بِئۡسَمَا ٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡ أَن يَكۡفُرُواْ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بَغۡيًا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٖۚ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٞ مُّهِينٞ
Evil is that for which they have sold their souls, by defying what Allah has sent down, out of envy that Allah should bestow His grace on any of His servants that He wishes. Thus, they earned wrath upon wrath, and there is a humiliating punishment for the faithless.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:87-96
This sort of rebellion, due to jealousy, was seen in angels, who desired to be God’s Representatives on Earth, and the Arch-angel who refused to bow down to Adam was on this account. The angels did penance when they realized they had not the ability. So followers of Satan, in Jews, Christians, and Muslims disliked to follow Divine Nominees by Prophet, who were genuine Divine Lights and preferred to rule on Earth being a worthy ambition, though leading them ultimately to Hell by annihilating Islam.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:89-90
خسارے کا سودا
در حقیقت یہودیوں نے ایک خسارے کا سود کیاتھا۔ کیونکہ ابتدا میں وہ اسلام اور اسلام کے پیغمبر موعود کے داعی تھے۔ یہاں تک کہ تمام مشکلات جھیل کر مدینہ کی زندگی انہوں نے اسی مقصد کے لئے انتخاب کی تھی۔ لیکن پیغمبر خدا کے ظہور کے بعد صرف اس بناء پر کہ آپ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں یا آپ کی وجہ سے ان کے ذاتی منافع خطرے میں پڑگئے تھے، وہ آپ کے کافر و منکر ہوگئے اور یہ بہت زیادہ خسارے اور نقصان کا معاملہ ہے کہ انسان نہ صرف یہ کہ اپنے مقصد کود پہنچے بلکہ اپنی تمام قوتیں اور طاقتیں صرف کرکے اس کے بر عکس حاصل کرے اور خدا کا غضب اور ناراضی بھی الگ اٹھانی پڑی۔ حضرت امیر المومنین کے ارشادات میں ہے: لیس لانفسکم ثمن الا الجنہ فلا تبیعوھا الابھا۔ تمہارے نفسوں کی قیمت جنت کے علاوہ اور کوئی چیز ہوسکتی لہذا اپنے نفسوں کو اس کے علاوہ کسی چیز کے بدلے نہ بیچو مگر یہودی اس گراں بہا سرمائے کو مفت میںگنوا بیٹھے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سودا ان کے اصل و جود کا بیان کیا گیاہے یعنی جو حق و حقیقت سے منکر و کافر ہیں وہ اپنی حقیقت ہاتھ سے کھو بیٹھے ہیں۔ کیونکہ کفر کے ساتھ ان کے ساتھ ان کے وجود کی قیمت بالکل گر جاتی ہے گویا اپنی شخصیت گنوا بیٹھے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان غلاموں کی طرح ہیں جنہوں نے اپنا وجودبیچ کراسے دوسرے کی قید میں دے دیا ہو بیشک وہ ہوا و ہوس کے قیدی اور شیطان کے بندے ہیں۔ لفظ (اشتروا) اگر چہ عموما خرید نے کے معنی میں استعمال ہوتاہے لیکن کبھی بیچنے کے معنی میں بھی آتا ہی جیسا کہ لغت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں یہ لفظ بیچنے ہی کے معنی میں ہے لہذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے اپنا وجود مال و متاع کی طرح بیچاہے اور اس کے بدلے غضب پروردگار یا کفر و حسد خریدا ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:89-90
فباء بغضب علی غضب
بنی اسرائیل جب صحرائے سینا میں سرگرداں تھے اس عالم کی سرگذشت کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے قرآن کہتاہے: و با ء و بغضب من اللہ (وہ غضب خدا کی طرف پلٹے) اس کے بعد مزید کہتا ہے : یہ خدا کا غضب ان پر انبیاء کے قتل اور آیات خدا سے کفر کی وجہ سے تھا۔ سورہ آل عمران آیہ ۱۱۲ کا بھی یہی مفہوم ہے کہ یہودی آیات الہی سے کفر اور قتل انبیاء کی وجہ سے غضب الہی کا شکار ہوئے یہ پہلا غضب ہے جو انہیں دامن گیر ہوا۔ ان کے باقی ماندہ افراد نے: پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد ان سے اپنے بڑوں والی روشں ہی جاری رکھی۔ نہ صرف یہ کہ وہ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے آئین کے خلاف تھے بلکہ ان کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے ان کے اسی طرز عمل کی وجہ سے ایک نئے غضب نے انہیں گھیر لیا اسی لئے فرمایا: فباء و بغضب علی غضب۔ در اصل لفظ (باء و) کا معنی ہے وہ لوٹے اور انہوں نے سکوت اختیار کیا اور یہ کنایہ ہے استحقاق پیدا کرنے سے ۔ یعنی انہوں نے غضب پروردگار کو اپنے لئے منزل و مکان کی طرح انتخاب کیا۔ یہ سرکش و باغی گروہ حضرت موسی کے قیام سے پہلے اور پیغمبر اسلام کے ظہور سے قبل دونوں مواقع پر ایسے قیام کے سختی سے طرفدار تھے لیکن دونوں قیاموں کے رو بہ عمل ہونے کے بعد وہ اپنے عقیدے سے پھر گئے ارو یکے بعد دیگرے اپنی جان کے بدلے غضب خدا خرید لیا۔ ۹۱۔ وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ آمِنُوا بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا اٴُنزِلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُونَ بِمَا وَرَائَہُ وَہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَہُمْ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ اٴَنْبِیَاءَ اللهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِین َ۹۲۔ وَلَقَدْ جَائَکُمْ مُوسَی بِالْبَیِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِہِ وَاٴَنْتُمْ ظَالِمُونَ ۹۳۔ وَإِذْ اٴَخَذْنَا مِیثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَیْنَاکُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا وَاٴُشْرِبُوا فِی قُلُوبِہِمْ الْعِجْلَ بِکُفْرِہِمْ قُلْ بِئْسَمَا یَاٴْمُرُکُمْ بِہِ إِیمَانُکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ۹۱۔ اور جب ان سے کہاجائے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیاہے اس پر ایمان لے آؤتو وہ کہتے ہیں ہم تو اس چیز پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوئی (اس پرنہیں جو دوسری قوموں میں سے کسی پر نازل ہو) اور اس کے علاوہ سے کفر اختیار کر لیتے ہیں جب کہ وہ حق ہے اور ان آیات کی تصدیق کرتاہے جو ان پرنازل ہوچکی ہیں۔کہئے کہ اگرسچ کہتے ہو تو پھر اس سے پہلے انبیاء کو قتل کیوں کیا کرتے تھے۔ ۹۲۔ نیز موسی تمہارے لئے سب معجزات لے کر آئے (تو پھر کیوں تم نے) بعد ازاں بچھڑے کو منتخب کرلیا اور اس عمل سے تم نے اپنے اور پر ظلم کیا۔ ۹۳۔ اور تم سے ہم نے وہ پیمان لیا اور تم پر کوہ طور بلند کیا (اور تم سے کہا) یہ قوانین و احکام جو ہم نے تمہیں دیئے ہیں انہیں مضبوطی سے تھا مے رکھوا اور صحیح طرح سے سنو تم نے کہا ہم نے سن لیاہے اور پھر نافرمانی کی ہے اور کفر کے نتیجے میںبچھڑے کی محبت سے تمہارے دلوں کی آبیاری ہوئی اگر تم ایمان رکھتے ہو تو کہہ دو کہ تمہارا ایمان تمہیں کیسا برا حکم دیتاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:89-90
ان آیات میں بھی یہودیوں اور
ان آیات میں بھی یہودیوں اور ان کی زندگی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ جیسا کہ شان نزول میں ہے یہ لوگ رسول خدا پر ایمان لانے کے شوق اور دل بستگی کے ساتھ مدینہ میں آکر سکونت پذیر ہوئے تھے۔ تورات میں پیغمبر کی نشانیوں کو دیکھتے تھے اور بے چینی سے آپ کے ظہور کا انتظار کرتے تھے۔ لیکن جب خدا کیطرف سے ان کے پاس کتاب (قرآن) آئی جو ان علامتوں کے مطابق تھی جو یہودیوں کے پاس تھیں حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنے آپ کو اس پیغمبر کے ظہور کی خوشخبری دیتے تھے اور پیغمبر کے ظہور کے ذریعے دشمنوں پر فتح پانے کے امید لگائے بیٹھے تھے اور جب کہ وہ کتاب اور پیغمبر کو پہلے سے پہچانتے تھے پھر بھی اس سے کفر اختیار کر بیٹھے (وَلَمَّا جَائَہُمْ کِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَہُمْ وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جَائَہُمْ مَا عَرَفُوا کَفَرُوا بِہ) کافروں پرخدا کی لعنت ہو (ِ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَافِرِینَ) بعض اوقات انسان کسی حقیقت کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتاہے لیکن اس کے قریب پہنچ کر جب اسے اپنے ذاتی فائدے کے خلاف پاتاہے تو ہوا و ہوس کے نتیجے میں اسے ٹھوکر مار دیتاہے اور اسے چھوڑدیتاہے بلکہ کبھی تو اس کی مخالفت میں کھڑا ہوجاتاہے۔ لیکن یہودیوں نے تو انتہائی خسارے کا سودا کیا۔ جو لوگ پیغمبر موعود کی پیروی کے لئے اپنے علاقے کو چھوڑکر، بہت سی مشکلات جھیل کر سرزمین مدینہ میں سکونت پذیرہوئے تھے تا کہ اپنے مقصود تک پہنچ جائیں ، جب موقع آیا تو منکرین اور کافرین کی صف میں کھڑے ہوگئے لہذا اس مقام پر قرآن کہتاہے: کیسی بری قیمت پر انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کیا (ِبئْسَمَا اشْتَرَوْا بِہِ اٴَنفُسَہُمْ)۔ وہ حسد کی بناء پر اس چیزسے کافر ہوگئے جو خدانے نازل کی تھی ۔ انہیں اعتراض تھا کہ کیوں خدا اپنے فضل سے جس شخص پرچاہتا ہے اپنی آیات نازل کردیتاہے(اٴَنْ یَکْفُرُوا بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ بَغْیًا اٴَنْ یُنَزِّلَ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ( گویا اس انتظار میں تھے کہ پیغمبر موعود بنی اسرائیل میں سے اور خود انہی میں سے ہوگا لیکن جب کسی اور پر قرآن نازل ہوا تو انہیں تکلیف پہنچی اور وہ سنخ پا ہوگئے۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہے : لہذا خدا کے غضب نے یکے بعد دیگر ے انہیں گھیر لیا اور کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے( فَبَائُوا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ مُہِین)۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:90
[Pooya/Ali Commentary 2:90] These verses are in reply to the arrogance of the Jews. The Jews, out of envy, denied that Allah had sent down Injil on the prophet Isa and the Quran on the Holy Prophet. Although they said that they only believed in what was revealed to the Israelite prophets, despite the prophecy of the promised prophet in their book (see verse 40 of this surah), they still killed their own prophets. There is no end to the wrath brought about on them which they themselves had earned.