وَنَضَعُ ٱلۡمَوَٰزِينَ ٱلۡقِسۡطَ لِيَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٞ شَيۡـٔٗاۖ وَإِن كَانَ مِثۡقَالَ حَبَّةٖ مِّنۡ خَرۡدَلٍ أَتَيۡنَا بِهَاۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَٰسِبِينَ
We shall set up just scales on the Day of Resurrection, and no soul will be wronged in the least. Even if it be the weight of a mustard seed We shall produce it and We suffice as reckoners.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 21:42-50
Bodily notes are enough.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:46-47
قیامت میں عدل کے ترازو
تفسیر قیامت میں عدل کے ترازو : گزشتہ آیات میں سے ایمان لوگوں کے غرور اور بے خبری کی حالت بیان کی گئی تھی ۔ زیر نظر آیات میں فرمایا گیا ہے: یہ مغرور اور بے خبر لوگ نعمت اور سکون کی حالت میں تو ہرگز خدا کے بندے نہیں بنتے (لیکن) اگر تیرے پروردگار کے عذاب کا ایک ذرہ بھی ان کے دامن کو آلگے ۔ تو اس طرح سے وحشت زدہ ہوجائیں اور چیخنے لگیں کہ ہائے افسوس ہم تو سب کے سب ظالم تھے: :( ولئن متهم ففحة من عذاب ربك ليقولن يا ويلنا انأ كنا ظالمين)۔ مفسرین اور ارباب لغت کے قول کے مطابق لفظ" تضحة " حقیر یاکم مقدار چیز یا ملائم ہوا کے معنی میں ہے ، اگرچہ یہ لفظ زیادہ تر رحمت و نعمت کی ہواؤں کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن عذاب کے لیے بھی استعمال ہواہے ۔ تفسیرکشاف کے مطابق "لئن متتهم نفحة .. .. .. " میں تین تعبیریں ایسی ہیں کہ جو سب ناچیزی اورکمی کی طرف اشاره ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیررازی ، تفسیرفی ظلال ، مفردات راغب آیہ زیر بحث اور مادہ "نفحة" کے ذیل میں ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کرتی ہیں "مس" کی تعبیر اور "نفحة" کی تعبیر مادة لغت کے اعتبار سے نیز وزن اور صیغہ کے لحاظ سے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن ہی کہنا چاہتا ہے کہ یہ دل کے اندھے سالہا سال تک پیغمبر کی باتیں اور وحی کی منطق سنتے رہتے ہیں مگر ان پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا مگر جس وقت عذاب کا تازیانہ ــــــ چاہے وہ کتنا ہی خفیف اور مختصر ہو ـــــ ان کی پشت پر لگے گا تو پھر ان کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے اور کہنے لگلیں گے کہ "اناكناظالمين" تو کیا عذاب کا تازیانا کھا کر ہی انہیں بیدار ہونا چاہیئے ؟ اس کا کیا فائدہ ؟ کیونکہ یہ اضطراری بیداری بھی ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی ، اس لیے کہ اگر طوفان عذاب رک جائے اور و سکون حاصل کرلیں تو وہ پھر اسی راستے پر چلنے لگیں گے اور وہی طرز عمل اپنالیں گے۔ زیر بحث دوسری آیت قیامت میں دقیق حساب کتاب اور عادلانہ جزا و سزا کی طرف اشارہ کر رہی ہے ، تاکہ بے ایمان اور ستمگر یہ جان لیں کہ اگر بالفرض دنیا کا عذاب انہیں دامنگیر ہوا تو آخرت کی سزا تو حتمی ہے اور باریک بینی کے ساتھ ان کے تمام اعمال کا حساب کتاب کیا جائے گا۔ لہذا ارشاد ہوتا ہے : ہم قیامت کے دن عمل کے ترازو نصب کریں گے :( ونضع الموازين القسط ليوم القيامة)۔ "قسط" کبھی تو عدم تبعیض اور ٹکڑے ٹکڑے نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتاہے اور کبھی مطلق طور پر عدالت کے معنی میں اور یہاں دوسرا معنی مناسب ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ "قسط کا لفظ یہاں پر "موازین" کی صفت کے طور پر آیا ہے ۔ یہ ناپ تول کے ترازو ایسے دقیق اور و منظم ہیں کہ گویا عین عدالت ہیں۔ ؎1 اور اسی بنا پر ساتھ ہی مزید ارشاد ہوتا ہے : کسی بھی شخص پر وہاں معمولی سا بھی ظلم و ستم نہیں ہوگا: (فلاتظلم نفس شیئًا)۔ نہ نیکی کرنے والوں کی جزاء میں کوئی کمی ہوگی اور نہ ہی بدکاروں کی سزا میں کوئی زیادتی کی جائے گی۔ لیکن ظلم وستم کی اس نفی کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ حساب کتاب میں باریک بینی نہیں ہوگی بلکہ "اگر رائی کے برابر بھی کسی کا کوئی نیک یا بد کام ہو گا ، تو ہم اسے حاضر کر دیں گے"۔ (اوراسے تول کر دکھائیں گے) : (وان كان مثقال حبة من خردل آتيناها)۔ " اور (عدل کے لیے) اتنی بات ہی کافی ہے کہ بندوں کے اعمال کا حساب کرنے والے ہم خود ہوں گے" :(وکفی بناحاسبين). "خردل" کالے رنگ کے بہت چھوٹے چھوٹے دانوں والی ایک گھاس ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے پن اور حقیر اور معمولی چیزہونے میں ضرب المثل ہے۔ إس تعبیرکی ایک نظیر قرآن میں ایک اور جگہ "مثقال ذرة " " ایک ذرہ کا وزن" (ایک بہت ہی چھوٹی سی چیونٹی یا مٹی اور ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اگرچہ "موازين" جمع ہے اور "قسط" مفرد لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قسط مصدرہے اور مصدر کی جمع نہیں ہوتی لہذا کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی۔ ؎2 ہمارے ہاں اسے "رائی" کہتے ہیں ۔ (مترجم)۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ غبار کا ایک چھوٹا ساذرہ) کے عنوان سے آئی ہے، ( تزال - 7) یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید میں چھ موقعوں پر " مثقال ذرة “ کی تعبیر اور دو موقعوں پر "مثقال حبة من خردل" کی تعبیر آئی ہے۔ درحقیقت زیر نظر آیت میں قیامت کے دن کے دقیق حساب و کتاب کے مسئلے پر چھ مختلف تعبیروں کے ساتھ تاکید ہوئی ہے۔ 1- لفظ "موازين" وہ بھی جمع کی صورت میں ۔ 2- پھر "قسط" کے وصف کا ذکر 3- اس کے بعد ظلم کی نفی پر تاکید "فلا تظلم نفس" 4- اور اس کے بعد کلمہ "شیئًا" (کوئی بھی چیز) کا استعمال 5- اور اس کے بعد رائی کے دانے کی مثال 6- اور آخر میں "كفى بناحاسبين" (یہی کافی ہے کہ حساب لینے والے ہم ہوں گے کا جملہ)۔ یہ سب تاکیدیں اس بات کی دلیل ہیں کہ قیامت کے دن حساب کتاب حد سے زیادہ دقیق اور ہر قسم کے ظلم و ستم سے پاک ہوگا۔ اس بارے میں کہ ناپ تول کے ترازو سے مراد کیا ہے؟ بعض نے تو یہ خیال کیا ہے کہ وہاں اس دنیا کے ترازوں کی طرح کے ترازو نصب ہوں گے اور اسی بنا پر فرض کرلیا ہے کہ انسان کے اعمال وہاں پر بوجھ اور وزن رکھتے ہوں گے تاکہ وہ ان ترازوؤں میں تولے جانے کے قابل ہوں۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ یہاں پر "میزان" ناپ تول اور وزن کرنے کے وسیلہ اور ذرایعہ کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہر چیز کے وزن کرنے کا وسیلہ اورذریعہ خود اس کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ تھرمامیٹر (گرمی کی مقدار معلوم کرنے کا آلہ) بیرومیٹر (ہوا کی رفتار معلوم کرنے کا آلہ) اور اسی طرح دوسرے موازین - ہرایک اسی چیز کے مطابق ہوتا ہے ، جسے اس وسیلے اور ذریعے سے اپنا مطلوب ہوتا ہے۔ احادیث اسلامی میں آیا ہے کہ قیامت کے دن وزن کرنے کے ترازو انبیاء آئمہ اور نیک پاک لوگ ہوں گے کہ جن کے نامہ اعمال میں کوئی تاریک نقطہ ہے ہی نہیں۔ ؎1 ہم (زیارت میں) پڑھتے ہیں : السلام على ميزان الاعمال اعمال کے ترازو پر سلام ہے. (اس موضوع کی مزید تفصیل چھٹی جلد کے ص 89 - پر دیکھئے) یہ بھی ممکن ہے کہ "موازین" کا ذکر جمع کی صورت میں (کہ جو میزان کی جمع ہے) اسی بات کی طرف اشارہ ہو کیونکہ مردان حق ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار ، ج ، 7 ، ص 252 (اشاعت جدید) - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- میں سے ہر ایک انسان کے اعمال کے لیے کسی کی ناپ تول کی میزان ہیں ۔ علاوہ اس کے کہ وہ سب سے سب ممتاز حیثیت رکھتے ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ہر ایک کا ایک خاص امتیاز بھی ہے کہ جو اس خاص حصے کی ناپ تول کے لیے ترازو یا نمونہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں جو شخص جتنی مقدار میں ان سے شباہت رکھتا ہوگا اور صفات و اعمال کے لحاظ سے ان بزرگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوگا ، اسی قدر اس کا وزن بوجھل ہوگا۔ جس قدر وہ ان بزرگوں سے دور اور ان سے مختلف ہوگا ، اتنا ہی ہلکا وزن رکھنے والا ہوگا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:46-47
سورہ انبیاء / آیه 46 - 47
(46) وَلَئِنْ مَّسَّتْهُـمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُوْلُنَّ يَا وَيْلَنَـآ اِنَّا كُنَّا ظَالِمِيْنَ (47) وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَاِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِـهَا ۗ وَكَفٰى بِنَا حَاسِبِيْنَ ترجمہ (46) اگر تیرے پروردگار کا معمولی سا عذاب بھی انہیں چھولے تو وہ چیخ اٹھیں اور کہنے لگیں کہ ہائے افسوس ہم توسب ظالم تھے ۔ (47) قیامت کے دن ہم عدل کے ترازو نصب کریں گے ، لہذا کسی بھی شخص پر ذراسی بھی زیادتی نہیں ہوگی ، اوراگرکسی نے رائی برابر بھی کوئی نیکی یا برائی کی ہوگی تو ہم اس کو حاضر کردیں گے اور اس کے لیے یہی کافی ہے کہ حساب کرنے والے ہم ہوں گے۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:47
[Pooya/Ali Commentary 21:47] Refer to the commentary of Araf: 8 and Kahf: 105. Imam Ali ibn abi Talib said: "A balance weighs things consisting of matter. So no one can weigh thoughts and deeds which are not corporeal, but if justice is taken as balance the weight of good deeds means its quantity to which sincerity adds quality; and weighing is reckoning to prove to the person concerned the actual position of his or her faith and conduct. Nothing is hidden from or unknown to Allah." Imam Ali bin Husayn Zayn al Abidin said: "Reckoning will be for the believers. The disbelievers will be punished outright according to the degree of their wickedness." It is also reported that figuratively it means that the thoughts and deeds of a believer will be compared with the thoughts and deeds of the Prophet or the Imam of the age in which he or she lived. Verse 47 of Ash Shura says that Allah has sent down the book with truth and the balance, i.e. the Holy Prophet to serve as the truest and the most perfect model of putting into practice the word of Allah. For giving reward every thought or deed will be assessed in the light of its nearness to the thought or deed of the prophet or the Imam in whose times the believer concerned had lived. The assessment of the quantity and quality will be done by the all-wise Lord who does not need any assistance. For the fate of deviators, hypocrites and disbelievers. See Araf: 9 and Kahf: 105 Aqa Mahdi Puya says: As the authority of Allah operates in justice, the reward and punishment will be awarded as it ought to be with measurable exactitude, for which a scale is necessary, a scale that can appraise the nature of the thing judged. For example to judge a thought, whether it is good or evil, a scale, different from the scale which weighs the weight of a material object, is required. Such scales should be infallible. They are those who have been selected by Allah. "Verily We sent Our messengers with clear proofs, and sent down with them the book and the scale, that people may establish themselves in justice." (Hadid: 25) The Holy Prophet said: "The love of Ali is the scale of faith, and hostility unto him is the scale of hypocrisy." Abu Talib said: "Muhammad is the scale of truth which weighs the minimum as well as the maximum weight ."