وَإِذْ نَجَّيْنَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَفِي ذَلِكُم بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ
[Remember] when We delivered you from Pharaoh’s clan who inflicted a terrible torment on you, and slaughtered your sons and spared your women, and in that there was a great test from your Lord.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:49
[Pooya/Ali Commentary 2:49] Specifically, this verse reminds the Bani Israil of the miseries the Fir-awns inflicted upon them and how they were saved. In general, it is a reminder to all who have been saved from past afflictions and given the knowledge of wisdom arising from such circumstances. The details of their sorry plight under the Fir-awns have been given in the old testament: So they (Egyptians) treated their Israelite slaves with ruthless severity, and made life bitter for them with servitude setting them to work on clay and brick-making, and all sorts of work in the fields. In short they made ruthless use of them as slaves in every kind of hard labour. Then the king of Egypt spoke to the Hebrew midwives: "When you are attending the Hebrew women in childbirth, watch as the child is delivered and if it is a boy, kill him; if it is a girl, let her live." (Exodus 1: 13 to 16) Allah kept them safe from the King's designs: But they were god-fearing women. They did not do what the king of Egypt had told them to do, but let the boys live. So he summoned those Hebrew midwives and asked them why they had done this and let the boys live. They told Firawn that Hebrew women were not like Egyptian women. When they were in labour they gave birth before the midwife could get to them. So God made the midwives prosper, and the people (Israelites) increased in number and in strength. (Exodus-1: 17 to 20) (see commentary for verse 4)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:49
قرآن نے بیٹیوں کو زندہ رکھنے اور بیٹوں کے سر کاٹنے کو عذاب قرار دیا ہے
اور اس ظلم سے آزادی کو اپنی نعمت شمار کیا ہے ۔ گویا وہ انسانوں کو ابھار رہا ہے کہ وہ کوشش کریں کہ ہر قیمت پر اپنی صحیح آزادی حاصل کریں اور اس کی حفاظت کر یں جیسا کہ حضرت علی اس مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ الموت فی حیاتکم مقھورین والحیاة فی موتکم قاھرین 1 زندہ رہنا اور زیر سرپرست ومغلوب رہنا موت ہے اور آزاد ی حاصل کرنے کے لئے موت انسان کی زندگی ہے ۔ آج کی دنیا کا گز شتہ زمانے سے فرق یہ ہے کہ اس زمانے میں فرعون ایک خاص استبداد کے ساتھ مخالف گروہ کے بیٹوں اور مردوں کو قتل کر دیتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا ۔ لیکن آج کی دنیا میں دوسرے طریقوں سے افراد ِ انسانی کی روح ِ مردانگی کو قتل کردیا جاتا ہے اور لڑکیوں کو گنا ہوں کی میں غرق لوگوں کی شہوات کی قید میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ آخر کیوں فرعون بنی اسراعیل کے بیٹون کو قتل کرتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھتا تھا ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب میں بعض مفسرین اس جرم اور ظلم کا سبب ایک خواب کو قرار دیتے ہیں جو فرعون نے دیکھا تھا لیکن اس کا مفصل جواب سورہ قصص کی آیت ۴ کے تحت پڑھیں گے اور آپ کو پتہ چلے گا کہ بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کا سبب فقط ایک خواب نہ تھا جو فرعون نے دیکھا تھا بلکہ بنی اسرائیل کے طاقت ور ہونے اور حکومت چھین لینے کی وحشت و خوف بھی اس کا م کا مددگار عنصر تھا ۔ ۵۰ واذ فرقنا بکم البحر فانجیناکم واغرقنا اٰل فرعون و انتم تنظرون ۵۰ ترجمہ اور( اس وقت کو یاد کرو )جب ہم نے تمہارے لئے دریا شگافتہ کیا اور تمہیں تو نجات دے دی لیکن فرعونیوں کو غرق کر دیا جب کہ تم دیکھ رہے تھے 1- نہج البلاغہ ، خطبہ ۵۱
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:49
قرآن ا س آیت میں ایک اور عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتا ہے
قرآن ا س آیت میں ایک اور عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس سے اللہ نے قوم بنی اسرائل کو نوازاتھا وہ ہے ستمگاروں کے چنگل سے آزادی جو خداکی عظیم نعمتوں میں ہے ۔ انہیں یاد لاتاہے :وہ زمانہ یاد کرو جب تمہیں ہم نے فرعونیوں سے آزادی دلائی تھی (واذنجیناکم من اٰل فرعون ) جو ہمیشہ شدید ترین طریقہ سے تمہیں آزار دیتے تھے ( یسومونکم سوء العذاب )۔ تمہارے بیٹوں کا گلا کاٹ دیتے تھے ا ور تمہاری عورتوں کو کنیزی اور خدمت کے لئے زندہ رکھتے تھے (یذبحو ن ابنائکم ویستحیون نسائکم)اور یہ صور ت حال تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری آزمائش تھی (وفی ذٰلکم بلاء من ربکم عظیم)۔قرآن نے خصوصیت سے بنی اسرئیل پر فرعونیوں کے ظلم کی تصویر کشی کر تے ہوئے ”یسومونکم “کالفظ استعمال کیا ہے ، یسومون فعل مضارع ہے اور مادہ سوم سے ہے جس کا اصلی مقصد کسی چیز کے پیچھے جانا ہے ہم جانتے ہیں فعل مضارع عموما دوام اوراسمرارہی کے معنی دیتا ہے ۔اس گوسفند اور اونٹ کو ”سائمہ “کہتے ہیں جو ہمیشہ جنگل میں چرتے ہیں اور مالک کے گھر سے کبھی گھاس نہیں کھاتے ۔ یہا ں سے ہم دیکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل مسلسل فرعونیوں کے شکنجے میں مبتلا تھے وہ اپنی آنکھ سے دیکھتے کہ ان کے بے گناہ بیٹیو ں کو قتل کیا جارہا ہے ۔اس سے بھی بڑھ کر وہ خود ہمشہ ان کے ظلم میںگرفتا ر رہتے ۔وہ قبتیوں کے غلام ،خدمت گار ،خادم اور ساز ساما ن کا حصہ شمار ہوتے تھے ۔ یہ بات اہم ہے کہ قرآ ن اس کار روائی کو بنی اسرائیل کے لئے ایک سخت اور عظیم آزمائش قرار دیا ہے (بلاء کا ایک معنی آزمائش اور امتحان ہے )اور یہ حقیقت ہے کہ ان نامناسب اورخلاف فطرت امور کو برداشت کرناایک سخت آزمائش تھی یہ احتما ل بھی ہے لفظ ”بلاء “یہاں مجازات اور سزا کے معنی میں ہو کیو نکہ بنی اسرائیل اس سے پہلے بہت قدرت ونعمت کے حامل تھے اور انہوں نے کفران نعمت کیا لہٰذا خدا نے انہیں سزادی ۔ بعض مفسرین کی طرف سے ایک تیسر ااحتمال بھی ذکرہو ا ہے ۔وہ یہ کہ ”بلا“نعمت کے معنی میں ہے یعنی فرعو نیوں کے چنگل سے نجات تمہارے لئے ایک بہت بڑی نعمت تھی ۔ ۱ بہر حال فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کی آزادی کا دن ایک اہم تاریخی دن تھا جس کا قرآن نے بارہا تذکرہ کیا ہے ۲ ۱”بلا “ کے اصلی معنی ہیں کہنگی اور قدرت آزمانے کو بھی ”بلا“ کہا گیا ہے ۔ کیونکہ جس چیز کی کئی مرتبہ آزمائش کی جائے اس میں کہنگی آجاتی ہے ۔ غم واندوہ کو بھی ”بلا“ کہتے ہیں کیونکہ یہ انسانی جسم و روح کو کہنہ و فرسودہ کردیتا ہے ۔ تکالیف اور مصائب کو بھی بلاء کہتے ہیں کیونکہ یہ انسانی جسم و روح کو کہنہ و فرسودہ کردیتا ہے شرعی اور ذمہ داریوں کو بھی بلاء کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان کے جسم وجان پر سنگین اثرات پیدا کرتی ہیں ۔ آزمائش بعض اوقا ت نعمت کے ساتھ ہوتی ہے اور کبھی مصیبت کے ساتھ لہذا لفظ بلاء بھی کبھی اس معنی میں اور کبھی اس معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ۲ مزید توضیح تفسیر نمونہ کی جلد ۵ میں مطالعہ کیجئے ۔