وَكَذَلِكَ أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا
Thus We have sent it down as an Arabic Quran and We have paraphrased the warnings in it variously so that they may be Godwary, or it may prompt them to remembrance.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:113
[Pooya/Ali Commentary 20:113] Refer to the commentary of Yusuf: 2 and Rad: 37. Verse 114 makes it clear that the whole Quran had been revealed to the Holy Prophet before he recited its chapters and verses to the people as and when commanded by Allah which is known as gradual revelation. Refer to the commentary of Baqarah: 2 and Aqa Puya's essay "Genuineness of the Holy Quran." Aqa Mahdi Puya says: Verses 113 and 114 and verses 32 of Furqan, 4 of Muzzammil and 16 to 19 of Qiyamah refer to the recitation of the Quran-Quran means recitation-and the pronoun wahyuhu refers to the recitation, implying: "Do not hasten with the recitation of the book already revealed to you before you receive the command to recite i.e. "When We recite it, you follow the reciting thereof (Qiyamah: 18)" and in a manner mentioned in verse 4 of Muzzammil-tartila, with ease and correctness. Refer to my essay "Genuineness of the Holy Quran."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:113-114
1- حصول وحی تک میں عجلت نہ کرو
چند نکات : 1- حصول وحی تک میں عجلت نہ کرو : ان جملوں میں چند تربیتی سبق موجود ہیں ۔ ان میں سے ایک حصول وحی کے وقت عجلت کرنے سے نہی ہے۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ لوگ کسی بات کہنے والے کی بات سنتے وقت ابھی اس کا مطلب ختم ہونے نہیں پتا کہ اسے دہرانے یا پورا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس کام کی بنیاد کبھی تو بے صبری ہوتی ہے اور کسی غرور و خود نمائی۔ البتہ بعض اوقات مطلب حاصل کرنے اور ماموریت کی انجام دہی کے لیے اشتیاق اور لگاؤ بھی انسان کو اس کام کے لیے آمادہ کر دیتا ہے۔ اس صورت میں عجلت پر ابھارنے والا جذبہ تو مقدس ہوتی ہے لیکن نفس عمل یعنی عجلت کرنا عام طور پہ مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے زیر بحث آیات میں اس کام سے منع کیا گیا ہے۔ اگرچہ وہی مقصد کے لیے ہی ہو - اصولی طور پر وہ کام جو جلد بازی میں انجام پاتے ہیں ۔ عیب ونقص سے خالی نہیں ہوتے۔ یقینی طور پر پیغمبر اکرم کا کام مقام عصمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے خطا واشتباه کرنا مناسب نہیں ہے تو پھر باقی کاموں کا معاملہ تو بالکل واضح ہوجاتاہے۔ البته عجلت کا سرعت کے ساتھ اشتباہ نہیں کرنا چاہیے۔ سرعت تو اس کو کہتے ہیں کہ پروگرام مکمل طور پر منظم ہوچکا ہے اور تمام مسائل کی جانچ پڑتال کرلی گئی ہے ، اس کے بعد وقت ضائع کیے بغیر بلا تاخیر اس پروگرام پرعمل شروع کر دیا جائے لیکن عجلت اس کو کہتے ہیں کہ ابھی پروگرام اچھی طرح بنا نہیں ہے اور اس کے لیے ابھی تکمیل اور غور وخوض کی ضرورت ہے اور کام شروع کر دیا جا سکے۔ اسی بنا پر "سرعت" ایک پسندیدہ عمل ہے اور "عجلت" اور جلد بازی کرنا ناپسندیدہ کام ہے۔ البتہ اس عمل کی تفسیر میں بعض دوسرے احتمالات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک احتمال یہ ہے کہ بعض اوقات وحی کے آنے میں دیر ہوجانے کی وجہ سے پیغمبر اکرم بے تاب ہوجایا کرتے تھے۔ یہ آیات آپ کو تعلیم دے رہی ہے کہ بے تاب نہ ہوں، ہم برمحل جو کچھ ضروری ہوا آپ پر وحی کریں گے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید کی آیات چونکہ جموعمی صورت میں ایک ہی مرتبہ شب قدر میں قلب پیمغبؐر پر نازل ہوئی تھیں اور دوسری مرتبہ بتدریج ۲۳ سال کی مدت میں نازل ہوئیں ، لہذا پیغمبر صلی اللہ علی وآلہٖ وسلم تدیریجی طور پر نازل ہوتے وقت کبھی کبھی جبرئیل سے پہلے ہی پڑھے لگ جایا کرتے تھے۔ قرآن حکم دیتا کہ تم اس کام میں عجلت مت کرو اور نزول تدیرجی کو اس کے موقع اور محل پر انجام پانے دو. لیکن پہلی تفسی زیادہ میں معلوم ہوتی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:113-114
سوره طه / آیه 113 - 114
(113) وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّصَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُـمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَـهُـمْ ذِكْرًا (114) فَـتَعَالَى اللّـٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٝ ۖ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِىْ عِلْمًا ترجمہ (113) اور اسی طرح سے ہم نے اس قرآن کو (فصیح و بلیغ زبان) عربی میں اتارا ہے اور اس میں ہم نے طرح طرح سے اور خوف دلایا ہے کہ شاید وہ تقویٰ اختیار کر لیں یا یہ ان کے لیے (نصیحت اور) یاد دہانی کا سبب بنے۔ (114) پس بلند مرتبہ ہے وہ خدا کہ جو بادشاه برحق ہے اور تم قرآن پڑھنے میں ، اس سے پہلے کہ اس کی وحی تجھ پر پوری ہو جلدی نہ کیا کرو ۔ اور یہ کہا کرو کہ اے میرے پروردگار میرے علم کو اور زیادہ کر دے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:113-114
پروردگارا ! میرے علم کو اور زیادہ کردے
تفسیر پروردگارا ! میرے علم کو اور زیادہ کردے : گزشتہ آیات میں قیامت اور وعده و وعید سے مربوط تربیتی مسائل کے بارے میں جو کچھ آیا ہے ، تو درحقیقیت ان آیات میں اس کی طرف مجموعی اعتبار سے اشارہ ہے. فرمایا ہے: اسی طرح سے ہم نے اسے عربی (فصیح و بلیغ زبان میں) قرآن کی صورت اتارا ہے اور ہم اس میں مختلف بیانات و عبارت کے ذریعے ڈرایا ہے کہ شاید وہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کریں ۔ یا کم سے کم ان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو( وكذالك انزلناه قرآنا عربيًا وصرفنا فيہ من الوعيد لعلهم يتقون اويحدث لهم ذكرًا)۔ "كذالك" کی تعبیر حقیقت میں ان مطالب کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس آیت سے پہلے بیان ہوئے ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی انسان کسی دوسرے کے لیے بیدار کن اور عبرت انگیز مطالب بیان کیے اور اس کے بعد کہے کہ یوں پند و نصیحت کرنا چاہیے۔ (اس بنا پر ہمیں دوسری تفسیروں کی ضرورت نہیں رہتی جو بعض مفسرین نے اس مقام پر بیان کی ہیں۔ اور وہ آیت کے معنی کے ساتھ کوئی مطلابقت بھی نہیں رکھتیں )۔ لفظ "عربي" اگرچہ عربی زبان کے معنی میں ہے لیکن دولحاظ سے یہاں قران کی فصاحت و بلاغت اور اس کے مفاہیم کے رسا ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ پہلا یہ کہ اصولی طور پر عربی زبان ـــــ دنیا بھر کے زبان شناسوں کی تصدیق کے مطابق ــــــ ایک رسا ترین زبان ہے اور اس کا ادب قوی ترین ادب ہے۔ دوسرا یہ کبھی "صرفنا" مختلف قسم کے بیانات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ وہ قرآن ایک حقیقت بیان کرنے اختیار کرتا ہے مثلا وعید اور مجرموں کی سزا کبھی گزشتہ أمتوں کی سرگزشت کے لباس میں کبھی حاضرین سے خطاب کی صورت میں کبھی میدان قیامت میں ان کے حالات کی تصویر کشی کی صورت میں اور کبھی کسی دوسرا پیراۓ میں بیان کرتا ہے۔ "لعلهم يتقون “ کا " يحدث لهم ذكرًا" سے فرق ممکن ہے کہ اس لحاظ ہوکہ پہلے جملے میں تو وه یہ کہتا ہے کہ مقصد ، تقویٰ کا کامل صورت میں پیدا ہوتا ہے اور دوسرے جملہ کا مقصد میں ہے کہ اگر مکمل طور پر تقویٰ پیدا نہیں ہوتا تو کم از کم بیدار و آگاہی تو ہونا چاہیے تاکہ اس وقت کا تو کچھ حدود میں اسے محدود کردے اور آئندہ کےلیے مثبت حرکت کا سرچشمہ بن جائے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ پہلا جملہ تو غیر پرہیز گاروں کے لیے پرہیزگاری اور تقویٰ اختیار کرنے کی طرف اشارہ ہو اور دوسرا جملہ پرہیز گاروں کے لیے نصیحت اور یادوہانی کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ سورہ انفال کی آیہ 2 بیان ہوا ہے : اذا تليت علیهم اياته زادتهم ایمانًا جس وقت قرآن کی آیات مومنین کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دراصل زیر بحث آیت میں تعلیم و تربیت کے دو موثر اصولوں کی طرف اشارہ ہواہے اول بیان کی صراحت اور عبارات کے رسا ہونے اور ان کے روشن و دلنشین ہونے کا مسئلہ ہے اور دوسرے مطالب کو طرح طرح کے لباسوں میں بیان کرنا ہے تاکہ تکرار کا موجب نہ ہو اور دلوں میں اترجانے کا باعث ہو۔ بعد والی آیت میں مزید ارشاد ہوتا ہے ، بلند مرتبہ ہے وہ خدا جو بادشاہ برحق ہے (فتعال الله الملك الحق)۔ ممکن ہے لفظ "حق" ان کا ذکر لفظ "ملک" کے بعد اس بناء پر ہوکہ لوگ عام طور ہر لفظ "ملک" (بادشاہ) سے بڑا مفہوم لیتے ہیں اور اس سے ان کے ذہن میں ظلم و ستم اور خود سری کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ لہذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے ، خدا بادشاہ برحق ہے۔ بعض اوقات پیغمبر اکرامؐ اور آیات قرآن حاصل کرنے سے اشتیاق اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے حفظ کرنے کی خاطر نزول وحی کے وقت جلدی فرمایا کرتے تھے اور جبرئیل کو پورے طور پر اس بات کی مہلت نہ دیتے تھے کہ وہ اپنی بات کو تمام کرلیں۔ اسی آیت کے آخری انہیں نصیحت کی جارہی ہے : قرآن کے لیے جلدی نہ کیا کرو ، اس سے پہلے کہ اس کی وحی پوری ہو: (ولا تعجل بالقران من قبل ان يقضٰي اليك وحيه). " اور یہ کہا کرو کہ اےپروردگارا میرے علم میں زیادتی فرما ( وقل رب زدني علمًا)۔ قرآن کی بعض دوسری آیات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر میں نزول وحی کے وقت ایک خاص کیفیت پیدا ہوجایا کرتی تھی کہ جو اس بات کا سبب بنتي تھی کہ وہ حصول وحی میں جلدی کریں۔ مثلًا : لاتحرك به لسانک لتعجل به ان علينلجمعه وقرانه فاذا قرأناه فأتبع قرانه اپنی زبان کو جلدی کی خاطر وہی حاصل کرتے وقت حرکت نہ دیا کرو ۔ اسے تیرے سینے میں جمع کرنا ہمارے ذمہ ہے تاکہ تو اسے تلاوت کرسکے ۔ پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تم پھر تو اسی کی تلاوت کی پیروی کر۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:113-114
2- علم میں اضافے کے طلبگار رہو
2- علم میں اضافے کے طلبگار رہو: إس سبب سے کہ وحی حاصل کرتے وقت جلد بازی سے ممانعت ممکن ہے یہ وہم پیدا کرے کہ یہاں زیادہ علم حاصل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ لہذا ساتھ میں فرمایاگیا ہے : یہ کہا کرو کہ اے پروردگار میرے علم میں اضآفہ فرما ( قل رب زدني علما)۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 سورہ قیامت 15 تا 17 - ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس جملے سے مذکورہ خیال رد کیا گیا ہے۔ یعنی عجلت اور جلد بازی درست نہیں ہے۔ لیکن علم میں اضافے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ پہلے جملے میں نبی کریم کو حکم دیا گیا ہے کہ آیات کے تمام پہلوؤں کو دوسری آیات میں وضاحت سمجھنے میں جلدی نہ کیا کرو اور دوسرے جملے میں یہ حکم دیاگیاہے کہ خدا سے قرآن کی آیات کے مختلف مفاہیم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی طلب کرو۔ بہرحال جہاں رسول اللهؐ اس علم سے سرشار اور آگہی سے معمور روح کے باوجود اس بات پر مامور ہوں کہ اخری عمر تک خدا سے علم میں اضافہ کی دعا کرتے رہیں تو دوسروں کی ذمہ داری کامل طور پر واضح اور روشن ہوجاتی ہے۔ درحقیقت اسلام کی نظر میں علم کی کوئی حد یا سرحد نہیں ہوتی۔ بہت سے امور میں زیادتی اوراضافہ کا مطالبہ مذموم سے لیکن علم میں ممدوح ہے۔ افراط بری چیز ہے لیکن علم میں افراط کا کوئی معنی نہیں ہے۔ علم کی کوئی مکانی سرحد نہیں ہے۔ چین اور ثریا بھی اس کی طلب میں دوڑنا چاہیئے ۔علم کوئی زمانی سرحد بھی نہیں رکھتا ۔ گہوارسے لے کر قبر تک جاری ہے۔ اسلام معلم اور استاد کے لحاظ سے بھی کوئی سرحد نہیں بناتا کیونکہ حکمت مومن کی گمشدہ چیز ہے جس شخص کے پاس سے اسے ملے ۔ حاصل کرلے اور ان کو موتی کسی نا پاک منہ سے گرے کر اسے اٹھالے۔ تلاش وکوششش کی نظر سے بھی اس کی کوئی سرحد نہیں ہے ۔ سمندروں کی گہرائیوں میں جائے اور علم حاصل کرے ۔ یہاں نکال کر اس کو حاصل کرنے کے لیے اپنی عزیز جان بھی دے دی. اس طرح سے منطق اسلام میں لفظ " فارغ التحصیل" ایک بے معنی لفظ ہے ۔ ایک سچے مسلمان کی تحصیل علم ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ ہی علم کامتلاشی اور طالب علم رہتا ہے۔ چاہے وہ بہترین استاد ہی کیوں نہ ہوجائے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک حدیث میں امام صادق علیه السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا : ہم ہر شب جمعہ ایک خاص سرور اور خوشی حاصل کرتے ہیں ۔ اس نے عرض کیا : خدا اس خوشی میں اور زیادتی کرے، یہ کونسی خوشی ہے۔ تو آپؑ نے فرمایا : اذاكان ليلة الجمعة وافی رسول الله (ص) العرش ووافی الأئمة (عليهم السلام) ووافینامعهم فلاتردارولحنا بابداننا اليعلم مستفاد ولولا ذالك لا نفدنا۔ جب شب جمعہ ہوتا ہے تو رسول اللہ (ص) کی روح پاک اور ائمه (علیهم السلام) کی ارواح اور ہم ان کے ساتھ عرش خدا کی طرف جاتے ہیں اور ہماری روحیں بدنوں کی طرف نہیں لوٹتیں مگر نئے علم کے ساتھ اور اگر ایسا نہ ہو تو ہمارے علوم ختم ہوجائیں۔ ؎1 یہ مضمون متعدد روایات میر مختلف عبارات کے ساتھ بیان ہوا ہے جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم اورآئمہ کے علم میں ہمیشہ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر نورالثقلين، جلد 3 ،ص 397۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ اضافہ ہوتا رہتا ہے اور رہتی دنیا تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک اور روایت میں پیغمبر بزرگوار اسلام سے منقول بولے کہ آپؐ نے فرمایا : اذا اتي على يوم لا ازداد فيه علمًا يقريتي الي الله فلا بارك الله لي في طلوع شمسه۔ جو دن مجھ پر ایسا آئے کہ اس میں کسی علم کا مجھ میں اضافہ نہ ہو کہ جو مجھے اللہ کے قریب کرے ، اس دن کا طلوع آفتاب مجھ پر مبارک نہ ہو۔ ؎1 ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی منقول ہے: اعلم الناس من جمع علم الناس الى علمه ، ویأكثر الناس قيمة اكثرهم علمًا واقل الناس قيمة اقلهم علمًا. لوگوں میں سے سب سے زیادہ صاحب علم وہ ہے کہ جولوگوں کے علم کا اپنے علم میں اضافہ کرے۔ تمام لوگوں میں سے زیادہ گراں قدر وہ شخص ہے جس کا علم زیادہ ہو اور سب سے کم قدر و قیمت والا وہ شخص ہے کہ جس کا علم سب سے کم اور تھوڑا ہو۔ ؎2 یہ ہے علم کی قدر قیمت اسلام کی نظر میں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر مجمع البیان و نورالثقلين وصافی ، زیر بحث آیات کے ذیل میں۔ ؎2 سفینتہ البحار ، جلد 2 ، ص 219 (ماده علم)