وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
Apostles were certainly derided before you; but those who ridiculed them were besieged by what they had been deriding.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:41
[Pooya/Ali Commentary 21:41] (see commentary for verse 36)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:41-45
سورہ انبیاء / آیه 41 - 45
(41) وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِـرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّـذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْـهُـمْ مَّا كَانُـوْا بِهٖ يَسْتَهْزِئُـوْنَ (42) قُلْ مَنْ يَّكْلَؤُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ مِنَ الرَّحْـمٰنِ ۗ بَلْ هُـمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ (43) اَمْ لَـهُـمْ اٰلِـهَةٌ تَمْنَعُهُـمْ مِّنْ دُوْنِنَا ۚ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِـمْ وَلَا هُـمْ مِّنَّا يُصْحَبُوْنَ (44) بَلْ مَتَّعْنَا هٰٓؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُـمْ حَتّـٰى طَالَ عَلَيْـهِـمُ الْعُمُرُ ۗ اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِى الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا ۚ اَفَهُـمُ الْغَالِبُوْنَ (45) قُلْ اِنَّمَآ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْىِ ۚ وَلَا يَسْـمَعُ الصُّمُّ الـدُّعَآءَ اِذَا مَا يُنْذَرُوْنَ ترجمہ (41) (اگر یہ تیرا مذاق اڑاتے ہیں تو پریشان نہ ہو) تجھ سے پہلے پیغمبروں کا بھی مذاق اڑایا جاتا تھا لیکن آخرکار جس چیز کا تمسخر اڑایا کرتے تھے ، وہی عذاب تمسخر اڑانے والوں کے دامن گیرہوگیا۔ (42) تم کہہ دو کہ رات کو اور دن کو خدا (کے عذاب) سے تمہیں کون بچاسکتا ہے ؟ لیکن وہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوۓ ہیں۔ (43) کیا ان کے معبود ایسے ہیں کہ جو ہمارےمقابلہ میں ان کا دفاع کریں؟ (بناوٹی خدا) تو اپنی مدد بھی نہی کرسکتے (دوسروں کی مدد کیا کریں گے) اور نہ ہی ہماری ان سے کسی طاقت کے ذریعہ ان کی مدد ہوگی. (44) ہم نے انہیں اور ان کے آباؤ اجداد کو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا ، یہاں تک کہ انہوں نے طولانی عمرپائی ، (اور وہی ان کے غرور و طغیان کا سبب بن گئی) ، کیا وہ نہیں دیتے کہ ہم پے درپے اور مسلسل زمین (اور اس میں رہنے والوں) میں کمی کرتے جارہے ہیں ، کیا وہ غالب ہیں (یاہم)؟ (45) تم کہہ دو کہ میں توتمهیں صرف وحی کےذریعے ڈراتا ہوں ،لیکن وہ لوگ کہ جن کے کان بہرےہیں ،جس وقت انہیں ڈرایاجاتاہے تو ڈرایا جاتاہے تو وہ باتوں کو سننے ہی نہیں ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:41-45
کان دھر کے سنو اگر تمہارے کان
تفسیر کان دھر کے سنو اگر تمہارے کان .... ۔ گزشتہ آیات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ مشرکین اور کفار پیغمبراکرمؐ کا مذاق اڑاتے تھے ۔ وہی کام کہ جو تمام جاہل اور مغرور لوگوں کی پرانی عادت ہے کہ وہ حقیقی اور اہم واقعات کو بھی مذاق اور استہزا کے طور پر لیتے ہیں۔ زیر بحث پہلی آیت میں پیغمبرؐ کو دلاسہ اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا : یہ صرف تم ہی نہیں ہو کہ جس کا مذاق اڑایا جارہا ہے ، بلکہ " تجھ سے پہلے جو پیغمبر آئے تھے انہوں نے ان کا بھی مذاق اڑایا تها" :( ولقد استهزی برسل من قبلك ) - "لیکن آخر کار وہ عذاب الٰہی کہ جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے ، تمسخر اڑانے والوں کے دامن گیر ہوگیا: ( فحاق بالذين سخروا منهم ما كانوا به يستھزءون )۔ لہذا تم کسی قسم کے غم و اندوہ کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دو اورجاہلوں کے اس طرح کے کام سے تیری عظیم ورح پر معمولی سا اثر بھی نہیں ہونا چاہیے اور یہ تیرے آہنی عزم میں کسی قسم کا خلل ڈالنے پائیں۔ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے ، نہ صرف قیامت میں عذاب الٰہی سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔ بلکہ اس دنیا میں بھی یہی حال ہے۔ تم کہہ دو کہ رات اور دن میں خدائے رحمان کے عذاب سے تمہیں کون بچا سکتا ہے :( قل من يکلوكم بالليل والنهار من الرحمن)۔ حقیقت میں اگر خدا نے آسمان ( جو زمین) کو ایک محفوظ چهت قرار نہ دیا ہوتا ــــــ جیسا کہ پہلی آیات میں بیان ہوا ہے ــــــ تو تمہارے لیے صرف یہی کافی تھا کہ رات دن تم آسمانی پتھروں کی زد میں ہوتے ۔ خدائے رحمن تم سے اس قدر محبت رکھتا ہے کہ اس نے تمہاری نگہبانی اور حفاظت کے لیے ایسے ایسے مامورین قرار دیئے ہوۓ ہیں کہ اگر وہ ایک لحظہ کے لیے تم سے جدا ہو جائیں تو مصائب و آلام کا سیلاب تم پر ٹوٹ پڑے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ "اللہ" کی بجائے "رحمٰن" استعمال ہوا ہے۔ یعنی تم یہ تو دیکھو کہ تم نے کس قدر گناہ کیے ہیں کہ تم نے اس خدا کی کی ناراض کردیا ہے جو رحمت عامہ کا مرکزہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : لیکن انہوں نے پروردگار کی یاد سے منہ موڑ لیا ہے، نہ اس کے انبیاء کے مواعظ نصائح کی طرف کان و دھرتے ہیں اور نہ ہی خدا اور اس کی نعمتوں کی یاد ان کے دلوں کو ہلاتی ہے اور نہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس بارے میں سوچتے ہیں "بلکہ انہوں نے اپنے پروروگار کی یاد سے منہ پھیر لیا ہے: ( بل هم عن ذكر ربهم معرضون)۔ پھر سوال کیا گیا ہے کہ : یہ ظالم اور گنہگار کافر ، خدائى عذاب کے مقابلے میں کس پر اعتماد کیے ہوئے ہیں " کیا وہ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلہ میں ان کا دفاع کرسکیں": (ام لهم الهة تمنعهم من دوننا)۔ "ان کے یہ جعلی خدا تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے" اور نہ اپنا دفاع کرسکتے ہیں: ولا يستطيعون نصرانفسھم)۔ اور نہ ہی ان کی تمام کی طرف سے رحمت اور معنوی قوت کے ذریعے کوئی مدد کی جائے گی اور نہ ہی ان کا کسی طرح سے کوئی ساتھ دیا جائے گا: (ولاهم منايصحبون )۔ ؎1 بعد والی آیت میں بے ایمان لوگوں کی سرکشی اور طغیان کی ایک اہم علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے : ہم نے انہیں اور ان کے آباؤ اجداد کو انواع و اقسام کی نعمتیں عطا کیں ، یہاں تک کہ انہوں نے طولانی عمریں پائیں -(بل متعنا هؤلاء وأبائهم حتی طال عليهم والعمر)۔ لیکن بجائے اس کے کہ یہ طولانی عمر اور فراواں نعمت آن میں شکرگزاری کا احساس ابھارتی اور وہ حق تعالٰی کے آستان عبودیت پر سر رکھتے ، یہی ان کے غرور اور طغیان کا سبب بن گئی۔ لیکن کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ جہان اور اس کی نعمتیں پائیدار نہیں ہیں۔ "کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم مسلسل زمین اور زمین کے رہنے والوں میں کمی کررہےہیں": ( أفلا يرون انا نأتي الأرض ننقصها من أطرافها)۔ اقوام و قبائل یکے بعد دیگر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، چھوٹے اور بڑے افراد میں سے کوئی بھی عمر جادوانی نہیں رکھتا اور سب کے سب اپنا نقاب فنا چھپا رہے ہیں۔ وہ قومیں جو ان سے زیادہ قوی ، زیادہ طاقتور اور زیادہ سرکش تھیں سب سے تاریک مٹی کے نیچے اپنا منہ چھپالیا ۔ یہاں تک کہ دانشمند بزرگ اور علماء کہ جو قوام زمین تھے ، انہوں نے بھی اس جہان سے آنکھیں بند کرلیں "تو ان حالات میں کیا وه غالب ہیں ، یا ہم غالب ہیں" (افهم الغالبون)۔ اس بارے میں کہ " انا فأتی الارض تنقصها من اطرافها" (ہم زمین کی طرف آتے ہیں اور مسلسل اس کے اطراف کو کم کرتے رہتے ہیں) کے جملہ سے کیا مراد ہے، ماہرین نے مختلف باتیں کی ہیں : ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "يصحبون " باب افعال سے ہے۔ اصل میں اس کا معنی ہے کسی چیز کو مدد اور حمایت کے طور پر کسی شخص کو دے دیتا ۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بت نہ ذاتی طور پر دفاع کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی پروردگار کی طرف سے اس قسم کی قدرت ان کے اختیار میں دی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ عالم ہستی میں ہردفاعی قوت یا کسی ذات کے اندر سے ابھرتی ہے یا خدا کی طرف دی جاتی ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 1- بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا مشرکین کی زمینوں اور بستیوں میں بتدریج کمی کر رہا ہے اورمسلمانوں کےشہروں میں اضافہ کر رہا ہے ۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا اور اس زمانے میں مسلمانوں کو ایسي فتویات حاصل نہیں ہو رہی تھیں، یہ تفسیر مناسب نظر نہیں آتی۔ 2- بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد زمینوں کی تدریجی خرابی اور ویرانی ہے۔ 3- بعض اسے زمین میں رہنے والوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔ 4- بعض نے یہاں خصوصیت سے دانشمندوں اور علماء کا ذکرکیا ہے۔ لیکن ان سب سے زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ زمین سے مراد اس دنیا کے مختلف علاقوں کے لوگ ہیں، وہ مختلف افراد اور قومیں جو بتدریج دیار عدم کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں اور دنیا کی زندگی کو الوداع کہہ رہے ہیں ۔ اور اس طرح سے دائمی طور پر اطراف زمین کم ہوتی رہتی ہیں۔ بعض روایات میں کہ جو آئمہ اہل بیتؑ سے نقل ہوئی ہیں، یہ آیت علماء اور دانشمندوں کی موت سے تعبیر ہوتی ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : نقصانها ذهاب عالمها زمین کا نقصان اور کم ہونا علماء کے فقدان کے معنی میں ہے۔ ؎1 البتہ ہم جانتے ہیں کہ یہ روایات کوعمومًا واضح اور ظاہر مصداق بیان کرنے کے لیے ہیں نہ یہ کہ مفہوم آیت کو خصوصی افراد میں انحصار کرتی ہیں۔ اسی طرح سے آیت کا منشا و مفہوم یہ ہے کہ بزرگوں ، بڑی بڑی قوموں یہاں تک کہ علماء کی تدریجی موت کو ، مغرور اور بے خبر کافروں کے لیے ایک درس عبرت کے طور پر بیان کرے اور اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ خدا سے مقابلہ کرنے کی صورت میں کرتی ہیں۔ اس کے بعد یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ پیغمبرؐ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو وحی کے ذریعے ڈرائے۔ اس لیے روۓ سخن پیغمبرکی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان سے کہہ دو کہ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا، میں تو صرف وحی کے ذریعے نہیں ڈرتاہوں: (قل انما انذركم بالوجی)۔ اور اگر تمہارے سخت دل پر اس کا اثر نہیں ہوتا تو یہ بات باعث تعجب نہیں ہے اور نہ ہی وحی آسمانی میں کسی نقص کی دلیل ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ "بہرے لوگوں کو جب ڈرایا جاتاہے تو وہ سنتے ہی نہیں " : ( ولا يسمع الصوالدعاء اذا ما ينذرون)۔ سننے والے کھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خدا کی بات سنے نہ کہ ایسے کان کی کہ جن پر گناه ، غفلت اور غرور کے پردے اس طرح پڑے ہوئے ہوں کہ وہ حق بات سننے کی اہلیت بالکل کھو چکے ہیں ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ اورالفتلين ، ؎1 نورالثقلین جلد 3 ص 429-