اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي
Strengthen my back through him,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:31
[Pooya/Ali Commentary 20:31] (see commentary for verse 9)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:31-36
موسٰی (علیه السلام) کے جچے تلے تقاضے
موسٰی (علیه السلام) کے جچے تلے تقاضے : اب حضر ت موسٰی (علیه السلام) مرتبہ نبوت پر فائز ہوچکے ہیں اور انہونے اہم معجزات حاصل کرلیے ہیں ، لیکن اس کے بعد ان کے نام فرمان رسالت صادر ہوتاہے ،ایسی رسالت کہ جو بہت ہی عظیم اور سنگین ہے ، ایسی رسالت جو علاقے کے طاقتور ترین اور خطرناک ترین لوگوں کوفرمان الہٰی پہنچانے سے شرو ع ہوتی ہے ۔اللہ فراماتا ہے : فرعون کی طرف جاکہ وہ سرکش ہو گیاہے (ازھب الی فرعون انہ طغٰی ) ۔ ہاں ایک فاسد اور خراب شدہ ماحول کی اصلاح اور ہرجہت سے ایک انقلاب بر پا کرنے کے لیے فساد کے سرغنوں اور کفرکے سربراہوں سے کام شروع کرناچاہیئے،ایسے لوگو ں سے کہ جو معاشرے کے تما م لوگوں میں اثرو رسوخ رکھتے ہیں اور وہ خود یاان کے افکار و نظر یات ان کے اعوان و انصار ہر جگہ موجود ہوتے ہیں ،ایسے لوگ کہ جنہوں نے تمام تبلیغی ، نشریاتی اقتصاد ی اور سیاسی اداروں کو اپنے قبضہ میں لیاہواہے اگر ان کی اصلاح ہوجائے یااصلاح نہ ہونے کی صورت میں وہ جڑ سے اکھاڑ پھنیکے جائیں تو معاشرے کی نجات کی امیدکی جاسکتی ہے ، ورنہ جس قسم کی بھی اصلاح ہوگی ،وہ وقتی ، سطحی اور ناپائیدار ہوگی ۔ یہ بات خاص طورپر قابل توجہ ہے کہ : فرعون سے شروع کرنے کے لازم ہونے کی دلیل ، ایک ایک مختصر جملہ ” انہ طغٰی “ (اس نے طغیان کیاہے ) میں بیا ن ہوئی ہے کہ اس کلمہ ” طغیان “میں سب کچھ جمع ہے ،ہاں طغیان و سرکشی بھی اور زندگی کے تمام شعبوں میں حد سے تجاوز بھی ،اور اسی بناپر اس قسم کے افراد کو ” طاغوت کیاجاتاہے کہ جواسی مادہ سے لیاگیاہے ۔ موسٰی (علیه السلام) ۔ اس قسم کی سنگین ماموریت پرنہ صرف گھبرائے نہیں ، بلکہ معمولی سی تخفیف کے لیے بھی خدا سے درخواسے کی اور کھلے دل سے اس کااستقبال کیا زیادہ سے زیادہ اس ماموریت کے سلسلے میں کامیابی کے وسا ئل خداکی خداسے درخوست کی ۔ اور چونکہ کامیابی کاپہلاذریعہ عظیم روح ، فکربلند اور عقل تواناہے ، اور دوسرے لفظوں مین سینہ کی کشادگی و شرح صدر ہے لہذا : عرض کیامیرے پروردگار ! میراسینہ کشادہ کردے (وقال رب ّ اشرح لی صدری ) ۔ ہاں ! ایک رہبرانقلاب کاسب سے اولین سرمایہ ، کشادہ دلی ، فراواں حوصلہ ، استقامت و بردباری اور مشکلات کے بوجھ کو اٹھاناہے ، اس بناپر امیرالمومنین علی علیہ اسلام سے ایک حدیث میں منقول ہے : اٰ لة الریاسة سعة الصدر سنیہ کی کشادگی رہبری و قیادت کاوسیلہ ہے (۱) ۔ (شرح صدر اور اس کے مفہوم کے بارے میں ہم اس تفسیر کی جلد ۵ میں سورہ انعام کی آیہ ۲۵ کے ذیل میں بھی بحث کرچکے ہیں ) ۔ اور چونکہ اس راستہ میں بے شمار مشکلات ہیں، جو خدا کے لطف و کرم کے بغیر حل نہیں ہوتیں ، لہذا خداسے دوسرا سوال یہ کیاکہ میرے کاموں کو مجھ پر آسا ن کردے اور مشکلات کو راستے سے ہٹا دے ۔آپ نے عرض کیا: کہ میرے کام کو آسان کردے“ (ویسرلی امر ی ) ۔ اس کے بعد جناب موسٰی (علیه السلام) نے زیادہ سے زیادہ قوّت بیان کاتقاضاکیا ۔کہنے لگے ،میری زبان کی گرہ کھول دے ۔(واحلل عقدة من لسانی ) ۔ یہ ٹھیک ہے کہ شرح صدر کاہونابہت اہم بات ہے ،لیکن یہ سر مایہ اسی صورت میں کام دے سکتاہے ، جب اس کو ظاہرکرنے کی قدرت بھی کامل طورپرموجود ہو ۔اسی بناء پر جناب موسٰی (علیه السلام) نے شرح صدر اور کادٹو ں کے دور ہونے کی درخواستوں کے بعد یہ تقاضا کیاکہ خدا ان کی زبان کی گرہ کھول دے او ر خصوصیت کے ساتھ اس کی علّت یہ بیان کی : تاکہ وہ میری باتوں کوسمجھیں (یفقھواقولی ) ۔ یہ جملہ حقیقت میں پہلی آیت کی تفسیر کررہا ہے اور اس سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ زبان کی گرہ کے کھلنے سے مراد یہ نہ تھی کہ موسٰی(علیه السلام) کی زبان میں بچپنے میں جل جانے کی وجہ سے کوئی لکنت آگئی تھی ۔جیسا کہ بعض مفسرین نے ابن عباس سے نقل کیالہے ۔بلکہ اس سے گفتگومیں ایسی رکاوٹ ہے جو سننے والے کے لیے سمجھنے میں مانع ہوتی ہے ،یعنی میں ایسی فصیح و بلیغ اور ذہن میں بیٹھ جانے والی گفتگوکروں کہ ہرسننے والامیرا مصداق اچھی طرح سے سمجھ لے ۔ سورہ قصص کی آیہ ۳۴ اس تفسیر کی شاہد ہے : واخی ھارون ھوافصح منی لسانا میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے ۔ یہ بات خاص طورپرقابل توجہ ہے ،کہ ”افصح “ ”فصیح “ کے ماد ہ سے دراصل کسی چیز کے ذائد باتوں سے پاک ہونے کے معنی میں ہے بعد میں اسی گفتگو ،کے لیے استعمال ہونے لگا جو فہمید ہ ،رسا، منہ بولتی اور ہرغیر ضروری چیز سے پاک ہو ۔ بہر حال ایک کامیاب رہبرو رہنماوہ ہوتاہے کہ جو سعی ء فکراورقدرت روح کے علاوہ ایسی فصیح و بلیغ گفتگوکرسکے کہ جوہرقسم کے ابہام اور نارسائی سے پاک ہو ۔ نیز اس بارسنگین کے لیے ۔یعنی رسالت الٰہی ،رہبری بشراور طاغوتوں اور جابروں کے ساتھ مقابلے کے لیے یارومددگار کی ضرورت ہے اور یہ کام تنہاسرانجام سیا ممکن نہیں ہے لہذا حضرت موسٰی (علیه السلام) نے پروردگار سے جوچوتھی درخوسے کی وہ یہ تھی :خداوندا ! میرے لیے میرے خاندان میں سے ایک وزیر اور مدد گار قراردے ( واجعل لی وزیرامن اھلی ) ۔ ” وزیر “ ” وزر “ کے ماد ہ سے دراصل سنگین بوجھ کے معنی میں ہے اور چونکہ وزیر نظام مملکت میں بہت بوجھ اٹھاتاہیں لہذا یہ لفظ ان کے لیے بولاجانے لگا ہے نیز لفظ ”وزیر “ کامعاون اور یارو مدد گارپر بھی اطلاق ہوتاہے ۔ النتہ یہ بات کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) تقاضا کررہے ہیں کہ یہ وزیران ہی کے خاندان میں سے ہو ،اس کی دلیل واضح ہے چونکہ اس کے بارے میں معرفت اور شناخت بھی زیادہ ہوگی اوراس کی ہمدردیاں بھی دوسرں کے نسبت زیادہ ہوں گی کتنی اچھی بات ہے کہ انسان کسی ایسے کے شخص کو اپناشریک ِ کاربنائے کہ جوروحانی اورجسمانی رشتوں کے حوالے سے اس سے مربوط ہو ۔ اس کے بعد خصوصی طورپر اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا: یہ ذمّہ داری میرے بھائی ہارون کے سپرد کردے (ھارون اخی ) ۔ ہارون (علیه السلام) بعض مفسرین کے قو ل کے مطابق حضر ت موسٰی (علیه السلام) کے پڑے بھائی اور ان سے تین سال بڑے تھے بلند قامت فصیح البیان او ر اعلیٰ علمی قابلیت کے مالک تھے انہونے حضرت موسٰی (علیه السلام) کی وفات سے تین سال پہلے رحلت فرمائی (۲) ۔ وہ پیغمبرمرسل تھے جیسا کہ سورئہ مومیون کے آیہ ۴۵ میں بیان ہوا ہے : ثم ارسلنا موسٰی واخاہ ھارون باٰیاتناوسلطان مبین اور وہ نور اور باطنی روشنی کے بھی حامل تھے ،اور حق وباطل میں خوب تمیز بھی رکھتے تھے جیساکہ سورئہ انبیا ء کی آیہ ۴۸ میں بیان ہواہے : ولقد اٰتینا موسٰی و ھارون الفرقان وضیاء آخری بات یہ ہے کہ وہ ایک ایسے پیغمبر تھے جنہیںخدانے اپنی رحمت سے موسٰی کو بخشاتھا : ووھبنالہ من رحمتنا اخاہ ھارون نبیا(مریم ۔۵۳) ۔ وہ اس بھاری ذمّہ داری کی انجام دہی میں اپنے بھائی موسٰی کے دوش بدوش مصروف کار رہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ موسٰی ن اس امدھیری رات میں،اس وادیء مقدّس کے اندر ،جب خداسے فرمان ِ رسالت ملنے کے وقت یہ تقاضاکیا ، تووہ اس وقت دس سال سے بھی زیادہ اپنے وطن سے دورگزار کرآرہے تھے،لیکن اصولی طور پر اس عرصہ میں بھی اپنے بھائی کے ساتھ ا ن کارابطہ کامل طور پرمنقطع نہ ہوا اسی لیے اس صراحت اور وضاحت کے ساتھ ا ن کے بارے بات کررہے ہیں ، اور خدا کی درگا ہ سے اس عظیم ہشن میں اس کی شرکت کے لیے تقاضا کررہے ہیں ۔ اس کے بعد جناب موسٰی (علیه السلام) ہارو ن (علیه السلام) کو وزارت و معاونت پرمتقین کرن کے لیے اپنے مقصد کو اس طرح بیان کرتے ہیں : خداوندا ! میری پشت اس کے ذریعے مضبوظ کردے ۔(اشدد بہ ازری ) ۔ ”ازد “ دراصل ” ازار “ کے مادہ سے لباس کے معنی میں لیاگیاہے ،خاص طورپر ا س لباس کوکہاجاتاہے جس کے بند کی کمرمیں گرہ لگائی جاتی ہے ۔اسی سبب سے کھبی یہ لفظ ”کمر “ پریا”قوت “ و ” قدرت “ کے معنی میں بھی آیاہے ۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے یہ تقاضاکرتے ہیں: اسے میرے کام کورو بہ عمل لانے میں بھی شرکت کرے البتہ حضرت ہارون ہرحال میں تمام پروگراموں میں جناب موسٰی (علیه السلام) کے پیروتھے اور موسٰی (علیه السلام) ا ن کے امام اورپیشواکی حیثت رکھتے تھے ۔ آخر میں اپنی تمام دوخوستوں کانتیجہ اس طر ح بیان کرتے ہیں : تاکہ ہم تیربہت تسبیح کریں( کی نسبحک کثیر ا)اور تجھے بہت بہت یاد کریں (ونذکرک کثیر ا) ۔ کیونکہ توہمیشہ ہی ہمارے حالات سے آگاہ ہے (انک کنت بنابصیرا) ۔ توہماری ضروریات و حاجات کو اچھی طرح جانتاہے اوراس راستے کی مشکلات سے ہرکسی کی نسبت زیادہ آگاہ ہے ہم تجھ سے یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے فرمان کی اطاعت کی قدرت عطافرمادے اور ہمارے فرئض ، ذمّہ داریوں،اور فرائض کے انجام دینے کے لیے ہمیں توفیق اور کامیابی عطافرما ۔ چونکہ جناب موسٰی (علیه السلام) کاپنے مخلصانہ تقاضوں میں سوائے زیادہ کامل ترخدمت کے اور پرکچھ مقصد نہیں تھا لہذا خدانے ان کے تقاضوں کو اسی وقت قبول کیا : ”اس نے کہا : اے موسٰی (علیه السلام) ! تمہاری تمام دوخوستیں قبول ہیں “ (قا ل قد اوتیت سوء لک یاموسٰی ) ۔ حقیقت میں ان حسّاس اور تقدیرساز لمحات میںچونکہ موسٰی (علیه السلام) پہلی مرتبہ خدائے عظیم کی بساط ِ مہمانی پرقدم رکھ رہے تھے ،لہذا جس جس چیز کی انہیںضرورت تھی ان کاخداسے اکھٹا ہی تقاضا کرلیا، اور اس نے بھی مہمان کاانتہائی احترماکیا، اور اس کی تمام درخوستوں اور تقاضوں کوایک مختصر سے جملے میں حیات بخشی نداکے ساتھ قبول کرلیا، اور اس میں کسی قسم کی قید وشرط عائد کی اورموسٰی (علیه السلام) کانام مکرر لاکر ،ہرقسم کے ابہا م کودورکرتے ہوئے اس کی تکمیل کردی ، یہ بات کس قدرشوق انگیز اور افتخار آفرین ہے کہ بندے کانام مولاکی زنان پربارہاآئے ۔ ۱۔نہج البلاغہ کلمات قصار حکمت ۱۷۶ ۔ ۲۔ مجمع البیان ، زیرآیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:31-36
۵۔پیغمبر اسلام (علیه السلام) بھی موسٰی (علیه السلام) کے تقاضوں کی تکرار کرتے ہیں
۵۔پیغمبر اسلام (علیه السلام) بھی موسٰی (علیه السلام) کے تقاضوں کی تکرارکرتے ہیں : ا نروایات سے کہ علمائے اہلسنت کی کتابوں میں بیا ن ہوئی ہیں اور شیعہ علماء کی کتابوں میں بھی وارد ہوئی ہیں ،معلو م ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام نے بھی انہی وسائل کی،جو حضرت موسٰی(علیه السلام) نے اپنے مقاصد کی پیش رفت کے لیے خدا سے چاہے تھے ،تمناکی تھی فرق صرف یہ تھا آپ (علیه السلام) کے نام کی جگہ علی علیہ السلام کانام لیااور اس طرح عرض کیا : ” اللھم انی اساء لک بماساء لک اخی موسٰی ان تشرح لی صدر ی ،وان تیسرلی امری ، وان تحل عقدة من لسانی ،یفقھواقولی ، واجعل لی وزیرا من اھلی ،علیا اخی ،اشددبہ ازری ،واشرکہ فی امری کی نسبحک کثیرا ونذ کرک کثیرا م انّک کنت بنابصیرا پروردگار ا !میں بھی تجھ سے وہی سوال کرتاہوں جس کامیرے بھائی موسٰی نے تجھ سے تقاضاکیاتھا ،میں تجھ سے یہ چاہتاہوں کہ تومیرے سینے کو کشادہ رکھ ، کاموں کو مجھ پر آسان کردے ،میری زبان کی گرہ کو کھو ل دے تاکہ وہ میری باتوں کو سمجھیں ،میرے لیے میرے خاندان میں سے ایک وزیر قرار دے ، میرے بھائی علی (علیہ اسلام ) کو ، خداوندا میری پشت کواس کے ذریعے مضبوط کردے اور اسے میرے کام میں شریک کردے تاکہ ہم تیری بہت تسبیح کریں اور تجھ بہت بہت یاد کریں کونکہ تو ہمارے حال سے اچھی طرح آگاہ ہے “ ۔ اس حدیث کو سیوطی نے تفسیر درالمنثور میں اور مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اور بہت سے دوسرے سنی و شیعہ بزر گ علماء نے کچھ تفاوت کے ساتھ نقل کیاہے ۔ اس حدیث سے مشابہ منزلت ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انے علی علیہ السلام سے فرمایا : ”الاترضی ان تکون منی بمنزلة ھارون من موسٰی الاانہ لانبی بعد “ کیاتم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسٰی کو ہارون سے تھی ،سوائے اس کے میرے بعدکوئی نہیں ہوگا ۔ یہ حدیث جو اہل سنّت کی پہلے درجے کی کتب میں بیان کیاگیاہے اور (تفسیر امیزان کے مطابق ) محدّث بحرانی نے اپنی کتاب ” غایت المرام “ میں اہل سنّت کے طرق سے سو۱۰۰ طریقوں سے نقل کیاہے ،اس قدر معتبر ہے کہ اس میں کسی قسم کے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ ہم نے حدیث منزلت کے بارے میں تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد میں سورئہ اعراف کی آیہ ۱۴۲ کے ذیل میں کافی بحث کی ہے ۔ لیکن جس بات کاذکر کرناہم یہاں ضروری سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ بعض مفسرین نے(جیسا کہ آلوسی نے روح المعانی میں) اصل روایت کوقبول کرنے کے ساتھ اس کی دلالت میں اعتراض کیاہے اور یہ کہاہے جملہ (وامشرکہ فی امری ) اس کومیرے کام میں شریک کردے ، لوگوں کو حق کی طر ف دعوت دینے اور ہدایت کرنے کے کاموں میں شرکت کرنے کے سوااور کسی چیز کوثابت نہیں کرتا“۔ لیکن یہ بات صاف طورپر ظاہرہے کہ مسئلہ ہدایت وارشادمیں شرکت ، اور دوسرے لفظوں میں امر بالمعروف ، نہی عن المنکراور حق کی دعوت کو پھیلاناہرمسلمان کافرداً فرداً فریضہ ہے اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، علی علیہ اسلام کے متعلق مانگتے ، یہ تو ایک توضیح واضح ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دعاکی ہر گز یہ تفسیرنہیں کی جاسکتی ۔ سوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس سے امر نبوّت میں شرکت بھی مراد تھی بنابریں ہم اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ نبوت کے علاوہ اور ارشاد و ہدایت کے عمومی فریضہ کے سواکوئی اور خاص مقام و منصب تھا توکیایہ دلایت خاصہ کے مسئلہ کے سواکوئی اور چیز ہو سکتی ہے ؟ کیایہ وہی خلافت (ایک خاص مفہوم میں جس کے شیعہ قائل ہیں نہیں ہے ؟ اور لفظ ” وزیرا “ بھی اسی تائید اور تقویت کرتاہے ۔ دوسرے لفظوں میں کچھ ذمّہ داریاں ایسی ہیں کہ جوتمام لوگوں کا کام نہیں ہے اور وہ دین ِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہر قسم کی تحریف وانحراف سے بچانااور اس کی حفاظت کرنااور دین کے مفاہیم کے بارے میں ہرقسم کے ابہام کی جوبعض کولاحق ہوجاتاہے ،تفسیر کرنااور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیبت میں اور ان کے بعد امّت کی رہبری کرناپیغمبراکر م کے ،مقاصد کی پیش رفت کے لیے انتہائی موء ثر طریقہ سے کمک اور مدد کرناہے ۔ یہ سب کی سب وہی چیز یں ہیں کہ جوپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”اشرکہ فی امری “ کاجملہ کہہ کرخداسے علی(علیه السلام) کے بارے میں مانگی تھیں ۔ اور اس سے یہ بات واضح و روشن ہوجاتی ہے کہ ہارو ن(علیه السلام) کاموسٰی (علیه السلام) سے پہلے وفات پاجانااس بحث میں کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا کیونکہ خلافت وجانشین کبھی تورہبرکی غیبت کے زمانے میں ہوتی ہے جیساکہ ہارو ن(علیه السلام) موسٰی (علیه السلام) کی غیبت میں ان کے خلیفہ وجانشین تھے اور کھبی راہبر کی وفات کے بعد ہوتی ہے جیسا کہ علی علیہ السلام پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جانشین ہوئے دونوں ایک ہی قدرمشترک اور ایک ہی قدر جامع رکھتے ہیں اگر چہ ان کے مصداق مختلف ہیں (غور کیجئے کا ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:31-36
۲۔ سرکشوں کے خلاف جنگ
۲۔ سرکشوں کے خلاف جنگ :اس میں کوئی شک نہیں کہ فرعون میں بہت سی انحرافی باتیں موجود تھیں وہ کافرتھا، بت پرست تھا،ظالم اور بیداد تھا، گرتھوغیر ہ لیکن قرآن نے ان تما م ا نحراف میں سے صرف اس کے”طغیان “ کاذکرکیاہے : ( انہ طغٰی ) کیونکہ خدا کے فرمان سے طغیان اور سرکشی کی روح ان تما م انحرافات کانچوڑ اور ان سب باتوں کی جامع ہے ۔ ضمنی طور پر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ پہلے مرحلے میں انبیاء کاہدف و مقصد طاغوتوں اور اور متکبر ین سے مقابلہ ہوتاہے اور مارکسیٹ مذہب کاجوتجزیہ کرتے ہیں یہ بات اس کے سراسر خلاف ہے کیونکہ وہ مذہب کوطغیان گروں اور استمال ر پیشہ لوگوں کاخدمت گار سمجھتے ہیں ۔ ممکن ہے ان کی یہ بااتیں خود ساختہ غیرمعقول مذاہب کے بارے میں صحیح ہو ں لیکن سچّے ابنیاء کی تاریخ ،مذاہب آسمانی کے بارے میں ان کے بے ہودہ خیالات کی پوری صراحت کے ساتھ سو فیصد نفی کرتی ہے ۔اس سلسلے میں موسٰی بن عمران کاقیام خاص طورپرایک شاہد ناطق ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:31-36
۴۔ تسبیح اور ذکر
۴۔ تسبیح اور ذکر : جسیاکہ زیرنظر آیات میں ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اپنی درخوستوں کااصلی مقصد یہ قرار دیتے ہیں کہ : تیری زیادہ سے زیادہ تسبیح کریں اور تجھے بہت بہت یاد کریں ۔ یہ بات واضح ہے کہ ” تسبیح “ کے معنی خدا کو ” شرک اورا مکانی نقائص “ کی تہمت سے منزّہ و مبرہ قرار دیناہے اور بات بھی واضح ہے کہ جناب موسٰی (علیه السلام) کی مراد یہ نہ تھی کہ ” سبحان اللہ “ کے جملے کی مسلسل تکرار کرتے ہیں بلکہ اصل مقصد اس زمانے کے آلودہ معاشرے میں اس کی حقیقت کو رد بہ عمل لانا یعنی بتوں کو ختم کرنا ،بت خانوں کوویرن کرنا ،ذہنوں کو شرک آلود ہ افکار سے پاک کرنا اور مادّی و معنوی نقائص کودورکرنا یہ تھی ان کے نزدیک تسبیح اور یہ تھا ان کے قرین ذکر الہٰی اس راستے سے گزرکروہ ذکر خدا ، اس کی یاد اور اس کی صفات کی یاد دلوں میںزندہ کرنا چاہتے تھے او ر صفات ِ خداوندی کو معاشرے ، پر سایہ فگن کرناچاہتے تھے لفظ ”کثیرا “ کااستمال اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ وہ اسے عمومی شکل دیناچاہتے تھے اور ایک محدود دائرے میں مخصوص رہنے سے نکالناچاہتے تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:31-36
۱۔ انقلاب کی رہبری کے شرائط
۱۔ انقلاب کی رہبری کی شرائط : اس میں شک نہیں کہ انسان معاشروں میں بنیاد ی تبدیلیاں، اور مادی اور شرک آلود قدر وں کی معنوی اور انسان قدروں میں تبدیلی ، خاص طور پر ایسے مقام پر کہ جس کاراستہ فرعون اور خود سرلوگوں کی قمروسے ہوکرگزرتاہو ،کوئی آسان کام نہیں ہے ایساکام روحانی و جسمانی آمادگی ،قدرت ِ فکراور قوتِ بیان ،راستے سے اآگاہ ہی ، خدائی امداد نیز قابل اطمینان اور بہادر یارومدد گارکامحتاج ہوتاہے ۔ یہ وہی مورہیں جن کاحضرت موسٰی (علیه السلام) نے اس عظیم ارسالت کے آغاز میں ہی خداسے تقاضاکیا ۔ یہ امورخود یہ بات واضح کرتے ہیں کہ موسٰی(علیه السلام) نبوّت سے پہلے بھی بیداراور آمادہ روحرکھتے تھے اور یہ امور س حقیقت کوبھی واضح کررہے ہیں کہ وہ اپنی ذمّہ داریوں سے ہر جہت سے اچھی طرح واقف تھے اور یہ جانتے تھے کہ ان حالات میں کن ہتھیاروں کے ساتھ میدان میں آناچاہیئے تاکہ فرعونی نظام کے ساتھ مقابلہ کے طاقت موجود ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:31-36
۳۔ ہرکام کے لیے پروگرام اور وسائل کی ضرورت ہے
۳۔ ہرکام کے لیے پروگرام اور وسائل کی ضرورت ہے :حضرت موسٰی(علیه السلام) کی زندگی کایہ حصّہ ہمیں جو دوسراسبق دیتاہے وہ یہ ہے کہ انبیاء ومرسلین تک بھی اپنے کاموں کی پیش رفت کے لیے اتنے معجزات رکھنے کے باوجود عام وسائل سے مددلیتے تھے موء ثر اور بیان رسا کے ذریعہ بھی اور معاونین کی فکری وجسمانی قوت و طاقت سے بھی ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم زندگی میں ہمیشہ معجز ات میں رہیں بلکہ پروگرام اور وسائل کوتیار کرناچاہیئے اور طبیعی طریقوں سے پیش رفت کو جاری رکھنا چاہیئے اور جہاں کاموں میں رکاوٹ پڑجائے تو وہاںخدائی لطف وکرم کاانتظار کرناچاہیئے ۔