يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
O you who have faith! Prescribed for you is fasting as it was prescribed for those who were before you, so that you may be Godwary.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:183
[Pooya/Ali Commentary 2:183] Fasting is a means of restraining and controlling the nafs, so that contentment (rida), and all the other blessings of this great discipline may be experienced. The fasting of the ordinary man is to withhold only from food and drink. The fasting of the pious man is to curb sensory desires, to refrain from looking at the unlawful, hearing the harmful, and thinking about the distasteful, or about what stimulates the lower nature. The fasting of a true believer is to seal the heart from paying any attention to other-than-Allah (ghayrallah), and safeguard himself with thorough awareness of the divine laws. Fasting (sawm) is one of the obligatory functions of the faith, next only to the prescribed 5 times a day prayers (salat), in importance. It trains the Muslims to guard themselves against evil as well as conditions them to suffer physical affliction and exercise self control in the defence of faith and the faithful. Fasting, although not as perfectly regulated and decisive as in Islam, was prescribed for the followers of the previous prophets also, and was also in vogue, in varying forms, in different parts of the world. Among the Jews it was done in times of sorrow and affliction. Among the Hindus in India, fasting is undertaken as a penance or to achieve spiritual power. The Sabians were also prescribed fasting for one full month and the object of fasting among them was almost identical to Islamic fasting. Aqa Mahdi Puya says: This verse is wrongly stated to be abrogated by the next verse, which, in fact, deals with some of the details of the conditions to be observed during the fasting.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:183-185
رمضان مبارک کی خصوصیت اور امتیاز
کیا سبب ہے کہ ماہ رمضان روزے رکھنے کے لئے منتخب کیا گیاہے بلکہ اسی بناء پر اسے دوسرے مہینوں پر برتری حاصل ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کی برتری کی وجہ بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ قرآن جو ہدایت اور انسانی رہبری کی کتاب ہے جس نے اپنے احکام اور قوانین کی صحیح روش کو غیر صحیح راستے سے جدا کردیاہے اور جو انسانی سعادت کا دستور لے کرآئی ہے اسی مہینے میں نازل ہوئی ہے۔ اسلامی روایات میں ہے کہ تمام عظیم آسمانی کتب تورات ، انجیل ، زبور، صحیفے اور قرآن، اسی مہینے میں نازل ہوئیں۔ امام صادق فرماتے ہیں: تورات چھ رمضان، انجیل بارہ رمضان، زبور اٹھار، رمضان اور قرآن شب قدر میں نازل ہواہے۔ ۱ اس طرح ماہ رمضان عظیم آسمانی کتب کے نزول اور تعلیم و تدریس کا مہینہ ہے کیونکہ صحیح تربیت تعلیم اور کچھ سیکھے بغیر ممکن نہیں ہے۔ روزے کا تربیتی پروگرام زیادہ سے زیادہ اور گہری آگاہی کے ساتھ آسمانی تعلیمات سے ہم آہنگ ہونا چاہئیے تاکہ اس سے انسانی روح و بدن کی آلودگی گناہ دھل جائے۔ ماہ شعبان کے ایک آخری جمعہ کو پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو اس ماہ کے استقبال کے لئے آمادہ کرنے کی خاطر خطبہ دیا۔ اور اس کی اہمیت اس طرح ان کے گوش گزار کی: اے لوگو! خدا کی برکت، بخشش اور رحمت کا مہینہ تمہاری جانب آرہاہے۔ یہ مہینہ تمام مہینوں سے بہتر ہے۔ اس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے اور اس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر ہیں۔ اس ماہ کے لحظے اور گھڑیاں دوسرے مہینوں کے لحظوں اور گھڑیوں سے برتر ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں تمہیں خدا نے مہمان بننے کی دعوت دی ہے اور تمہیں ان لوگوں میں سے قرار دیا گیاہے جو خدا کے اکرام و احترام کے زیر نظر ہیں۔ لہذا خالص نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ خدا سے دعاء کرو تاکہ وہ تمہیں روزہ رکھنے اور تلاوت قرآن کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ بدبخت ہے وہ شخص جو اس مہینے میں خدا کی بخشش سے محروم رہ جائے۔ اس ماہ میں اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔ اپنے فقراء اور مساکین پر احسان کرو۔ اپنے بڑے بوڑھوں کا احترام کرو اور چھوٹوں پر مہربانی کرو۔ رشتہ داری کے ناتوں کو جوڑدو۔ اپنی زبانیں گناہ سے روکے رکھو۔ اپنی آنکھیں ان چیزوں کو دیکھنے سے بند رکھو جن کا دیکھنا حلال نہیں۔ اپنے کانوں کو ان چیزوں کے سننے سے روکے رکھو جن کا سننا حرام ہے اور لوگوں کے یتیموں پر شفقت و مہربانی کرو تا کہ وہ بھی تمہارے یتیموں سے یہی سلوک کریں۔2 ۱ وسائل الشیعہ، ج۷، ابواب احکام شہر رمضان باب ۱۸، حدیث ۱۶ 2- یہ وسائل الشیعہ جلد ۷ ابواب احکام شہر رمضان کے باب ۱۸ کی بیسویں حدیث ہے اس کا عربی متن یہ ہے: فقال۔ ایھا الناس انہ قد اقبل الیکم شہر اللہ بالبرکة و الرحمة و المغفرة شہر ہو عند اللہ افضل الشہور ، و ایامہ افضل الایام و لیالیہ افضل اللیالی، و ساعاتہ افضل الساعات، ہو شہر دعیتم فیہ الی ضیافة اللہ، و جعلتم فی من اھل کرامة اللہ، انفاسکم فیہ تسبیح ، و نومکم فیہ عبادة، و عملکم فیہ مقبول، و دعائکم فیہ مستجاب ، فاسئلوا اللہ ربکم بنیات صادقة و قلوب طاہرة: ان یوفقکم لصیامہ و تلاوة کتابہ، فان الشقی من حرم غفر ان اللہ فی ہذا الشہر العظیم، و اذکر و ابجوعکم و عطشکم فیہ جوع القیمة و عطشہ و تصدقوا علی فقرائکم و مساکینکم، و وقروا کبارکم و راحموا اصفارکم، و صلوا ارحامکم، و احفظوا السنتکم، و غضوا عما لا یحل النظر الیہ ابصارکم، و عما لا یحل الاستماع الیہ اسماعکم و تحفظوا علی ایتام الناس یتحنن علی ایتامکم۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:183-185
روزہ گذشتہ امتوں میں
موجود تورات اور انجیل سے بھی معلوم ہوتاہے کہ روزہ یہود و نصاری میں بھی تھا جیسا کہ ”قاموس کتاب مقدس“ میں ہے: روزہ کلیتہ تمام اوقات اور تمام زمانوں میں ہر گروہ، امت اور مذہب میں اندوہ و غم اور اچانک مصیبت کے موقع پر معمول تھا۔ 1 تورات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسی نے چالیس دن تک روزہ رکھا۔ جیسا کہ لکھاہے: جب میں پہاڑ پر گیا تا کہ پتھر کی تختیاں یعنی وہ عہد والی تختیاں جو خدا نے تمہارے ساتھ منسلک کر دی ہیں حاصل کروں اس وقت میں پہاڑ میں چالیس راتیں رہا۔ وہاں میں نے نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا۔2 یہودی جب تو بہ کرتے اور رضائے الہی طلب کرتے تو روزہ رکھتے تھے: اکثر اوقات یہودی جب موقع پاتے کہ خدا کی بارگاہ میں عجز و انکساری اور تواضع کا اظہار کریں تو روزہ رکھتے تاکہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے روزہ اور توبہ کے ذریعے حضرت اقدس الہی کی رضا و خوشنودی حاصل کریں۔3 احتمال ہے کہ روزہ ”اعظم با کفارہ“ سال میں مخصوص ایک دن کے لئے ہو جس کا یہودیوں میں رواج تھا۔ البتہ وہ دوسرے موقتی روزے بھی تھے مثلا اور تسلیم کی بربادی کے وقت رکھا گیا روزہ و غیرہ۔ 4 جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہوتاہے حضرت عیسی نے بھی چالیس دن روزے رکھے: اس وقت عیسی قوت رو ح کے ساتھ بیابان میں لے جائے گئے تاکہ ابلیس انہیں آزمالے پس انہوں نے چالیس شب و روز روزہ رکھا اور وہ بھوکے رہے۔5 انجیل سےیہ بھی معلوم ہوتاہے کہ حضرت عیسی کے بعد حواریینروزہ رکھتے تھے جیسا کہ انجیل میں ہے: انہوں نے اس سے کہا کہ کیا بات ہے کہ یحیی کے شاگرد ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں اور دعاء کرتے رہتے ہیں جب کہ تہارے شاگرد ہمیشہ کھاتے پیتے رہتے ہیں لیکن ایک زمانہ آئے گا جب داماد ان میں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ اس وقت روزہ رکھیں گے۔ 6 کتاب مقدس میں یہ بھی ہے: اس بناء پر حواریین اور گذشتہ زمانے کے مومنین کی زندگی انکار لذات ، بے شمار زحمات اور روزہ داری سے بھری پڑی تھی۔7 1- قاموس کتاب مقدس، ص۴۲۷ 2- تورات، سفر تشینہ، فصل ۹، شمارہ ۹ 3- قاموس کتاب مقدس ص۴۲۸ 4- قاموس کتاب مقدس ، ص۴۲۸ 5- انجیل متی، باب ۴، شمارہ ۱و۲ 6- انجیل لوقا، باب ۵، شمارہ ۳۳۔۳۵ 7- قاموس کتاب مقدس ص ۴۲۸
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:183-185
روزے کے تربیتی و اجتماعی اثرات
روزے کے کئی جہات سے گوناگون مادی اور روحانی آثار ہیں۔ جو اس کے ذریعے وجود انسانی میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم اس کا اخلاقی پہلو اور تربیتی فلسفہ ہے۔ روح انسانی کو لطیف تر بنانا ارادہ انسانی کو قوی کرنا اور مزاج انسانی میں اعتدال پیدا کرنا روزے کے اہم فوائد ہیں سے ہے۔ رازے دار کے لئے ضروری ہے کہ حالت روزہ میں آب و غذا کی دستیابی کے باوجود اس کے قریب نہ جائے اور اسی طرح جنسی لذات سے چشم پوشی کرے اور عملی طور پر ثابت کرے کہ وہ جانوروں کی طرح کسی چراگاہ اور گھاس پھوس کی قید میں نہیں ہے۔ روح انسانی کو لطیف تر بنانا ارادہ انسانی کو قوی کرنا اور مزاج انسانی میں اعتدال پیدا کرنا روزے کہ اہم فوائد ہیں سے ہے۔ روزے دار کے لئے ضروری ہے کہ حالت روزہ میں اب و غذا لی دستیابی کے باوجود اس کے قریب نہ جائے اور اسی طرح جنسی لذات سے چشم پوشی کرے اور عملی پر ثابت کرے کہ وہ جانوروں کی طرح کسی چراگاہ اور گھاس پھوس کی قید میں نہیں ہے۔ سرکش نفس کی لگام اس کے قبضے میں ہے اور ہوا و ہوس اور شہوات و خواہشات اس کے کنڑول میں ہیں۔ حقیقت میں روزے کا سب سے بڑا فلسفہ یہی روحانی اور معنوی اثر ہے۔ وہ انسان کہ جس کے قبضے میں طرح طرح کی غذائیں اور مشروبات ہیں۔ جب اسے بھوک یا پیاس لگتی ہے وہ ان کے پیچھے جاتاہے۔ وہ درخت جو باغ کی دیوار کی پناہ میں نہر کے کنارے اگے ہوتے ہیں ناز پروردہ ہوتے ہیں۔ یہ حوادث کا مقابلہ بہت کم کرسکتے ہیں۔ ان میں باقی رہنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ اگر انہیں چند دن پانی نہ ملے تو پژمردہ ہوکر خشک ہوجائیں جب کہ وہ درخت جو پتھروں کے در میان پہاڑوں اور بیابانوں میں اگتے ہیں۔ ان کی شاخیں شروع سے سخت طوفانوں، تمازت آفتاب اور کڑاکے کی سردی کا مقابلہ کرنے کی عادی ہوتی ہیں اور طرح طرح کی محرومیت سے دست و گریباں رہتی ہیں۔ ایسے درخت ہمیشہ مضبوط ، سخت کوش اور سخت جان ہوتے ہیں۔ روزہ بھی انسان کی روح اور جان کے ساتھ یہی عمل کرتاہے۔ یہ وقتی پابندیوں کے ذریعے انسان میں قوت مدافعت اور قوت ارادی پیدا کرتاہے اور اسے سخت حوادث کے مقابلے کی طاقت بخشتاہے۔ چونکہ روزہ سرکش طبائع و جذبات پر کنڑول کرتاہے لہذا اس کے ذریعے انسان کے دل پر نور ضباء کی بارش ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ روزہ انسان کو عالم حیوانیت سے بلند کرکے فرشتوں کی صف میں لے جا کھڑا کرتاہے۔ لعلکم تتقون (ہوسکتا ہے تم پرہیزگار بن جاؤ) ان تمام مطالب کی طرف اشارہ ہے۔ مشہور حدیث ہے: الصوم جنة من النار روزہ جہنم آگ سے بچانے کے لئے ڈھال ہے۔ ۱ ایک اور حدیث حضرت علی سے مردی ہے کہ پیغمبر اسلام سے پوچھا گیا کہ ہم کون سا کام کریں جس کی وجہ سے شیطان ہم سے دور رہے ۔ آپ نے فرمایا: الصوم یود وجہہ و الصدقہ تکسر ظہرہ و الحب فی اللہ و المواظبة علی العمل الصالح یقطع دابرہ و الاستغفار یقطع و تینہ روزہ شیطان کا منہ کالا کردیتاہے۔ راہ خدا میں خرچ کرنے سے اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ خدا کے لئے محبت اور دوستی نیز عمل صالح کی پابندی سے اس کی دم کٹ جاتی ہے اور استغفار سے اس کی رگ دل قطع ہوجاتی ہے۔۱ ۱ بحار الانوار، ج۹۶، ص۲۵۵ نہج البلاغہ میں عبادات کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت امیر المؤمنین روزے کے بارے میں فرماتے ہیں: و الصیام ابتلاء لا خلاص الخلق اللہ تعالی نے روزے کو شریعت میں اس لئے شامل کیاتا کہ لوگوں میں روح اخلاص کی پرورش ہو۔۲ پیغمبر اکرم سے ایک اور حدیث مردی ہے ۔ آپ نے فرمایا: ان للجنة بابا یدعی الریان لا یدخل منہا الا الصائمون بہشت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ہے ریان (یعنی۔ سیراب کرنے والا) اس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل جنت ہوں گے۔ حضرت صدوق مرحوم نے معافی الاخبار میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھاہے کہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے اس دروازے کا انتخاب اس بناء پرہے کہ روزہ دار کو چونکہ زیادہ تکلیف پیاس کی وجہ سے ہوتی ہے جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوگا تو وہ ایسا سیراب ہوگا کہ اسے پھر کبھی بھی تشنگی کا احساس نہ ہوگا۔۳ (!!) روزے کے معاشرتی اثرات: باقی رہا روزے کا اجتماعی اور معاشرتی اثر تو وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ روزہ انسانی معاشرے کے لئے ایک درس مساوات ہے۔ کیونکہ اس مذہبی فریضے کی انجام دہی سے صاحب ثروت لوگ بھوکوں اور معاشرے کی محروم افراد کی کیفیت کا احساس کرسکیں گے اور دوسری طرف شب و روز کی غذا میں بحث کرکے ان کی مدد کے لئے جلدی کریں گے ۔ البتہ ممکن ہے بھوکے اور محروم لوگوں کی توصیف کرکے خداوند عالم صاحب قدرت لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہو اور اگر یہ معاملہ حسی اور عینی پہلو اختیار کرلے تو اس کا دوسرا اثر ہو۔ روزہ اس اہم اجتماعی موضوع کو حسی رنگ دیتاہے۔ ایک مشہور حدیث میں امام صادق سے منقول ہے کہ ہشام بن حکم نے روزے کی علت اور سبب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: انما فرض اللہ الصیام یستوی بہ الغنی و الفقیر ذلک ان الغنی لم یکن لیجد مس الجوع فریحم الفقیر و ان الغنی کلما اراد شیئا قدر علیہ فاراد اللہ تعالی ان یسوی بین خلقہ و ان یذیق الغنی مس الجوع و الالم لیرق علی الضعیف و یرحم الجائع۔ روزہ اس لئے واجب ہواہے کہ فقیر اور غنی کے در میان مساوات قائم ہوجائے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ غنی بھی بھوک کا مزہ چکھ لے اور فقیر کا حق ادا کرے کیونکہ مالدار عموما جو کچھ چاہتے ہیں ان کے لئے فراہم ہوتاہے۔ خدا چاہتاہے کہ اس کے بندوں کے در میان مساوات ہو اور مالداروں کو بھی بھوک او درد ورنج کا ذائقہ چکھائے تاکہ وہ کمزور اور بھوکے افراد پر رحم کریں۔4 (!!!) روزے کے طبی اثرات: طب کی جدید اور قدیم تحقیقات کی روشنی میں امساک دکھانے پینے سے پرہیز ) بہت سی بیماریوں کے علاج کے لئے معجزانہ اثر رکھتاہے جو قابل انکار نہیں۔ شاید ہی کوئی حکیم ہو جس نے اپنی مشروح تالیفات اور تصنیفات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ نہ کیا ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سی بیماریاں زیادہ کھانے سے پیدا ہوتی ہیں۔ چونکہ مواد اضافی بدن میں جذب نہیں ہوتا جس سے مزاحم اور مجتمع چربیاں پیدا ہوتی ہیں یا یہ چربی اور خون میں اضافی شو گرکا باعث بنتی ہے۔ عضلات کا یہ اضافی مواد در حقیقت بدن میں ایک متعفن بیماری کے جراثیم کی پرورش کے لئے گندگی کا ڈھیر بن جاتاہے۔ ایسے میں ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین حل یہ ہے کہ گندگی کے ان ڈھیروں کو امساک اور روزے کے ذریعے ختم کیاجائے۔ روزہ ان اضافی غلاظتوں اور بدن میں جذب نہ ہونے والے مواد کو جلادیتاہے۔ در حقیقت روزہ بدن کو صفائی شدہ مکان بنادیتاہے۔ علاوہ ازیں روزے سے معدے کو ایک نمایاں آرام ملتاہے اور اس سے ہا ضمے کی مشینری کی سروس ہوجاتی ہے ۔ چونکہ یہ بدن انسانی کی حساس ترین مشینری ہے جو سارا سال کام کرتی رہتی ہے۔ لہذا اس کے لئے ایسا آرام بہت ضروری ہے۔ یہ واضح ہے کہ حکم اسلامی کی روسے روزہ دار کو اجازت نہیں کہ وہ سحری اور افطاری کی غذا میں افراط اور زیادتی سے کام لے ۔ یہ اس لئے ہے تاکہ اس حفظان صحت اور علاج سے مکمل نتیجہ حاصل کیاجاسکے ورنہ ممکن ہے کہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ کیا جاسکے۔ ایک روسی دانشور الکسی سوفرین لکھتاہے: روزہ ان بیماریوں کے علاج کے لئے خاص طور پر مفید ہے: خون کی کمی، انتڑیوں کی کمزوری، التہاب زائدہ 5 (appendicitis) خارجی و داخلی قدیم پھوڑے ، تپ دق (t.b )، اسکلیر وز، نقرس ۲، استسقار،۳جوڑوں کا درد۴، نورا ستنی، عرق النسار۵، خراز (جلد کا گرنا) امراض چشم، شوگر، امراض جلد، امراض گروہ، امراض جگر اور دیگر بیماریاں۔ امساک اور روزے کے ذریعے علاج صرف مندرجہ بالا بیماریوں سے مخصوص نہیں بلکہ وہ بیماریاں جو بدن انسانی کے اصول سے مربوط ہیں اور جسم کے خلیوں سے چمٹی ہوئی ہیں مثلا سرطان، سفلین اور طاعون کے لئے بھی یہ شفا بخش ہے۔ ایک مشہور حدیث پیغمبر اکرم سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا: صوموا تصحوا (روزہ رکھو تا کہ صحت مند رہو پیغمبر اکرم سے ایک اور حدیث مردی ہے جس میں آپ نے فرمایا: المعدة بیت کل داء و الحمیة راس کل دوائ معدہ ہر بیماری کا گھر ہے اور امساک وفاقہ اعلی ترین دوا ہے۔ ۱ بحار الانوار، ج۹۶، ص۲۵۶ ۲ نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر ۲۵۲ ۳ بحار الانوار، ج۹۶، ص۲۵۲ 4- وسائل الشیعہ، ج۷، باب اول، کتاب سوم، ص۳ 5- ایک مرض جس میں اندھی آنت سوج جاتی ہے اور اس میں سوزش ہوتی ہے۔ (مترجم)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:183-185
روزہ تقوی کا سرچشمہ ہے
روزہ تقوی کا سرچشمہ ہے: چند اہم اسلامی احکام کے بیان کے بعد زیر نظر آیات میں ایک اور حکم بیان کیاگیاہے جو چند اہم ترین اسلامی عبادات میں شمار ہوتاہے اور وہ روزہ ہے۔ اسی تاکید سے ارشاد ہوتاہے: اے ایمان والو! روزہ تمہارے لئے اس طرح سے لکھ دیا گیاہے جس طرح تم سے پہلے کی امتوں کے لئے لکھا گیاتھا ( یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) ساتھ ہی اس انسان ساز اور تربیت آفرین عبادت کا فلسفہ چھوٹے سے پر معنی جملے میں یوں بیان کرتاہے: ہوسکتا ہے تم پرہیزگار بن جاؤ (لعلکم تتقون)۔ جی ہاں۔ جیسا کہ اس کی تشریح میں آگے بیان کیاجائے گا کہ روزہ روح تقوی اور پرہیزگاروں کی تربیت کے لئے تمام جہات سے ایک مؤثر عامل ہے۔ اس عبادت کی انجام دہی چونکہ مادی لذائد سے محرومیت اور مشکلات سے وابستہ ہے۔ خصوصا گرمیوں میں یہ زیادہ مشکل ہے اس لئے روح انسانی کو مائل کرنے اور اس حکم کی انجام دہی پرآمادہ کرنے کے لئے مندرجہ بالا آیات میں مختلف تعبیرات کو استعمال کیاگیاہے۔ پہلے ”یا ایہا الذین امنوا“ سے خطاب کیاگیاہے۔ اس کے بعد یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ روزہ تم ہی سے مخصوص نہیں بلکہ گذشتہ امتوں میں بھی تھا اور آخر میں اس کا فلسفہ بیان کیاگیا ہے جس کے مطابق اس پرمنفعت خدائی فریضہ کے اثرات سو فیصد خود انسان کے فائدے میں ہیں اس طرح اسے ایک پسندیدہ اور خوشگوار موضوع بنادیاگیاہے۔ ایک حدیث میں امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: لذة ما فی النداء ازال تعب العبادة و العناء۔ یعنی۔یا ایہا الذین امنوا کے خطاب کی لذت نے اس عبادت کی تکان ، سختی اور مشقت کو ختم کردیاہے۔۱ روزے کی سنگینی اور مشکل میں کمی کے لئے بعد کی آیت میں چند احکام اور بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد فرمایا: چند گنے چن روزہ رکھو (ایاما معدوداة) ایسا نہیں کہ تم پورا سال روزہ رکھنے پر مجبور ہو یا یہ سال کا کوئی بڑا حصہ ہے بلکہ یہ تو سال کے ایک مختصر سے حصے میں تمہیں مشغول رکھتاہے۔ دوسری بات جو اس آیت میں ہے یہ ہے کہ تم میں سے جو افراد بیمار ہیں یا مسافر ہیں کہ جن کے لئے روزہ باعث مشقت و زحمت ہے انہیں اس حکم میں رعایت دی گئی ہے کہ وہ ان دنوں کے علاوہ دوسرے دنوں میں روزہ رکھیں (سفر ختم ہوجانے اور بیماری سے صحت یابی کے بعد) (فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر)۔ تیسری بات یہ کہ جنہیں روزہ رکھنے میں انتہائی زحمت و تکلیف ہوتی ہے (مثلا بوڑھے مرد ، بوڑھی عورتیں اور دائمی مریض جن کے تندرست ہونے کی امید نہیں) ان کے لئے ضروری نہیں کہ وہ روزہ رکھیں، بلکہ اس کے بجائے کفارہ ادا کرنے کے لئے مسکین کو کھانا کھلادیں (و علی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین)۲ جو شخص اس زیادہ راہ خدا میں کھانا کھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے (فمن تطوع خیرا فہو خیر لہ)۔3 آیت کے آخر میں اس حقیقت کو واضح کیاگیاہے کہ روزے کا تمہیں ہی فائدہ پہنچے گا: اور روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو (و ان تصوموا خیروہ لکم ان کنتم تعلمون)۔ بعض چاہتے ہیں کہ اس جملے کو اس امر کی دلیل قرار دیں کہ روزہ ابتداء میں واجبتخییر تھا۔ مسلمانوں کہ یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ روزہ رکھیں یا اس کی بجائے فدیہ دے دیں تا کہ آہستہ آہستہ روزے کی عادت پڑجائے۔ بعد ازاں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور روزے نے وجوب عینی کی شکل اختیار کرلی۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت روزے کے فلسفے کی تاکید کے طور پرآئی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ عبادت بھی دوسری عبادات کی طرح خدا کے جاہ و جلال میں کوئی اضافہ نہیں کرتی بلکہ اس کا تمام فائدہ خود انسانوں کو ہے۔ اس کی شاہد وہ تعبیرات ہیں جو قرآن کی دیگر آیات میں نظر آتی ہیں۔ مثلا: ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون یہ تمہارے لئے ہی بہتر ہے اگر تم جان سکو۔ (جمعہ ۔۶) یہ آیت نماز جمعہ کے وجوب عینی حکم کے بعد (اجتماع شرائط کی صورت میں) آئی ہے۔ سورہ عنکبوت کی آیت ۱۶ میں ہے: وَإِبْرَاہِیمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ اعْبُدُوا اللهَ وَاتَّقُوہُ ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُون اور جب ابراہیم نے بت پرستوں کی طرف رخ کرکے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جان لو۔ اس سے واضح ہوجاتاہے کہ ”ان تصوموا خیر لکم“ سب روزہ داروں کے لئے خطاب ہے نہ کہ کسی خاص طبقے کے لئے ۔ زیر نظر آخری آیت روزے کے زمانے، اس کے کچھ احکام اور فلسفے کو بیان کرتی ہے۔ فرمایا: وہ چند گنے چنے دن جن میں روزہ رکھنا ہے ماہ رمضان کے ہیں (شہر رمضان) وہی مہینہ جس میں قرآن نازل ہواہے (الذی انزل فیہ القرآن)۔ وہی قرآن جو لوگوں کی ہدایت کا سبب ہے جو ہدایت کی نشانیاں اور واضح دلیلیں لئے ہوئے ہے اور جو حق و باطل کے امتیاز اور ان کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کا معیار رکھتاہے (ہدی للناس و بینات من الہدی و الفرقان)۔ اس کے بعد مسافروں اور بیماروں کے بارے میں روزے کے حکم کو دوبارہ تاکیدا بیان کیاگیاہے: جو لوگ ماہ رمضان میں حاضر ہوں انہیں تو روزہ رکھنا ہوگا مگر جو مسافر یا بیمار ہوں وہ اس کے بدلے بعد کے دنوں میں روزہ رکھیں (فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ و من کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر)۔4 مسافر اور بیمار کے حکم کا تکرار اس سے پہلی اور اس آیت میں ممکن ہے اس وجہ سے ہو کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ مطلقا روزہ نہ رکھنا کوئی اچھا کام نہیں اور ان کا اصرار ہے کہ بیماری اور سفر میں بھی روزہ رکھاجائے لہذا قرآن اس حکم کے تکرار سے لوگوں کہ یہ سمجھانا چاہتاہے کہ جیسے صحیح و سالم افراد کے لئے روزہ رکھنا ایک فریضہ الہی ہے ایسے ہے بیماروں اور مسافروں کے لئے افطار کرنا بھی فرمان الہی ہے جس کی مخالفت گناہ ہے۔ آیت کے آخر میں دوبارہ روزے کی تشریح اور فلسفے کا بیان ہے۔ فرمایا: خدا تمہارے لئے راحت و آرا م اور آسانی چاہتا ہے وہ تمہارے لئے زحمت و تکلیف اور تنگی نہیں چاہتا: (یرید اللہ بکم الیسر و لا یرید بکم العسر) یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ روزہ رکھنا اگرچہ ظاہرا سختی و پابندی ہے لیکن انجام کار انسان کے لئے راحت و آسائش اور آرام کا باعث ہے۔ ممکن ہے یہ جملہ اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو کہ احکام الہی ستمگر اور ظالم حاکموں کے سے نہیں جنہیں بلا مشروط بجالانے کے لئے کہاجاتاہے لیکن جہاں انسان کے لئے کوئی حکم بجالانا سخت مشقت کا باعث ہو وہاں حکم الہی کے تحت انسانی ذمہ داری کو سہل تر کردیاجاتاہے اسی لئے روزے کا حکم اپنی پوری اہمیت کے با وجود بیماروں اور مسافروں کے لئے اٹھادیا گیاہے۔ مزید ارشاد ہوتاہے: غرض اور مقصد یہ ہے کہ تم ان روزوں کی تعداد کو مکمل کرو (و لتکملو العدة) یعنی ہر صحیح و سالم انسان پر لازم ہے کہ وہ سال میں ایک ماہ کے روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے جسم و روح کی پرورش کے لئے ضروری ہے۔ اسی بناء پر ماہ رمضان میں اگر تم بیمار تھے یا سفر میں تھے تو ضروری ہے کہ اتنے ہی دنوں کی بعد میں قضا کرو تا کہ وہ تعداد مکمل ہوجائے یہاں تک کہ عورتوں پرایام حیض کی نماز کی قضا تو معاف ہے لیکن روزے کی قضا معاف نہیں ہے۔ آخری جملے میں ارشاد ہوتاہے: تا کہ اس بناء پر کہ خدانے تمہاری ہدایت کی ہے تم اس کی بزرگی بیان کرو اورشاید اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو (و التکبر و اللہ علی ما ہدکم و لعلکم تشکرون)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ خدا کی بزرگی بیان کرنے کے مسئلے کا ذکر بطور قاطع ہے (لتکبروا اللہ علی ما ہدکم) جب کہ شکرگذاری کے لئے لعل (شاید) کہا گیاہے۔ تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے اس لیے ہو کہ اس عبادت کی انجام دہی بہرحال مقام پروردگار کی تعظیم ہے لیکن شکر کا مفہوم ہے نعمات الہی کو ان کی جگہ پر صرف کرنا اور روزے کے عملی آثار اور فلسفوں سے فائدہ حاصل کرنا۔ اس کی کئی ایک شرایط ہیں جب تک وہ پوری نہ ہوں شکر انجام نہیں پاتا اور ان میں سے زیادہ اہم حقیقت روزہ کی پہچان ، اس کے فلسفوں سے آگاہی اور خلوص کامل ہے۔ ۱ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ۲ ”یطیقونہ“ کا مادہ ہے”طوق“ جس کا اصلی معنی ہے وہ حلقہ جو گلے میں ڈالتے ہیں یا جو طبعی طور پر گردن میں ہوتاہے (جیسے رنگدار حلقہ جو بعض پرندوں کے گلے میں ہوتاہے) بعد ازاں یہ لفظ انتہائی توانائی اور قوت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یطیقونہ کی آخری ضمیر روزے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس طرح اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ جنہیں روزے کے لئے انتہائی قوت اور توانائی خرچ کرنا پڑے اور روزہ رکھنے میں انہیں سخت زحمت اٹھانا پڑے جیسا کہ بڑے بوڑھے اور نا قابل علاج بیمار ہیں، روزہ ان کے لئے معاف ہے اور وہ اس کی جگہ صرف فدیہ ادا کریں۔ لیکن بیمار اگر تندرست ہوجائیں تو ان کی ذمہ داری ہے کہ قضا روزہ رکھیں ۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یطیقونہ کا معنی ہے کہ جو گذشتہ زمانے میں قوت و توانائی رکھتے تھے (کا نوا یطیقونہ) اور اب طاقت نہیں رکھتے (بعض روایات میں بھی یہ معنی کیاگیاہے)۔ بہر حال مندرجہ بالا حکم منسوخ نہیں ہو اور آج بھی پوری طاقت سے باقی ہے اور یہ جو بعض کہتے ہیں کہ پہلے روزہ واجب تخییری تھا اور لوگوں کو اختیار دیا گیاتھا کہ وہ روزہ رکھیں یا فدیہ اور کریں، آیت میں موجود قرائن اس کی تائید نہیں کرتے اور اس پر کوئی واضح دلیل بھی موجود نہیں ہے۔ 3- ”من تطوع خیرا“ کہ بعض نے مستحبی روزوں کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔ بعض دوسرے کہتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ روزے کی اہمیت اور فلسفے کی طرف توجہ رکھتے ہوئے چاہئیے کہ رغبت کے ساتھ روزہ رکھاجائے نہ کہ اکراہ و جبر سے روزہ رکھاجائے۔ 4- بعض نے ”فمن شہد منکم الشہر“ کی رویت ہلال کے ساتھ تفسیر کی ہے یعنی جو چاند دیکھے اس پر روزہ واجب ہے لیکن یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے حق وہی ہے جو مندرجہ بالا سطور میں کہاگیاہے اور جو قبل و بعد کے جملوں سے بھی ہم آہنگ ہے اور روایات اسلامی کے بھی مطابق ہے