وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِهِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ
And when We made an appointment with Moses for forty nights, you took up the Calf [for worship] in his absence, and you were wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:51
[Pooya/Ali Commentary 2:51] Musa stayed on the mount for forty days after which the law of Tawrat was given to him. He observed fast on all the forty days. According to verse 142 of al Araf the stay was for thirty days, but subsequently the term was extended by ten more days. The delay created doubts in the minds of the Bani Israil about the genuineness of the prophethood of Musa, and unjustly they took up the worship of the calf. Musa had appointed his brother, Harun, as his successor and deputy, during his absence. Likewise the Holy Prophet, at the time of migrating to Madina from Makka, had chosen Ali to sleep in his bed, during the night of hijrat, and to return the deposits, kept in trust with him, to the owners; commissioned Ali to take charge of the administration in Madina when he went to Tabuk to encounter the enemy; and he had also assigned to Ali the responsibility of delivering al Barat to the people of Makka, because as per the divine command only he or Ali could deliver the divine revelation. "Ali is to me as Harun was to Musa", declared the Holy Prophet. As the people of Musa violated their oath of loyalty to Harun and followed Samayri the magician, the ummah of Muhammad also turned their back upon Ali and pursued their own fancies. In this way the iman of the people was tested, and they were found doing injustice to themselves. As stated in verse 3 of this surah a true believer must believe in the unseen. In view of the limitations of human wisdom, reliance upon the divinely chosen guides is the surest way to the right path. If one does not follow the Holy Prophet and his divinely chosen holy Imams, it is the deviator who suffers the consequences by being unjust to himself because the guides remain independent of the mischief of the deserters. (see commentary for verse 4)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:51-54
تاریخ بنی اسرائیل کے ایک بھر پور واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
ان چار آیات میں تاریخ بنی اسرائیل کے ایک بھر پور واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہودیوں کو اس کی یاد دہانی کرائی گئی ہے یہ آیت یہودیوں کی طویل تاریخ میں ان کی بہت بڑی کجروی کے متعلق گفتگو کرتی ہیں اور وہ ہے اصل توحید سے شرک اور بچھڑا پرستی کے ٹیڑھے راستے کی طرف ان کا سفر ۔ انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ تم تاریک میں ایک مرتبہ فاسدین کے گمراہ کرنے کے باعث ایسی سخت سر نوشت سے دوچار ہوئے تھے ، اب بیدار اور خالص توحید کا راستہ اسلام اور قرآن کے ذریعہ تمہارے سامنے کھولا گیا ہے اسے فراموش نہ کرو ۔ یہ آ یا ت حضرت موسٰی کے کوہ طور کی طرف جانے کے واقعے کی جانب اشارہ کرتی ہے جو چالیس شب وروز میں انجام پزیر ہوا اور یہ آیات بتاتی ہیں کہ ان کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کیسے گاؤ پرستی میں پڑ گئے ۔ نیز حضرت موسٰی کی کتاب ہدایت کے ساتھ واپسی ، بنی اسرائیل کی نئے رنگ کی توبہ کا مسئلہ اور خدا کی طرف سے اس کی قبولیت کو بیان کرتی ہیں ۔ پہلے کہتا ہے کہ یاد کرو اس زمانے کو جب ہم نے موسٰی کے ساتھ چالیس راتون کا وعدہ کیا ( و اذ وٰعدنا موسی ٰ اربعین لیلة)۔ جب وہ تم سے جدا ہوئے اور اور تئیس راتوں کی میعاد چالیس ہوگئی تو ان کے جانے کے بعد تم نے بچھڑے کو اپنے معبود کی حیثیت سے منتخب کرلیا حالانکہ اس علم سے تم اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے ( ثم اتخذ تم العجل من بعد ہ و انتم ظٰالمون ) اس ماجرے کی تفصیل سورہ اعراف کی آیت ۱۴۲ سے بعد تک اور سورہ طٰہ کی آیت ۸۶ سے بعد تک آپ پڑھیں گے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ اس کے بعد کہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے چنگل سے نجات پاچکے اور فرعون اور اس کے پیرو کار غرق ہوگئے تو حضرت موسٰی کو حکم ہوا کہ تورات کی تختیا ں لینے تئیس راتوں کے لئے کوہ طور پر جائیں لیکن بعد میں لوگوں کی آزمائش کے لئے دس راتوں کا اضافہ کر دیا گیا ۔ سامری جو ایک مکار اور فریب کار آدمی تھا اس نے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور بنی اسرائیل کے پاس جو سونا اور جواہرات فرعونیوں کی یادگار کے طور پر موجود تھے ۔ ان سے ایک بچھڑا بنایا جس سے ایک خاص قسم کی آواز سنائی دیتی تھی ۔ وہ بنی اسرائیل کو اس کی عبادت وپرستش کی دعوت دیتا تھا ۔بنی اسرائیل کی ایک بڑی اکثریت اس سے مل گئی حضرت ہا رون جو حضرت موسٰی کے جانشین اور بھائی تھے ایک اقلیت کے ساتھ آئین توحید پر باقی رہے انہو ں نے جس قدر کوشش کی کہ انہیں اس غلط راستے سے روکیں وہ نہ رک سکے بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت ہارون کو ختم کرنے پر تیار ہوگئے۔ حضرت موسی جب کوہ طور سے واپس آئے اور اس عجیب صورت حا ل کو دیکھا تو انہیں سخت تکلیف اور دکھ پہنچا ۔ انہوں نے ان لوگوں پر بہت لعنت ملامت کی چنانچہ وہ اپنے برے کام کی برائی کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کرنے لگے۔ حضرت موسٰی نے خدا کی طرف سے ایک نئے رنگ کی توبہ ان کے سامنے پیش کی جس کی تفصیل بعد کی اایات میں آئے گی ۔ اگلی آیت میں خدا کہتا ہے کہ اس بڑے گناہ کے باوجود ہ نے تمہیں معاف کردیا کہ شاید ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرو ( ثم عفونا عنکم من بعد ذٰلک لعلکم تشکرون ) اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے کہتاہے :نیز یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے موسٰی کو کتاب اور حق وباطل کی پہچان کا وسیلہ عطا کیا تاکہ تمہاری ہدایت ہوجائے( و اذاٰتینا موس الکتاب والفرقان لعلک م تھتدون )۔ ممکن ہے کتاب وفرقان دونوں سے مراد تورات ہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کتاب تورات کی طرف اشارہ ہو اور فرقان ان معجزات کی طرف اشارہ ہو جو اللہ تعالی نے حضرت موسٰی کے اختیار میں دیئے تھے ( کیونکہ فرقان کا اصلی معنی ہے وہ چیز جو حق کو باطل سے انسان کے لئے ممتاز کردے)۔ اس کے بعد اس گناہ سے توبہ کے سلسلہ میں کہتا ہے : اور یاد کرو اس وقت کو جب موسی نے اپنی قوم سے کہا اے قوم تم نے بچھڑے کو منتخب کرکے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ( و اذ قال موسٰی لقومہ یا قوم انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل ) اب جو ایسا ہو گیا ہے تو توبہ کرو اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف پلٹ جاآؤ ( فتوبو الی بارئکم ) باری کے معنی ہیں خالق در اصل اس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز سے جدا کرنا ۔ خالق چونکہ مخلوق کو مواد اصلی اور ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے لہذا اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس سخت توبہ کا حکم وہی ذات دے رہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ تمہاری توبہ اس طرح ہونی چاہئے کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو ( فاقتلو انفسکم ) ۔ یہ کام تمہارے لئے تمہارے خالق کی بارگاہ میں بہتر ہے ( ذٰلکم خیر لکم عند بارئکم ) اس ماجرے کے بعد خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی جو تو ا ب و رحیم ہے ( فتاب علیکم ط انہ ھو التوب الرحیم )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:51-54
عظیم گناہ اور سخت سزا
اس میں شک نہیں کہ سامری کے بچھڑی کی پرستش و عبادت کوئی معمولی بات نہ تھی وہ قوم جو خدا کی یہ تمام آیات دیکھ چکی تھی اور اپنے عظیم پیغمبر کے معجزات کا مشاہدہ کرچکی تھی ان سب کو بھول کر پیغمبر کی ایک مختصر سی غیبت میں اصل توحید اور آئین خدا وندی کو پورے طور پر پاؤں تلے روندے اور بت پرست ہوجائے اب اگر یہ بات ان کے دماغ سے ہمیشہ کے لئے جڑ سے نہ نکالی جاتی تو خطرناک حالت پیدا ہونے کا اندیشہ تھا اور ہر موقعہ کے بعد اور خصوصاََ حضرت موسٰی کی زندگی کے بعد ممکن تھا ان کی دعوت کی تمام آیات ختم کردی جاتیں اور عظیم قوم کی تقدیر مکمل طور پر خطرے سے دو چار ہوجاتی ۔ لہذا یہاں شدت عمل سے کام لیا گیا اور صرف پشیمانی اور زبان سے اظہار توبہ پر ہرگز قناعت نہ کی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی طرف سے ایسا سخت حکم صادر ہوا جس کی مثال تمام انبیاء کی طویل تاتریخ میں کہیں نہیںملتی اور وہ یہ کہ توبہ اور توحید کی طرف باز گشت کے سلسلہ میں گناہگاروں کے کثیر گروہ کے لئے اکھٹا قتل کرنے کا حکم دیا گیا ۔ یہ فرمان بھی ایک خاص طریقہ سے جاری ہونا چاہیے تھا اور وہ یہ ہو ا کہ وہ لوگ خود تلواریں لیکر ایک د وسرے کو قتل کریں کہ ایک اس کا اپنا مارا جانا عذاب ہے اور دوسرادوستوں اور شناساؤں کا قتل کرنا ۔ بعض روایات کے مطابق حضرت موسٰی نے حکم دیا کہ ایک تاریک رات میں وہ تمام لوگ جنہوں نے بچھڑ ے کی عبادت کی تھی غسل کریں ۔ کفن پہنیں اور صفیں باندھ کر ایک دوسرے پر تلوار چلائیں ۔ ممکن ہے یہ تصور کیا جائے کہ یہ توبہ کیوں اس سختی سے انجام پزیر ہوئی ۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ خدا ان کی توبہ کو بغیراس خونریزی کے قبول کر لیتا ۔ اس سوال کا جواب گذشتہ گفتگو سے واضح ہوجاتا ہے کیونکہ اصل توحید سے انحراف اور بت پرستی کی طرف جھکاؤ کا مسئلہ اتنا سادہ اور آسان نہ تھا کہ اتنی آسانی سے در گذر کردیا جاتا اور وہ بھی ان معجزات اور خدا کی بڑی بڑی نعمتوں کے مشاہدے کے بعد ۔ در حقیقت ادیان آسمانی کے تمام اصولوں کو توحید اور یگانہ پرستی میں جمع کیا جاسکتا ہے ۔ اس اصل کا متزلزل ہونا دین کی تمام بنیادوں کے خاتمے کے برابر ہے اگر گاؤ پرستی کے مسئلے کو آسان سمجھ لیا جاتا تو شاید آنے والے لوگوں کے لئے سنت بن جاتا ۔ خصوصاََ بنی اسرائیل کےلئے جن کے بارے میں تاریخ شاہد ہے کہ ضدی اور بہانہ ساز لوگ تھے لہذا چاہیئے کہ ان کی ایسی گوشمالی کی جائے کہ اس کی چبھن تمام صدیوں اور زمانوں تک باقی رہ جائے کہ اس کے بعد کوئی شخص بت پرستی کی فکر میں نہ پڑے اور شاید یہ جملہ ” ذالکم خیر لکم عند بارئکم “ یعنی یہ قتل و کشتار تمہارے خالق کے یہاں تمہاری بہتری کے لئے ہے ۔ اسی طرف اشارہ ہو۔ ۵۵۔ و اذ قلتم یٰموسٰی لن نومن لک حتی نری اللہ جھرة فاخذتکم الصٰعقة وانتم تنظرون ۵۶۔ ثم بعثنٰکم من بعد موتکم لعلکم تشکرون ترجمہ ۵۵۔ اور یا د کرو وہ وقت ) جب تم نے کہا اے موسٰی ! ہم خدا کو آشکار ( اپنی آنکھوں سے ) دیکھے بغیر تم پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے ۔ اسی حالت میں تمہیں بجلی نے آن لیا جب کہ تم دیکھ رہے تھے ۔ ۵۶۔ پھر ہم نے تمہیں موت کے بعد زندگی بخشی کہ شاید خدا کی نعمت کا شکر بجالاؤ