إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ
Indeed Allah is not ashamed to draw a parable whether it is that of a gnat or something above it. As for those who have faith, they know it is the truth from their Lord; and as for the faithless, they say, ‘What did Allah mean by this parable?’ Thereby He leads many astray, and thereby He guides many; and He leads no one astray thereby except the transgressors
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:26
[Pooya/Ali Commentary 2:26] Dall means to lead astray or cause to err. When it is used with reference to divine action it means withdrawal of grace, as a punishment, for rejecting the guidance offered without ulterior motives. Aqa Mahdi Puya says: Through metaphorical expressions, in the form of parables, the Quran stimulates the human mind and heart. A healthy mind grasps the truth, whereas a perverted mind adds more threads to its web of doubts. The one and same expression produces two opposite effects. The right response is the acceptance of the guidance, the reaction of the muttaqin, and the wrong response is the "going astray", the reaction of the fasiqin. Mawla - The Lord-Master. It is not surprising that, throughout the centuries, the Muslims, in every age, in every place, never address any one as "Mawla" except Allah, Muhammad and Ali, though some restrict it to Allah alone, but whoso includes the Holy Prophet has to have Ali as the part of the sacred whole, in view of the Prophet's announcement "man kuntu Mawla fa hadha Aliyyun Mawla" at Ghadir Khum. So it is common among the Muslims to call out Muhammad and Ali as "Mawla" The wisdom of Ali in the form of lectures and discourses is available to mankind in the "Nahj al Balagha". It is a book, considered in style and substance, next to the Quran, by all those Muslim and non-Muslim scholars who have studied these two books in depth. (see commentary for verse 4)(see commentary for verse 2)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:26
(۴) فاسقین
:فاسقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو عبودیت وبندگی کے دستور سے پاؤں باہر نکالیں کیونکہ اصل لغت میں فسق گٹھلی کے کھجور سے باہر نکلنے کو کہتے ہیں ۔اس کے معنی کو وسعت دے کر ان لوگوں کے لئے یہ لفظ بولا گیا ہے جو خدا کی بندگی کی شاہراہ سے الگ ہوجاتے ہو جائیں ۔ ۲۷۔ الذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ و یقطعو ن ما امر اللہ بہٰ ان یو صل و یفسدون فی الارض اولٰئک ھم الخٰسرون ترجمہ ۲۷۔ فاسق وہ ہیں جو خدا سے محکم عہد وپیمان کرنے کے بعد اسے توڑ دیتے ہیں وہ تعلق جنہیں خدا نے برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ یہی لوگ خسارے میں ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:26
(۳)خداکی طرف سے ہدایت وگمراہی
گذشتہ آیت کا ظاہری مفہوم ممکن ہے یہ شک پیدا کرے کہ ہدیت اور گمراہی میں جبر کا پہلو ہے اور اس کا دارومدار خدا کی چاہت پر ہے جب کہ اس آیت کا آخری جملہ اس حقیقت کو آشکا ر کرتا ہے کہ ہدا یت وضلالت کا سرچشمہ ا نسان کے اپنے اعمال ہیں ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان کے اعمال وکردار کے ہمیشہ خاص نتا ئج وثمرات ہو تے ہیں ان میں سے اگر عمل نیک ہو تو اس کا نتیجہ روشن ضمیری ،توفیق الہی،خداکی طرف سے ہدایت اور بہترانجام کارہے ۔ سورہ انفال کی آیت ۲۹اس بات کی گواہ ہے ۔ارشاد ہے: یاایھاالذین امنوا ان تتقوااللہ یجعل لکم فرقاناََ اے ایمان والو !اگر پرہیز گاری کو اپنا لو تو خدا تمہیں تمیز حق وباطل اور روشن ضمیر ی عطاکرے گا۔ اور اگر انسان برے کاموں کے پیچھے لگا رہے تو اس کے دل کی تیر گی اور بڑھ جائے گی اور وہ گناہ کی طرف اس کارجحان زیادہ ہو گا بلکہ بعض اوقات انکار خدا تک پہنچ جائے گا ۔ اس کی شاہد سورہ رو م کی آیت ۱۰ ہے جس میں فرمایا ہے: ثم کان عاقبةالذین اساٰء والسوایٰ ان اکذب بٰایٰات اللہ وکانوا بھا یستھزؤن ہ برے انجام دینے والے اس مقام پر جا پہنچے ہیں کہ اب آیات الہی کا مذاق اڑانے لگے ہیں ۔ ایک اور آیت میں ہے۔ فلما زاغو ازاغ اللہ قلوبھم جب حق سے پھر گئے تو خدا نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا (صف ۵۰) زیر بحث آیت بھی اسی مفہوم کی شاہد ہے کہ جب وہ فرماتا ہے وما یضل بہ الاالفٰسقین یعنی خدا فاسقین ہی کو گمراہ کرتا ہے ۔ اس بنا ء پراچھے یا برے راستے کا انتخاب پہلے ہی سے خود ہمارے اختیار میں ہے ا س حقیقت کو ہر شخص کا وجدان قبول کرتا ہے ۔انتخا ب کے بعد اس کے قہری نتائج کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مختصر یہ کہ قرآن کے مطابق ہدایت وضلالت اچھے یا برے راستے کے جبری اختیار کا نام نہیں بلکہ قرآن کی متعدد آیات شہادت دیتی ہیں کہ ہدایت کے معنی ہیں سعادت کے وسائل فراہم ہونا اور ضلالت کا مطلب ہے مساعد حالات کا ختم ہو جانا ،لیکن اس میں جبر کا پہلونہیں ہے اور یہ اسباب کا فراہم کرنا ( جس کا نام ہمارے نزدیک توفیق ہے ) یا اسباب ختم کردینا (جسے ہم سلب توفیق کہتے ہیں ) انسان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے ۔ اس حقیقت کو ہم ایک سادہ سی مثال سے پیش کر سکتے ہےں ۔ جب انسان کسی گرنے کی جگہ یا کسی خطرناک بڑی نہر سے گذرتا ہے تو وہ جتنا اپنے آپ کو نہر سے قریب تر کرتا ہے اس کے پاؤں کی جگہ زیادہ پھسلنے والی ہوتی ہے ایسے میں گرنے کا احتما ل زیادہ اور نجات پانے کا کم ہو جاتا ہے اور انسان جتنا اپنے آپ کو اس سے دور رکھے گا اس کے پاؤں رکھنے کی جگہ زیادہ محکم اور اطمینان بخش ہوگی اور گرنے کا احتمال کم ہوگا ، ان میں سے ایک کا نام ہدایت اور دوسرے کا ضلالت ہے ۔ اس گفتگو سے ان لوگوں کی بات کا جواب پورے طور پر واضح ہو جائے گا جو آیات ہدایت و ضلالت پر اعتراض کرتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:26
(۲)مچھر کی مثال کیوں :
بہانہ سازوں نے اگر چہ مچھر اور مکھی کے چھوٹے پن کو آیات قرآن سے استہزا اور اعتراضات کا ذریعہ بنا لیا ہے لیکن اگر ان میں انصاف ،ادراک اور شعور ہوتااور اس چھوٹے سے جانور کی ساخت اور بناوٹ پر غور وفکر کرتے تو سمجھ لیتے کہ اس کے بنانے میں باریک بینی اور عمدگی کی ایک دنیا صرف ہوئی ہے کہ جس سے عقل حیران رہ جاتی ہے ۔امام جعفر صادق اس چھوٹے سے حیوان کی خلقت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں : خداوند عالم نے مچھر کی مثال دی ہے حالانکہ وہ جسامت کے لحاظ سے بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے جسم میں وہ تمام آلات اور اعضاء وجوارح ہیں جو خشکی کے سب سے بڑے جانور کے جسم میں ہیں ۔ یعنی ہاتھی اور اس کے علاوہ بھی اس کے دو عضو( سینگ اور پر ) ہیں جو ہاتھی کے پاس نہیں ہیں ۔ خدا وند عالم یہ چاہتا ہے کہ مومنین کو اس مثال سے خلقت و آفرینش کی خوبی اور عمدگی بیان کرے ، یہ ظاہر ََا ِِا کمزور سا جانور جسے خدا نے ہاتھی کی طرح پیدا کیا ہے اس میں غور وفکر انسان کو پیدا کرنے والے کی عظمت کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ خصوصا اس کی سونڈجو ہاتھی کی سونڈ کی طرح ہے اندر سے خالی ہے اور وہ مخصوص قوت سے خون کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔اس کی یہ ٹونٹی دنیا کی عمدہ ترین سرنگ ہے اور اس کے اندرونی سوراخ بہت باریک ہے ۔ خدا نے مچھر کو قوت جذب ودفع اور ہاضمے کی قوت دی ہے ۔ اسی طرح اسے مناسب طور پر ہاتھ، پاؤں اور کان دیئے ہیں ،اسے پر دیئے ہیں تاکہ غذا کی تلاش کرسکے اور پر اس تیزی سے اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں کہ آنکھ سے ان کی یہ حرکت دیکھی نہیں جاسکتی ۔ یہ جانور اتنا حساس ہے کہ صرف کسی چیز کے اٹھنے سے خطرہ محسوس کرلیتا ہے اور بڑی تیزی سے اپنے آپ کو خطرے کی جگہ سے دور لے جاتا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ انتہائی کمزور ہونے کے باوجود بڑے سے بڑے جانور کو عاجز کردیتا ہے ۔ حضرت امیر المومنین علی کا اس سلسلہ میں ایک عجیب وغریب خطبہ نہج البلاغہ میں ہے۔آپ نے فرمایا : اگر دنیا جہاں کے سب زندہ موجودات جمع ہوجائیں اور باہم مل کے کوشش کریں کہ ایک مچھر بنالیں تو وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے بلکہ اس جاندار کی خلقت کے اسرار پر ان کی عقلیں دنگ ر ہ جا ئیں گی۔ ان کے قویٰ عاجز آجائیں گے اور وہ تھک کر انجام کو پہنچ جائیں گے ۔ تلاش بسیار کے بعد با لا ٓخر شکست خوردہ ہوکر اعتراف کریں گے کہ وہ مچھر کی خلقت کے معاملے میں عاجز ہیں اور اپنے عجز کا اقرار کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے نابود کرنے سے بھی عاجز ہے ۔(۱) (۱) نہج البلاغہ۱۸۶
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:26
(۱)حقائق کے بیان کرنے میں مثال کی اہمیت
حقائق واضح کرنے اور مطالب کو دل نشیں بنانے کےلئے مختلف مثالیں پیش کی جاتی ہیں اور ان کی اثر آفرینی ناقابل انکار ہے۔ بعض اوقات ایک مثال کا تذکرہ راستے کو اتنا کم کردیتا ہے کہ زیادہ فلسفیانہ استدلال کی زحمت وتکلیف سے کہنے اور سننے والے دونوں کو نجات مل جاتی ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیچیدہ علمی مطالب کو عمومی سطح تک عام اور وسیع کرنے کے لئے مناسب مثالوں سے استفادہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں ہے ۔ ڈھٹائی پسند اور حیلہ ساز لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے مثال کی تاثیر کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ بہرحال معقول کو محسوس سے تشبیہ دینا مسائل علمی عقلی کو سمجھانے کے لئے ایک مو ثر طریقہ ہے ( البتہ جیسا کہ ہم کہ چکے ہیں مثال مناسب ہونی چا ہیے ورنہ گمراہ کن ،اتنی ہی خطرناک اور مقصد سے دور کرنے والی ہوگی ) اسی بنا ء پر قرآن میں ہمیں بہت سی مثالیں ملتی ہیں جن میں سے ہر ایک بہت پر کشش ، بہت میٹھی اور بہت تاثیر ہے کیونکہ تمام انسانوں ، ہر سطح کے افراد اور فکر ومعلومات کے لحاظ سے ہر درجہ کے لوگوں کے لئے یہ کتاب انتہائی فصیح و بلیغ ہے۔(۱) (۱)انسانی زندگی میں مثال کی تاثیر کس قدر ہے اس سلسلے میں سورہ رعد کی اایہ ۱۷ میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے جسے تفسیر نمونہ کی جلد دہم میں ماحظہ کیجیئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:26
کیا خدا بھی مثال دیتا ہے؟
مندر جہ میںسے پہلی آیت کہتی ہے کہ خداوند عالم اس سے نہیں شرماتا کہ وہ اپنی موجودات میں سے جسے چاہے ظاہراًوہ چھوٹی سی ہوجیسے مچھر یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی مثال دے (اناللہ لایستحی ان یضرب مثلا ًبعوضةفمافوقھا )کیونکہ مثال کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقصد کے مطابق ہو بہ الفاظ دیگر مثال حقیقت کی تصویر کشی کاذریعہ ہے ۔ بعض اوقات کہنے والا ہد عیان کی تحقیر اور ان کے کمزور پہلو کو بیان کررہا ہو تو کسی کمزور چیز کو مثال کے لئے منتخب کر تا ہے مثلا ًسورہ حج آیت ۷۳ میں ہے : ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولواجتمعو لہ ط و ان یسلبھم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ط ضعف الطالب والمطلوب خدا کو چھوڑکر جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے چاہے وہ سب مل کر اس کی کوشش کریں بلکہ اگر مکھی کوئی چیز ان سے چھین کر لے جائے تو وہ اس سے واپس لینے کی قدرت نہیں رکھتے ۔ طلب کرنے والا اور جس سے طلب کی جارہی ہے دونوں کمزور ہیں ۔ آپ نے دیکھا کہ یہاں مکھی یا اس جیسی کسی چیز کی مثال سے بہتر کسی چیز کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی جو ان کی کمزوری اور ناتوانی کی تصویر کشی کرے۔ سور ہ عنکبوت میں جب اس نے چاہا کہ بت پرستوں کے سہاروں کی کمزوری کی تصویر کشی کرے تو انہیں مکڑی سے تشبیہ دی جس نے اپنے لئے کمزور سے گھر کا انتخاب کیا ہے کیونکہ دنیا میں کمزور ترین گھر عنکبوت ہی کا ہے : مثل الذ ی ا تخذومن دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت صلے اتخذت بیتا ط وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون (عنکبوت ۴۱) یہ بات مسلم ہے کہ اگر ان مواقع پر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مثال کے بجائے عالم خلقت کی بڑی سے بڑی چیزوں مثلاََ ستاروں اور وسیع آسمانوں کی مثال پیش کی جائے تو بہت ہی نامناسب ہوگا اور اصول فصاحت وبلاغت کے بل کل مطابق نہ ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خداوند عالم فرماتا ہے کہ ہمیں انکار نہیں کہ ہم مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال دیں تاکہ حقائق عقلی کو حسی مثالوں کے لباس میں پیش کیا جاسکے اور پھر انہیں بندوں کے اختیار میں دیں ۔ خلاصہ یہ کہ غرض تو مقصد پہنچانا ہے مثالیں ایسی قبا کی مانند ہونا چاہئے جو قامت مطالب پر فٹ آسکیں ۔ ”فما فوقہا “ کا مقصود کیا ہے اس کی مفسرین نے دو قسم کی تفسیریں کی ہیں : ایک گروہ کے مطابق اس سے مراد ”چھوٹے ہونے میں بڑھ کر “ ہے کیونکہ مثال چھوٹے ہونے کا بیان کررہی ہے لہذا اس سے بڑھ کر یا اس سے اوپر ہونا بھی اسی نظر سے ہے ۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کسی سے کہیں کہ ایک روپیہ کے لئے کیوں اتنی زحمت اٹھا رہے ہو تمہیں شرم نہیں آتی اور وہ جواب دے کہ میں تو اس سے اوپر کے لئے بھی تکلیف اٹھاتا ہوںیہاں تک کہ ایک آنے کے لئے بھی ۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد اوپر سے بڑے ہونے کے لحاظ سے ہے “یعنی خدا وند عالم چھوٹی چیزوں کی مثالیں بھی دیتا ہے اور بڑی کی بھی ،مقتضائے حا ل کے مطابق ۔ پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ۔ اس گفتگو کے بعد فرماتا ہے :رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ بات ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے(فاما الذین آمنوا فیعلمون انہ الحق من ربھم) وہ ایمان اور تقوی کی روشنی میں تعصب ، عناد اور حق سے کینہ پروری سے دور ہیں اور وہ حق کے چہرے کو پوری طور سے دیکھ سکتے ہیں اور خدا کی دی ہوئی مثالوں کی منطق کا ادراک کرسکتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا کا اس مثال سے کیا مقصد تھا جو تفرقہ اور اختلاف کا سبب بن گئی ایک گروہ کی اس وجہ سے ہدایت کی ہے اور دوسرے کے گمراہ کیا ہے ( و اما الذین کفروا فیقولون ماذا اراد اللہ بھٰذا مثلا یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا ) ان کے نزدیک یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مثالیں خدا کی طرف سے نہیں ہیں کیونکہ خدا کی طرف سے ہوتیں تو سب لوگ اسے قبول کرلیتے ۔ مگر خدا انہیں ایک مختصر اور دو ٹو ک جواب دیتا کہ وہ اس کے ذریعہ صرف فاسقوں اور گنہگاروں کو جو حق کے دشمن ہیں گمراہ کرتا ہے ( وما یضل بہ الاالفاسقین ) اس بناء پر یہ ساری گفتگوخدا کی ہے اور نور وہدایت ہے البتہ چشم بینا کی ضرورت ہے جو استفتاء کرے اب اگر یہ دلوں کے اندھے مخالفت اور ڈھٹائی پر اتر آئے ہیں تو اس میں ان کا اپنا ہی نقصان اور خسارہ ہے ورنہ ان آیات الہی میں کوئی نقص نہیں (۱) (1ٍ) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جملہ یضل بہ کثیراخدا کا کلام ہے نہ کہ کفار کا ۔اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ان مثالوں کا کیا مقصد ہے ان کے جواب میں خدا فرماتا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو ہدایت کرے اور بہت سوں کو گمراہ کردے فاسقین کے علاوہ کوئی گمراہ نہیں ہوتا (لیکن پہلی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے)