعَلِیمٌ حَلِیمٌ) ۔ ۱۔ المیزان، ج۱۴، ص۴۳۳ 2۔ تفسیر طرقبی، ج۷، ص۴۴۸۷۰
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 22:55-59
سوره حج / آیه 55 - 60
۵۵ وَلَایَزَالُ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی مِرْیَةٍ مِنْہُ حَتَّی تَاٴْتِیَھُمْ السَّاعَةُ بَغْتَةً اٴَوْ یَاٴْتِیَھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیمٍ ۵۶ الْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ فَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ ۵۷ وَالَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِآیَاتِنَا فَاٴُوْلٰئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُھِینٌ ۵۸ وَالَّذِینَ ھَاجَرُوا فِی سَبِیلِ اللهِ ثُمَّ قُتِلُوا اٴَوْ مَاتُوا لَیَرْزُقَنَّھُمْ اللهُ رِزْقًا حَسَنًا وَإِنَّ اللهَ لَھُوَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ ۵۹ لَیُدْخِلَنَّھُمْ مُدْخَلًا یَرْضَوْنَہُ وَإِنَّ اللهَ لَعَلِیمٌ حَلِیمٌ ۶۰ ذٰلِکَ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِہِ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْہِ لَیَنصُرَنَّہُ اللهُ إِنَّ اللهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ترجمہ ۵۵۔ کفار ہمیشہ قرآن کے بارے میں شک میں مبتلا رہیں گے، یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے، یا یومِ عقیم (وہ دن جب وہ کسی تلافی کے قابل نہ ہوں گے) کا عذاب ان کو آلے ۔ ۵۶۔ اس دن صرف الله کی حکمرانی ہوگی، وہ ان کا فیصلہ کرے گا ۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انھوں اچھے عمل کئے ہیں وہ بہشت کے نعمتوں سے معمور باغوں میں ہوں گے ۔ ۵۷۔ اور جو کافر ہوگئے ہیں اور انھوں نے ہماری آیتوں کا جھٹلایا ہے ان کے لئے ذلّت آمیز عذاب ہے ۔ ۵۸۔ اور جن لوگوں نے راہِ خدا میں ہجرت کی پھر قتل ہوئے یا فوت ہوگئے الله انھیں بڑا عمدہ رزی دے گا اور الله ہی بہترین روزی دینے والا ہے ۔ ۵۹۔ الله انھیں ایسے مقام پر لے جائے گا وہ خوش ہوجائیں گے اور الله صاحبِ علم وحلم ہے ۔ ۶۰۔ بات یہی ہے اور جو شخص اپنے اوپر کی گئی زیادتی کے برابر سزا دے اور پھر اس پر زیادتی کی جائے تو الله ضرور اس کی مدد کرے گا ۔ اور الله معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 22:58
[Pooya/Ali Commentary 22:58] Please refer to the commentary of al Baqarah: 154 and Ali Imran: 169 for those who are slain in the cause of Allah (shuhada). Imam Husayn bin Ali left his home in the cause of Allah and was martyred in 61 Hijra at Karbala. These verses foretell the events of Karbala and martyrdom of Imam Husayn, his relatives and friends.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 22:58-64
There is again a promise to Imam Hussain for Divine Help for his patience. Remember the Prophet’s saying, “Hussain is from me and I am from him.” When he, under tyranny of infidel Quraish had to fly to Medina from Mecca. God gave him a chance of revenging in Badr in latter successors of the infidel Quraish in person of the cursed Yazid when he slew Imam Hussain i.e. again tyrannized the Prophet. So God’s promise, He will enliven the Prophet and his immaculate family – the tyrannized, on one side, and their enemies beginning with the first Khalifa down to Yazid – on the other side. To give necessary help to revenge themselves on these deadly enemies, with respective allies on either side, just as night follows day and vice versa. It is entirely in the hand of God to give succour to His obedient creatures against disobedient ones, who have in opposition of God, accepted his enemies as their leaders and who will not render any help on resurrection.