آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
The Apostle and the faithful have faith in what has been sent down to him from his Lord. Each [of them] has faith in Allah, His angels, His scriptures and His apostles. [They declare,] ‘We make no distinction between any of His apostles.’ And they say, ‘We hear and obey. Our Lord, forgive us, and toward You is the return.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:285
[Pooya/Ali Commentary 2:285] Please study this verse with reference to the commentary of verse 253 of this surah and verse 55 of Bani Israil. All the heavenly scriptures are from the creator Lord. There are differences between the prophets but no differentiation. The message is the same: worship Allah, and trust in His all encompassing mercy, as transmitted through His messengers. The true faithful believe in Allah, His messengers, His angels and His books. Please refer to verse 177 of this surah. Islam is a universal religion. (286) Aqa Mahdi Puya says: Wusat means extent or ability with ease. It implies that Allah expects from you as much as you are able to give with ease, for which you have to go to the extent of your potential. It refutes the doctrine of determinism (jabr). Allah does not ask man to do that which is beyond his capacity, nor He does impose a duty to do that which is difficult for him. "He has not laid upon you in religion any hardship (Al Hajj: 78)" The Holy Prophet has also said: "I have brought you a very easy religion with a great many facilities." Kasb and its derivatives have been used in the Quran mostly in the meaning of consequences of action, and sometimes for taking into consideration the inclination to do an act. The determinist school wrongly differentiates between the act and what it earns, by saying that "the act" is done by Allah but man earns its recompense. This school of thought is unable to explain how the act can be separated from its consequences exactly as the Christians cannot make clear the theory of trinity. "Do not lay on us a burden (isr) such as You laid on those before us!" implies that the duties and injunctions for the believers, before the Holy Prophet, were very hard and difficult; and the word isr (burden) also used in verse 157 of al A-raf, carries the undertaking that it will be removed. Through the prayer mentioned in this verse the supplicant prays for the triumph of truth over falsehood and victory of belief over disbelief, and the suppression of satanic tendencies by godliness. It is a prayer to Allah not to inflict on us situations that may result in us committing misdeeds, and to acknowledge our limitations as we expect it from our Lord, provided we work at our maximum capacity, as expected from us; and to rejuvenate us by wiping clean all traces of errors and mistakes; and have mercy on us through pardon (afwu). Those who believe in the oneness (Tawhid) of Allah expect from their Lord protection, mercy, guardianship and the ultimate prevalence of true iman throughout the world. This supplication reflects Allah's own laws and promises.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:285
خدایا !آخر ہم انسان ہیں
دیگرانسانی راہنماوٴں کے مقابلے میں انبیا ء کا ایک یہ امتیا ز ہے کہ تمام انبیاء اپنے ہدف ومقصد اور دین ومکتب پر قطعی ویقینی ایمان رکھتے تھے اور ان کے عقیدے میں کسی قسم کا تزلزل نہ تھا ۔قرآن حکیم لوگو ں کو ایسے پیغمبر کی طرف دعوت دیاتاہے جو اپنے پورے وجود سے اپنے مطلب ومدعاکا ادراک رکھتا ہے ارشاد الٰہی ہے :فاٰمنواباللہ ورسولہ النبی الامی الذین یوٴمن باللہ وکلماتہ ۔ اللہ اور اس کے اس رسول نبی امی پر ایمان لے آوٴ جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتاہے ۔(اعراف ۔۱۵۸) زیر بحث آیت میں یہ نکتہ بیا ن کیا گیا ہے کہ خالق کائنات اور اس کے تمام پروگرام جو پیغمبر پر نازل ہو ئے ہیں پیغمبر کا ان پر مستحکم اور غیر متزلزل عقیدہ ہے بلکہ مومنین اور جو مکتب پیغمبرکے تربیت یافتہ ہیں وہ بھی ایسے ہیں ۔ ان کے بر عکس یہ لوگ ہیں یریدون ان قوابین اللہ رسلہ ویقولون نوٴمن ببعض ونکفرببعض خدا او راس کے پیغمبروں کے درمیان تفریق اور اختلا ف کے قائل ہیں اور چاہتے ہیں کہ بعض پرایمان لے آئیں اور بعض کا انکار کردیں ۔(سورہ نساء۔۱۵۰) زیر بحث آیت کے آگے کہتی ہے :وہ ایمان رکھتے ہیں کہ تمام انبیاء ایک ہی ہدف اور مقصد کے حامل ہیں اور ایک ہی مقصود کے لیے بھیجے گئے ہیں لہٰذا سب زبان حال سے کہتے ہیں :(لا نفرق بین احد من رسلہ )یعنی ہم خدا کے بھیجے ہوئے افراد میں کوئی فرق نہیں کرتے ۔ البتہ یہ با ت اس امر سے تضاد نہیں رکھتی کہ گذشتہ تمام ادیان منسوخ ہوچکے ہیں کیو نکہ جیسا ہم کہ چکے ہیں کہ انبیاء کی تعلیما ت مختلف کلا سوں کی تعلیم کی طرح ہیں ۔ جب اعلی کلاسوں میں ترقی کی جا تی ہے تو پہلی کلاسیں چھو ٹ جا تی ہیں حالانکہ ان کا احترام بر قرار رہتاہے بندگی کااعتراف اہل ایمان ہمیشہ بندگی اور عبودیت کا احترام کرتے ہو ئے کہتے ہیں :پروردگار!تیرے پیغمبر تیری طرف بلانے کے لیے جو دعوت او رندا دیتے ہیں ہم اسے دل وجا ن سے قبول کر لیتے ہیں اور تیری پیروی اور اطاعت کی منزل میں داخل ہو تے ہیں ”وقالواسمعنا واطعنا ) (۱) لیکن خدایا !آخر ہم انسان ہیں ۔ کبھی ہمارے نفوس ہمیں لغزشوں سے بھی دوچارکردیتے ہیںلہذاہم تجھ سے بخشش کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ہم کو بہر حال تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ غفرانک ربنا والیک المصیر“ (۲) ۲۸۶۔لا یکلف اللہ نفساالا وسعھا لھاماکسبت وعلیھا ما اکتسبت ربنا ل اتوٴاخذنا ان نسینا او اخطانا ربنا ولا تحمل علینا اصراََکما حملتہ علی الذین من قبلناربنا ولا تحملناما لا طاقة لنابہ واعف عنا وغفرلنا وارحمنا انت مولا نا فاانصرنا علی القوم الکٰفرین تر جمہ خدا کسی شخص کو ا س کی طاقت سے زیا دہ ذمہ داری نہیں سونپتا (اسی بنا ء پرانسان )جو بھی (نیک )کا م انجا م دے اس نے اپنے لیے انجا م دیا ہے اور جو (برا ) کام کرے خود اس کے لیے نقصان دہ ہے (موٴمنین کہتے ہیں )پروردگا !اگر بھول جا ئیں یا خطا کر گزریں تو ہما را مواخذہ نہ کرنا ۔ اے ہما رے رب !کسی سنگین ذمہ داری کا بوجھ ہم پر نہ ڈالنا جیسا کہ (گناہ و سر کشی کی وجہ سے )ان لو گوں پرڈالا گیا جو ہم سے پہلے تھے ۔ اے ہمارے پروردگا ر !ایسی سزائیں نہ دے جنہیں ہم برداشت نہیں کرسکتے اور ہمارے گنا ہوں کے آثار ہم سے دھو ڈال ہمیں بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر دے توہما را مولا اور سر پرست ہے پس ہمیں کفا ر کی جما عت پر کامیابی او رکامرانی عطافرما. (۱)”سمع “بعض اوقات سمجھنے اور تصدیق کرنے کے معنی میں بھی استعما ل ہوتاہے جس کی ایک مثال یہی آیت ہے۔ (۲) ادبی لحاظ سے یہا ں ”(نریدغفرانک ) (ہم تیری بخشش چاہتے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:285
انسان سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں
انسان سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں ان میں سے بعض اعمال خارجی پہلو رکھتے ہیں اور بعض داخلی اور قلبی پہلو رکھتے ہیں ۔مثلا شہادت کو چھپانا اور شرک کرنا وغیرہ۔مندرجہ با لا آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خدا تعا لی صرف ظاہری گناہوں کا محاسبہ نہیں کرے گا بلکہ باطنی او رقلبی پہلو رکھنے والے گنا ہ بھی احتساب کے عمل سے گزریں گے کیونکہ کہ اللہ تعالی زمین وآسمان پر حاکم ہے اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے ۔ اندرونی اور قلبی محاسبہ نہ کر سکنے والے وہ ہیں جو آسمان وزمین اور دنیا کے ظاہر وباطن سے بے خبر ہیں جب کہ اللہ تعالی تمام چیزوں کا عالم ہے ۔ اس تفسیر سے واضح ہو جا تاہے کہ یہ آیت ان بہت سی احادیث سے کوئی اختلا ف نہیں رکھتے جن میں فرمایا گیا ہے کہ گناہ کی نیت گناہ نہیں ہے کیو نکہ یہ احادیث ان نافرمانیوں کے بارے میں ہیں جو خارجی عمل کا پہلورکھتی ہیں اور نیت ان کا مقدمہ اور تمہید ہے اور یہ احادیث ان گناہوں کے بارے میں نہیں ہیں جوذاتی طور پر اندرونی اور باطنی پہلو رکھتے ہیں اور قلبی عمل میں۔ آیت کا ایک اورمعنی بھی ہے اور وہ یہ کہ ایک عمل کی مختلف صورتی ہو سکتی ہیں مثلا انفاق ممکن ہے خدا کے لیے ہو یا شہرت طلبی کے لیے ہو ۔آیت کہتی ہے ۔تم اپنی نیت ظاہر کرویا چھپائے رکھو،خدا اس سے آگاہ ہے اور اس کا محاسبہ کرے گا در حقیقت ا س آیت میں ”لا عمل ا لا بالنیة‘(نیت کے بغیر کوئی عمل نہیں )والی روایت کی وضاحت کی گئی ہے ۔ اس کے بعد فرمایاگیا ہے : جہاں وہ چاہتا ہے لغزشوں سے در گزرفرماتا ہے اور جہاں اس کا ارادہ ہو سزا دیتا ہے (فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء)البتہ واضح ہے کہ بخشش وعذاب اور ہدایت وضلالت کے بارے میں خدا کا ارادہ اور مشیت کسی حساب کے بغیر نہیں ہوتے بلکہ وہ ا ہلیت اورقابلیت کی بناء پر ہی ہیںجنہیں انسان خو د حاصل کر تاہے اور پرور دگا ر ہر چیز پر طاقت و قدرت رکھنے والا ہے ۔ ۲۸۵۔اٰمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والموٴمنون کل اٰمن بااللہ وملٰئکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ وقالو ا سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر ترجمہ 285۔رسول اس چیز پر ایمان لا یا ہے جو اس کے رب کی طرف سے نا زل ہو ئی ہے ( اور وہ ایسا رہبر ہے کہ اپنی تمام باتوںکی صداقت پر مکمل ایمان رکھتاہے)اور موٴمنین بھی سب کے سب خدااور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوںاور اس کے بھیجے ہو ئے افراد (رسولوں)پر ایمان رکھتے ہیں۔ہم اپنے رسولوںمیںکسی میںکوئی فرق نہیں کرتے اور کہتے ہیں :ہم نے سنا ہے اور ہم اطاعت کرتے ہیں۔اے ہمارے پروردگارمغفرت تیری طرف سے ہے اور تیری ہی طرف (ہماری )باز گشت ہے ۔