وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ
When they are told, ‘Follow what Allah has sent down,’ they say, ‘No, We will follow what we have found our fathers following.’ What, even if their fathers neither exercised their reason nor were guided?!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:170
[Pooya/Ali Commentary 2:170] To blindly follow in the footsteps of one's forefathers or leaders, is to discard the sacred responsibility of seeking the truth. The fathers or those who came first before the true message was delivered through the Holy Prophet, were in senseless ignorance, and whoever follows their direction will be away from the guided path. The greatest barrier which the Holy Prophet broke was that of narrow-minded tribal despotism and nationalism. This verse strongly condemns blind following of those traditions of the ancestors which do not tally with sound reasoning and divine guidance.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:170-171
طیبات وخبائث
وہ کجرویاں جو جڑ پکڑچکی ہیں ان کی اصلاح کے لئے قرآن کا اسلوب ہے کہ وہ مختلف طرزوں اور طریقوں کی تاکید و تکرار سے استفادہ کرتاہے۔ ان آیات میں زمانہ جاہلیت میں مشرکین کی حرام کر دہ حلال غذاؤں کے بارے میں دوبارہ گفتگو کرتا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ اب روئے سخن مومنین کی طرف ہے جب کہ گذشتہ آیات میں تمام لوگ (یا ایھا الناس) مخاطب تھے۔ فرماتا ہے: اے ایمان والو! ان پاکیزہ نعمتوں میں سے میں نے تمہیں جو روزی دی ہے اسے کھاؤ (یا ایھا الذین امنوا کلوا من طیبت ما رزقنکم)۔اگر خدا ہی کی عبادت کرتے ہو تو پھر اس کا شکر ادا کرو (و اشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون) یہ پاک و حلال نعمتیں جو ممنوع نہیں ہیں، انسان کی فطرت سلیم کے موافق ہیں اور تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں تم ان سے کیوں استفادہ نہیں کرتے۔ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے یہ تمہیں قوت بخشتی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ تمہیں شکر و عبادت کے لئے پروردگار کی یاد دلاتی ہیں۔ اسی سورہ کی آیت ۱۶۸۔ یا ایھا الناس کلوا مما فی الارض۔ کا اگر اس آیت سے تقابل کیا جائے تو وہ لطیف نکتے سمجھ میں آتے ہیں۔ ۱۔ یہاں فرماتاہے: من طیبت ما رزقنکم (پاک غذاؤں میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے) جب کہ وہاں فرماتا سے: مما فی الارض (جو کچھ زمین میں ہے) یہ فرق گویا اس طرف اشارہ ہے کہ پاکیزہ نعمتیں اصل میں ایماندار افراد کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور بے ایمان لوگ ان کے صدقے میں روزی حاصل کرتے ہیں۔ جیسے باغبان پانی تو پھلوں اور پھولوں کے لئے دیتاہے لیکن کانٹے اور فضول گھاس پھوس بھی اس سے فائدہ اٹھالیتی ہے۔ ۲: عام لوگوں سے کہتاہے: کھاؤ و لیکن شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ جب کہ مومنین سے زیر نظر آیت میں کہتاہے: کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو۔ یعنی صرف نعمتوں سے سوء استفادہ سے نہیںروکتا بلکہ حسن استفادہ کی شرط عاید کرتاہے۔ در حقیقت عام لوگوں سے صرف یہ خواہش کی جاتی ہے کہ وہ گناہ نہ کریں لیکن صاحبان ایمان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان نعمتوں کا بہترین استعمال کریں۔ ممکن ہے پاکیزہ غذاؤں سے استفادہ کرنے کے بارے میں متعدد آیات میں بار بارکی کی تائید بعض لوگوں کے لئے تعجب کا باعث ہو لیکن اگر زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر نظر کی جائے تو یہ حیرت نہیں رہتی۔ ان لوگوں نے بیہودہ رسومات و آداب اختیار کررکھے تھے۔ بغیر کسی دلیل کے جائز نعمتوں کو اپنے اوپر حرام قرار دے رکھا تھا اور یہ بات ان میں اس طرح راسخ تھی کہ وہ ان امور کو وحی آسمانی کی طرح سمجھتے تھے بلکہ بعض اوقات تو بالصراحت ایسی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے۔ اس لئے قرآن نے اتنی تاکید و تکرار کی ہے کیونکہ قرآن یہ بے بنیاد اور بے ہودہ افکار ان کے ذہنوں سے پوری طرح نکال دینا چاہتاہے۔ طیب غذاؤں کا ذکر سب کو اس اسلامی حکم کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتاہے تاکہ وہ آلودہ اور نا پاک غذاؤں سے پرہیز کریں جن میں سور کا گوشت ،درندے، حشرات الارض اور نشہ آور چیزیں شامل ہیں اور یہ چیزیں اس زمانے کے لوگوں میں شدت و کثرت سے مروج تھیں۔ اس تفسیر کی چھٹی جلد میں سورہ اعراف کی آیہ ۲۲ کے ضمن میں مومنین کے لئے پاکیزہ غذاؤں اور معقول زینتوں سے استفادہ کرنے کے متعلق تفصیلی بحث آئے گی۔ اگلی آیت میں حرام اور ممنوع غذاؤں کو واضح کیاگیاہے اور اس سلسلے میں ہر طرح کے بہانوں کو ختم کردیاگیاہے۔ ارشاد ہوتاہے : خدانے مردار کا گوشت، خون، سورکا گوشت اور اس جانور کا گوشت جسے ذبح کرتے ہوئے غیر خدا کا نام لیاجائے حرام گیاہے (انما حرم علیکم المیتة و الدم و لحم الخنزیر و ما اہل بہ لغیر اللہ)۔ یہاں پر چار طرح کے گوشت اور خون کی حرمت کا حکم ہے۔ یاد ہے کہ خون ان لوگوں کو بہت مرغوب تھا۔ ان میں سے بعض چیزوں میں تو ظاہری نجاست ہے جیسے مردار، خون اور سور کا گوشت اور بعض میں معنوی نجاست ہے جیسے وہ قربانیاں جو وہ بتوں کے لئے کیاکرتے تھے۔ آیت سے بالعموم اور لفظ ”انما“ جو کلمہ حصر ہے اور اصطلاحی طور پر حصر اضافی ہے سے بالخصوص ظاہر ہوتاہے کہ مقصد تمام محرمات کو بیان کرنا نہیں بلکہ اصل غرض بدعات کی نفی ہے جو بعض حلال غذاؤں کو حرام قرار دے کر انہوں نے جاری کی ہوئی تھیں۔ بہ الفاظ دیگر انہوں نے کچھ پاکیزہ اور حلال گوشت خرافات اور توہمات کے نتیجے میں اپنے اوپر حرام قرار دیئے ہوئے تھے۔ لیکن غذا کی کمی کے وقت وہ مردار، سور کا گوشت اور خون تک استعمال کرلیتے تھے۔ قرآن انہیں بتاتاہے کہ یہ تمہارے لئے حرام ہیں نہ کہ وہ اور یہی حصر اضافی کا مطلب ہے)۔ بعض اوقات ایسی ضروریات پیش آتی ہیں کہ انسان بعض حرام چیزوں کے استعمال پر بھی مجبور ہوجاتاہے لہذا قرآن اس استثنائی پہلو کے بارے میں کہتاہے: لیکن جو شخص (اپنی جان کے تحفظ کے لئے) مجبور ہوکر انہیں کھالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ و ہ ظالم و متجاوز نہ ہو (فمن اضطر غیر باغ و لا عاد فلا اثم علیہ)۔ اس بناء پر کہ کہیں اضطرار کو بہانہ ہی نہ بنالیاجائے ان حرام غذاؤں کے کھانے میں زیادتی اور تجاوز روکنے کے لئے ”غیر باغ و لا عاد“ فرمایا گیاہے۔ یعنی یہ اجازت صرف، ان افراد کے لئے ہے جو ان محرمات کو لذت کے لئے نہ کھانا چاہیں اور اتناہی کھائیں جتنا حفظ جان کے لئے ضروری ہو اس سے تجاوز نہ کریں۔ باغ ٍاور عادٍ اصل میں باغی اور عادی ہیں۔ باغی کا مادہ ہے ”بغی“جس کا معنی ہے طلب کرنا یہاں مقصود طلب لذت ہے اور عادی متجاوز کے معنی میں ہے۔ ”غیر باغ و لا عاد“ کی ایک اور تفسیر بھی مذکور ہے جو پیش کر دہ مفہوم سے متضاد نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معانی آیت کے مفہوم میں شامل ہوں۔ وہ تفسیر یہ ہے کہ ”بغی“ کا ایک معنی ظلم و ستم بھی ہے۔ لہذا مقصد یہ ہوا کہ حرام گوشت کھانے کی اجازت فقط ان لوگوں کے لئے ہے جو ظلم و ستم اور گناہ کا سفر نہ کررہے ہوں (سفر کا ذکر اس لئے ہے کہ عموما اضطراری کیفیت اور مجبوری کی حالت سفر میں ہی در پیش ہوتی ہے) لہذا اگر سفر گناہ کے لئے ہو اور مسافر حالت مجبوری کو پہنچ جائے کہ حفظ جان کے لئے اسے حرام غذا کھانی پڑے تو اس کا گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں اگر چہ ان ستمگروں کے لئے بحکم عقل واجب ہے کہ جان کی حفاظت کے لئے ایسے حرام گوشت کھائیں لیکن یہ وجوب ان کی مسئولیت اور ذمہ داری میں کمی نہیں کرسکے گا۔ وہ روایات جو یہ کہتی ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو امام مسلمین کے خلاف اقدام نہ کریں در اصل ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں جیسے نماز مسافر کے احکام میں آیاہے کہ نماز قصر صرف ان مسافروں کے لئے ہے جن کا سفر حرام نہ ہو۔ اسی لئے ”غیر باغ و لا عاد“ سے روایات میں دونوں احکام کے لئے استدلال کیاگیاہے (یعنی نماز مسافر اور حالت اضطرار میں گوشت کھانے کے احکام)۔۱ ۱- امام صادق سے ایک روایت ہے کہ آپ نے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں فرمایا: باغی سے مراد وہ ہے جوشکار کے پیچھے سیر و تفریح کے طور پر (نہ کہ ضرورت و احتیاج کے لئے جائے اور عادی سے مراد چورہے۔ یہ دونوں حق نہیںکھتے کہ مردار کا گوشت کھائیں وہ ان کے لئے حرام ہے اور یہ نماز قصر بھی نہیں پڑھ سکتے۔ (وسائل الشیعہ، ج۵، ص۵۰۹) آیت کے آخر میں فرمایا: خدا غفور و رحیم ہے (ان اللہ غفور رحیم) وہی خدا جس نے یہ گوشت حرام قرار دیے ہیں اسی نے اپنی رحمت خاص سے شدید ضرورت کے وقت ان سے استفادہ کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:170-171
ینعق کا مفہوم
اس کا مادہ ”نعق“ ہے۔ اصل میں یہ کوے کی اس آواز کو کہتے ہیں جس میں شعور نہ ہو۔ جب کہ ”نغق“ کوے کی اس آواز کو کہتے ہیں جس میں شور و غل ہو اور کوا گردن بھی بلند کئے ہو۔۱ بعد ازاں ”نعق“ کے معنی میں وسعت پیدا ہوگئی۔ اب اس کے معنی وہ آوازیں ہیں جو جانوروں کے سامنے نکالی جائیں۔ واضح ہے کہ وہ تو کلمات کے مفاہیم سے آگاہ نہیں ہوتے اور اگر ان پر کبھی کچھ اثر ہوتاہے تو آواز اور الفاظ کی ادائیگی کے طرز طریقہ سے ہوتاہے۔ ۱۷۲۔ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَاشْکُرُوا لِلَّہِ إِنْ کُنتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ ۱۷۳۔ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ الْمَیْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِیرِ وَمَا اٴُہِلَّ بِہِ لِغَیْرِ اللهِ فَمَنْ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلاَعَادٍ فَلاَإِثْمَ عَلَیْہِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیم ترجمہ ۱۷۲۔ اے ایمان والو! جو رزق ہم نے تمہیں دیاہے اس میں سے پاک و پاکیزہ چیزیں (شوق سے) کھاؤ اور اگر خداہی کی عبادت کرتے ہو تو اس کا شکر بجالاؤ۔ ۱۷۳۔ اس نے تم پر مردہ جانور، خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر (ذبح کرتے وقت) غیر خدا کا نام لیاگیا ہو حرام کیا ہے۔ پس جو شخص مجبور ہوکر، اگر وہ سرکشی و زیادتی کرنے والا نہ ہو ان میں سے کچھ کھالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ تفسیر 1- مجمع البیان، آیت محل بحث کے ذیل میں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:170-171
پہچان کے آلات
اس میں شک نہیں کہ باہر کی دنیا سے انسان کا رابطہ آلات کا محتاج ہے جنہیں پہچان کے آلات کہتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ اہم آنکھ، کان اور زبان ہیں جو دیکھنے، سننے اور بولنے کے کام آتے ہیں۔ اس لئے مندرجہ بالا آیت میں آلات تمیز سے استفادہ نہ کرنے والوں کو بہرا، گونگا اور اندھا قرار دینے کے بعد فاء تفریح کا استعمال نتیجہ اخذ کرنے کے لئے کیاگیاہے اور بلافاصلہ ارشاد ہوتاہے: اسی لئے وہ کسی چیز کو نہیں سمجھتے۔ اس طرح قرآن گواہی دیتاہے کہ بنیادی طور پر علم و دانش کے اسباب آنکھ، کان اور زبان ہیں۔ آنکھ اور کان براہ راست ادراک کے لئے اور زبان دوسروں سے استفادہ کے لئے ہے۔ فلسفے میں بھی یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ غیر حسی علوم کا سرچشمہ بھی ابتدا علوم حسی ہیں۔ یہ ایک وسیع بحث ہے اور یہ مقام اس کی تشریح کا نہیں ہے۔ آلات تمیز کی نعمت کے بارے میں زیادہ وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی گیارھویں جلد میں سورہ نحل آیہ ۷۸ کے تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:170-171
آباء و اجداد کی اندھی تقلید
یہاں مشرکین کی کمزور منطق، حلال غذاؤں کی بلا جواز تحریم یا بطور کلی بت پرستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: جب ان سے کہاجاتاہے کہ جو کچھ خدانے نازل کیاہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہم نے جس طریقے پر اپنے آباؤ اجداد کو پایاہے اسی کی پیروی کریں گے (وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ اتَّبِعُوا مَا اٴَنزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا اٴَلْفَیْنَا عَلَیْہِ آبَائَنَا)۱۔ قرآن اس بیہودہ اور خرافاتی منطق کی فورا اخبر لیتاہے جو آباؤ اجداد کی اندھی تقلید ہے۔ ارشاد ہوتاہے: کیا ایسا نہیں کہ ان کے آباؤ اجداد کچھ نہیں سمجھتے تھے اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے ( اٴَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَیَعْقِلُونَ شَیْئًا وَلاَیَہْتَدُون)۔یعنی اگر وہ پڑھے لکھے اور ہدایت یافتہ لوگ ہوتے تو گنجائش تھی کہ ان کی پیروی کی جاتی لیکن یہ جاننے کے با وجود کہ وہ ان پڑھ، نادان اور تو ہم پرست تھے کیا تک ہے کہ ان کی پیروی کی جائے کیا یہ جاہل کی تقلید کا مصداق نہیں؟ قومیت اور قومی تعصبات کا مسئلہ بالخصوص جو آباؤ اجداد سے مربوط ہو مشرکین میں خصوصا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں عموما پہلے دن سے موجود تھا اور آج تک جاری و ساری ہے لیکن خدا پرست اور صاحبان ایمان اس منطق کو ردکردیتے ہیں۔ قرآن مجید نے بہت سے مواقع پر آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور تعصب کی شدید مذمت کی ہے اور اس نے آنکھ کان بند کرکے آباؤ اجداد کی تقلید کوردکردیاہے۔ اصولی طرو پر اپنی عقل و فکر کو دست بستہ بڑوں کے سپرد کردینے کا نتیجہ و قیانوسی رجعت پسندی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ عموما بعد والی نسلیں گذشتہ نسلوںسے زیادہ علم و آگہی رکھتی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ جاہلانہ طرز فکر آج بھی بہت سے افراد اور ملل پر حکمرانی کرتی ہے اور وہ لوگ اپنے بڑوں کی بتوں کی طرح پرستش کرتے، ہیں اور بعض خرافاتی آداب و رسوم کو فقط اس لئے بے چون و چرا مان لیتے ہیں کہ یہ بزرگوں کے آثار ہیں اور انہیں دلفریب لباس پہنا دیتے ہیں۔ مثلا قومیت کی حفاظت، تاریخی اسناد کا تحفظ و غیرہ ۔ یہ طرز فکر ایک نسل کی خرافات دوسری نسل میں منتقل ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔ البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آنے والی نسلیں گذرجانے والوں کے آداب و سنن کا تجزیہ کریں اور ان میں سے جو عقل و منطق کے مطابق ہوں ان کی بڑے احترام سے حفاظت کریں اور جوبے بنیاد خرافات وموہومات ہوں انہیں دور پھینک دیں۔ اس سے بہتر کو ن سا کام ہوسکتاہے اور ایسی تنقید گذشتہ لوگوں کے آداب و سنن میں ملی و تاریخی اہمیت کی حامل چیزوں کی حفاظت کہلانے کی اہل ہے لیکن ہر پہلو سے انہیں قبول کرلینا اور اندھی تقلید کرنا سوائے خرافات پرستی اور رجعت پسندی کے کچھ نہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کے متعلق مندرجہ بالا آیت میں خدا فرماتاہے: وہ نہ کسی چیز کو سمجھ سکتے تھے اور نہ ہدایت یافتہ تھے۔ یعنی دو قسم کے افراد کی پیروی کی جاسکتی ہے ایک وہ شخص جو علم اور عقل و دانش رکھتاہو، دوسرا وہ جو خود صاحب علم نہیں تا ہم اس نے کسی عالم کے علم و دانش کو قبول کرلیاہے۔ لیکن ان :کے آباؤ اجداد خود صاحبان علم و دانش تھے نہ ان کا کوئی ہادی و رہبر تھا اور یہ واضح ہے کہ نادان و جاہل جب نادان و جاہل کی تقلید کرتاہے تو یہی تقلید مخلوق کی بربادی کا باعث بنتی ہے۔ ایسی تقلید پر ہزار لعنت ہے۔ بعد کی آیت کہتی ہے کہ یہ گروہ ان واضح دلائل کے ہوتے ہوئے کیوں حق کی طرف نہیں پلٹتا اور کیوں گمراہی و کفر پر اصرار کرتاہے۔ فرمایا: اس کافر قوم کو ایمان لانے اور اندھی تقلید چھوڑنے کی دعوت دیتے ہوئے تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جو بھیڑوں اور دیگر جانوروں کو (خطرے سے نجات دلانے کہ لئے) آواز دیتاہے لیکن وہ ایک پکار اور صدا کے سوا کچھ نہیں سمجھ پاتے (وَمَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا کَمَثَلِ الَّذِی یَنْعِقُ بِمَا لاَیَسْمَعُ إِلاَّ دُعَاءً وَنِدَاءً)۔ واقعا وہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں جو خیرخواہ اور دلسوز چرواہے کہ دادو فریاد کو ایک نوائے سرد کے علاوہ نہیں سمجھتے جو ان کے لئے ایک وقتی تحریک ہی ہوسکتی ہے۔ آیت کے آخر میں تاکید اور مزید وضاحت کے لئے فرماتا ہے: وہ بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں کسی چیز کا ادراک نہیں کرسکتے (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لاَیَعْقِلُونَ) جبھی تو وہ اپنے آباؤ اجداد کی غلط رسموں اور خرافاتی طریقوں سے چمٹے ہوئے ہیں اور ہر اصلاحی دعوت سے انہوں نے منہ موڑ رکھاہے۔ 2 بعض مفسرین نے اس آیت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے۔ ان کے مطابق یہ اس طرح ہے: ان لوگوں کی مثال جو بتوں اور مصنوعی خدا کو پکارتے ہیں اس شخص کی سی ہے جو بے شعور جانوروں کو آواز دیتاہے۔ نہ وہ جانور چرواہے کی کسی بات کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ یہ مصنوعی معبود اپنے عبادت گذاروں کی باتیں سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بت بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے پہلی تفسیر کو منتخب کیاہے اور روایات اسلامی بھی اسی کی موید ہیں۔ ۱ -”الفینا“ کا معنی ہے ”ہم نے پایا اور پیروی کی۔ 2- اس تفسیر کے مطابق آیت تقدیر کی محتاج ہے۔ گویا اصل میں یوں ہے ”مثل الراعی للذین کفروا“ ۔ یعنی کافروں کو ایمان کی دعوت دینے والے کی مثال اس چرواہے کی سی ہے۔ اس بناء پر صم بکم عمی فہم لا یعقلون ایسے لوگوں کی توصیف ہے جنہوں نے ادراک کے تمام آلات عملا ضائع کردیئے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی آنکھ، کان اور زبان نہیں ہے بلکہ وہ اس سے چونکہ فائدہ نہیں اٹھاتے اس لئے گویا نہیں ہے۔