فَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ
Whoever is faithful and does righteous deeds, his endeavour shall not go unappreciated, and We will indeed record it for him.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:92-94
سورہ انبیاء / آیه 92 -94
(92) اِنَّ هٰذِهٓ ٖ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّّاحِدَةً ۖ وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ (93) وَتَقَطَّعُـوٓا اَمْرَهُـمْ بَيْنَـهُـمْ ۖ كُلٌّ اِلَيْنَا رَاجِعُوْنَ (94) فَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهٖۚ وَاِنَّا لَـهٝ كَاتِبُوْنَ ترجمہ (92) یہ (عظیم پیغمبر کہ جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور ان کے پیروکار) سب ایک ہی امت ہیں ( اورایک ہی هدف اور مقصد کے پیرو ہیں اور میں شمارا پروردگار ہوں ، پس میری ہی عبادت کرو۔ (93) (بے علم اور بے خبر پیروکاروں کے ایک گروہ نے) آپس میں اپنے کام میں تفرقہ ڈال دیا ہے (لیکن آخر کار)سب کے سب ہماری طرف پلٹ کرآئیں گے ۔ (94) جو شخص بھی کچھ اعمال صالح بجالائے گا جب کہ وہ باایمان بھی ہو ، تو اس کی کوششوں کی تا قدری نہیں ہوگی اورہم ان کےتمام اعمال لکھ رہے ہیں (تاکہ سب کو بڑی باریک بینی کے ساتھ ان کا بدلہ دیا جاۓ)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:92-94
ایک امت
تفسیر ایک امت : گزشتہ آیات میں خدا کے بعض پیغمبروں کے نام آ ۓ میں اور اسی طرح مریم جیسی مثالی خاتون کا نام آیا ہے۔ ان کے حالات زندگی بیان ہوئے ہیں۔ زیر بحث آیات میں ،مجموعی طور نتیجہ نکالتے ہوئے فرمایا گیا ہے ، یہ عظیم پیغمبر کہ ان کی طرف اشارہ ہوا ہے ، سب کے سب ایک ہی امت تھے ( ان هذه امتكم أمة واحدة )۔ ان سب کا پروگرام کی ایک تھا اور ان کا حدف و مقصد بھی ایسا ہی تھا۔ اگرچہ زمانہ اور ماحول کے اختلاف کے لحاظ سے مختلف خصوصیات اور ان کا انداز کا کچھ مختلف تھا یعنی ان کی تکنیک مختلف تھی۔ لیکن سب کے سب آخرالامر ایک ہی مسلک اور راہ پر گامزن تھے ۔ وہ سب کے سب توحید کی راہ میں شرک کے خلاف جدوجہد کرتے تھے اور دنیا کے لوگوں کو یگانگت ، حق اور عدالت کی دعوت دیتے تھے۔ پروگراموں اور هدف و مقصد کی یہ یگانگت اور وحدت اس بنا پر تھی کہ وہ سب کے سب ایک ہی مبداء سے فیض حاصل کرتے تھے کہ جو خدائے واحد ویکتا کا ارادہ تھا۔ لہذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے : میں تم سب کا پروردگار ہوں لہذا تم صرف میری ہی عبادت کرو: (وانا ربكم فاعبدون)۔ درحقیقت انبیاء کی توحید عقیدتی وعملی کا سر چمشہ وحی ہے ۔ اور یہ گفتگو علی علیہ السلام کی اس بات سے مشابہ ہے کہ جو آپ نے اپنے بیٹے امام مجتٰبے کو وصیت کرتے ہوئے فرمائی تھی: واعلم یابنی انه لوكان لربك شريك لاتتك رسله.ولعرفت افعاله وصفاته۔ اے بیٹا ! جان لے کہ اگر تیرے پروردگار کا کوئی اور بھی شریک ہوتا، تو اس کے رسول بھی تیری طرف آتے ، تو اس سے دنیا اور آثار قدرت کو بھی دیکھتا اور اس کے افعال و صفات کو بھی پہچانتا۔ ؎1 امت جیسا کہ راغب کتاب مفردات میں کہتا ہے ، ہراس گروہ اور جمعیت کے معنی میں ہے کہ جس کی کوئی مشترک جہت اس کے افراد کو آپس میں جوڑے رکھے. ایک دین ، ایک زمانہ یا ایک معین مکان کا اشتراک چاہے یہ وحدت اختیار کی ہو یا غیراختیاری۔ بعض مفسرین نے "امت واحدة" کو یہاں "دین واحد" کے معنی میں لیا ہے لیکن جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ تفسیر امت کے لغوی معنی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ بعض دوسرے لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس آیت میں " أمت " سے مراد ، تمام زمانوں اور قرنوں کے تمام انسان ہیں یعنی سے تمام انسانو! تم سب کے سب ایک ہی امت ہو، تمہارا پروردگار بھی ایک ہے اور تمہاراحقیقی مقصد بھی ایک ہے۔ یہ تفسیر اگرچہ گزشتہ تفسیر کی نسبت زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ، لیکن اس آیت کے ، پہلی آیتوں کے ساتھ تعلق کو مد نظر رکھتے ہوئے ، یہ صحیح نظر نہیں آتی ۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ جملہ ان ہی انبیاء و مرسلین کی طرف اشارہ ہے کہ جن کے حالات کی تقفصیل گزشتہ آیات میں بیان کی گئی ہے۔ اگلی آیت میں ، لوگوں کی اکثریت کے اس توحیدی بنیاد سے انحراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : وہ اپنے معاملے میں اختلافات کا شکار ہوگئے (وتقطعوا امرهم بينهم)۔ معاملہ اس حد کو پہنچ گیا کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور برگروہ دوسرے گروہ کولعن و نفرین کرنے لگا اور اس سے بیزار ہوگیا۔ انہوں نے اسی پر قناعت نہ کی بلکہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ہتھیار نکال لیے اور بہت زیادہ خونریزی کی اور یہ توحید اور حق دین واحد سے انحراف کا نتیجہ تھا۔ "تقطعوا" ماده "فطع " سے ہے، بی ایک با ہم ملی ہوئی چیز کو علیحدہ علیحدہ ٹکڑوں میں کردینے کے معنی میں ہے۔ یہ "باب تفعل" سےآیاہے، کہ قبول کرنے کے معنی میں بولا جاتا ہے، اس لحاظ سے جملے کا مفہوم اس طرح ہوگا : وہ تفرقہ اور نفاق کے عوامل کے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغبہ ، مکتوب 31- ۔--------------------------------------------------------------------------- سامنے جھک گئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی اور بے گانگی کو قبول کرکے اپنی فطری اور توحیدی وحدت کو ختم کردیا اور اس کے نتیجہہ میں ہرقسم کی شکست ، ناکامی اور بدبختی میں گرفتار ہوگئے ۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے : لیکن یہ سب کے سب آخر کار ہماری ہی طرف لوٹ کر آئیں گے (كل البنا راجعون)۔ یہ اختلاف جو عارضی ہے ختم ہوجائے گا اور پھر قیامت میں سب کے سب وحدت ہی کی طرف جائیں گے اور قرآن کی مختلف آیات میں اس مسئلے پر بہت تاکید کی گئی ہے کہ قیامت کی خصوصیات میں سے ایک اختلافات کا ختم ہوجانا اور و حدت کی طرف چل پڑنا ہے سورة مائدہ کی آیت 48 میں ہے : الى الله مرجعكم جميعًا فينبكم بماكنت فيه تختلفون تم سب کی بازگشت خدا ہی کی طرف ہے اور جن چیزوں میں اختلاف رکھتے تھے تمہیں وہ ان سے آگاہ کرے گا۔ یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیات میں نظر آتا ہے ۔ ؎1 اور اس طرح سے انسانوں کی خلقت "وحدت" سے ہی شروع ہوتی ہے اور وحدت کی طرف ہی لوٹ جائے گی ۔ آخری زیر بحث آیت میں پروردگار کی پرستش کی راہ میں "امت واحدہ" کے ساتھ ہم آہنگی کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے۔ جو کوئی بھی کچھ اعمال صالح انجام دے گا ، جبکہ وہ ایمان بھی رکھتا ہو ، تو اس کی جدوجہد اور کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی : (فمن يعمل من الصالحات وهو مؤمن فلاكفران لسعيه)۔ اور مزید تاکید کے لیے اضافہ کیا گیا ہے ، اور ہم اس کے اعمال صالح یقینًا لکھیں گے ( وإنا له كاتبون) اس آیت میں قرآن کی دوسری بہت سی آیات کی طرح ایمان اور عمل صالح کا انسانوں کی نجات کے لیے دو اساسی اور بنیادی ارکان کے طور ذکر ہوا ہے لیکن لفظ " من " کے اضافے کے ساتھ کہ جو تیعیض کے لیے آتاہے ۔ یہ اس مطلب کو بیان کرتا ہے کہ تمام اعمال کی انجام دہی بھی شرط نہیں ہے بلکہ اگر صاحبان ایمان کچھ بھی عمل صالح کی بجا لائیں تو بھی وہ اہل نجات و سعادت ہیں ۔ بہرحال یہ آیت قرآن کی بہت سی دوسری آیات کی طرح ، اعمال صالح کی قبولیت کی شرط ایمان کو شمار کرتی ہے۔ "لاكفران لسعيه" کے جملہ کا ذکر، اس قسم کے اولادی جزاءکے بیان کرنے کے لئے، ایک ایسی تعبیر ہے کہ جرانتا الان محبت اور بزرگواری کے ساتھ ملی ہوئی ہے کیونکہ خدا اس مقام پر اپنے بندوں کی قدردانی کرتے ہوئے ان کی سعی و کوشش کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔ یہ تعبیر اس تعبیرکی مانند ہے جو سورہ بنی اسرائیل آیہ 19 میں بیان ہوتی ہے : ومن اراد الأخرة وسطي لها سعيها وهو مؤمن فاولئك كان سعيهم مشکورًا جو شخص آخرت کے گھر کی خواہش کرے گا ، اور اس کے لیے سعی و کوشش کرے گا۔ جبکہ وہ ایمان بھی رکھتا ہو ، تو اس کی کوشش کی قدردانی کی جائے گی۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 آل عمران - 55 إنعام ، 164 ، نحمل ۔ 92 اور حج 69 وغیرہ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:94
[Pooya/Ali Commentary 21:94] If one does not believe in Allah and follow His religion (Islam), his good deeds shall not benefit him on the day of judgement.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 21:94-112
Approved righteousness on which reward is due is consequent on the following Divine Lights, cf. Jesus St. John 14:6, “I am the way, the truth, and the life. No man cometh unto the Father (God) but by me. So are Prophet Mohammad Truth and Ali Truth. None can reach Divine Proximity but by the Truth, Mohammad and his immaculate family. Barring these, the rest shall be hurled in hell in pursuance of Couplet 98, as virtues of only the faithful shall be appreciated (95) 105, presages resurrection of Divine Lights.