يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
O you who have faith! Eat of the good things We have provided you, and thank Allah, if it is Him that you worship.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:172
[Pooya/Ali Commentary 2:172] The Holy Prophet and the holy Imams have enjoined to say bismillah before eating, and to say Alhamdulillah after eating. In this way eating, an act of unification at the physical level, becomes a function of devotion. The state of gratitude to Allah is bound to increase love for Allah, and thus increases the quality of worship and devotion.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:172-173
بیمار کو خون دینا
شاید وضاحت کی ضرورت نہ ہو کہ مندرجہ بالا آیت میں خون کو حرام قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ خون پینا حرام ہے لہذا اس سے مناسب فائدہ حاصل کرنے میں کوئی اشکال نہیں مثلا کسی مجروح یا بیمار کو موت سے بچانے کے لئے خون دینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ان مقاصد کے لئے تو خو ن کی خرید و فروخت کی حرمت کے لئے بھی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کیونکہ یہ تو عقلی طور پر صحیح ہے اور عمومی احتیاج کے موقع پر فائدہ اٹھانے کے ضمن میں آتاہے۔ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ الْمَیْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِیرِ وَمَا اٴُہِلَّ بِہِ لِغَیْرِ اللهِ فَمَنْ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلاَعَادٍ فَلاَإِثْمَ عَلَیْہِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ (۱۷۳) إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ الْکِتَابِ وَیَشْتَرُونَ بِہِ ثَمَنًا قَلِیلًا اٴُوْلَئِکَ مَا یَاٴْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ إِلاَّ النَّارَ وَلاَیُکَلِّمُہُمْ اللهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلاَیُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اٴَلِیم ٌ (۱۷۴) اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوْا الضَّلاَلَةَ بِالْہُدَی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا اٴَصْبَرَہُمْ عَلَی النَّارِ (۱۷۵) ذَلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ نَزَّلَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ الَّذِینَ اخْتَلَفُوا فِی الْکِتَابِ لَفِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ ترجمہ ۱۷۴۔ وہ لوگ جو اسے چھپاتے ہیں جسے خدانے کتاب میں نازل کیاہے اور وہ اسے تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔ سوائے آگ کے کچھ نہیں کماتے (یہ تحفے اور اموال جو وہ اس ذریعے سے حاصل کرتے ہیں در حقیقت ایک جلانے والی آگ ہے) اور قیامت کے دن خدا ان سے بات نہیں کرے گا۔ نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ ۱۷۵۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت اور عذاب کو بخشش کی بجائے خرید لیاہے۔ عذاب الہی کے مقابلے میں واقعا یہ کتنے بے پروا ہی اور سرد مہری کا شکار ہیں۔ ۱۷۶۔یہ (سب کچھ) اس لئے ہے کہ خدانے (آسمانی) کتاب کو حق (کی نشانیوں اور واضح دلائل ) کے ساتھ نازل کیا ہے اور جو اس میں اختلاف کرتے ہیں (اور حق کو چھپاتے ہیں اور اس میں تحریف کرکے اختلاف پیدا کرتے ہیں ) گہرےشگاف (اور پراگندگی) میں پڑے ہیں۔ شان نزول تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیات اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ بیشتر مفسرین کا کہناہے کہ یہ آیات خاص طور پر ان علماء یہود کے بارے میں ہیں جو پیغمبر اسلام کے ظہور سے پیشتر لوگوں کو اپنی کتابوں میں سے آپ کی صفات اور نشانیاں بیان کرتے تھے لیکن ظہور پیغمبر کے بعد جب انہوں نے لوگوں کو آپ کی طرف مائل و راغب ہوتے ہوئے دیکھا تو خود فزوہ ہوگئے کہ اگر انہوں نے اپنی روش کو برقرار رکھا تو ان کے منافع خطرے میں پڑجائیں گے اور وہ تحفے اور دعوتیں جو انہیں مہیا ہیں ختم ہوجائیں گی تو وہ پیغمبر کے وہ اوصاف جو تورات میں نازل ہوچکے تھے چھپانے لگے۔ اس پرمندرجہ بالا آیت نازل ہوئیں اور ان کی سخت مذمت کی گئی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:172-173
تکرار و تاکید
جن چار چیزوں کی حرمت کا ذکر یہاں کیاگیاہے قرآن میں چار مقامات پر اسی طرح آیا ہے۔ دو مرتبہ مکہ میں (انعام ۔۱۴۵ اور نحل ۔۱۱۵) اور دو مرتبہ مدینہ میں (بقرہ ۱۷۳ اور مائدہ ۳) یہ حکم نازل ہوا۔ یوں لگتاہے کہ پہلی مرتبہ اوائل بعثت کا زمانہ تھا جب ان کی حرمت کی خبردی گئی۔ دوسری مرتبہ پیغمبر کے مکہ میں قیام کے آخری دن تھے۔ تیسرے مرتبہ ہجرت مدینہ کے ابتدائی ایام تھے اور چوتھی دفعہ پیغمبر کی عمر کے آخری دن تھے کہ سورہ مائدہ میں اسے بیان کیاگیا جو قرآن کی آخری سورتوں میں سے ہے۔ نزول آیات کا یہ انداز جو بے نظیر یا کم نظیر ہے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہے اور ان چیزوں میں موجود بہت زیادہ بدنی اور روحانی خطرات کی وجہ سے ہے اور اس بناء پر بھی کہ لوگ ان کے کھانے میں زیادہ مبتلا تھے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:172-173
حرام گوشت کی تحریم کا فلسفہ
اس میں شک نہیں کہ زیر نظر آیت میں جو غذائیں حرام قرار دی گئی ہیں۔ وہ دیگر خدائی محرمات کی طرح ایک خاص فلسفے کی حامل ہیں۔ انسانی جسم و جان اور اس کی کیفیت اور وضع کی تمام تر خصوصیات کو پیش نظر رکھ کر انہیں حرام قرار دیاگیاہے۔ روایات اسلامی میں ان میں سے ہر ایک کے نقصانات اور حرمت کے مضرات کو بھی تفصیل سے بیان کیاگیاہے نیز علوم انسانی کی پیش رفت نے بھی ان سے پردہ اٹھایاہے۔ کتاب کافی میں مردار کے گوشت کے متعلق امام صادق سے مروی ہے: اما المیتة فانہ لم ینل منہا احد الاضعف بدنہ و ذہبت قوتہ و انقطع نسلہ و لا یموت اکل المیتة الافجاة (یہ فرمانے کے بعد کہ یہ تمام احکام مصالح بشر کے ما تحت ہیں امام فرماتے ہیں) باقی رہا مردار کا گوشت تو جو کوئی بھی اسے کھائے گا اس کا بدن کمزور ہوگا اور تکالیف میں مبتلا ہوگا۔ اس کی قوت و طاقت ختم ہوجائے گی اور نسل منقطع ہوجائے گی اور جو ہمیشہ مردار کا گوشت کھاتارہے گا سکتے کے عالم میں مرے گا۔ ۱ ممکن ہے یہ نقصانات اس لئے ہوں کہ مردار سے غذا ہضم کرنے کا نظام صحیح خون نہیں بنا سکتا۔ علاوہ ازیں مردار طرح طرح کے جراثیم کا مرکز ہوتاہے اسلام نے نہ صرف مردار گوشت کو حرام کہاہے بلکہ اسے نجس بھی قرار دیا ہے تا کہ مسلمان مکمل طور پراس سے دوررہیں۔ دوسری چیز جو آیت میں حرام قرار دی گئی ہے خون ہے (والدم)۔ خون کو استعمال کرنا جسم کے لئے بھی نقصان دہ اور اخلاقی طور پر بھی بد اثر ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ ایسے مختلف جراثیم کی پرورش کرتاہے جو پورے بدن میں داخل ہوکر انسانی خون پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے ہی اپنی کارگزاری کا مرکز بناتے ہیں۔ سفید رنگ کے گلبول ۲ جو ملک بدن کے محافظ ہیں ہمیشہ اس کے خون کے علاقے کی حفاظت کرتے رہتے ہیں تا کہ جراثیم اس حساس علاقے میں نہ پہنچنے پائیں کیونکہ یہ بدن کے تمام حصوں سے قریبی رابطہ رکھتاہے۔ خصوصا جب جریان خون رک جائے اور اصطلاح کے مطابق مرجائے تو سفید گلبول بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ اس وجہ سے جب جراثیم میدان خالی دیکھتے ہیں تو بڑی تیزی سے انڈے دیتے ہیں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کی تعداد میں بہت اضافہ ہوجاتاہے۔ لہذا اگر یہ کہاجائے کہ خون کا جریان رک جائے تو یہ انسان اور حیوان کے بدن کا غلیظ ترین حصہ ہوتاہے تو غلط نہ ہوگا۔ دوسری طرف آج علم غذا شناسی نے یہ ثابت کردیاہے کہ غذائیں غدودوں پر اثر انداز ہونے کے علاوہ انسانی نفسیات اور اخلاق پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں جب کہ خون انسان میں ہارمون پر اثر انداز ہوکر سنگدلی پیدا کرتاہے۔ یہ بات تو قدیم زمانے سے مسلمہ ہے کہ خونخواری انسان میں قساوت و سنگدلی پیدا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بات ضرب المثل ہوگئی ہے کہ سنگدل کو خونخوار کہتے ہیں اسی لئے ایک حدیث میں ہے۔ جو لوگ خون پیتے ہیں وہ اس قدر سنگدل ہوجاتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ اور اولاد تک کو قتل کرڈالیں۔۳ تیسری چیز جس کا کھانا آیت میں حرام قرار دیا گیاہے سور کا گوشت (و لحم الخنزیر) ہے۔ اہل یو رپ زیادہ تر خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں۔ ان کے لئے یہ گوشت بے غیرتی کا نشان بن گیاہے۔ یہ ایسا گھٹیا جانور ہے کہ علم جدید کی روشنی میں یہ ثابت ہوچکاہے کہ اس کا کھانا جنسی امور میں بے حیائی اور لا ابالی کا باعث ہے اور یہی اس کی نفسیاتی تاثیر ہے جو مشاہدے میں آچکی ہے۔ شریعت حضرت موسی میں بھی سوکر کا گوشت حرام تھا۔ موجودہ اناحیل میں گناہگاروں کو سور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ داستانوں میں سوکر کو مظہر شیطان کے عنوان سے متعارف کرایاگیاہے۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتاہے کہ سور غلیظ چیزیں کھاتاہے اور کبھی کبھی تو وہ اپنا ہی پاخانہ کھاجاتاہے۔ دوسری طرف یہ بھی سب پرواضح ہوچکاہے کہ اس پلید جانور میں دو قسم کے خطرناک جراثیم پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک کو تریشین (trichin) اور دوسرے کو کرم کدو کہتے ہیں۔ اس کے با وجود وہ اس کا گوشت کھانے پر مصر ہیں۔ صرف ایک تریشین (trichin) ہر ماہ پندرہ ہزار انڈے دیتاہے اور انسان میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتاہے مثلا خون کی کمی، سردرد، ایک مخصوص بخار، اسہال، دردرماتیسمی، اعصاب کا تناؤ، جسم میں خارش، بدن میں چربی کی کثرت، تھکن کا احساس، غذا چبانے اور نگلنے میں دشواری ، سانس کا رکنا و غیرہ۔ ایک کلو گوشت میںچالیس کروڑ تک نوزائیدہ تریشین (trichin) ہوسکتے ہیں۔ انہی وجوہ کے پیش نظر چند سال پیشتر حکومت روس نے اپنے ایک علاقے میں سور کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ جی ہاں۔ روشن بینی کے یہ احکام کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جن کے تازہ جلوے نمایاں ہوتے ہیں ہمیشہ رہنے والے دین اسلام ہی کا حصہ ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ آج کے جدید وسائل کے ذریعے ان تمام جراثیم کو مارا جاسکتاہے اور سور کا گوشت ان سے پاک کیا جاسکتاہے۔ لیکن صحت کے جدید وسائل کے ذریعے یا سور کے گوشت کو زیادہ حرارت دے کرپکانے کے ذریعے یہ کیڑے کاملا ختم بھی کردیئے جائیں تو بھی سور کے گوشت کا نقصان دہ اور مضر ہونا قابل انکار نہیں ہے کیونکہ بنیادی طور پریہ تو مسلم ہے کہ ہر جانور کا گوشت اس کی صفات کا حامل ہوتاہے اور غدودوں (glands) ار ہا رمونز (hormones)کے ذریعے کھانے والے اشخاص کے اخلاق پر اثر انداز ہوتاہے۔ لہذا ممکن ہے سورکھانے والے پر سور کی بے لگام جنسی صفات اور بے حیائی جو اس کے واضح خصوصیات میں سے ہے اثر انداز ہوجائے۔ مغربی ممالک میں جو شدید جنسی بے راہ روی پائی جاتی ہے اس کا ایک اہم سبب اس گندے جانور کے گوشت کا استعمال بھی ہوسکتاہے۔ چو تھی چیز جسے زیر نظر آیت میں حرام قراردیا گیاہے وہ گوشت ہیں جن پر ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام لیاجائے (و ما اہل بہ لغیر اللہ)۔وہ گوشت جنہیں کھانے سے منع کیاگیاہے ان میں ان جانوروں کا گوشت بھی شامل ہے جو زمانہ جاہلیت کی طرح غیر خدا و بتوں کے نام پر ذبح ہوتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا ذبح کے وقت خدا یا غیر خدا کا نام لینا بھی صحت و سلامتی کے نقطہ نظر سے جانور کے گوشت پر اثر انداز ہوتاہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ ضروری نہیں کہ خدا یا غیر خدا کا نام صحت کے نقطہ نظر سے گوشت پر اثر انداز ہو کیونکہ اسلام میں جن چیزوں کو حرام قرار دیا گیاہے اس کے مختلف پہلو ہیں۔ بعض اوقات کسی چیز کو صحت اور بدن کی حفاظت کے لئے کبھی تہذیب روح کے لئے اور کبھی نظام اجتماعی کے تحفظ کے لئے حرام قرار دیاجاتاہے۔ اسی طرح بتوں کے نام پر ذبح کیے جانے والے جانوروں کے گوشت کی حرمت در حقیقت معنوی، اخلاقی اور تربیتی پہلو سے ہے۔ ۱ وسائل الشیعہ، ج۱۶، ص۳۱ ۲ خون کے خیلے (Whiteblood cells)جو جراثیم کو بدن میں داخل ہونیے رکتے ہیں۔ (مترجم) ۳ وسائل شیعہ، ج۱۶، ص۳۱۰