أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِن بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
Are you then eager that they should believe you, though a part of them would hear the word of Allah and then they would distort it after they had understood it, and they knew [what they were doing]?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:75
[Pooya/Ali Commentary 2:75] People who are not aware of the truth readily become believers when they see the light of truth, but those who know the truth and yet deny it remain disbelievers. The Jews and the Christians of Arabia were expecting the advent of the Holy Prophet, in view of the prophecies made by Musa, Isa and other Prophets, (see Baqarah: 40), therefore, they used to warn the pagans: "Wait! The promised one comes and punishes you all for your wickedness". Their attitude towards Islam, before hijrat, was not hostile, if not friendly, but as the influence and the power of the Muslims increased, they stopped talking about the prophecies mentioned in their scriptures and prevented others from referring to them. Though yuharrifunahu here means misinterpretation and not any material change in the wording, yet it is proved that the pre-Islamic scriptures had been misinterpreted (tahrif ma-nawi) as well as tampered with by omission, addition, and substitution of letters, words and sentences (tahrif lafzi), as mentioned in the Encyclopaedia Brittanica and the periodicals published by the Watch Tower Society. What has been discovered today after extensive research by independent scholars has been disclosed by the Quran in this verse.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:75-77
انتظار بیجا
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ان آیات میں خدا بنی اسرائیل کا واقعہ چھوڑ کر مسلمانوں سے خطاب کر رہا ہے اور ایک سبق آموز نتیجہ پیش کرتا ہے ۔ کہتا ہے : تم کس طرح یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ قوم تم پر ( یعنی تمہارے دین کے احکامات پر ) ایمان لے آئے گی ۔ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ خدا کی باتیں سننے ، سمجھنے اور ادراک کرنے کے بعد ان میں تحریف کردیتا ہے ۔ جب کہ ان لوگوں کو علم و اطلاع بھی ہے ( افتطمعون ان یومنو ا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلٰم اللہ ثم یحرفونہ من بعد ما عقلوہ ھم یعلمون )۔ اگر تم دیکھتے ہو کہ یہ قرآن کے زندہ بیانات اور پیغمبر اسلام کے اعجاز کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتے تو اسے اہمیت نہ دو کیونکہ یہ انہی لوگوں کی اولاد ہیں جو قوم کے منتخب افراد کی حیثیت سے موسیٰ بن عمران کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے ، انہوں نے خدا کی باتیں سنی تھیں اور اس کے احکام کو سمجھا تھا لیکن ان میں سے بعض جب لوٹ کر آئے تو کلام ِ خدا میں تحریف کردی ۔ ” قد کان فریق منھم “ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب تحریف کرنے والے نہ تھے ۔ پھر بھی یہ اس بات کے لئے کافی تعداد تھی کہ پیغمبر اسلام کے ہم عصر یہودیوں کے عناد و دشمنی پر تعجب نہ کیا جائے ۔ اسباب النزول میں ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ جب کوہ طور سے واپس آیا تو لوگوں سے کہنے لگا کہ ہم نے خود سنا ہے کہ خدا نے موسیٰ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہمارے فرامین کو جتنا بجالاسکتے ہو انجام دو اور جنہیں بجا نہیں لاسکتے انہیں چھوڑ دو ۔ بہر حال ابتداء میں یہ توقع بجا تھی کہ قوم یہود دوسرے سے پہلے اسلام کی آواز پر لبیک کہے گی کیونکہ ( مشرکین کے برخلاف ) وہ لوگ اہل کتاب تھے ۔ علاوہ از ایں انہوں نے رسول اسلام کی صفات بھی اپنی کتاب میں پڑھی تھیں لیکن قرآن کہتا ہے ان کے ماضی پر نظر کرتے ہوئے ان سے توقع کا محل نہیں کیونکہ بعض اوقات کسی گروہ کی صفات اور مزاج کی کجروی اس بات کا سبب بنتی ہے کہ حق سے انتہائی قرب کے باوجود اس سے دور رہے ۔ بعد کی اایت اس حیلہ گر اور منافق گروہ کے متعلق ایک اور حقیقت کی نقاب کشائی کرتی ہے ۔ قرآن کہتا ہے : ان میں سے پاک دل لوگ جب مومنین سے ملاقات کرتے ہیں تو اظہار ایمان کرتے ہیں ( اور پیغمبر کی وہ صفات جو ان کی کتب میں موجود ہیں ان کی خبر دیتے ہیں ) ( و اذا لقوا لذین اٰمنوا قالوا اٰمنا ) لیکن علیحدگی اور خلوت میں ان سے ایک گروہ کہتا ہے تم ان مطالب کو جو خدا نے تورات میں تمہارے لئے بیان کئے ہیں مسلمانوں کو کیوں بتاتے ہو ( و اذا خلا بعضھم الی بعض قالوا اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم )کہ کہیں قیامت کے دن خدا کے سامنے تمہارے خلاف ان سے استدلال کریں ، کیا تم یہ سمجھتے نہیں ( لیحاجوکم بہ عند ربکم ط افلا تعقلون )۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کی ابتداء یہودی منافقین کے سلسلے میں گفتگو کر رہی ہو ، جو مسلمانوں کے سامنے ایمان کا دم بھرتے ہیں اور تنہائی میں انکا ر کردیتے ہیں یہاں تک کہ یہودیوں میں سے پاک دل لوگوں کو بھی سر زنش کرتے ہیں کہ تم نے کتب مقدس کے اسرار سے مسلمانوں کو کیوں آگاہ کیا ہے ۔ بہر حال یہ پہلی آیت کے بیان کی تائید کرتی ہے یعنی جس گروہ کے ذہنوں پر ایسے خیالات کا قبضہ ہے ان سے ایمان کی اتنی توقع نہ رکھا کرو۔ ”فتح اللہ علیکم “ سے مراد ممکن ہے خدا کا وہ فرمان و حکم ہو جو بنی اسرائیل کے پاس تھا اوریہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان کے لئے نئی شریعت سے متعلق خبروں کے دروازں کے کھلنے کی طرف اشارہ ہو ۔ اس آیت سے ضمنی طور پر یہ بھی بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ اس منافق گروہ کا اللہ کے بارے میں ایمان اس قدر کمزور تھا کہ وہ اسے ایک مادی انسان کی طرح سمجھتے تھے اور تصور کرتے تھے کہ اگر کوئی حقیقت مسلمانوں سے چھپالیں تو وہ خدا سے بھی چھپی رہے گی لہذا بعد کی اایت صراحت سے کہتی ہے : کیا یہ نہیں جانتے کہ خدا ان کے اندرونی اور بیرونی اسرار سے آگاہ ہے ( ولا یعلمون ان اللہ یعلم مایسرون وما یعلنون ) ۔ ۷۸۔ و منھم امیون لا یعلمون الکتٰب الا امانی وان ھم الا یظنون ۷۹ فویل للذین یکتبون الکتٰب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشترو ا بہ ثمناََ قلیلا ط فویل لھم مما کتبت ایدیھم و ویل لھم مما یکسبون ترجمہ ۷۸۔ اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب خدا کو چند خیالات اور آرزوؤں کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے اور انہون نے فقط اپنے گمانوں سے وابستگی اختیار کرلی ہے ۔ ۷۹ ۔ افسوس اور ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو کچھ مطالب اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ اسے تھوڑی سی قیمت پر فروخت کرسکیں ۔ افسوس ہے ، ان پر اس سے جو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں جو کچھ وہ کماتے ہیں ان پر اس کے لئے بھی افسوس ہے ۔ شان نزول وہ اوصاف پیغمبر جو تورات میں آئے تھے بعض علماء یہود نے انہیں تبدیل کردیا ۔ انہوں نے یہ تبدیلی اپنے مقام و منصب کی حفاظت کی خاطرکی تھی اور ان منافع کی خاطر جو انہوں ہر سال عوام کی طرف سے ملتے تھے ۔ جب پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے تو انہوں نے آپ کے اوصاف کو تورات میں بیان کردہ اوصاف کے مطابق پایا ۔ اس پر انہیں ڈر ہوا کہ حقیقت کے واضح ہونے کی صورت میں ان کے منافع خطرے میں پڑ جائیں گے لہذا انہوں نے تورات میں مذکورحقیقی اوصاف کے بجائے ان کے مخالف اوصاف لکھ دیئے ۔ یہود ی عوام نے وہ اوصاف کم و بیش سن رکھے تھے اس لئے وہ اپنے علماء سے پوچھتے کہ کیا یہ وہی پیغمبر ِ موعود نہیں جس کے ظہور کی آپ ہمیں بشارت دیا کرتے تھے ۔ اس پر وہ تورات کی تحریف شدہ آیات پڑھتے تھے تاکہ وہ خاموش ہوجائیں ۱ ۱۔ مجمع البیان میں زیر نظر آیت کے ذیل میں اجمالی طور پر یہ شان نزول بیان کی گئی ہے اور تفصیلی طور پر دیگر متعلقہ آیات کے ذیل میں بیان کی گئی ہے ۔