يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ
They ask you concerning wine and gambling. Say, ‘There is a great sin in both of them, and some profits for the people, but their sinfulness outweighs their profit.’ And they ask you as to what they should spend. Say, ‘All that is surplus.’ Thus does Allah clarify His signs for you so that you may reflect
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:219
[Pooya/Ali Commentary 2:219] Actions such as taking intoxicants, or seeking quick and easy wealth through gambling, draw us away from reality and dull our sense of comprehending and distinguishing things. Man's reason for existence is to grasp reality. All intoxicating substances have been defined by the Holy Prophet and the holy Imams of his Ahl ul Bayt. Abu Hanifah, the founder of the Hanafi school, says that any liquor, not prepared by grapes, is not prohibited. Mawlvi Muhammad Ali, a Sunni scholar, in his translation of the Quran says: "Those who think that the verse under discussion does not contain a prohibition have failed to understand the language of the Quran. When the harm of a thing is stated to be greater than its advantage, it is sufficient indication of its prohibition, for no sensible person would take a course which is sure to bring him a much greater loss than an advantage." Even after the revelation of this verse some of the companions of the Holy Prophet used to drink non-grape wines and come to pray salat in the masjid, on account of which verse 43 of al Nisa and verses 90 and 91 of al Ma-idah were revealed to prohibit intoxicants and gambling. The Holy Prophet said: "Curse of Allah be on liquor, its maker and he who assists him, bearer, loader, distributor, seller, purchaser, consumer and whoever uses its sale proceeds and profit." Imam Ali ibna abi Talib said: If a drop of liquor falls into a well and a minaret is built on its nearby land I will not recite azan from it; and if it falls into a river and in its dry bed grows grass, I will not let my horse graze on it. Liquor is ummul khaba-ith, the mother of all vices. An intoxicated person ceases to be a human being, becomes a brute and loses the ability to distinguish between good and evil, right and wrong. The effect of these verses worked wonders with the Arab Muslims. In the opinion of the social reformers who labour day and night to put an end to the drinking habits of non-Muslim communities it is a miracle. Drinking was second nature to the heathen Arabs. The Jews and the Christians were also sunk deep into this wicked addiction. Yasara, the root of maysir, means to divide a thing into parts or portions. Maysir means a game of chance to seek quick and easy wealth, an unearned profit. Gain or loss is a matter of chance. This verse prohibits all games of chance and gambling. For al afwa see commentary of verse 215 of this surah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:219
الکحل کے مشروبات کے نقصانات
الکحل کا انسانی عمر پر اثر: مغرب کے ایک مشہور اسکا لر کا نظریہ ہے کہ ۲۱ سے ۲۳ سالہ نوجوانوں میں شراب کے عادی ۵۱مرنے والوں کے مقابلے میں شراب نہ پینے والوں میں سے دس افراد بھی نہیں مرتے ایک اور مشہور اسکالرنے ثابت کیاہے کہ بیس سالہ نوجوان جن کے بارے میں توقع ہوتی ہے کہ وہ بچاس سال تک زندہ رہیں گے شراب پینے کی وجہ سے ۳۵ سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ بیمہ کمپنیوں کے تجربات سے ثابت ہوچکاہے کہ شرابیوں کی عمر دوسروں کی نسبت ۲۵ سے ۳۰ فیصد کم ہوتی ہے شماریات کے ایک ادارے کے مطابق شرابیوں کی اوسط ۳۵ سے ۵۰ سال ہے جبکہ اصول صحت کے تحت یہ اوسط ۶۰ سال سے زیادہ ہے۔ نسل انسانی میں شراب کا اثر: انعقاد نطفہ کے وقت مرد نشے میں ہوتو الکوحل (alcoalism) کی ۳۵بیماریاں بچے کی طرف منتقل ہوتی ہیں۔ عورت اور مرد دونوں نشے میں ہوں تو الکوحل(alcoalism) کی سوفیصد بیماریاں بچے میں ظاہر ہوتی ہیں۔ اس بناء پر ضروری ہے کہ اولاد کے بارے میں شراب کے اثرات پر زیادہ توجہ دی جائے ہم یہاں کچھ مزید اعداد و شمار پیش کرتے ہیں۔ طبیعی وقت سے پہلے ہونے والے بچوں میں ۴۵ فیصد ماں باپ دونوں کی شراب نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں ۳۱ فیصد باپ کی شراب نوشی کے باعث ہوتے ہیں۔ پیدائش کے وقت زندگی کی توانائی سے عاری سوبچوں میں ۶ شرابی باپ کی وجہ سے اور ۴۵ شرابی ماں کی وجہ سے اس طرح ہوتے ہیں۔ شرابی ماں کی وجہ سے ۷۵ فیصد اور شرابی باپ کی وجہ سے ۴۵ فیصد بچے کوتاہ قد پیدا ہوتے ہیں۔ شرابی ماؤں کی وجہ سے ۷۵ فیصد اور شرابی باپوں کی وجہ سے بھے ۷۵ فیصد بچے کافی عقلی اور روحانی توانائی سے محروم ہوتے ہیں۔ اخلاق پر شراب کے اثرات: شرابی شخص گھر والوں سے ہمدردی اور محبت کے جذبے سے عاری ہوتاہے بیوی اور اولاد سے شرابی کی محبت کمزور ہوتی ہے۔ بارہا دیکھا گیاہے کہ شرابی باپ اپنی اولاد کو قتل کردیتے ہیں۔ شراب کے اجتماعی نقصانات: ایک انسٹیٹوٹ کے ڈاکٹر کے مہیا کر دہ اعداد شمار کے مطابق ۱۹۶۱ میں نیون شہر کے شرابیوں کے اجتماعی جرائم کچھ اس طرح ہیں۔ عام قتل : ۵۰ فیصد مارپیٹ اور زخمی کرنے کے جرائم: :۷۷۰۸ جنسی جرائم : ۸۸۰۸ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتاہے کہ بڑے جرائم زیادہ تر حالت نشہ میں انجام پاتے ہیں۔ شراب کے اقتصادی نقصانات: روحی امراض کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے: افسوس ہے کہنا پڑتاہے کہ حکومتیں شراب کے مالیاتی فوائد اور منافع کا حساب تو کرتی ہیں لیکن ان اخراجات کو نظر میں نہیں رکھتیں جو شراب کے برے اثرات کی روک تھام پراٹھتے ہیں روحانی بیماریوں کی زیادتی، تنزل پذیر معاشرے کے نقصانات، قیمتی اوقات کا ضیاع، حالت نشہ میں ڈرائیونگ کے حادثات ، پاک نسلوں کی تباہی سستی، بے راہ روی، ثقافت و تمدن کی پسماندگی پولیس کی زحمتیں اور پکڑدھکڑ، شرابیوں کی اولاد کے لیے پرورش گا ہیں شراب سے متعلقہ جرائم کے لیے عدالتوں کی مصروفات، شرابیوں کے لیے قید خانے اور شراب نوشی سے ہونے والے دیگر نقصانات کو جمع کیاجائے تو حکومتوں کو معلوم ہوگا کہ وہ آمدنی جو شراب سے ہوکہتاہے ان نقصانات کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ علاوہ ازیں شراب نوشی کے افسوسناک نتائج کا موازنہ صرف ڈالروں سے نہیں کیاجاسکتا کیونکہ عزیزوں کی موت، گھروں کی تباہی، تمناؤں کی بربادی اور صاحبان فکر انسانوں کی دماغی صلاحتیوں کا نقصان۔ یہ سب کچھ پیسے کے مد مقابل نہیں لائے جاسکتے۔ خلاصہ یہ کہ شراب کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ ایک عالم کے بقول اگر حکومتیں یہ ضمانت دیں کہ وہ میخانوں کا آدھا دروازہ بند کردیں گی تو یہ ضمانت دی جاسکتی ہے کہ ہم آدھے ہسپتالوں اور آدھے پاگل خانوں سے بے نیاز ہوجائیں گے۔ جو کچھ کہاجاچکاہے اس سے محل بحث آیت کا معنی اچھی طرح واضح ہوجاتاہے شراب کی تجارت میں نوع بشر کے لیئے کوئی فائدہ ہو یا فرض کریں تو چند لمحوں کے لیے انسان اس کی وجہ سے اپنے غموں سے بے خبر ہوجاتاہے تب بھی اس کا نقصان کہیں زیادہ، بہت وسیع اور اس قدر طویل ہے ؛کہ اس کے فائدے اور نقصانات کا آپس میں موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:219
قمار بازی کے برے اثرات
ایسے افراد بہت کم ملیں گے جو قماربازی کے زبر دست نقصانات سے بے خبرہوں۔ وضاحت کے لیے اس منحوس کار و بار اور گھروں کی بربادی کے باعث کام، کے چند گوشوں کا تذکرہ کیاجاتاہے۔ قمار بازی ہیجان انگیزی کا بہت بڑا ذریعہ ہے: تمام علماء نفسیات کا یہ نظریہ ہے کہ روحانی ہیجانات اور اضطراب بہت سی بیماریوں کا باعث ہیں مثلا وٹا من کی کمی۔ زخم معدہ، جنون و دیوانگی ، کم و بیش اعصابی و روحانی بیماریاں و غیرہ۔ یہ بیماریاں زیادہ تر ہیجان ہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ قماربازی ہیجان کا سب سے بڑا عامل ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کا ایک اسکالر کہتاہے کہ امریکہ میں ہر سال دوہزار افراد صرف قمار بازی کے ہیجان سے مرجاتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک لالو اوسطا ایک پوکر ۱ باز کا دل اوسطا ایک منٹ میں سوسے زیادہ مرتبہ دھڑکتاہے۔ کبھی کبھی قمار بازی سے دل و دماغ پر سکتہ بھے طاری ہوجاتاہے ۔ قمار بازی یقینی طورپر جلد بڑھا پالانے کا باعث بنتی ہے۔ علاوہ ازیں علماء کے بقول جو شخص قمار بازی میں مشغول ہے اس کا دل ہے تشنج کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کے تمام اعضاء جسم سخت حالت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے دل کی حرکت بڑھ جاتی ہے۔ شوگر کا مواد اس کے خون میں گرتاہے، داخلی غدودوں میں خلل واقع ہوتا، چہرے کا رنگ اڑجاتا ہی اور بھوک ختم ہوجاتی ہے۔ قمار بازی کے ختم ہوںے پر جب جوا باز سوتاہے تو اس کے اندرا عصابی جنگ جاری ہوتی ہے اور جسم پر بحران کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ جواری اکثر اوقات اعصاب کی تسکین اور بدن کے آرام کے لیے شراب اور دوسری نشہ آور چیزوں کا سہارا لیتا ہے اس طرح شراب اور قمار بازی کے نقصانات جمع ہوکر فزون تر ہوجاتے ہیں۔ بعض محققین کہتے ہیں کہ قمارباز ایک بیمار شخص ہے۔ یہ ہمیشہ روح کی نگرانی کا محتاج ہے۔ اُسے ہمیشہ سمجھانا چاہئیے اورنفسیاتی ذریعوں سے اسے قمار بازی سے روکنے کی کوشش کرنے چاہئیے شاید اس طرح وہ اپنی اصلاح کی طرف مائل ہوسکے۔ قمار بازی کا جرائم سے تعلق: عالمی اعداد و شمار کے ایک بہت بڑے ادارے نے ثابت کیاہے کہ ۳۰ فیصد جرائم کا تعلق قماربازی سے ہے اور ۷۰ فیصد دیگر جرائم کے عوامل میں بھی یہ حصہ دار ہے۔ قمار بازی کے اقتصادی نقصانات: ایک سال میں کئی ملین بلکہ کئی ارب ڈالر کی دولت دنیا میں اس راستے سے برباد ہوتی ہے انسانی توانائیوں کا اس راستے میں ضیاع اس پر مستزاد ہے بلکہ یہ عمل تو دوسری مصروفیات میں سے بھی لگن اور دلچسبی چھین لیتاہے۔ مونٹ کا رلو جو دنیا میں قمار بازی کا مشہور مرکز ہے کے بارے میں اخبارات میں چھپاہے کہ ایک شخص نے ۱۹ گھنٹے میں قمار بازی میں ۷۵ لاکھ تومان 2 ہارے ۔ جب قمارخانے کے دروازے بند ہوئے تو وہ سیدھا جنگل کی طرف گیا اور ایک ہی گولی سے اپنا دماغ پاش پاش کرلیا۔ اس طرح اس نے خود کشی کرلی۔ نامہ نگار مزید لکھتاہے کہ ”مونٹ کارلو کے جنگل ان پاکبازوں کی کئی خود کشیوں کے شاہد ہیں۔“ قمار بازی کے اجتماعی نقصانات: بہت سے جوا باز جیت بھی جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی گھنٹے میں دوسروں کے ہزاروں روپے ان کی جیب میں چلے جاتے ہیں ۔ نتیجتا وہ کوئی پیدا واری اور اقتصادی کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اسطرح اجتماعی پیداوار اور اقتصادی حالت لنگڑی ہوجاتی ہے۔ صحیح غور کیاجائے تو یہ واضح ہوگا کہ قمار باز اور ان کے اہل و عیال معاشرے پر بوجھ ہیں۔ وہ معاشرے کو ذرہ بھر فائدہ پہنچائے بغیر اس کی کمائی کھاتے ہیں اور کبھی ہارنے کی صورت میں جوری چوری اور ڈاکہ زنی سے اپنی ہارکی تلافی کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ قمار بازی کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ بعض غیر مسلمان ملکوں کو بھی اسے قانونا ممنوع قرار دینا پڑا اگرچہ وہاں بھی عملا وسیع پیمانے پر جوا بازی کا کاروبار جاری ہے۔ مثلا برطانیہ نے ۱۸۵۳ میں، امریکہ نے ۱۸۵۵ میں، روس نے ۱۸۵۴ میں اور جرمنی نے ۱۸۷۳ میں قمار بازی کے ممنوع ہونے کا اعلان کیا۔ اس بحث کے آخر میں بعض محققین کے پیش کر دہ ذیل کے اعداد شمار پر ایک نظر ڈالنا مفید رہے گا۔ (۱) جیب تراشی کی وارداتیں : ۹۰ فیصد (۲) اخلاقی جرائم : ۱۰ فیصد (۳) دنگا فساد کے واقعات : ۴۰ فیصد (۴) جنسی جرائم : ۱۵ فیصد (۵) طلاقیں : ۳۰ فیصد اور (۶) خودکشی کے واقعات : ۵ فیصد ۔۔۔قمار بازی ہی کہ بدولت ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ قمار بازی کی جامع تعریف کرنا چاہیں تویوں ہوگی: () دوسروں کے مال پر دھوکا، فریب اور جھوٹ سے قبضے کے لیئے () تفریح کے نام پر () اور کبھی بلا مقصد () مال ، عزت اور آبرو کی قربانی۔ یہاں تک تو ہم نے شراب اور قمار بازی کے ناقابل تلافی نقصانات بیان کیے ہیں اب ایک اور نکتے کی طرف توجہ کرنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ خداوند عالم نے شراب پرسرزنش کیوں رکھی ہے اور اس کے ذکر کے وقت اس کے فوائد نقصانات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ ہوسکتاہے اس کی وجہ یہ ہوکہ زمانہ جاہلیت میں (ہمارے زمانے کی طرح) شراب اور قماربای بہت عام تھی اور اگر اس طرح اشارہ نہ ہوتا تو ہوسکتاہے بعض کوتاہ نظریہ تصور کرتے کہ مسئلے کے ایک ہی پہلو کو مدنظر رکھاگیاہے۔ ضمنا محل بحث آیت ان ڈاکٹروں کے موقف کا جواب بھی ہے جو شراب کو بعض بیماریوں کے لیے مفید سمجھتے ہیں کیونکہ اس قسم کے اجتماعی فوائد کا اس کے نقصانات سے موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔ اگر وہ ایک بیماری کے لیئے مثبت اثر ہوبھی تو بہت سی بیماریوں کا سرچشمہ بھی ہوسکتی ہے نیز روایات میں یہ جو آیاہے کہ: ”خدا تعالی نے شراب میں شفا نہیں رکھی“ شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو۔“ و یسئلونک ما ذا ینفقون“ تفسیر در منشور میں آیت کے اس حصے کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ جب خدانے مسلمانوں کو حکم دیا کہ دین حق کی ترقی کے لیئے خرچ کرو بعض اصحاب و انصار پیغمبر نے آپ سے پوچھا کہ ہم نہیں جانتے کہ اپنے مال میں سے کتنی مقدار خرچ کریں۔ کیاسارے کا سار امال خرچ یا اس کا کچھ حصہ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انہیں ” ”عفو“ کا حکم دیاگیا۔ اب دیکھتے ہیں کہ عفو سے یہاں کیا مراد ہے۔ ”عفو“ سے کیا مراد ہے ”عفو“ کے لغت میں کئی معانی بیان کیئے گئے ہیں۔ ۔ ”بخشش و عنایت“ ۔ ”اثر زائل کرنا“ ۔ ”کسی چیز کو پکڑنے کا ارادہ کرنا“ ۔ ”ہر چیز کا وسط اور در میان“ ۔ ”کسی چیز کی اضافی مقدار“ اور ۔ ”مال کا بہترین حصہ“ یہ سب عفو کے مختلف معانی ہیں۔ تین پہلے معانی ظاہرا آیت کے مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتے بلکہ آخری تین معانی میں سے یہاں کوئی اس کا مفہو م ہے یعنی خرچ کرنے میں حد اوسط اور اعتدال کا خیال رکھنا، یا اپنی ضروریات سے اضافی مقدار خرچ کرنا (یہ دونوں معانی ایک ہی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کیونکہ اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا معنی یہی ہے کہ اپنی ضرورت سے زیادہ مال خرچ کیاجائے اور اپنی زندگی کو تباہ نہ کیاجائے)۔ اگر آخری معنی مراد لیاجائے تو آیت کا مضمون یہ ہے: خرچ کرتے وقت گھٹیا اور بے قدر و قیمت مال کا انتخاب نہ کرو، بلکہ را خدا میں خرچ کرنے کے لیے اپنے مال کے بہترین حصے کا انتخاب کرو۔ یہ معنی بھی پہلے دو معانی پر پوری طرح سے منطبق ہوتاہے کیونکہ خرچ کرتے وقت حد وسط اور اعتدال کو بھی مد نظر رکھا جائے اور اچھے مال کا بھی انتخاب کیاجائے تو ان تمام معانی پر عمل ہوسکتاہے۔ اسی لیے ھادیان اسلام علیہم السلام نے اس لفظ کی تفسیر کرتے ہوئے بعض اوقات لفظ ”وسط“ استعمال کیاہے جبکہ تفسیر عیاشی اور کتاب کافی میں چھٹے پیشوائے اسلام امام صادق سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: ”عفو“ یعنی حد وسط۔ اور کبھی اس کا معنی لفظ ”فضل“ سے کیا گیا ہے جس کا معنی ہے زیادتی، اضافہ ۔ جیسا کہ مجمع البیان میں پانچویں پیشوائے اسلام حضرت امام باقر سے منقول ، آپ نے فرمایا: ”العفو ما فضل عن قوة السنة“ عفو۔ وہ چیز ہے جو سال کے مخارج سے بچ جائے۔ آیت میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ عفو اسی پہلے معنی میں ہو یعنی مغفرت اور دوسروں کی لغزشوں سے در گزرکرنا۔ اگر چہ جہاں تک ہم نے دیکھا ہے یہ احتمال کسی مفسر نے بیان نہیں کیا۔ اس احتمال کے مطابق آیت کا مفہوم یوں ہوگا: کہہ دو کہ بہترین انفاق اور خرچ کرنا یہ ہے کہ عفو در گزر کو خرچ کرو۔ چند امور ایسے ہیں کہ جن کے پیش نظر اس احتمال کا درست ہونا کچھ بعید بھی نہیں مثلا جزیرة العرب کی وضع و کیفیت خصوصا اہل مدینہ کی دشمنی اور کینہ پروری کی قدیم عادت اور ان پست حالات اور افراد میں پیغمبر اکرم کے نزدیک عفو در گزر کی اہمیت۔ اور پھریہ مفہوم ان کے سوال کے بھی منافی نہیں ہے۔ انہوں نے مالی امور کے بارے میں سوال کیاتھا۔ وہ بعض اوقات ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتے تھے جس سے زیادہ ضروری چیز کی بارے میں انہیں پوچھنا چاہئیے تھا تو قرآن سوال کے حوالے سے ان کی آمادگی اور پذیرائی سے استفادہ کرتے ہوئے جواب میں اس چیز کا تذکرہ کرتاہے جو اہم ہوتی ہے یعنی ان کے سوال سے قطع نظر کرتے ہوئے زیادہ اہم بات بیان کرتاہے۔ یہ نظر نواز انداز قرآن ہی سے مخصوص نہیں کیونکہ اکثر اوقات ایسا ہوتاہے کہ کوئی شخص ہم سے ایک مسئلے کے بارے میں سوال کرتاہے جب کہ وہ اس سے اہم مسائل بھولے ہوئے ہوتاہے تو ہم بجائے اس کے کہ آسان اور سادہ سوال کا جواب دیں۔ اس کی ضرورت کے اہم مسائل کو تفصیل سے بیان کردیتے ہیں۔ ۱ پوکر۔ یہ قمار بازی کی ایک قسم ہے 2 تومان ایرانی کرنسی ہے (مترجم)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:219
قمار بازی کے برے اثرات
ایسے افراد بہت کم ملیں گے جو قماربازی کے زبر دست نقصانات سے بے خبرہوں۔ وضاحت کے لیے اس منحوس کار و بار اور گھروں کی بربادی کے باعث کام، کے چند گوشوں کا تذکرہ کیاجاتاہے۔ قمار بازی ہیجان انگیزی کا بہت بڑا ذریعہ ہے: تمام علماء نفسیات کا یہ نظریہ ہے کہ روحانی ہیجانات اور اضطراب بہت سی بیماریوں کا باعث ہیں مثلا وٹا من کی کمی۔ زخم معدہ، جنون و دیوانگی ، کم و بیش اعصابی و روحانی بیماریاں و غیرہ۔ یہ بیماریاں زیادہ تر ہیجان ہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ قماربازی ہیجان کا سب سے بڑا عامل ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کا ایک اسکالر کہتاہے کہ امریکہ میں ہر سال دوہزار افراد صرف قمار بازی کے ہیجان سے مرجاتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک لالو اوسطا ایک پوکر ۱ باز کا دل اوسطا ایک منٹ میں سوسے زیادہ مرتبہ دھڑکتاہے۔ کبھی کبھی قمار بازی سے دل و دماغ پر سکتہ بھے طاری ہوجاتاہے ۔ قمار بازی یقینی طورپر جلد بڑھا پالانے کا باعث بنتی ہے۔ علاوہ ازیں علماء کے بقول جو شخص قمار بازی میں مشغول ہے اس کا دل ہے تشنج کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کے تمام اعضاء جسم سخت حالت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے دل کی حرکت بڑھ جاتی ہے۔ شوگر کا مواد اس کے خون میں گرتاہے، داخلی غدودوں میں خلل واقع ہوتا، چہرے کا رنگ اڑجاتا ہی اور بھوک ختم ہوجاتی ہے۔ قمار بازی کے ختم ہوںے پر جب جوا باز سوتاہے تو اس کے اندرا عصابی جنگ جاری ہوتی ہے اور جسم پر بحران کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ جواری اکثر اوقات اعصاب کی تسکین اور بدن کے آرام کے لیے شراب اور دوسری نشہ آور چیزوں کا سہارا لیتا ہے اس طرح شراب اور قمار بازی کے نقصانات جمع ہوکر فزون تر ہوجاتے ہیں۔ بعض محققین کہتے ہیں کہ قمارباز ایک بیمار شخص ہے۔ یہ ہمیشہ روح کی نگرانی کا محتاج ہے۔ اُسے ہمیشہ سمجھانا چاہئیے اورنفسیاتی ذریعوں سے اسے قمار بازی سے روکنے کی کوشش کرنے چاہئیے شاید اس طرح وہ اپنی اصلاح کی طرف مائل ہوسکے۔ قمار بازی کا جرائم سے تعلق: عالمی اعداد و شمار کے ایک بہت بڑے ادارے نے ثابت کیاہے کہ ۳۰ فیصد جرائم کا تعلق قماربازی سے ہے اور ۷۰ فیصد دیگر جرائم کے عوامل میں بھی یہ حصہ دار ہے۔ قمار بازی کے اقتصادی نقصانات: ایک سال میں کئی ملین بلکہ کئی ارب ڈالر کی دولت دنیا میں اس راستے سے برباد ہوتی ہے انسانی توانائیوں کا اس راستے میں ضیاع اس پر مستزاد ہے بلکہ یہ عمل تو دوسری مصروفیات میں سے بھی لگن اور دلچسبی چھین لیتاہے۔ مونٹ کا رلو جو دنیا میں قمار بازی کا مشہور مرکز ہے کے بارے میں اخبارات میں چھپاہے کہ ایک شخص نے ۱۹ گھنٹے میں قمار بازی میں ۷۵ لاکھ تومان 2 ہارے ۔ جب قمارخانے کے دروازے بند ہوئے تو وہ سیدھا جنگل کی طرف گیا اور ایک ہی گولی سے اپنا دماغ پاش پاش کرلیا۔ اس طرح اس نے خود کشی کرلی۔ نامہ نگار مزید لکھتاہے کہ ”مونٹ کارلو کے جنگل ان پاکبازوں کی کئی خود کشیوں کے شاہد ہیں۔“ قمار بازی کے اجتماعی نقصانات: بہت سے جوا باز جیت بھی جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی گھنٹے میں دوسروں کے ہزاروں روپے ان کی جیب میں چلے جاتے ہیں ۔ نتیجتا وہ کوئی پیدا واری اور اقتصادی کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اسطرح اجتماعی پیداوار اور اقتصادی حالت لنگڑی ہوجاتی ہے۔ صحیح غور کیاجائے تو یہ واضح ہوگا کہ قمار باز اور ان کے اہل و عیال معاشرے پر بوجھ ہیں۔ وہ معاشرے کو ذرہ بھر فائدہ پہنچائے بغیر اس کی کمائی کھاتے ہیں اور کبھی ہارنے کی صورت میں جوری چوری اور ڈاکہ زنی سے اپنی ہارکی تلافی کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ قمار بازی کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ بعض غیر مسلمان ملکوں کو بھی اسے قانونا ممنوع قرار دینا پڑا اگرچہ وہاں بھی عملا وسیع پیمانے پر جوا بازی کا کاروبار جاری ہے۔ مثلا برطانیہ نے ۱۸۵۳ میں، امریکہ نے ۱۸۵۵ میں، روس نے ۱۸۵۴ میں اور جرمنی نے ۱۸۷۳ میں قمار بازی کے ممنوع ہونے کا اعلان کیا۔ اس بحث کے آخر میں بعض محققین کے پیش کر دہ ذیل کے اعداد شمار پر ایک نظر ڈالنا مفید رہے گا۔ (۱) جیب تراشی کی وارداتیں : ۹۰ فیصد (۲) اخلاقی جرائم : ۱۰ فیصد (۳) دنگا فساد کے واقعات : ۴۰ فیصد (۴) جنسی جرائم : ۱۵ فیصد (۵) طلاقیں : ۳۰ فیصد اور (۶) خودکشی کے واقعات : ۵ فیصد ۔۔۔قمار بازی ہی کہ بدولت ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ قمار بازی کی جامع تعریف کرنا چاہیں تویوں ہوگی: () دوسروں کے مال پر دھوکا، فریب اور جھوٹ سے قبضے کے لیئے () تفریح کے نام پر () اور کبھی بلا مقصد () مال ، عزت اور آبرو کی قربانی۔ یہاں تک تو ہم نے شراب اور قمار بازی کے ناقابل تلافی نقصانات بیان کیے ہیں اب ایک اور نکتے کی طرف توجہ کرنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ خداوند عالم نے شراب پرسرزنش کیوں رکھی ہے اور اس کے ذکر کے وقت اس کے فوائد نقصانات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ ہوسکتاہے اس کی وجہ یہ ہوکہ زمانہ جاہلیت میں (ہمارے زمانے کی طرح) شراب اور قماربای بہت عام تھی اور اگر اس طرح اشارہ نہ ہوتا تو ہوسکتاہے بعض کوتاہ نظریہ تصور کرتے کہ مسئلے کے ایک ہی پہلو کو مدنظر رکھاگیاہے۔ ضمنا محل بحث آیت ان ڈاکٹروں کے موقف کا جواب بھی ہے جو شراب کو بعض بیماریوں کے لیے مفید سمجھتے ہیں کیونکہ اس قسم کے اجتماعی فوائد کا اس کے نقصانات سے موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔ اگر وہ ایک بیماری کے لیئے مثبت اثر ہوبھی تو بہت سی بیماریوں کا سرچشمہ بھی ہوسکتی ہے نیز روایات میں یہ جو آیاہے کہ: ”خدا تعالی نے شراب میں شفا نہیں رکھی“ شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو۔“ و یسئلونک ما ذا ینفقون“ تفسیر در منشور میں آیت کے اس حصے کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ جب خدانے مسلمانوں کو حکم دیا کہ دین حق کی ترقی کے لیئے خرچ کرو بعض اصحاب و انصار پیغمبر نے آپ سے پوچھا کہ ہم نہیں جانتے کہ اپنے مال میں سے کتنی مقدار خرچ کریں۔ کیاسارے کا سار امال خرچ یا اس کا کچھ حصہ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انہیں ” ”عفو“ کا حکم دیاگیا۔ اب دیکھتے ہیں کہ عفو سے یہاں کیا مراد ہے۔ ”عفو“ سے کیا مراد ہے ”عفو“ کے لغت میں کئی معانی بیان کیئے گئے ہیں۔ ۔ ”بخشش و عنایت“ ۔ ”اثر زائل کرنا“ ۔ ”کسی چیز کو پکڑنے کا ارادہ کرنا“ ۔ ”ہر چیز کا وسط اور در میان“ ۔ ”کسی چیز کی اضافی مقدار“ اور ۔ ”مال کا بہترین حصہ“ یہ سب عفو کے مختلف معانی ہیں۔ تین پہلے معانی ظاہرا آیت کے مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتے بلکہ آخری تین معانی میں سے یہاں کوئی اس کا مفہو م ہے یعنی خرچ کرنے میں حد اوسط اور اعتدال کا خیال رکھنا، یا اپنی ضروریات سے اضافی مقدار خرچ کرنا (یہ دونوں معانی ایک ہی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کیونکہ اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا معنی یہی ہے کہ اپنی ضرورت سے زیادہ مال خرچ کیاجائے اور اپنی زندگی کو تباہ نہ کیاجائے)۔ اگر آخری معنی مراد لیاجائے تو آیت کا مضمون یہ ہے: خرچ کرتے وقت گھٹیا اور بے قدر و قیمت مال کا انتخاب نہ کرو، بلکہ را خدا میں خرچ کرنے کے لیے اپنے مال کے بہترین حصے کا انتخاب کرو۔ یہ معنی بھی پہلے دو معانی پر پوری طرح سے منطبق ہوتاہے کیونکہ خرچ کرتے وقت حد وسط اور اعتدال کو بھی مد نظر رکھا جائے اور اچھے مال کا بھی انتخاب کیاجائے تو ان تمام معانی پر عمل ہوسکتاہے۔ اسی لیے ھادیان اسلام علیہم السلام نے اس لفظ کی تفسیر کرتے ہوئے بعض اوقات لفظ ”وسط“ استعمال کیاہے جبکہ تفسیر عیاشی اور کتاب کافی میں چھٹے پیشوائے اسلام امام صادق سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: ”عفو“ یعنی حد وسط۔ اور کبھی اس کا معنی لفظ ”فضل“ سے کیا گیا ہے جس کا معنی ہے زیادتی، اضافہ ۔ جیسا کہ مجمع البیان میں پانچویں پیشوائے اسلام حضرت امام باقر سے منقول ، آپ نے فرمایا: ”العفو ما فضل عن قوة السنة“ عفو۔ وہ چیز ہے جو سال کے مخارج سے بچ جائے۔ آیت میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ عفو اسی پہلے معنی میں ہو یعنی مغفرت اور دوسروں کی لغزشوں سے در گزرکرنا۔ اگر چہ جہاں تک ہم نے دیکھا ہے یہ احتمال کسی مفسر نے بیان نہیں کیا۔ اس احتمال کے مطابق آیت کا مفہوم یوں ہوگا: کہہ دو کہ بہترین انفاق اور خرچ کرنا یہ ہے کہ عفو در گزر کو خرچ کرو۔ چند امور ایسے ہیں کہ جن کے پیش نظر اس احتمال کا درست ہونا کچھ بعید بھی نہیں مثلا جزیرة العرب کی وضع و کیفیت خصوصا اہل مدینہ کی دشمنی اور کینہ پروری کی قدیم عادت اور ان پست حالات اور افراد میں پیغمبر اکرم کے نزدیک عفو در گزر کی اہمیت۔ اور پھریہ مفہوم ان کے سوال کے بھی منافی نہیں ہے۔ انہوں نے مالی امور کے بارے میں سوال کیاتھا۔ وہ بعض اوقات ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتے تھے جس سے زیادہ ضروری چیز کی بارے میں انہیں پوچھنا چاہئیے تھا تو قرآن سوال کے حوالے سے ان کی آمادگی اور پذیرائی سے استفادہ کرتے ہوئے جواب میں اس چیز کا تذکرہ کرتاہے جو اہم ہوتی ہے یعنی ان کے سوال سے قطع نظر کرتے ہوئے زیادہ اہم بات بیان کرتاہے۔ یہ نظر نواز انداز قرآن ہی سے مخصوص نہیں کیونکہ اکثر اوقات ایسا ہوتاہے کہ کوئی شخص ہم سے ایک مسئلے کے بارے میں سوال کرتاہے جب کہ وہ اس سے اہم مسائل بھولے ہوئے ہوتاہے تو ہم بجائے اس کے کہ آسان اور سادہ سوال کا جواب دیں۔ اس کی ضرورت کے اہم مسائل کو تفصیل سے بیان کردیتے ہیں۔ ۱ پوکر۔ یہ قمار بازی کی ایک قسم ہے 2 تومان ایرانی کرنسی ہے (مترجم)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:219
دوقابل غور نکات
آیت کے آخری حصے میں ہے ”کذلک یبین اللہ لکم الایات لعلکم تتفکرون“ ”خدا اپنی آیات کو اسی طرح بیان کرتاہے شاید تم غور و فکر کرو“ آیت کی ابتدا میں غور و فکر کی وضاحت یوں کی گئی ہے: ”فی الدنیا و الاخرة“ اس تعبیر سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ انسان مامور ہے کہ خدا اور انبیاء کے سامنے سرتسلیم خم کردے اس کے باو جود اس کا فرض ہے کہ یہ اطاعت فکر و نظر سے انجام دے، نہ یہ کہ اندھا دھند اور بغیر سوچے سمجھے ان کی پیروی کرے، دوسرے لفظوں میں جتنا ہو سکے احکام الہی کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کرے اور انہیں صحیح شعور سے بجالائے۔ البتہ اس گفتگو کا یہ معنی نہیں ہے کہ احکام الہی کی اطاعت ان کے فلسفے کے سمجھنے سے مشروط ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان احکام کی اطاعت کے ساتھ ساتھ ان کی روح اور اسرار کو جاننے کی بھی کوشش کی جانی چاہئیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان کو یہ نہیں چاہئیے کہ وہ فقط عالم مادہ یا فقط عالم معنی ہی میں غور و فکر کرے، بلکہ دونوں پر غور و فکر کرے جسم کی ضروریات اور روح کے تقاضے دونوں ملحوظ نظر رہیں دونوں کے تکامل اور پیش رفت کے وسائل کی تلاش کی جانا چاہئیے کیونکہ دنیا و آخرت ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ ایک کی بربادی دوسرے کی ویرانی میں حصہ دار ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ شراب اور قماربازی کی حرمت کا حکم اور راہ خدا میں خرچ کرنے کی تشویق میں کیا ربط ہے۔ تو ممکن ہے یہ اس لحاظ سے ہو: ۱۔ جیسا کہ بیان کیاگیاہے ان احکام کا فلسفہ اور ان کے اسرار انسانی فکر و نظر کو متاخر کرتے ہیں۔ ۲۔ انفاق عمومی، مجموعی اور اخروی پہلو رکھتاہے اور شراب و قماربازی زیادہ تر شخصی اور مادی پہلو رکھتے ہیں ۔ لہذا ان احکام کے ذریعے انسان کو دنیا و آخرت کی فلاح کے لیئے غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ ۲۲۰۔ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الْیَتَامَی قُلْ إِصْلاَحٌ لَہُمْ خَیْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنْ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَاٴَعْنَتَکُمْ إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ترجمہ ۲۲۰۔ (تا کہ) دنیا و آخرت میں (فکر کرو) اور تم سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کے کام کی اصلاح کرنا بہتر ہے اور اگر اپنی زندگی کو ان کی زندگی میں ملالو (تو کوئی حرج نہیں) وہ تمہارے دینی بھائی ہیں (اور ان سے ایک بھائی کا سا سلوک کرو) خدا مفسدین کو مصلحین میں سے پہچانتا ہے اور اگر خدا چاہے تو تمہیں زحمت و تکلیف میں ڈال دے (اور حکم دے دے کہ یتیموں کی سرپرستی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی اور اموال کاملا ان کے مال سے جدا رکھو لیکن خدا ایسا نہیں کرتا) کیونکہ وہ توانا اور حکیم ہے۔ شان نزول تفسیر قمی میں امام صادق اور تفسیر مجمع البیان میں ابن عباس سے منقول ہے کہ جب آیت ”و لا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ہن احسن“ یتیم کے مال کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر یہ کہ یہ اس کے حق میں بہتر ہو۔ (بنی اسرائیل۔ ۳۴) اور آیہ”ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نار اوسیصلون سعیرا“ جو لوگ یتیموں کا مال نا حق کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بس انگارے بھرتے ہیں اور عنقریب و اصل جہنم ہونگے (نساء۔۱۰) نازل ہوئیں کہ جن میں یتیموں کے مال و دولت کے قریب جانے سے منع کیاگیاہے سوائے اس کے کہ ان کے لیے مفید ہو اور ان کا مال کھانے سے روکا گیا ہے تو جن کے گھروں میں یتیم تھے انہوں نے ان کی کفالت سے ہاتھ اٹھا لیا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑدیا۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے تو انہیں اپنے گھرہی سے نکال دیا اور جنہوں نے ایسا نہ کیا ان کے گھر میں بھی یتیموں کی کیفیت نکالے جانے سے مختلف نہ تھی۔ ان کے مال سے پکایاگیا کھانا اپنے کھانے سے نہ ملاتے ، ان کے لیے الگ کھانا پکتا، یتیم اپنے کمرے کے کو نے میں الگ سے کھانا کھاتا، اس کا بچا ہوا کھانا پڑا رہتاتا کہ پھر بھوک لگنے پر اسی کو کھائے اور کھانا خراب ہوجاتا تو پھینک دیاجاتا۔ یہ سب اہتمام اس لیے کیا جاتا کہ کہیں مال یتیم کھانے کا جرم سرزد نہ ہو۔ یہ صورت حال سرپرستوں اور یتیموں دونوں کے لیے بہت مشکلات کا باعث تھی۔ ان حالات میں متاثر افراد پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضورکی خدمت میں اپنے احوال پیش کیئے ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ تفسیر قرآن مجید یتیموں کے سرپرستوں کو حکم دیتاہے کہ یتیموں کی سرپرستی سے دست کش ہوجانا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا درست نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ان کی سرپرستی قبول کرلو اور ان کے کام انجام دو اور جو کام ان کے فائدے میں ہو اور جس میں ان کی اصلاح اور بہتری سمجھو، اسے انجام دو (”قل اصلاح لہم خیر“)۔ اور اگر ان کی زندگی تمہاری زندگی سے مخلوط ہو تو ان سے ایک بھائی کا سا سلوک کرو۔ جب تمہارا مقصد ان کی بھلائی ہو تو ان کے مال اور کھانا تمہارے مال اور کھانے سے مل جائے تو کوئی اشکال نہیں و ان تخالطوہم فاخوانکم“)۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتاہے کہ خدا تمہاری نیتوں سے واقف ہے۔ بھلائی کا اظہار صحت عمل کی دلیل نہیں بلکہ حقیقت میں اصلاح طلب بنو، تمہاری نیت یتیموں کی خدمت کرنا ہو (”و اللہ یعلم المفسد من المصلح“) آیت کے آخر میں فرماتاہے: خداوند عالم اگر چاہے تو تم پر معاملہ سخت کرسکتاہے اور یتیموں کی سرپرستی کو لازمی قرار دینے کے با وجود تمہیں اپنے مال اور کھانے کو ان کے مال اور کھانے سے الگ رکھنے کا حکم دے سکتاہے لیکن وہ قادر بھی ہے اور حکیم و دانا بھی ہے، کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنے بندوں پر سخت گیری کرے۔ (”و لو شاء اللہ لا عنتکم ان اللہ عزیز حکیم“)۔ ۲۲۱۔َلاَتَنکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ وَلَاٴَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکَةٍ وَلَوْ اٴَعْجَبَتْکُمْ وَلاَتُنکِحُوا الْمُشْرِکِینَ حَتَّی یُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکٍ وَلَوْ اٴَعْجَبَکُمْ اٴُوْلَئِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ وَاللهُ یَدْعُو إِلَی الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِہِ وَیُبَیِّنُ آیَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُون ترجمہ ۲۲۱۔ مشرک اور بت پرست عورتیں جب تک ایمان نہ لے آئیں ان سے نکاح نہ کرو (اگر چہ تمہیں کنیزوں ہی سے رشتہ تزیج کیوں نہ قائم کرنا پڑے کیونکہ) ایماندار کنیزیں آزاد بت پرست عورت سے بہتر ہیں اگرچہ ان کی زیبائی، دولت، شخصیت اور وقعت) تمہیں بھلی معلوم ہوتی ہو اور اپنی عورتیں بت پرست مردوں سے نہ بیا ہو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں (اگرچہ تمہیں مجبورا ایماندار غلام ایک بت پرست مرد سے بہتر ہے اگرچہ (مال و مقام اور حسن و زیبائی میں) وہ تمہیں اچھا لگے۔ وہ تو آگ کو دعوت دیتے ہیں جب کہ خدا جنت اور اپنے حکم کے ذریعے بخشش کی دعوت دیتاہے اور اپنی آیات لوگوں کے لیے واضح کرتاہے کہ شاید وہ یاد رکھیں۔ شان نزول ”مرثد“ جو ایک بہادر انسان تھا پیغمبر اکرم نے اسے مدینے سے مکے کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ وہاں پر موجود مسلمانوں کی ایک جماعت کو ساتھ لے آئے۔ وہ فرمان پیغمبر کی انجام دہی کے لیے مکہ پہنچا۔ وہاں اس کی ملاقات ایک خوبصورت عورت و عناق، سے ہوگئی۔ اسے وہ زمانہ جاہلیت سے پہچانتاتھا۔ اس عورت نے نکاح کا تقاضا کیاتو مرثد نے کہا کہ یہ معاملہ پیغمبر اکرم کی اجازت پرموقوف ہے۔ وہ اپنی ڈیوٹی ادا کرکے مدینے پلٹ آیا اور وہ واقعہ آنحضرت کے گوش گزار کیا۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی جس میں بیان کیاگیاہے کہ مشرک اور بت پرست عورتیں مسلمان مردوں کی ہمسری اور تزویج کے لائق نہیں۔