وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ ٱلَّذِينَ ٱعۡتَدَوۡاْ مِنكُمۡ فِي ٱلسَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَهُمۡ كُونُواْ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ
And certainly you know those of you who violated the Sabbath, whereupon We said to them, ‘Be you spurned apes.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:65
[Pooya/Ali Commentary 2:65] Aqa Mahdi Puya says: Sabbath day was reserved exclusively for prayers. To do anything else was forbidden. The people invented crafty methods through which the fish got trapped. In this way they resorted to fishing which was also forbidden on the Sabbath days. In view of their persistent violations in spite of the repeated warnings given by the prophets., they were transformed into apes. After three days all of them died. A powerful wind swept their corpses into the sea. This incident took place in the town of Elah, on the coast of the Red Sea, during the time of prophet Dawud. This transformation has again been stated in verse 166 of al Araf. Misinterpreting the Quran, by inappropriately comparing the wording of one passage to the other passages without any grammatical reasoning or the identity of the meaning, is an attempt to confuse the purport of one with the other, which the Holy Prophet has strongly prohibited, and declared that it is as bad as infidelity. The following wonderful events, which became operative as supernatural phenomena, are narrated in the Quran as the miracles given to Musa to furnish the proof of his prophethood.: The rod of Musa transformed into a serpent. The brilliance of the palm of Musa. The splitting of the sea. The gushing of water from the rock. The coming of manna and salwa from the heavens. The shadowing of the cloud over the Bani Israil. The raising of the dead. The suspension of the mountain over the people. The transformation of the transgressors into apes. Denial of the divine signs, which appeared due to the ability of the supernatural energy to make adjustments in nature leads to the rejection of the true religion of Allah preached by the last messenger of Allah, as is evident in the case of the Ahmadi movement - a hypocritical and dishonest camouflage and a gross disloyalty to the true faith. The Ahmadi commentator adds "as" before the word apes, in order to deny the divine sign. (see commentary for verse 4)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:65-66
یہ دو آیات بھی گذشتہ آیات کی طرح
یہودیوں کی عصیان ونافرمانی کی روح اور مادی امور کی طرف ان کی شدید رغبت اور وابستگی کی طرف ا شارہ کرتی ہیں پہلے کہا گیا ہے :تم ان کی حالت کو تو جانتے ہو جنہو ں نے تم میں سے ہفتہ کے دن کے بارے میں نافرمانی اور گناہ کیا تھا( ولقد علمتم الذین اعتدو ا منکم فی السبت) نیز تمہیںیہ بھی علم ہے کہ ہم نے انکو کہا کہ دھتکارے ہوئے بندروں کی طرح ہو جاؤ( فقلنا لھم کونو ا قردة خٰسئین) ہم نے اس واقعہ کو اس زمانہ کے لوگوں کے لئے اور بعد کے زمانے کے لوگوں کے لئے بھی درس عبرت قرار دیا ہے( فجعلنٰھا نکالا لما بین یدیھا و ما خلفھا) اور اسی طرح پرہیزگاروں کے لئے بھی پند ونصیحت قرار دیا ہے (وموعظة للمتقین) اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا نے یہودیوں کو یہ حکم دے رکھا تھاکہ وہ ہفتہ کے دن تعطیل کیا کریں ۔ان میںسے کچھ لوگ دریا کے کنارے رہتے تھے اور آزمائش وامتحان کے طور پر انہیں حکم ملا کہ اس دن مچھلیاں نہ پکڑا کریں لیکن دوسرے دنوں کے برعکس ہفتہ کے دن مچھلیاں بڑی کثرت سے پانی کی اوپر والی سطح پر ظاہر ہو جاتی تھیں لہٰذا وہ کوئی حیلہ سوچنے لگے اور ایک قسم کے شرعی بہانے سے انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑ لیں ۔ خدا تعالی نے اس جرم کی سزا دی اور ان کے انسانی چہرے حیوانی شکل میں بدل گئے ۔ ان کے چہرے مسخ اور تبدیل ہونا جسمانی طور پر تھا یا نفسیاتی و اخلاقی طور پر ، نیز یہ کہ لوگ کہاں رہتے تھے اور کون سے بہانے کے ذریعہ انہوں نے مچھلیاں پکڑ ی تھیں ۔ ان تمام سوالات کے جوابات اور اس سلسلے کے دوسرے مسائل اسی تفسیر کی چھٹی جلد میں سورہ اعراف کی آیات ۱۶۳ سے ۱۶۶ تک کے ذیل میں آئیں گے۔ جملہ کونو اقردة خاسئین ۱ سرعت عمل سے کنایہ ہے یعنی ایک اشارے اور فرمان سے تمام نافرمانوں کے چہرے بدل گئے ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ امام باقر اور امام صادق سے اس آیت کے مفہوم کے بارے میں یوں منقول ہے : ما بین یدیھا سے اس زمانے کی نسل اور ماخلفھا سے مراد ہم مسلمان ہیں یعنی یہ درس عبرت بنی اسرائیل سے مخصوص نہیں بلکہ یہ تمام انسانوں کے لئے ہے۔ 2 ۶۷۔ و اذ قال موسی ٰ لقومہ ان اللہ یامر کم ان تذبحوا بقرة ط قالو ا اتتخذنا ھزوا ط قال اعوذ باللہ ان اکون من الجٰھلین ۶۸۔ قالو ادع لنا ربک یبین لنا ماھی ط قال انہ یقول انھا بقرة لا فارض و لا بکر ط عوان بین ذٰلک ط فافعلو ا ما تومرون ۶۹۔ قالوا ادع لنا ربک یبین لنا مالونھا ط قال انہ یقول انھا بقرة صفراء فاقع لو نھا تسر النٰظرین ۷۰۔ قالو ادع لنا ربک یبین لنا ماھی ان البقرة تشٰبہ علینا ط و انا ان شاء اللہ لمھتدون ۷۱۔ قال انہ یقول انھا بقرة لا ذلول تثیر الارض ولا تسقی الحرث ج مسلمة لاشیة فیھا ط قالو االئٰن جت بالحق فذبحو ھا وما کادوا یفعلون ۷۲۔ و اذ قتلتم نفسا فادٰرئتم فیھا ط واللہ مخرج ما کنتم تکتمون ۷۳۔ فقلنا اضربوہ ببعضھا ط کذٰلک یحی اللہ الموت و یریکم اٰیٰتہ لعلکم تعقلون ۷۴۔ ثم قست قلوبکم من بعد ذٰلک فھی کاالحجارة او اشد قسوة ط و ان من الحجارة لما یتفجر منہ الانھٰر ط و ان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء ط و ان منھا لما یھبط من خشیة اللہ ط و ما اللہ بغافل عما تعملون ترجمہ ۶۷۔ اور ( اس وقت کو یاد کرو ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو ( اور اس کے بدن کا ایک ٹکڑا اس مقتول کے ساتھ لگاؤ جس کا قاتل نہیں پہچانا جارہا تاکہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا تعارف کرائے اور یہ شور و غو غا ختم ہو ) وہ کہنے لگے تم ہم سے مذاق کرتے ہو ۔ ( موسیٰ نے کہا میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں سے ہوجاؤ ( اور کسی سے مذاق و استہزا کروں ) ۶۸۔ وہ کہنے لگے ( تو پھر ) اپنے خدا سے یہ کہو کہ ہمیں واضح کرے کہ یہ کس قسم کی گائے ہونا چاہیے ۔ اس نے کہا : خدا فرماتا ہے کہ گائے نہ بوڑھی ہو کہ جو کام سے رہ گئی ہو اور نہ بالکل جوان ہو بلکہ ان کے درمیان ہو جو کچھ تمہیں حکم دیا گیا ہے ( جتنی جلدی ہوسکے ) اسے انجام دو ۔ ۶۹۔ وہ کہنے لگے ! اپنے خدا سے کہو ہمارے لئے واضح کرے کہ اس کا رنگ کیسا ہو ۔ وہ کہنے لگا :خدا فرماتا ہے کہ وی زرد رنگ کی ہو ، ایسے رنگ کی جو دیکھنے والوں کو اچھا لگے ۔ ۷۰۔ وہ کہنے لگے اپنے خدا سے کہیئے وہ واضح کرے کہ وہ کس قسم کی گائے ہو کیونکہ یہ گائے تو ہمارئے لئے مبہم ہوگئی ہے اور اگر خدا نے چاہا تو ہم ہدایت پالیں گے ۔ ۷۱۔ اس نے کہا : خدا فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو اتنی سدھائی ہوئی ہوکہ زمین جوتے اور نہ ہی کھیتی سینچے ، بھلی چنگی اور ایک رنگ کی ہو جس میں کوئی دھبہ تک نہ ہو ۔ وہ کہنے لگے اب ( جاکے ) ٹھیک ٹھیک بیان کیا اور پھر انہون نے ( ایسی گائے تلاش کی ) اور اسے ذبح کیا حالانکہ وہ مائل نہ تھے کہ اس کام کو انجام دیں ۔ ۷۲ ۔ اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا ، پھر ( اس کے قاتل کے بارے میں ) تم میں پھوٹ پڑگئی اور خدا نے ( اس حکم کے ذریعہ جو مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے ) اسے آشکار کردیا جسے تم چھپا رہے تھے ۔ ۷۳۔ پھر ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکرا مقتول کے ساتھ لگا دو ( تاکہ وہ زندہ ہوکر قاتل کی نشاندہی کردے ) ، اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنی آیات دکھاتا ہے کہ شاید تم سمجھ سکو ۔ ۷۴۔ پھر اس واقعے کے بعد تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ کچھ پتھر تو وہ ہیں جنسے نہریں جاری ہوتی ہیں اور بعض وہ ہیں جن میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور ان میں سے پانی کے قطرات ٹپکتے ہیں اور ان میں سے بعض خوف خدا سے ( پہاڑ کی بلندی سے ) نیچے گر جاتے ہیں ( لیکن تمہارے د ل نہ خوف ِ خدا سے دھڑکتے ہیں اور نہ ہی وہ علم و دانش اور انسانی احساسات کو سر چشمہ ہیں ) اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے ۔ ۱ -خاسی ” خسارہ “ مادہ سے ہے جس کے معنی ذلت کے ساتھ دھکیلنا ہے ۔ یہ لفظ اصل میں کتے کو دور کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں اس سے دھتکارنے کا وسیع تر معنی لیا گیا ہے جس میں حقارت شامل ہے لہذا یہ لفظ دوسرے مواقع پر بھی استعمال ہو نے لگا 2- تفسیر مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔