وَدَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ إِذۡ يَحۡكُمَانِ فِي ٱلۡحَرۡثِ إِذۡ نَفَشَتۡ فِيهِ غَنَمُ ٱلۡقَوۡمِ وَكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شَٰهِدِينَ
And [remember] David and Solomon when they gave judgement concerning the tillage when the sheep of some people strayed into it by night, and We were witness to their judgement.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:78
[Pooya/Ali Commentary 21:78] It is reported that a flock of sheep, on account of the negligence of John the shepherd, got into the cultivated field of Elia by night and ate up the plants and fruits. Both of them came to prophet Dawud for equitable settlement. Dawud awarded Elia, the owner of the cultivated field, the flock of sheep belonging to John in compensation for the loss he suffered. Prophet Sulayman son of Dawud was a mere boy of eleven, but he thought of a better decision, where the penalty would better fit the offence. Sulayman's suggestion was that John should cultivate Elia's field and return it to Elia when it was fully restored to the condition before eaten up by his herd; and in the meantime Elia should take possession of John's sheep and use only their milk and wool and return them to John when he gave him back his field duly cultivated. This is because Allah is present every where and having witnessed the whole affair He inspired Sulayman to arrive at the true judgement. As prophets of Allah neither spoke nor acted except as directed by Allah both the decisions were announced as inspired by Allah. The decision of Dawud was based upon the law current at that time. Dawud had many sons. It was Allah's will that Sulayman should be given the prophethood. So after this case in which the young Sulayman was inspired to announce a new judgement, superseding the current law, Dawud, under Allah's command, made Sulayman his heir, and after Dawud, Sulayman was appointed by Allah as His prophet. Aqa Mahdi Puya says: As also said in Saba: 10- "O mountains! Sing the praises of Allah with him (Dawud), and you birds (also)"-the mountains and birds, animate and inanimate beings, are subservient to the chosen representatives of Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:78-80
ایک نکتہ
ایک نکتہ: اس بارے میں مفسران میں اختلاف ہے کہ پہاڑ اور پرندوں کا داؤد کے ساتھ ہم صدا ہونا کس صورت میں تھا ۔مختلف مفسرین کی بعض آراء ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں: 1- کبھی تو یہ احتمال ظاہر کیا جاتا ہے کہ حضرت داؤ کی آواز بڑی پرکشش تھی کہ جو پہاڑوں میں گونجا کرتی تھی اور پرندوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ 2- کبھی یہ کہا جا تا ہے کہ یہ تسبیح ایک ایسے شعور کی حامل تھی کہ جو وزرات عالم کے اعلان میں موجود ہے ۔ کیونکہ اس نظریے کے مطابق عالم کے تمام موجودات عقل وشعور رکھتے ہیں۔ لهذا وجس وقت حضرت داود کی سناهاست سی سنتے تھے تو ان کے سائق مکمل ہوجائے اوران کی تسبہ کا غلندی ان کی آواز کے ساتھ مل جاتا تھا۔ ۳ 3- بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہی تین نبوی ہے کہ تمام موجودات عالم زبان حال سے کرتی ہیں کیونکہ ہر موجود کا ایک نشان ایک ایسا نظام کو جو بہت ہی دقیق اور حساب شده ہے۔ یہ وقت اور حساب شده نظام ایک ایسے خدا کے وجود پر دلالت کرتا ہے کہ جو پاک و منزہ بھی ہے اور صفات کمال کا مالک بھی ۔ عالم ہستی کے اس حیرت انگیز نظام کی بنا پر ہر گوشہ میں تینٓبیح اور حمد جاری ہے۔ (تسبیح کا معنی نقائص سے پاک شمار کرنا ہے اور حمد اس کی صفات کمال کی تعریف کرنا ہے )؎1 اگر یہ کہا جانے کہ یہ تسبیح تکوینی نہ تو پہاڑوں اور پرندوں کے ساتھ مخصوص ہے اور حضرت داود کے ساتھ بلکہ ہمیشہ اورجگہ تمام موجودات اس تسبیح میں مصروف ہے ۔ اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ ٹھیک ہے ، یہ عمومی تسبیح توہے، لیکن سب اس کو سنتے تو نہیں ہیں ، یہ تو حضرت داؤد کی عظیم روح تھی کہ جو اس حالت میں عالم ہستی کے اندر اور باطن کی ہم راز اور ان سے ہم آہنگ ہوجاتی تھی اور وہ اچھی طرح سے محسوس کرتے اور سنتے تھے کر پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ همصدا ہیں اور تسبیح کررہے ہیں۔ ان تفسیروں میں سے کسی کے لیے بھی ہمارے پاس کو قطعی اور دو ٹوک دلیل نہیں ہے۔ آیت کے ظاہر سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کہ ساتھ ہم صدا ہو جاتے تھے اور خدا کی تسبیح کرتے تھے۔ البتہ ان تینوں تفسریوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور ان تینوں کو ایک ساتھ بھی لیا جاسکتا ہے۔ زیر بحث آخری آیت میں ایک اور نعمت کی طرف کہ خدا نے اس عظیم پیغمبر کوعطاکی تھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے: ہم نے اسے زرہ بنانے کی تعلیم دی تھی تاکہ تمہاری جنگوں میں تمہاری حفاظت کرے، کیا تم خدا کا اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہور (وعلمناه صنعۃ لبوس لكمالتحصنكم من بأسكم فهل انتم شاكرون)۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎ مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد12 سورہ بنی اسرائیل کی آیہ 44 کے ذیل میں رجوع کریں ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ "لبوس" جیسا کہ طبرسی مرحوم "مجمع البیان" میں کہتے ہیں ، ہر قسم کے دفاعی اور حملوں میں استعمال ہونے والے اسلحہ جیسے زرہ ، تلوار اور نیزہ وغرہ کوکہتے ہیں۔ ؎1 لیکن قرآن کی آیت میں جو قرائن ہیں "وہ اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ "لبوس"، یہاں پر زرہ کے معنی میں ہے کہ جو جنگوں میں حفاظت کے کام آتی ہے۔ لیکن یہ بات کہ خدا نے حضرت داؤد کے لیے لوہے کو اس طرح سے نرم کیا تھا اور انہیں زرہ سازی کی صنعت سرور سکھائی، تور اس کی تفصیل ہم انشا الله سوره سبا کی آیه10 اور 11 کے ذیل میں بیان کریں گے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان ، زیربحث آیت کے ذیل میں -
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:78-80
سورہ انبیاء / آیه 78 - 80
(78) وَدَاوُوْدَ وَسُلَيْمَانَ اِذْ يَحْكُمَانِ فِى الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَـمُ الْقَوْمِۚ وَكُنَّا لِحُكْمِهِـمْ شَاهِدِيْنَ (79) فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا ۚ وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُوْدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْـرَ ۚ وَكُنَّا فَاعِلِيْنَ (80) وَعَلَّمْنَاهُ صَنْـعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْ بَاْسِكُمْ ۖ فَهَلْ اَنْتُـمْ شَاكِرُوْنَ ترجمہ (78) اور داؤد و سلیمان (کو یاد کرو) کہ جس وقت وہ ایک کھیت کے بارے میں ـــــ کہ جس کو ایک قوم کی بھیڑیں رات کو چرگئی تھیں (اور اسے خراب کردیا تھا) ــــ فیصلہ کررہے تھے اور ان کے فیصلے کے گواہ تھے۔ (79) ہم نے اس کا (صحیح فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا تھا اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کو فیصلہ کی (لیاقت اور) آگاہی دی تھی اور ہم نے داؤد کے لیے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ (خدا کی) تسیبح کرتے تھے اور ہم یہ کام کرنے پر قادر ہیں۔ (80) اور ہم نے اسے زرہ بنانے کی تعلیم دی ، تاکہ وہ تمہیں ، تمهاری جنگوں میں محفوظ رکھے۔ کیا (تم خدا کی ان نعمتوں کا) شکر ادا کرتے ہو؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:78-80
داؤدؑ اور سلیمانؑ کا فیصلہ
تفسیر داؤدؑ اور سلیمانؑ کا فیصلہ : حضرت موسٰیؑ ، حضرت ہارونؑ ، حضرت ابراہیمؑ ، حضرت لوطؑ ، اور حضرت نوحؑ سے متعلق واقعات کے بیان کے بعد زیر بحث آیات ، داؤدؑ و سلیمانؑ کی زندگی کے ایک حصہ کی طرف اشارہ کررہی ہیں ۔ ابتداء میں ایک فیصلے کا ذکر ہے کہ جو حضرت داؤد اور سلیمان نے کیا تھا ــــــــ ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور داؤد و سلیمان کو یاد کرو کہ جس وقت وہ ایک کھیت کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے کہ جس کو ایک قوم کی بھیڑیں رات کے وقت چرگئی تھیں (و داؤد و سليمان اذ يحكمان في الحرثان أذ نفشت فيه غنم القوم) - ؎1 اور ہم ان کے فیصلے کے شاہد تھے ( وكنا لحكمهم وشاهدين)۔ اگرچہ قرآن نے اس فیصلے کا واقعہ کا ملا سربستہ طور پر بیان کیا ہے اور ایک اجمالی اشارہ پر ہی اکتفا کیا ہے ، اور صرف اس کے اخلاقی اور تربیتی نتیجہ پر کہ جس کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے قناعت کی ہے، لیکن اسلامی روایات اور مفسرین کے بیانات میں اس سلسلے میں بہت سی بحثیں نظر آتی ہیں۔ کچھ مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ واقعہ اس طرح تھا : کہ بھیڑوں کا ایک ریوڑ رات کے وقت انگوروں کے ایک باغ میں داخل ہوگیا اور انگوروں کی بیلوں اور انگوروں کے گچھوں کو کھا گیا اور میں خراب اور ضائع کردیا۔ باغ کا مالک حضرت داؤد کے پاس شکایت لے کر پہنچا۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "فنشت" "نفش" ( بروزن "کفش") کے مادہ سے رات کو پراگنده ہونے کے معنی میں ہے، اور چونکہ بھیڑوں کا رات کو پراگندہ ہونا ، اور وہ بھی ایک کھیت میں ، طبعی طور پر اس میں چرنے سے ملا ہوا ہوگا ، لہذا بعض نے اسے رات کو چرنا کہاہے ، اور "نفشی" (برزون قفس) ان بھیڑوں کے معنی میں ہے کہ جو رات کو پراگندہ اور منتشر ہوجائیں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- حضرت داؤد نے حکم دیا کہ اس اتنے بڑے نقصان کے بدلے میں تمام بھیڑیں باغ کے مالک کو دے دی جائیں سلیمانؑ جو اس وقت بچے تھے باپ سے کہتے ہیں کہ : اے خدا کے عظیم پیغمبر آپ اس حکم کو بدل دیں اور منصفانہ فیصلہ کریں ! باپ نے کہا کہ وہ کیسے آپ جواب میں کہتے ہیں کہ : بھیڑیں تو باغ کے مالک کے سپرد کی جائیں تاکہ وہ ان کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور باغ کو بھیڑوں کے مالک کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اس کی اصلاح اور درستی کی کوشش کرے۔ جس وقت باغ پہلی حالت میں لوٹ آئے تو وہ اس کے مالک کے سپرد کر دیا جائے اوربھیڑوں میں بھی اپنے اس کے پاس لوٹ جائیں گی (اور خدائے بعد والی آیت کے مطابق سلیمان کے فیصلہ کی تائید کی )۔ یہ مضمون ایک روایت میں امام باقر اور امام صادقؑ" سے نقل ہواہے۔ ؎1 ممکن ہے یہ تصور ہو کہ یہ تفسیر لفظ "حرث" کے ساتھ جو کہ زراعت کے معنی میں ہے مناسبت نہیں رکھتی لیکن ظاہرًا "حرث" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں زراعت میں شامل ہے اور باغ بھی - جیسا کہ باغ والوں کی داستان (اصحاب الجنة) سوره قلم آیہ 17 تا 22 سے معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہاں چند اہم سوال باقی رہ جاتے ہیں۔ 1- ان دونوں فیصلوں کی بنیاد اور معیار کیا تها ؟ 2- حضرت داؤد اور سلیمان کے فیصلے ایک دوسرے سے مختلف کیوں تھے ! کیا وہ اجہتاد کی بنیاد پرفیصلہ کیا کرتے تھے ؟ 3- کیا یہ مسئلہ ، ایک مشورے کی صورت میں تھا یا دونوں نے ایک دوسرے سے الگ ، قطعی اور مستقل حیثیت سے فصلہ ديا تها: پہلے سوال کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ معیار اور بنیاد خسارے اور نقصان کی تلافی کرنا تھا ۔ حضرت داؤدؑ نے غور کیا اور دیکها کہ انگوروں کے باغ میں جو نقصان ہوا ہے ، وہ بھیڑوں کی قیمت کے برابر ہے۔ لہذا انہوں نے حکم دے دیا کہ اس نقصان کی تلافی کرنے کے لیے بھیڑیں میں باغ کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ قصور بھیڑوں کے مالک کا تھ۔ا۔ اس بات کی طرف توجہ رہے کہ بعض اسلامی روایات میں سے بیان ہوا ہے کہ رات کے وقت بھیڑوں والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ڑیوڑ کو دوسروں کے کھیتوں میں داخل ہونے سے روکے اور دن کے وقت حفاظت کی زمہ داری کھیتوں کے مالک کی ہے۔؎2 اور حضرت سلیمانؑ کے حکم کا ضابطہ یہ تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ باغ کے مالک کا نقصان بھیڑوں کے ایک سال کے منافع کے برابرہے۔ اس بنا پرفیصلہ تو دونوں نے حق و انصاف کے مطابق کیا ہے ، لیکن اس میں فرق یہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ کا فیصلہ زیادہ گہرائی پرمبنی تھا ، کیونکہ اس کے مطابق خساره یکمشت پورا نہیں کیا گیا تھا بلکہ اسی طرح خساره تدریجی طور پر پورا ہوتا اور یہ فیصلہ بھیڑوں والے سے بھی گراں نہ تھا ۔ علاوہ ازیں نقصان اور تلافی کے درمیان امٓیک تناسب تھا ، کیونکہ انگور کی جڑیں ختم نہیں ہوئی تھیں ، صرف ان کا وقتی منافع ختم ہوا تھا: ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان ، زیربحث آیت کے ذیل میں - ؎2 مجمع البیان زیربحث آیت کے ذیل میں - اس طرح بیان ہواہے کہ " روی عن النبي آنہ قضٰی بحفظ المواشي على اربا بهاليلا وقضی بحفظ الحرث علی اربابها نهارا "یہی مضمون تفسیرصافی میں بھی کتاب کافی کاف سے منقول ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- لہذا زیادہ منصفانہ فیصلہ یہ تھا کہ اصل بھیڑیں باغ کے مالک کو نہ دی جائیں ۔ بلکہ اسے ان کا منافع دیا جائے۔ ودسرے سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بے شک انبیا کافیصلہ خدائی وحی کی بنیاد پر ہوتا ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں جب بھی کسی فیصلے کا موقع ہو، تو ہر خاص فیصلہ کے وقت خاص وحی نازل ہوتی ہے بلکہ وہ ان عمومی ضابطوں کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں جو انہوں نے وحی سے حاصل کیے ہوتے ہیں۔ ان اس بنا پر اصطلاعی معنی میں اجتہاد نظری یعنی اجتہاد ظنی کی ــــــــ ان کے بارےمیں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی امر باقی نہیں ہے کہ ایک ضابطہ گلی کوعملی شکل دینے میں دو راستے موجود ہوں اور دو پیغمبر میں سے ہر ایک ان میں سے کسی ایک راستے کو اختیار کرلے ہے جبکہ حقیقت میں وہ دونوں کے دونوں صحیح ہوں اور اتفاق کی بات یہکہ ہماری اس بحث میں بھی مطلب اسی طرح کا ہے۔ جیسا کہ اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے لیکن جیسا کہ قرآن اشارہ کرتا ہے، وہ راہ جو سلیمان نے اختیار کی (وہ اجرائی لحاظ سے) زیادہ مناسب تھی اور" و كلًااتیناحكما و علما" (ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو حکم و علم دیا تھا) کا جملہ جو اگلی آیت میں آئے گا دونوں فیصلوں کی درستی پر گواہ ہے۔ تیرے سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بعید نہیں ہے کہ یہ بات مشاورت کے اطورپر ہی ہو ، ایسی مشاورت کہ جو احتمالًا سليمانؑ کی آزمائش اور امر قضاوت میں ان کی لیاقت کو آزمانے کے ایسی صورت بنائی ہوئی ہو "حکمھما (ان دونوں ک حکم)کی تعبیر بھی ان کے آخری حکم کے ایک ہونے پر گواہ ہے۔ اگرچہ ابتداء میں دومختلف تجویزیں ہی تھیں ۔(غور کیجیئے گا)۔ ایک روایت میں امام باقر علیہ اسلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : لم یحكما إنما كانا يتناظران انہوان نے آخری فیصلہ نہیں دیا تھا وہ تو اس میں اپنی اپنی آراء پیش کر رہے تھے اور مشورہ کر کر رہے تھے۔ ؎1 ایک اور روایت ہے کہ جو اصول کافی میں امام صادق علیہ اسلام سے نقل ہوئی ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ماجرا داؤد کے وصی و جانشین سے تقرر کے لیے آزمائش کے طور پر تھا۔ ؎2 بہرحال بعد والی آیت میں سلیمان کے فیصلے کی اس صورت میں تائید کی گئی ہے ، ہم نے یہ فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھا دیا تھا ، اور ہماری تائید سے اس نے اس جھگڑے کے حل کی بہترین راہ معلوم کرلی (ففهمناها سلیمان)۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کر حضرت داد کا فیصلہ غلط تھا۔ کیونکہ قرآن ساتھ ہی کہتا ہے ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو آگاہی اور فیصلے کی اہلیت اور علم عطا کیا تھا (وكلًاتینا حكمًا وعلمًا)۔ اس کے بعد ایک اور اعزاز کہ جو خدا نے حضرت داؤد کو دیا تھا ، اس کی طرف اشارہ کرتے فرمایا گیا ہے۔ ہم نے پہاڑورں کو داؤد کے لیے مسخر کردیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور اسی طرح پرندوں کو بھی (و سخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطير)۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 " من لایحضره الفقيه - ؎2 مزید وضاحت کے لیے تقسیر صافی میں زیر بحث آیہ کے ذیل رجوع کریں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ سب باتیں ہماری قدرت کے سامنے کوئی اہم چیز نہیں ہیں ہم یہ کام انجام دینے پرقادر تھے (ويكنا فاعلين)-