وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنكُمْ وَأَنتُم مُّعْرِضُونَ
When We took a pledge from the Children of Israel, [saying]: ‘Worship no one but Allah, do good to your parents, relatives, orphans, and the needy, speak kindly to people, maintain the prayer, and give the zakat,’ you turned away, except a few of you, and you were disregardful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:83
[Pooya/Ali Commentary 2:83] The covenant is a contract of guidance. Every clause is a command of Allah. Tawhid, worship and adoration of none other than Allah, is the first and the foremost command. Call upon Him with sincere (and exclusive) obedience. (ARAF: 29) Turning to a ghayrallah is as bad as surrendering to Shaytan who is an open enemy of man. IYYAKA NA-BUDU WA IYYAKA NASTA-IN (FATIHAH: 4) For this reason recitation of al Fatihah has been made obligatory in every salat. One is born into this world through parents, and therefore he who is on the path of guidance cannot but do good to parents (Luqman: 13). Parents should be loved, respected, obeyed and looked after in health and sickness. To walk ahead of them, to shout in their presence, to lose temper on account of any of their actions, or even to look at them with displeasure is unworthy of a true believer. In a wider sense, teachers and guardians are also parents - the spiritual source of guidance. The Holy Prophet said: "I and Ali are the fathers of the ummah." In the Old Testament the covenant made with the Bani Israil has been referred to as under: "He announced the terms of His covenant to you, binding you observe the ten words." (Deut 4: 13) "You shall have no other god to set against Me." (Exodus 20: 3) "Worship the Lord your God." (Exodus 23: 25) "At the end of every third year you shall bring out all the tithe of your produce for that year and leave it in your settlements so that the Levites, who have no holding or patrimony among you, and the aliens, orphans, and widows in your settlements may come and eat their fill. If you do this the Lord your God will bless you in everything to which you set your hand. (Deut 14: 28 and 29) In this verse the significance of the religion of Allah, Islam, has been pointed out. If the commandments of this verse are carried out how peaceful and pleasant would life on earth be!
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:83-86
1. The prophet predicted Hussain’s slaughter with three days’ hunger, thirst by so called Muslims, who will be condemned to Hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:83-86
عہد و پیمان کا ذکر
گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے عہد و پیمان کا ذکر تو کہیں آیاہے لیکن اس بارے میں تفصیل بیان نہیں ہوئی لیکن محل بحث آیت میں اس عہد و پیمان کی شقوں کا ذکر کیا گیاہے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تمام کی تمام ان امور میں سے ہیں جنہیں ادیان الہی کے ثابت شدہ احکام کا نام دینا چاہئے کیونکہ تمام آسمانی ادیان میں یہ پیمان اورا حکام موجود ہیں۔ ان آیات میں قرآن یہودیوں کو شدید سرزنش کررہاہے کہ تم نے اس پیمان کو کیوں توڑدیا۔ قرآن انہیں یہ پیمان توڑنے کی پاداش میں اس جہان کی رسوائی اور اس جہان کے شدید عذاب سے ڈرا رہاہے۔ یہ پیمان جس کے بنی اسرائیل خود شاہد تھے اور اس کا اقرار کرتے تھے ان امور پر مشتمل ہے۔ ۱۔ اس وقت کو یاد کر و جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدائے یکتا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کروگے اور کسی بت کے سامنے سر تعظیم نہیں جھکاؤگے ( و اذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ)۔ ۲۔ ماں باپ سے نیکی کروگے (وبالوالدین احسانا)۔ ۳۔ اپنے رشتہ داروں یتیموں اور مدد طلب کرنے والے محتاجوں سے بھی نیکی کروگے ( و ذی القربی و الیتمی و المساکین)۔ ۴۔ اجتماعی طور پر لوگوں کے ساتھ تمہارا سلوک اچھا ہوگا اور لوگوں سے اچھے پیرائے میں بات کروگے (و قولوا للناس حسنا)۔ ۵۔ نماز قائم کروگے اور ہر حالت میں خدا کی طرف متوجہ رہوگے (و اقیموا الصلاة)۔ ۶۔ زکوة ادا کرنے اور محروم لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کروگے( واتوالزکوة)۔ لیکن تم میں سے مختصر سے گروہ کے علاوہ سب نے اپنے عہد سے منہ ہوڑلیا اور اپنے پیمان کو ایفا کرنے سے روگردانی کی (ثم تولیقم الا قلیلا منکم و انتم معرضون)۔ ۷۔ یاد کرو اس وقت کو جب تم سے ہم نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کاخون نہیںبہاؤگے (و اخذنا میثاقکم اد تسفکون دماء کم)۔ ۸۔ ایک دوسرے کو اپنی بستیوں سے باہر نہیں نکا لوگے ( و لا تخرجون انفسکم من دیارکم)۔ ۹۔ اگر کوئی شخص تم میں سے جنگ کے دوران قید ہوجائے تو سب اس کی آزادی کے لئے مدد کروگے فدیہ دو گے اور اسے آزاد کراؤگے (پیمان کا یہ مفہوم) (افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض) سے حاصل کیا گیاہے جو بعد میں آئے گا)۔ پھر تم نے ان سب شرائط کا اقرار کیا اور اس پیمان پر خود گواہ ہوئے (ثم اقررتم و انتم تشہدون)۔ لیکن تم نے ان میں سے بہت ہی شرائط کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ تم وہی تھے جو ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور اپنے میں سے کچھ لوگوں کو ان کی زمین سے نکال دیتے تھے (ثم انتم ھولاء تقتلون انفسکم و تخرجون ) اور تعجب کی بات یہ کہ فدیہ دینے اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں تم تورات کے حکم اور پیمان الہی سے سند حاصل کرتے تھے۔ کیا کتاب الہی کے بعض احکامات پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر اختیار کرتے ہو ( َفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ)یہ جو تم احکام الہی میں تبعیض و تفریق ر وا سمجھے ہو اس کی جزا اس جہا ن کی رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ( فَمَا جَزَاءُ (۱)مَنْ یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنْکُمْ إِلاَّ خِزْیٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا)اور قیامت کے دن ایسے لوگ سخت ترین عذاب کی طرف پلٹیں گے (یوم القیامة یردون الی اشد العذاب ) اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے ( وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) ۔ بلکہ اس نے تمہارے اعمال کی کلیات و جزئیات کو بڑی باریکی سے شمار کیا ہے اور اس کے مطابق تمہیں بدلادے گا۔ محل بحث آیت کے آخر میں ان کے ان اعمال کا اصلی سبب بیان کیاہے جو خلاف حقیقت ہیں۔ فرمایا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی ہے (اولئک الذین اشتروا الحیوہ الدنیا بالاخرہ) اسی بنا ء پر ان کے عذاب میں تخفیف نہیں ہوگی اور کوئی ان کی مدد کے لئے کھڑا نہیں ہوگا(فَلاَیُخَفَّفُ عَنْہُمْ الْعَذَابُ وَلاَہُمْ یُنصَرُونَ(
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:83-86
آیات کا تاریخی پر منظر
جیسا کہ مفسرین نے نقل کیاہے بنی قریظہ اور بنی نضیر جو یہود یوں کے دو گروہ تھے۔ ان کی آپس میں قریبی رشتہ داری تھی تا ہم دنیاوی منافع کی خاطر ایک دوسرے کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتے تھے۔ بنی نضیر، قبیلہ خزرج سے مل گئے تھے۔ جو مدینہ کے مشرکین کا قبیلہ تھا اور بنو قریظہ اوس کے ساتھ مل گئے تھے۔ ان دو قبیلوں کے در میان جو جنگی ہوتی تھیں ہر گروہ اپنے ہم پیمان قبیلے کی مدد کرتاتھا اور اس طرح دوسرے گروہ کے خلاف لڑتا اور جب جنگ کی آگ سرد پڑجاتی تو تمام یہودی جمع ہوجاتے اور ایک دوسرے سے اتحاد کرتے تا کہ فدیہ ادا کرے اپنے قیدیوں کو آزاد کرا لیں۔ اس عمل میں وہ تورات کے حکم اور قانون کو سند مانتے حالانکہ اوس و خزرج دونوں مشرک تھے اولا ان کی مدد کرناہی جائز نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ وہی قانون جو فتنہ کا حکم دیتاہے قتل کرنے سے بھی رد کتاہے ۔ یہودی دیگر ہٹ دھرم اور نادان قوموں کی طرح ایسے بہت سے اعمال انجام دیتے تھے جو ایک دوسرے کے ضد تھے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:83-86
قوموں کی زندگی کے لئے بنیادی احکام
دوسری طرف قوموں کی بقاء اور ہمیشگی کے لئے افراد ملت کے ما بین خصوصی وابستگی ضروری ہے ، ایسا یوں ممکن ہے کہ ہر شخص اپنے ماں باپ سے جن زیادہ قریب کی وابستگی ہے، عزیز و اقارب سے جو وابستگی کے اعتبار سے ایک فاصلے پرہیں اور پھر معاشرے کے تمام افراد سے نیکی اور اچھائی کے ساتھ پیش آئے تا کہ سب ایک دوسرے کے دست و بازوبنیں ( وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَذِی الْقُرْبَی وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا ( قوم کے کمزور و ناتواں افراد کی تقویت روحانی اور مادی طور پر اس ہمیشگی میں کافی حصہ رکھتی ہے اور اس طرح دشمن کے لئے کوئی کمزور جگہ باقی نہیں رہتی اور قوم میں کوئی فرد مشکلات اور سختی میں نہیں رہتا کہ وہ ان مشکلات کے نتیجے میں اپنے آپ کو دشمن کے دامن میں جا گرائے ( وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِین( ہر قوم کے زندہ رہنے کے لئے مالی و اقتصادی بنیاد کا استحکام بھی بڑا حصہ ادا کرتاہے جو زکوة کی ادائیگی سے انجام پذیر ہوتاہے )َ وَآتُوا الزَّکَاة) ایک طرف کامیابی کے لئے یہ امور ہیں اور دوسری طرف قوموں کی شکست اور بربادی کا راز اس وابستگی کے ٹوٹ جانے اور کشمکشوں اور اندرونی جنگ شروع ہونے میں ہے۔ وہ قوم جس میں داخلی جنگ شروع ہوجائے اور تفرقہ بازی کا پتھر اس میں پھینک دیاجائے، اس کے افراد ایک دوسرے کی مدد کے بجائے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جائیں، ایک دوسرے کے مال اور زمین پر قبضہ جمانے پر تل جائیں ،۔ ۱۔ جملہ (ما جزا) میں لفظ (ما) ممکن ہے نافیہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ استفہامیہ ہو لیکن نتیجے کے طور پر ہر دو طرح سے کوئی فرق نہیں۔