وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ
And when We said, ‘Enter this town, and eat thereof freely whencesoever you wish, and enter while prostrating at the gate, and say, ‘‘Relieve [us of the burden of our sins],’’ so that We may forgive your iniquities and We will soon enhance the virtuous.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:58
[Pooya/Ali Commentary 2:58] The city mentioned here may be in the land of Canaan according to Numbers 33:52 of the Old Testament. As commanded by Allah, Musa gave instructions to the Bani Israil to enter the city through its gate prostrating, and saying: "I seek forgiveness of the Lord and turn repentant unto Him", because therein they would live in peace and harmony with plenty of provisions. The Holy Prophet informed his followers, Muslims, about another city with its gate. He said: I am the city of knowledge and Ali is its gate. If anyone wants to come into contact with the divinely endowed wisdom of the Holy Prophet, he should first get familiar with Ali not only by building up close attachment with him but also by paying homage to him with expression of reverence. In Tafsir Durr al Manthur, Jalaluddin Suyuti quotes Ali ibna abi Talib: Our position in Islam to the Muslims is the same as the gate of hitta was to the Bani Israil. Those who do good to others get more bounties from Allah. (see commentary for verse 4)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:58-59
اس مقام پر ہمارا سابقہ بنی اسرائیل
اس مقام پر ہمارا سابقہ بنی اسرائیل کی زندگی کے ایک اور مرحلے سے پڑتا ہے جوسر زمین مقد س میں ان کے داخلے سے مربوط ہے پہلی آ یت کہتی ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے ان سے کہا کہ اس بستی (سر زمین قدس )میں داخل ہو جاوٴ (واذقلناادخلواھٰذہ ا لقریہ ) ۔ لفظ قریہ اگرچہ روز مرہ میں بستی کے معنی میں ہے لیکن قرآن اور لغت ِ عرب میں ہر اس محل و مقام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جہاں لوگ جمع ہوں چاہے وہ بڑے شہر ہوں یا بستیان یہاں مراد بیت المقدس اور قدس کی سر زمین ہے۔قرآن مزید کہتا ہے : اس کی فراوان نعمتوں میں سے جتنا چاہو کھاؤ ( فکلوا منھا حیث شئتم رغدا ) اور بیت المقدس کے دروازے سے خضوع و خشوع کے ساتھ گزر جاؤ ( وادخلو الباب سجدا ) اور کہو: خدایا ہمارے گناہوں کو بخش دے ( و قولو احطة ) تاکہ ہم تمہاری خطاؤں کو بخش دیں اور ہم نیک لوگوں کو زیا دہ بدلہ دیں گے ( نغفر لکم خطٰیٰکم و سنزید المحسنین )۔ متوجہ رہنا چاہیئے کہ لفظ حطہ لغوی لحاظ سے جھاڑنے اور نیچے گرانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ یہاں اس کا معنی یہ ہوگا کہ خدایا ہم تجھ سے اپنے گناہوں کے گرنے کی خواہش کرتے ہیں ۔ خدا نے انہیں حکم دیا کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے یہ جملہ سچے دل سے زبان پر جاری کریں اور ان سے وعدہ کیا کہ اس حکم پر عمل در آمد کی صورت میں ان کی غلطیوں سے صرف ِ نظر کیا جائے گا ۔ شاید اسی مناسبت سے بیت المقدس کے ایک درواذے کا نام باب الحطہ رکھا گیا ہے جیسا کہ ابو حیان اندلسی نے بیان کیا ہے : باب سے مراد بیت المقدس کا ایک دروازہ ہے جو باب حطہ کے نام سے مشہور ہے ۱ ٓ آ یت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے کہ نیک لوگوں کے لئے مغفرت اور گناہوں کی بخشش کے ساتھ ساتھ ہم اجر میں مزید اضافہ کریں گے و سنز ید المحسنین)۔ بہر حال خدا وند عالم نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ گناہوں سے توبہ کے لئے خدا کی بارگاہ میں خضوع کے طور پر یہ جملہ بھی سچے دل سے زبان پر جاری کریں جو توبہ اور تقاضائے عفو کی دلیل ہے اور ان سے وعدہ کیا کہ اس حکم پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں ان کے گناہوں کو بخش دے گا بلکہ یہاں تک کہ ان کے پاک اور نیک کارلوگوں کو گناہوں کی بخشش کے علاوہ دوسرا اجر بھی دے گا ۔ لیکن جیسا کہ ہم بنی اسرائیل کی ہٹ دھر می اور سر کشی کو جانتے ہیں ، ان میں سے ایک گروہ نے یہ لفظ ادا کرنے کے حکم کی خلاف ورزی کی اور اس کے بجائے استہزا کے طور پر ایک مناسب لفظ کہنے لگے لہذا قرآن کہتا ہے : رہے وہ لوگ جو ظالم و ستمگار تھے انہوں نے اس لفط کو کسی اور لفط سے بدل دیا ۔( فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم ) ہم نے بھی ستمگروں پر ان کے فسق و گناہ کی وجہ سے آسمان سے عذاب اتارا ( فانز لنا علی الذین ظلموا رجزاََ من السماء بما کانوا یفسقون ) جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے ”رجز “ در اصل ا ضطراب ، انحراف اور بد نظمی کے معنی میں ہے ۔ یہ تعبیر خصوصاََ اونٹ کے لئے اس وقت استعمال ہوتی ہے جب وہ اپنے پاؤں کمزور اور ناتوانی کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب نامنظم طور پر رکھے ۔ مرحوم طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں : ” رجز “در اصل حجاز کی لغت میں عذاب کے معنی میں ہے ۔ وہ نبی اکرم سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں جو طاعون کے موقع پر آپ نے ارشاد فرمائی : انہ رجز عذب بہ بعض الامم من قبلکم یہ ایک قسم کا عذاب ہے جو تم سے پہلے کی بعض امتو ں پر نازل ہوا ۲ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض رویات میں زیر بحث آیت میں لفظ رجز کو ایک قسم کا طاعون کیوں قرار دیا گیا ہے ، جو تیزی سے بنی اسرائیل میں پھیلا اور اس نے ایک گروہ کو ختم کردیا ۔ ممکن ہے کہا جائے کہ طاعون کی بیماری ایسی چیز نہیں ہے جو آسمان سے نازل ہوسکتا ہے بنی اسرائیل کی طرف طاعون کے جراثیم ان کے گرد چلنے والی ہوا میں موجود غلیظ گرد و غبار میں شامل ہوں ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ طاعون کے درد ناک عوارض میں سے یہ بھی ہے کہ اس بیماری کے عالم میں لوگ گفتگو اور چلنے پھر نے میں بد نظمی اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں جو اس لفط کے اصلی معنی کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن مندرجہ بالا آیات میں ” فانزلنا علیھم “ کی بجائے ” فانزلنا علی الذین ظلموا “ جنہوں نے ظلم کیا ہم نے ان پر عذاب نازل کیا ) کہ کر یہ واضح کرتا ہے کہ اس عذاب اور خدا ئی سزا نے صرف بنی اسرائیل کے ستمگاروں کو ہی اپنی گرفت میں لیا اور سب خشک و تر اس میں نہیں جکڑے گئے ۔ اس کے علاوہ آخرآیت میں جملہ ” بما کانو ا یفسقون “ آیا ہے تاکہ اس موضوع کی مزید تاکید ہوجائے کہ ان کا ظلم و فسق ہی ان پر سزا اور عذاب کی علت اور سبب ہے ۔ اس طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہ اس جملہ کے مذکورہ حصے نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ برے اعمال میں مصرو ف تھے اور ہمیشہ کے لئے ان پر کار بند تھے ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ جب عادت کی شکل اختیار کرلیں اور حالت و کیفیت کے طور پر معاشرے میں مرتکز ہوجائے تو اس وقت عذاب الہی نازل ہونے کا احتمال بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ ۶۰۔ و اذاستسقٰی موسٰی لقومہ فقلنا اضرب بعصاک الحجر ط فانفجرت منہ اثنتا عشرة عینا ط قد علم کل اناس مشربھم کلو ا و اشربو ا من رزق اللہ ولا تعثو ا فی الارض مفسدین ترجمہ ۶۰ ۔ اور وہ زمانہ ) جب موسی ٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا تو ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنے عصا کو مخصوص پتھر پر مارو اچانک اس سے بارہ چشمے ابلنے لگے ( اس طرح کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے ) سب لوگ اپنے اپنے مخصوچشمے کو پہچانتے تھے ، ( اور ہم نے کہا خدا کی روزی میں سے کھاؤ پیو اور زمین پر فساد نہ کرو اور نہ ہی فساد پھیلاؤ ۔ ۱ صاحب تفسیر الکاشف نے زیر نظر آیت کے ذیل میں ابو حیان کی یہ عبارت نقل کی ہے ۔ ۲ تفسیر نمونہ جلد ۴ میں بھی لفظ رجز کے معنی میں بحث کی گئی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:58-59
بنی اسرائیل کے قبائیل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے
اس آیت میں بنی اسرائیل پر کی گئی ایک اور نعمت کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب موسیٰ نے ( اس خشک اورجلانے والے بیابان میں جس وقت بنی اسرائیل پانی کی وجہ سے سخت تنگی میں مبتلا تھے ) پانی کی درخواست کی و اذ استسقیٰ موسی ٰ لقومہ ) تو خدا نے اس درخواست کو قبول کیا جیسا کہ قرآن کہتا ہے : ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنا عصا مخصوص پتھر پر مارو ( فقلنا اضرب بعصاک الحجر ) اس پر اچانک پانی ابلنے لگا اور پانی کے بارہ چشمے زور و شور سے جاری ہوگئے فانفجرت منہ اثنتا عشرة عینا )۔ بنی اسرائیل کے قبائیل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے تو ایک چشمہ ایک قبیلہ کی طرف جھک جاتا تھا جس پر بنی اسرائیل کے لوگوں اور قبیلوں میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا ، قد علم کل اناس مشربھم )۔ یہ پتھر کس قسم کا تھا حضرت موسیٰ کس طرح اس پر عصا مارتے تھے اور پانی اس میں سے کیسے جاری ہوجاتا تھا ۔ اس سلسلے میںبہت کچھ گفتگو کی گئی ہے جوکچھ قرآن اس بارے میں کہتا ہے وہ اس سے زیادہ نہیں کہ موسیٰ نے اس پر عصا مارا تو اس سے بارہ چشمے جاری ہو گئے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ پتھر ایک کو ہستانی علاقہ کے ایک حصے میں واقع تھا جو اس بیابا ن کی طرف جھکا ہوا تھا سورہ اعراف آیہ ۱۶۰ کی تعبیر ” انجست “ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ابتداء میں اس پتھر سے تھوڑا تھوڑا پانی نکلا اور بعد میں زیادہ ہو گیا ۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کا ہر قبیلہ ، ان کے جانور جو ان کے ساتھ تھے اور وہ کھیتی جو انہوں نے احتما لاََ اس بیابا ن کے ایک حصے میں تیار کی تھی سب اس سے سیراب ہوگئے ، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کوہستانی علاقہ میں پتھر کے ایک حصہ سے پانی جاری ہوا البتہ یہ مسلم ہے کہ یہ سب معجزے سے رونما ہوا ۔ خدا نے موسیٰ سے کہا : قوم کے آگے آگے رہو اور اسرائیل کے بعض بزرگوں کو ساتھ لے لو اور وہ عصا جسے نہر پر مارا تھا ہاتھ میں لے کر روانہ ہوجاؤ میں وہاں تمہارے سامنے کوہ حوریب پر کھڑا ہو جاؤں گا اور اسے پتھر پر مارو اس سے پانی جاری ہوجائے گا ۔ تاکہ قوم پی لے اور موسیٰ نے اسرائیل کے مشائخ اور بزرگوں کے سامنے ایسا ی کیا ۱ بہر حال ایک طرف خدا وندعا لم نے ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور دوسری طرف ان پر فراواں پانی عطا کیا اور ان سے فرمایا : خدا کی دی ہوئی روزی سے کھاؤ پیو لیکن زمین میں خرابی اور فساد نہ کرو ( کلو و اشربو من رزق اللہ ولا تعثوا فی الارض مفسدین )۔ گویا یہ آیت انہیں متوجہ کرتی ہے کہ کم از کم ان عظیم نعمتوں کی شکر گزاری کے طور پرضدی پن ، ستمگری انبیاء کو ایذا رسانی اور بہانہ سازی ترک کردو ۔ ۱ فصل ۱۷ سفر خروج ، جملہ ۵ و ۶ ۔