وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِيضِۖ قُلۡ هُوَ أَذٗى فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ فَإِذَا تَطَهَّرۡنَ فَأۡتُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّـٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلۡمُتَطَهِّرِينَ
They ask you concerning [intercourse during] menses. Say, ‘It is hurtful.’ So keep away from wives during the menses, and do not approach them till they are clean. And when they become clean, go into them as Allah has commanded you. Indeed Allah loves the penitent and He loves those who keep clean.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:222
[Pooya/Ali Commentary 2:222] The natural cyclical discharge of woman is a purifying process - it removes discarded cells and purifies her body. So men have been commanded not to approach women, during the menstrual discharge, until they become clean. "You shall not approach a woman to have intercourse with her during her period of menstruation. (Leviticus 17: 19) The divine laws had been given to mankind through the Holy Prophet whose life is a perfect model for the followers of the religion of Allah. In Sahih Bukhari, under the chapter of menstruation, a false, baseless and disgraceful report has been narrated by one of the wives of the Holy Prophet to malign him, which, in fact, is a deliberate character assassination. Such kind of reporting makes clear that the followers of these schools of thought have failed to understand the true status of the Holy Prophet. Aqa Mahdi Puya says: Yat-hurna means cessation of menstruation or the state after ghusl (bath) - for details refer to fiqh. Min haythu amarakum means "as ordained"-see next verse. Yuhibbul mutatahhirin refers to the purification of the body as well as the mind. Islamic instructions and restrictions bring forth mental and physical refinement, both equally important.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:222-228
This paragraph treats on a par a conjugal contract of matured men and women one ought to peruse it carefully to keep Divine Commands in view as negligence thereof results in worldly and eternal loss. It treats of 1) mutual rights under peaceful living. 2) If this is impossible, in spite of attempts at reconciliation the way, in which divorce is to be effected, is to be carefully borne in mind by either party. Random have no value.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:222-223
ماہواری میں جنسی ملاپ کے نقصانات
”یسئلونک عن المحیض قل ہو اذی“ ” المحیض “مصدر میمی ہے اور یہاں حیض کے معنی میں استعمال ہواہے۔ اس لیے اس کا مفہوم یہ ہوگا”اے پیغمبر ! تم سے حیض اور اس کے احکام کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ان کے جواب میں کہو”ھو اذی“یعنی وہ تکلیف دہ اور ناپاک چیزہے۔ در حقیقت یہ جملہ ماہواری میں عورت سے جنسی ملاپ کے اجتناب کے حکم کا فلسفہ بیان کرتاہے کیونکہ اس حالت میں عورتوں سے جنسی ملاپ تنفر کا باعث ہونے کے علاوہ بہت سے نقصانات کا بھی سبب بنتاہے ۔ ان نقصانات کو آج کی میڈیکل کی دنیا نے بھی ثابت کردیاہے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں۔ ۱ مرد اور عورت دونوں کا بانجھ ہونا ۲ آتشک اور سوزاک جیسی آمیزشی بیماریوں کے جراثیم کا پر وان چڑھنا ۳ عورت کے تناسلی اعضا کی زبر دست گرمی اور مواد حیض کا مرد کے عضو تناسل میں داخل ہونا جب کہ یہ مواد بدن کے داخلی جراثیموں سے بھرا ہوتاہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں اس طرح سے پیدا ہوتی ہیں جن کی تفصیلات میڈیکل کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں انہی وجوہ کی بنیاد پر ڈاکٹر حائض عورتوں سے جنسی ملاپ سے منع کرتے ہیں۔ خون حیض کے دنوں میں رحم کی رگیں کھل جاتی ہیں اور ان کا پانی بھی پتلا ہوجاتاہے۔ اس عمل میں بچہ دانی بھی رحم کی رگوں سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ تقریبا ماہواری کے آغاز پر ہی عورت کا نطفہ (ovum)شیپور نالی (Fallopian tube) سے گزر کر رحم میں داخل ہوتاہے تاکہ مرد کا نطفہ داخل ہو تو ان کے اشتراک سے بچہ پیدا ہوسکے۔ مذکورہ خون کا ترشح ابتداء میں غیر منظم اور بے رنگ ہوتاہے لیکن بہت جلد وہ منظم اور سرخ رنگ ہوجاتاہے ، آخر میں یہ پھر کم رنگ اور غیر مرتب ہوتاجاتاہے۔۱ اصولی طور پر ماہانہ عادت کے وقت نکلنے والا خون ہر ماہ رحم کی داخلی رگوں میں احتمالی بچے کی غذا کے لیے جمع ہوجاتاہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر ماہ عورت کے رحم میں ایک چھوٹا سا انڈہ پیدا ہوتاہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ رحم کی داخلی رگیں آمادگی کی حالت میں نطفہ کی غذا کے لیے خون سے پر ہوجاتی ہیں۔ اس وقت جب کہ انڈہ شیپور نالی سے گزر کر رحم میں داخل ہوتاہے اگر اسپر ماؤ زئیڈ ۲ یعنی مرد کا نطفہ موجود ہو تو بچہ پیدا ہوجاتاہے اور وہاں رگوں کھل جاتی ہیں اور دہاں موجود خون، خون حیض کی صورت میں خارج ہوجاتاہے۔ اس سے واضح ہوجاتاہے کہ ان ایام میں جنسی ملاپ کیوں نقصان وہ اور ممنوع ہے۔ کیونکہ اس خون کے اخراج کی حالت میں عورت کے رحم میں عورت کے رحم میں نطفہ قبول کرنے کے لیے کوئی طبیعی آمادگی نہیں ہوتی اور اسی بناء پر اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ ”فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوہن“ اس آیت کا پہلا حصہ جس میں حائض عورتوں سے علیحدگی اعتزال اور جنسی رابطے سے ممانعت ہے ۔ پہلی نظر میں یہودی مذہب کے موجودہ احکام سے شباہت رکھتاہے لیکن ”فاذا “ تطہرن فاتوہن من حیث امرکم اللہ“کے قرینے سے معلوم ہوتاہے کہ کنارہ کشی سے مراد فقط جنسی ملاپ ہے کیونکہ اس حصے میں خون حیض پاک ہونے کے بعد عورتوں سے جنسی ملاپ کے اجازت دی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو اسلام عورتوں کی ماہواری کے معاملے میں در میانی راہ اختیار کرتاہے۔ اسی طرح ہر مقام پر اسلام کی راہ اور روش اعتدال پر مبنی ہے۔ اسلام افراط و تفریط سے پاک ہے۔ یہاں بھی یہودیوں کی تند روی پر اسلام نے گرفت کی ہے اسلام کے مطابق ماہواری کے عامل میں عورتوں سے معاشرت ، میل جول اور نشست و برخاست میں کوئی مضائقہ نہیں۔ فقط جنسی ملاپ کی ممانعت ہے۔ اسلام نے اس موقع پر عیسائیوں کے طرز عمل کو بھی اختیار نہیں کیا جن کے نزدیک حیض اور غیر حیض ہرحالت میں عورتوں سے یکساں قسم کے تعلقات رکھنے کی کھلی چھٹی ہے۔ اس طرح اسلام نے عورت کے احترام ، اس کی شخصیت کی حفاظت اور اسے حقیر نہ سمجھنے اور دونوں کی صحت کے ضمن میں نقصان وہ امور سے بچنے کے لیئے تدابیر اختیار کی ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:222-223
جمع بین طهارت و توبه
اس کے بعد متوجہ کرتاہے کہ تمہیں قیامت کے دن پروردگار سے ملاقات او ر اپنے اعمال کے نتائج کی طرف جانا ہوگا ” و اعلموا انکم ملا قوہ “ آخر میں ایمانداروں کو بشارت دیتاہے کیونکہ صاحبان ایمان اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ احکام ان کی مادی اور روحانی زندگی کے لیے مفید ہیں ” بشر المؤمنین“۔ ۲۲۴۔وَلاَتَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لِاٴَیْمَانِکُمْ اٴَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَیْنَ النَّاسِ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ۲۲۵۔ لاَیُؤَاخِذُکُمْ اللهُ بِاللَّغْوِ فِی اٴَیْمَانِکُمْ وَلَکِنْ یُؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوبُکُمْ وَاللهُ غَفُورٌ حَلِیمٌ ترجمہ ۲۲۴۔ خدا کو اپنی قسموں میں نہ لاؤ۔ نیکی کرنے ، تقوی اختیار کرنے اور لوگوں میں صلح صفائی کے عمل میں قسمیں نہ کھاتے رہو اور خدا سننے والا جاننے والاہے۔ ۲۲۵۔ بے توجہ قسمیں کھانے پر تو خدا تمہارا مواخذہ نہیں کرے گا البتہ جو کچھ تم دل و دماغ سے کرتے ہو (اور وہ قسمیں جو تم ارادہ اختیار سے کھاتے ہو) اس پر ضرور باز پرس ہوگی اور خدا بخشنے والا صاحب حلم ہے۔ شان نزول پیغمبر اکرم کے ایک صحابی عبداللہ بن رواحہ کے داماد اور بیٹی میں اختلاف ہوگیا تو اُس نے قسم کھائی کہ اُن میں صلح کے لیے وہ دخل اندازی نہیں کرے گا اور اس بارے میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور ایسی قسموں کو ممنوع اور بے بنیاد قرار دے دیا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:222-223
جنسی ملاپ کی اجازت
”فاذا تطہرن فاتوہن من حیث امرکم اللہ“ جب وہ پاک ہو جائیں تو جس راہ سے خدا نے حکم دیاہے ان سے ملاپ کرو آیت کا یہ حصہ حقیقت میں عورتوں سے جواز مباشرت کی وضاحت کے لیے ہے ”اذا تطہرن“سے معلوم ہوتاہے کہ ماہواری سے پاک ہوجانے پر ہی عورتوں سے مباشرت جائز ہے کیونکہ بہ جملہ خون حیض کو آلودگی قرار دینے کے بعد آیاہے یعنی جب وہ اس ناپاکی اور آلودگی سے پاک ہوجائیں تو حکم امتناعی ختم ہوجاتاہے۔”تطہرن“کا مفہوم ظاہرا عورتوں کا غسل کرلینا نہیں لیاجاسکتا کیونکہ آیت کی ابتداء میں وجوب غسل کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ دوسرے لفظوں میں حتی یطہرن جو اس سے پہلے آیاہے کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ممنوعیت عورت کی ناپاکی کے زمانے میں ہے یعنی پاک ہوںنے کے بعد یہ ممنوعیت برطرف ہوجاتی ہے یہی مفہوم ہمارے بزرگ فقہاء نے فقہی مسائل میں لیا ہے۔ انہوں نے فتوی دیا ہے کہ خون سے پاک ہوجانے کے بعد غسل سے پہلے بھی جنسی ملاپ جائز ہے۔ مندرجہ بالا توضیح سے ثابت ہوچکاہے کہ لفظ تطہرن“ غسل کرنے پر دلالت نہیں کرتا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔ وجوب غسل تو ایک دوسری دلیل کے ذریعے ثابت ہواہے۔ ”من حیث امرکم اللہ“ اس بعد والے حصے میں حکم دیاگیاہے: جس طریق سے خدا نے حکم دیاہے مباشرت کرو ۔ ہوسکتاہے یہ حصہ آیت کے گذشتہ حصے کی تاکید ہو یعنی صرف عورت کے پاک ہونے کی حالت میں مجامعت کرو۔ اس کے علاوہ نہ کرو۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس کا زیادہ وسیع اور کلی مفہوم ہو یعنی پاک ہونے کے بعد بھی مباشرت کا عمل حکم پروردگار کی حدود کے اندر ہونا چاہئیے۔ ہوسکتاہے اس فرمان میں پروردگار کا تکوینی حکم بھی شامل ہو اور تشریعی بھی کیونکہ خدانے نوع انسانی کی بقا ء کے لیے دو مخالف صنفوں میں ایک دوسرے کے لیے کشش رکھی ہے اس لیے جنسی ملاپ دونوں کے لیے ایک لذت رکھتاہے لیکن مسلم ہے کہ در حقیقت مقصد بقاء نسل تھا اور کشش اور لذت تو اس مقصد کے حصول کے لیے مقدمہ اور تمہید کی حیثیت سے ہے لہذا لذت جنسی کا حصول بقاء نسل کے حوالے سے ہی ہونا چاہئیے۔ اس بنا پر استمنا یعنی جنسی ملاپ کے علاوہ منی نکالنا اور لواطت یعنی مرد کا مرد سے بدکاری کرنا اور ایسے دیگر افعال جو اس تکوینی حکم سے انحراف قرا ر پاتے ہیں ممنوع ہیں کیونکہ وہ کسی طرح بھی جنسی ملاپ کے اصلی مقصد کو پورا نہیں کرتے جب کہ اس کے علاوہ بھی ان اعمال کے شدید نقصانات ہیں۔ ”ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطہرین“ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک بازوں کو دوست رکھتاہے۔ ”توبہ“ کا معنی ہے گناہ سے پٹنا اور خدا کی نافرمانی سے پشیمان ہونا۔ توبہ کے تین بنیادی ارکان ہیں۔ ۱۔ یہ جاننا کہ میں پہلے خدا کی نافرمانی کرچکاہوں۔ ۲۔ اس عمل پر پشیمان اور نادم ہونا۔ ۳۔ آئندہ اسے ترک کرنے کا عزم بالجزم کرنا اور جو ہوچکاہے اس کی تلافی اور ازالہ کرنا۔ کسی شخص میں یہ کیفیت پائی جائے تو اسے تائب کہتے ہیں اور اس کے عمل کو توبہ کہاجاتاہے (توبہ اور اس کی شرائط کے بارے میں مزید تشریح متعلقہ آیات میں بیان کی جاچکی ہے)۔ اس آیت میں تطہیر سے مراد گناہ سے آلودہ نہ ہونا اور اپنے آپ کو خدا کی نافرمانی سے بچانا ہے آیت کے آخر میں اس جملے کا استعمال ہوسکتاہے اس لیے کہ بعض لوگ اپنے کمزور مزاج پرضبط نہ کرتے ہوئے ایام حیض میں عورتیں سے عدم مباشرت کے خدائی حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھیں اور آلودہ گناہ ہوجائیں، بعد ازاں اپنے اس عمل پر اُن کی نظر پڑے تو وہ ناراحت اور افسردہ ہوں اور وہ اپنے تئیں غضب خدا کا حقدار سمجھیں تو ایسے میں یہ نہ ہو کہ انہیں اپنی بازگشت کا کوئی راستہ ہی سجھائی نہ دے اور وہ رحمت الہی سے مایوس ہوجائیں، اللہ تعالی متوجہ کرتاہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں تو کسی حد تک لطف خدا سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں۔ البتہ جو لوگ ابتداء ہی سے اپنے نفس پرضبط برقرار رکھیں اور اس گناہ سے پاک رہیں تو اُن گناہ سے پاک رہیں تو ان کے لیے پروردگار کے اس لطف و محبت کا حصہ زیادہ ہے۔ ”نسآئکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم“ اس آیت میں عورتوں کو کھیتی سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ ہوسکتاہے بعض لوگوں کے نزدیک یہ تشبیہ عورتوں کے بارے میں بوجھل ہو اور وہ سوچیں کہ اسلام نے آدھی انسانیت کے لیئے یہ لفظ کیوں استعمال کیاہے حالانکہ اس تشبیہ میں ایک باریک سانکتہ پنہاں ہے ۔ در حقیقت قرآن چاہتاہے کہ اس طرح سے عورت کو متعارف کر و اکر انسانی معاشرے میں اُس کے وجود کی ضرورت کو اجاگر کرے اور یہ واضح کرے کہ عورت فقط آتش شہوت کو سرد کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ نوع بشر کی بقا کا وسیلہ ہے۔ جیسے انسان اپنی بقاء کے لیے غذا کا محتاج ہے اور یہ احتیاج کا شتکاری اور زراعت کے بغیر پوری نہیں ہوسکتی، اس طرح بقاء نوع انسانی عورت کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہ بات اُن لوگوں کے لیے ایک تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہے جو عورت کو ایک کھلونا اور ہوس پرستی کا ہدف سمجھے بیٹھے ہیں۔ ”حرث“ مصدر ہے۔ یہ بیج ڈالنا“ کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ بعض اوقات زراعت کی جگہ مزرعہ کے مفہو م میں بھی بولاجاتاہے۔ لفظ ”انی“ اسماء شرط میں سے ہے اور زیادہ تر ”متی“کے مفہوم میں استعمال ہوتاہے اور ”متی“کا معنی ہے ”زمانہ“ اس صورت میں اسے ”انی“ زمانیہ “ کہتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ ”مکان“ کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ جیسا کہ سورہ آل عمران کی آیہ ۳۷ میں ہے۔ ” یَامَرْیَمُ اٴَنَّی لَکِ ہَذَا قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ“ حضرت زکری جب مریم کے پاس جاتے تو اُن کے پاس تیار شدہ کھانے دیکھتے تو پوچھتے ”ان لک ہذا“ یعنی یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آیا۔ جناب مریم جواب دیتیں ”من عند اللہ“ یعنی خدا کے ہاں سے (مراد تھی جنت سے)۔ لفظ”انی “ اگر زمانی ہے تو عورتوں سے مباشرت کے وسیع زمانے کا مفہوم حاصل ہوگا۔ یعنی شب و روز، تمام اوقات میں اس کی اجازت دی گئی ہے اور اگر یہ مکانی ہو تو پھر مراد یہ ہوگی یہ مکان، مقام اور کیفیت تمام امور میں وسعت دی گئی ہے۔ ”و قدموا لا نفسکم“ یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جنسی ملاپ کا اصل مقصد صرف حصول لذت اور تکمیل خواہش نہیں بلکہ صاحب ایمان افراد کو چاہئیے کہ وہ اس عمل سے لائق اور شائستہ اولاد کے حصول کی خواہش کریں اور پھر اس کی تربیت کی ذمہ داری پوری کریں اور اس مقدس تربیتی خدمت کو ایک معنوی سرمائے کے طور پر اپنے کل کے لیئے آگے بھیجیں۔ اس لیے قرآن تنبیہ کرتاہے کہ بیوی کے انتخاب میں ایسے اصول پیش نظر رکھیں جن کا نتیجہ اچھی اولاد کی پرورش اور عظیم اجتماعی و انسانی فرمائے کا حصول ہو پیغمبر اکرم سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایاہے۔ ”یا مریم انی لک ہذا قالت ہو من عند اللہ“ حضرت زکری جب مریم کے پاس جاتے تو اُن کے پاس تیار شدہ کھانے دیکھتے تو پوچھتے ”انی لک ہذا“یعنی خدا کے ہاں سے (مراد تھی جنت سے)۔ لفظ ”انی“ اگر زمانی ہے تو عورتوں سے مباشرت کے وسیع زمانے کا مفہوم حاصل ہوگا۔ یعنی شب و روز، تمام اوقات میں اس کی اجازت دی گئی ہے اور اگر یہ مکانی ہو تو پھر مراد یہ ہوگی یہ مکان، مقام اور کیفیت تمام امور میں وسعت دی گئی ہے۔ ”و قدموا لا نفسکم“ یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جنسی ملاپ کا اصل مقصد صرف حصول لذت اور تکمیل خواہش نہیں بلکہ صاحب ایمان افراد کو چاہئیے کہ وہ اس عمل سے لائق اور شائستہ اولاد کی حصول کی خواہش کریں اور پھر اس کی تربیت کی ذمہ داری پوری کریں اور اس مقدس تربیتی خدمت کو ایک معنوی سرمائے کے طور پر اپنے کل کے لیئے آگے بھیجیں۔ اس لیے قرآنی تنبیہ کرتاہے کہ بیوی کے انتخاب میں ایسے اصول پیش نظر رکھیں جن کا نتیجہ اچھی اولاد کی پرورش اور عظیم اجتماعی و انسانی فرمائے کا حصول ہو پیغمبر اکرم سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایاہے۔ ”اذا مات الانسان انقطع عملہ الاعن ثلاث: صدقة جاریة و علم ینتفع بہ و ولد صالح یدعولہ“ جب انسان مرجاتاہے اس کا دفتر عمل بھی بند ہوجاتاہے۔ مرنے کے بعد انسان اپنے لیے کوئی بچت مہیا نہیں کرسکتا البتہ تین چیزیں ایسی ہیں جو موت کے بعد بھی اس کے لیے نتیجہ بخش ہوں گی۔ (۱) صدقہ جاریہ ، (۲) آثار علمی اور (۳) نیک اولاد کی تربیت صدقہ جاریہ سے مراد ایسے آثار خیر ہیں جو اجتماعی فوائد کے لیئے استعمال ہوتے رہتے ہیں جیسے مسجد، مدرسہ، ہسپتال لائبریری یا ایسی دیگر چیزیں۔ آثار علمی سے مراد کتاب کی تالیف اور شاگردوں کی تربیت، نیک اولاد جو اپنے مال باپ کے لیے عملی یا زبانی طور پر طلب بخشش کرے ۔ ”و اتقوا اللہ و اعلموا انکم ملا قوہ و بشر المؤمنین“ زیر نظر موضوع ۔۔۔ جنسی ملاپ۔۔۔ چونکہ بہت ہی اہم ہے اور انسائی غذائز میں سے سب سے زیادہ پر کشش غریزہ جنسی ہی ہے اس لیے اس جملے کے ذریعے خدا تعالی انسان کو جنسی ملاپ کے معاملے میں دقت نظر کی دعوت دیتاہے اور اپنے احکام کی طرف متوجہ کرتاہے اور فرماتاہے” و اتقوا اللہ“ یعنی اللہ کی نافرمانی سے ڈرو۔