يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
O mankind! Worship your Lord, who created you and those who were before you, so that you may be Godwary
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:21
[Pooya/Ali Commentary 2:21] In this verse, through la-alla (so that), the emphasis is laid on the freedom of choice given to every individual. In Islam there is no merit in any virtue imposed by force. Willing service to the Lord, in the spirit of thankfulness, is a must for the creature, in return for the countless gifts, favours and bounties He bestows on His creatures. Imam Ali ibna abi Talib defines obedience (service) as under: (1) The service offered out of fear is the obedience of a slave. (2) The service offered for gain is the obedience of a businessman or trader. (3) The service offered by a free man, of his own choice, in thankfulness for the bounties he receives from the beneficent Lord, is the obedience of a sincere faithful who obeys on account of his independent conscience. Aqa Mahdi Puya says: Obedience is to react to the order of authority in complete agreement and unity of feeling. In this sense the Quran directs man to surrender to no one save to the universal will of the absolute Lord of grace and love. Only complete resignation to His will saves man from the miseries of the worldly life. It does not mean mystic inactivity. It is an active reaction. Faruq al Azam - The greatest distinguisher of truth and falsehood. (see commentary for verse 4)(see commentary for verse 2)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:21-29
1. God points out how faith can be developed to attain perfection by continuous timely prayers and which is sure to lead to salvation, reminding of His Obligation, remembrance of which will keep you ever obedient to Him, without attaching like affection to others. 2. To eliminate misgivings of mind. He, in proof of His being your creator, reminds you of what and where you were before it. And once he brought you, after giving you time limit in this world to gain your Eternal Grade, he will again raise you alive to send you to respective grade of Paradise or Hell. If you persist still, then He challenges you to bring a like chapter of the Qur’an failing which you stand to condemnation of Hell. Hence, do not doubt, but with proofs adduced, submit to His Existence, howsoever trifling the proofs appear to you. Be not of those dissenters whose purpose is merely to fan dissension under the devil’s leading to perdition.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:21-22
اس خدا کی عبادت کرو
گذشتہ آیات میں خدا وند عالم نے تین گروہوں (پرہیز گار، کفار اور منافقین) کی تفصیل بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ پرہیز گار ہدایت الہی سے نوازے گئے ہیں اور قرآن ان کا راہنما ہے جب کہ کفار کے دلوں پر جہل و نادانی کی مہر لگادی ہے اور ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کی آنکھوں پرغفلت کا پردہ ڈال دیا ہے اور ان سے حس تمیز چھین لی ہے اور منافق ایسے بیمار دل ہیں کہ ان کے برے عمل کے نتیجے میں ان کی بیماری بڑھادی ہے۔ زیر بحث آیات میں تقابل کے بعد سعادت و نجات کی راہ جو پہلے گروہ کے لئے ہے واضح طور پر مشخص کرتے ہوئے فرماتا ہے : اے لوگو ! اپنے پروردگار کی پرستش و عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔(یَااٴَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمْ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون) چند اہم نکات ۱۔ یایھا الناس کا خطاب : اس کا مطلب ہے ”اے لوگو“ اس خطاب کی قرآن میں تقریبا بیس مرتبہ تکرارہے یہ جامع اور عمومی خطاب ہے جو نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن کسی قبیلے یا گروہ سے مخصوص نہیں بلکہ اس کی دعوت عام ہے اور یہ سب کو ایک یگانہ خدا کی دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے شرک اور راہ توحید سے انحراف کا مقابلہ کرتا ہے۔ ۲۔ خلقت انسان نعمت خدا وندی ہے : انسان کے جذبہ ٴ تفکر کو ابھارنے کے لئے اور اسے عبادت پروردگار کی طرف مائل کرنے کے لئے قرآن اپنی گفتگو کا آغاز انسانوں کی خلقت و آفرینش سے کرتا ہے جو ایک اہم ترین نعمت ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو خدا کی قدرت، علم و حکمت اور رحمت خاص و عام کی نشانی ہے کیونکہ انسان جو عالم ہستی کا مکمل نمونہ ہے اس کی خلقت میں خدا کے غیر متناہی علم و قدرت اور اس کی وسیع نعمتیں مکمل طور پر نظر آتی ہیں۔ جو لوگ خدا کے سامنے نہیں جھکتے اور اس کی عبادت نہیں کرتے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی اور اپنے سے پہلے لوگوں کی خلقت میں غور نہیں کرتے وہ نکتے کی طرف متوجہ نہیں ہیں کہ اس عظیم خلقت کو گونگی اور بہری طبیعت کے عوامل سے منسوب نہیں کیا جاسکتا اور ان بے حساب و بینظیر نعمتوں کو جو انسانی جسم و جان میں نمایاں ہیں سوائے اس مبداء کے نہیں سمجھا جاسکتا جس کا علم اور قدرت لامتناہی ہے۔ اس بناء پر ذکر نعمت ایک تو خدا شناسی کے لئے دلیل ہے اور دوسرا شکر گزاری اور عبادت کے لئے محرک ہے۔ ۳۔ عبادت کا نتیجہ : تقوی و پرہیزگاری (لعلکم تتقون) : ہماری عبادتیں اور تسلیمات خدا کے جاہ وجلال میں اضافے کا باعث نہیں اسی طرح ان کا ترک کرنا اس کے مقام کی عظمت میں کمی کا باعث نہیں۔ یہ عبادت تو ”تقوی“ کا سبق حاصل کرنے کے لئے تربیتی کلاسیں ہیں اور تقوی وہی احساس ذمہ داری اور انسان کے جذبہٴ باطن کا نام ہے جو انسان کی قیمت کی قیمت کا معیار اور مقام شخصیت کا میزان و ترازو ہے۔ ۳۔ الذین من قبلکم : یہ شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اگر تم بتوں کی پرستش میں اپنے آباؤ و اجداد کی سنت سے استدلال کرو تو خدا جو تمہیں پیدا کرنے والا ہے وہی تمہارے آباؤ اجداد کا مالک و پروردگار ہے۔ اس بناء پر بتوں کی پرستش تمہاری طرف سے ہو چاہے ان کی طرف سے کجروی کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:21-22
بت پرستی مختلف شکلوںمیں
یہاں اس حقیقت کی طرف متوجہ ہو نا ضرور ی ہے کہ خدا کا شریک قرار دینا یہی نہیںکہ پتھر اورلکڑی کے بت بنالئے جائیں یا اس سے بڑھ کر انسان کو مثلاََمسیح کو تین میں سے ایک خدا سمجھا جائے بلکہ اس کے وسیع تر معنی ہیں جو زیادہ اور پنہاںصورتوںپر بھی مشتمل ہیں کلی قاعدہ یہ ہے کہ زندگی میں جس چیز کوبھی خداکے ساتھ ساتھ سمجھا جائے۔۔وہ ایک قسم کا شرک ہے ۔ اس مو قع پرابن عباس کی ایک عجیب تفسیر ہے وہ کہتے ہیں: لانداد ھوالشرک الخفی من دبیب النمل علی صفاةسوداء فی ظلمةاللیل وھوان یقول واللہ حیاتک یافلان ِوحیاتی -ویقولولا کلیہ ھذالاتاناللصوص ا لبارحةوقول الرجل لصاحبةماشاء اللہ وشئت ھذا کلہ بہ شرک یعنی ۔۔۔۔انداد وہی شرک ہے کبھی تاریک رات میںسیاہ پتھر پر ایک چیونٹی کی حرکت سے زیادہ مخفی ہوتا ہے ۔انسان کا یہ کہناکہ کی خدا کی قسم اور تیر ی جا ن کی قسم ،یاخداکی قسم اور مجھے میری جان کی قسم (یعنی خدا اور دوست کی جان یا خدااور اپنی جان کو ایک ہی لائن میںقرار دینا)یایو ں کہنا کہ اگر یہ کتیا کل رات نہ ہوتی تو چور آگئے تھے (لہذاچوروںسے نجات دلانے والی یہ کتیا ہے )یاپھر اپنے دوست سے کہے جو کچھ خدا چاہے اور تم پسند کرو ۔۔۔۔ان سب میں شرک کی بو ہے (۱) ایک حدیث میں ہے : ایک شخص نے نبی اکرم کے سامنے یہ جملہ کہا : ًًٍٍٍٍٍ((ماشاء اللّہ ہ وشئت ))جو کچھ خدا اور اآپ چاہتے ہیں ) آنحضرت نے فرمایا : ((اجعلنی للّہ نداََ)ِ (کیا تونے مجھے اللہ کا شریک وردیف قرار دیا )۔ عام لوگ روزانہ ایسی بہت سی باتیں کرتے رہتے ہیں مثلاً ((پہلے خدا پھرتم ))باور کیجیے کہ ایک کامل موحد انسان کے لئے یہ تعبیرات بھی مناسب نہیں ہیں۔ سورہ یوسف آیت ۱۰۶ ((وما یومن اکثرھم بااللہ الاوھم مشرکون ))کی تفسیرکے ذیل میں امام صادق سے ایک روایت ہے ،آپ نے (شرک ِخفی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )فرمایا : جیسے ایک انسان دوسرے سے کہتا ہے اگرتونہ ہوتاتو میںنابود ہو جاتا یا میری زندگی تباہ ہوجاتی (۲) اس کی مزید وضاحت اسی تفسیر میں سورہ یوسف ،آیت ۱۰۶کے ذیل میںملاحظہ کیجئے ۲۳۔وان کنتم فی ریب ممانزلناعلی عبدنافاتوابسورةمن مثلہ ص وادعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین ۲۴ فان لم تفعلو ولن تفعلو فاتقو النار التی وقودھا الناس والحجارة ج اعدت للکافرین ہ ترجمہ ۲۳-اگر تمہیں اس چیز کے بارے میں جو ہم نے اپنے بندے (پیغمبر ) پر نازل کی ہے کوئی شک و شبہ ہے تو (کم از کم ) ایک سورہ اس کی مثل لے آؤ اور خدا کو چھوڑ کر اپنے گواہوں کو بھی اس کام کی دعوت دو ،اگر تم سچے ہو ۔ ۲۴-اگر یہ کام تم نے نہ کیا اور کبھی کر بھی نہ سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسانوں کے بدن اور پتھر ہیں یہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ (۱) فی ضلال سید قطب ،جلد اول ص۵۳۔ (۲) سفینةالبحار ،جلد اول ،ص۶۹۷
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:21-22
نعمت آسمان و زمین
زیر نظر دوسری آیت میں خدا کی عظیم نعمتوں کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ ہے جو ہمارے لئے شکر گزاری کا سبب ہوسکتاہے۔ پہلے زمین کی پیدائش کے بارے میں گفتگو ہے کہتا ہے ”وہی خدا جس نے زمین کو تمہارے لئے آرام دہ بچھونا قرار دیا“ ۔ الذی جعل لکم الارض فراشا۔ یہ رہوار جس نے تمہیں اپنی پشت پر سوار کر رکھا ہے،اس فضا میں بڑی تیزی کے ساتھ اپنی مختلف حرکات جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ اس سے تمہارے وجود میں کوئی حرکت و لرزش پیدا نہیں ہوتی۔ یہ اس کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے اس زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے تمہیں حرکت اور استراحت، گھر اور آشیانہ،باغ اور کھیتی اور قسم قسم کے وسائل زندگی میسر ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ زمین کی کشش ثقل بھی ایک نعمت ہے اگر یہ نہ ہو تو چشم زدن میں ہم سب اور ہماری زندگی کے سب وسائل زمین کی دورانی حرکت کے نتیجے میں فضا میں جا پڑیں اور سر گرداں پھرتے رہیں۔ زمین بچھونا ہے : زمین کو بستر استراحت سے تعبیر کیا گیا ہے یہ کس قدر خوبصورت تعبیر ہے۔ بستر میں نہ صرف اطمینان، آسودگی خاطر اور استراحت کا مفہوم پنہاں ہے بلکہ گرم و نرم ہونا اور حداعتدال میں زہنے کے معنی بھی اس میں پوشیدہ ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ عالم تشیع کے چوتھے پیشوا امام سجاد علی بن الحسین نے اپنے ایک بہترین بیان میں اس آیت کی تفسیر میں اس حقیقت کی تشریح فرمائی ہے۔ جعلھا ملائمةلطباعکم موافقة لاجساکم و لم یجعلھا شدید الحمی و الحرارة فتحرقکم ولا شدیدة البرد فتحمدکم و لا شدیدة طیب الریح فتصک ہا ما تکم و لا شدیدة النتن فتعتبکم و لا شدیدة اللین کالماء فتغرقکم و لا شدیدة الصلابة فتمنح علیکم فی دورکم و ابنیتکم و قبور موتاکم فلذا جعل الارض فراشا لکم۔ خدا نے زمین کو تمہاری طبیعت اور مزاج کے مطابق بنایا اور تمہارے جسم کی موافقت کے لئے اسے گرم اور جلانے والی نہیں بنایا کہ اس کی حرارت سے تم جل جاؤ اور اسے زیادہ ٹھنڈا بھی پیدا نہیں کیا کہ کہیں تم منجد ہوجاؤ۔ اسے اس قدر معطر اور خوشبو دار پیدا نہیں کیا کہ اس کی تیز خوشبو تمہارے دماغ کو تکلیف پہنچائے اور اسے بد بو دار بھی پیدا نہیں کیا کہ کہیں تمہار ہلاکت کا ہی سبب بن جائے۔ ایسے پانی کی طرح نہیں بنایا کہ تم اس میں غرق ہوجاؤ اور اتنا سخت بھی نہیں بنایا تاکہ تم اس میں گھر اور مکانات بنا سکو اور مردوں کو (جن سطح زمین پر رہ جانا گونا گوں پریشانیوں کا باعث ہوتا) اس میں دفن کرسکو۔ ہاں خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے ایسا بستر استراحت قرار دیا ہے (۱)۔ پھر نعمت آسمان کو ایک بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : آسمان کو تمہارے سروں پر چھت جیسا بنایا ہے (والسماء بناء)۔ لفظ ”بناء“ اور لفظ علیکم کی طرف توجہ کریں تو یہ بیان ہوتا ہے کہ آسمان تمہارے سر کے اوپر بالکل چھت کی طرح بنا ہوا ہے یہی معنی زیادہ صراحت کے ساتھ قرآن میں ایک اورجگہ بھی ہے: و جعلنا السماء سقفا محفوظا اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا ہے (انبیاء ۳۲)۔ شاید تعبیر بعض ایسے افراد کے لئے عجیب و غریب ہو جو آسمان و زمین کی عمارت کی کیفیت کو آج کے علم ہئیت کی نظر سے جانتے ہیں یعنی یہ چھت کیونکر ہے اور کہاں ہے۔ بطلیموس کی فرضی ہئیت جس کے مطابق افلاک ایک دوسرے پر پیاز کے چھلکوں کی طرح ہیں کیا یہ تعبیر اس مفہوم کو تو ہمارے دلوں میں بٹھانا نہیں چاہتی ؟ مندرجہ ذیل توضیح کی طرف توجہ کرنے سے مطلب پورے طور پر واضح ہوجاتا ہے : لفظ ”سما“ قرآن میں مختلف معانی کے لئے آیا ہے جس میں مشترک قدر وہ چیز ہے جو مندرجہ بالا جہت میں ہے ان میں سے ایک معنی جس کی طرف اس آیت میں ارشاد ہوا ہے وہ وہی فضائے زمین ہے یعنی ہوائے متراکم کا چھلکا اور چمڑا جس نے ہر طرف سے کرہٴ ارض کو چھپایا ہو اہے اور علماء و دانشوروں کے نظریے کے مطابق اس کی ضخامت کئی سو کلو میٹر ہے۔ اب اگر ہم اس ہوا کے قشر ضخیم کے اساسی اور حیاتی نقش کے بارے میں جس نے زمین کو ہر طرف سے گھیرا او راحاطہ کیا ہوا ہے غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ چھت انسانوں کی حفاظت کے لئے کس قدر محکم اور موثر ہے۔ یہ مخصوص ہوائی جلد جو بلوریں چھت کی طرح ہمارے گرد احاطہ کئے ہوئے ہے۔ سورج کی حیات بخش شعاعوں کے پہنچنے سے مانع بھی نہیں اور محکم و مضبوط بھی ہے بلکہ کئی میٹر ضخیم فولادی تہوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ اگر یہ چھت نہ ہوتی تو زمین ہمیشہ پراکندہ آسمانی پتھروں کی بارش کی زد میں رہتی اور عملی طور پر لوگوں سے راحت و اطمینان چھن جاتا لیکن یہ سخت جلد جو کئی سو کلو میٹر ہے (2)۔ تمام آسمانی پتھروں کو زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے جلا کر نابود کردیتی ہے اور بہت کم مقدار میں ایسے پتھر ہیں جو اس جلد کو عبور کرکے خطرے کی گھنٹی کے عنوان سے گوشہ و کنار میں آگرتے ہیں لیکن یہ قلیل تعداد اہل زمین کے اطمینان میں رخنہ انداز نہیں ہوسکتی۔ منجملہ شواہد کے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آسمان کے ایک معنی فضائے زمین ہے وہ حدیث ہے جو ہمارے بزرگ پیشوا امام صادق (ع) سے آسمان کے رنگ کے بارے میں منقول ہے ۔ آپ (ع) فرماتے ہیں: اے مفضل ! آسمان کے رنگ میں غور و فکر کرو کہ خدا نے اسے نیلے رنگ کا پیدا کیا ہے جو انسانی آنکھ کے لئے سب سے زیادہ موافق ہے یہاں تک کہ اسے دیکھنا بینائی کو تقویت پہنچا تا ہے(3)۔ آج اس چیز کو ہم سب جانتے ہیں کہ آسمان کا نیلا رنگ در اصل اس متراکم ہوا کا رنگ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے اس بناء پر اس حدیث میں آسمان سے مراد یہی فضائے زمینی ہے۔ سورہ نحل کی آیة ۷۹ میں ہے : الم یروا الی الطیر مسخرات فی جو ا لسمائ آیا وہ ان پرندوں کو نہیں دیکھتے جو وسط آسمان میں تسخیر شدہ ہیں۔ آسمان کے دوسرے معانی کے سلسلے میں اس سورت کی آیت ۲۹ میں آپ مزید صراحت سے مطالعہ کریں گے۔ اس کے بعد بارش کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے ” اور آسمان سے پانی نازل کیا (وانزل من السماء ما)۔ کیسا پانی۔ جو حیات بخش، تمام آبادیوں کا سبب اور تمام مادی نعمتوں کا جامع ہے، جملہ ”انزلنا من السماء“ دوبار اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے کہ سماء سے مراد یہاں وہی فضائے آسمانی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بارش بادلوں سے برستی ہے اور بادل فضائے زمین میں موجود بخارات سے پیدا ہوتے ہیں۔ امام سجاد علی بن الحسین اس آیة کے ذیل میں بارش کے آسمان سے نازل ہونے کے بارے میں ایک جاذب نظر بیان میں ارشاد فرماتے ہیں : ” خدا وند عالم بارش کو آسمان سے نازل کرتا ہے تاکہ وہ پہاڑوں کی تمام چوٹیوں، ٹیلوں اورگڑھوں غرض تمام بلند و ہموار جگہوں تک پہنچ جائے(اور سب بغیر استثناء کے سیراب ہوں)اور یہ نرم زمین کے اندر چلی جائے۔ اور زمین اس سے سیراب ہو ۔ اسے سیلاب کی صورت میں نہیں بھیجا کہ مبادا زمینوں، درختوں کھیتوں اور تمہارے پھلوں کو بہا لے جائے اور انہیں ویران کردے(۱)۔ ۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد اول ص ۲۱ کے مطابق حدیث کی عبارت اس طرح ہے : ینزلہ من اعلی لیبلغ قلل جبالکم و تلالکم و ھضابکم و اوھادکم ثم فرقة رذاذا و ابلا وھطلا لتنسشفہ ارضوکم و لم یجعل ذلک المطرتازلا قطعة و احدة نیفسد ارضیکم و اشجارکم و زروعکم و ثمارکم۔ اس کے بعد قرآن بارش کی برکت سے پیدا ہونے والے قسم قسم کے پھلوں اور ان روزیوں کی طرف جو انسانوں کا نصیب ہیں اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے ”خدا وند عالم نے بارش کے سبب میوہ جات کو تمہاری روزی کے عنوان سے نکالا (فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم)۔ یہ خدائی پروگرام ایک طرف خدا کی وسیع اور پھیلی ہوئی رحمت کو جو اس کے بندوں پر ہے مشخص کرتا ہے اور دوسری طرف اس کی قدرت کو بیان کرتا ہے اس نے کس طرح بے رنگ پانی سے ہزاروں رنگوں کے میوے جو انسانی غذا کے لئے مختلف خصوصیات کے حامل ہیں اور اسی طرح دوسرے جاندار پیدا کئے جو اس کے وجود کے زندہ ترین دلائل میں سے ہیں لہذابلا فاصلہ مزید کہتا ہے ” جب ایسا ہی ہے تو پھر خدا کے شریک نہ بناؤ، جب کہ تمہیں معلوم ہے (فلا تجعلوا للہ اندادا وانتم تعلمون)۔ تم سب جانتے ہو کہ ان بتوں اور خود ساختہ شرکاء نے تمہیں پیدا نہیں کیا اور نہ یہ روزی دیتے ہیں ۔ تمہارے پاس کوئی کم ترین نعمت بھی ان کی طرف سے نہیں پس کس طرح انہیں خدا کا شبیہ و نظیر قرار دیتے ہو۔ ”انداد“ جمع ہے ”ند“(بروزن ضد) کی۔ اس کے معنی ہیں ۱۔ نور الثقلین، ج ۱ ص۴۱۔ 2۔ بہت سی کتب میں اس ہوائی جلد کی ضخامت ایک سو کلو میٹر لکھی ہوئی ہے لیکن بظاہر ان کا مقصود وہ جگہ ہے جہاں ہوا کے سالمے(Molecules) نسبتا زیادہ نزدیک ہیں لیکن موجودہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ چند سو کلو میٹر کی ضخامت میں ہوا کے سالمے پراکندہ حالت میں موجود ہیں۔ 3۔ توحید مفضل۔