يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
O mankind! Eat of what is lawful and pure in the earth, and do not follow in Satan’s steps. Indeed, he is your manifest enemy.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:168
[Pooya/Ali Commentary 2:168] To determine what food is lawful or unlawful is a very intricate procedure. The injunction is to eat all that is suitable and good, and avoid causes of harm based on the satanic pattern. Unlawful are not only those things which Allah prohibits but even unforbidden things acquired unlawfully - by usurpation, by theft and cheating etcetera. Those who lay stress only on the apparent aspects of religion make a show of dislike to unlawful things but devour things unlawfully acquired (Ma-idah: 63). "Follow not the footsteps of Shaytan" means follow the way of Allah which has been shown by the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:168-176
1. God has commanded all to eat lawful and pure of natural products, verily without Divine knowledge of these, on cannot on their own initiative decide what is legal and what is otherwise. 2. This argument to say, we shall follow our predecessors’ texts, is prejudice of old and is being followed even now by those considered authorities on religion and politics without subjecting to reason or declaration thereof as misguidance. 3. He has fore warned those who accept bribes and misinterpret or tamper with the text and will lead to eternal Hell without expiation of sin.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:168-169
شیطان پرانا دشمن ہے
آیت کے آخر میں شیطان کو واضح دشمن قرار دیا گیاہے۔ یہ یا تو اس دشمنی کی بناپر ہے جو اسے پہلے دن سے حضرت آدم سے تھی جب کہ وہ حضرت آدم کو سجدہ کرنے کے حکم نافرمانی کرکے ہر چیز سے ہاتھ دھو بیٹھا یا اس لئے ہے کہ قتل، جارحیت اور تباہ کاری پر مبنی اس کے دعوتیں، کرتوت اور طریقے سب پر واضح ہیں اور سب جانتے ہیں کہ ایسے کام کسی دوست کی طرف سے نہیں ہوسکتے۔ ایسے کام جن کا نتیجہ بدبختی اور پشیمانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ان کی دعوت ایک خطرناک دشمن کی طرف سے ہی ہوسکتی ہے۔ یہ اس طرف بھی اشارہ ہوسکتاہے کہ اس نے انسا ن سے اپنی دشمنی کا صراحت سے اعلان کیاہے اور اس نے انسان کی دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہی اور اس نے کہہ رکھاہے کہ:لاغوینہم اجمعین مجھ سے ہوسکا تو سب کو گمراہ کردوں گا۔(حجر۔۳۹)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:168-169
تدریجی انحرافات
خطوات الشیطان (شیطان کی نقوش پا)۔ یہ الفاظ ایک دقیق تربیتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ کجرویاں اور تباہ کاریاں آہستہ آہستہ انسان میں نفوذ کرتی ہیں نہ کہ دفعتا۔ مثلا جب کوئی نوجوانوں منشیات، قمار اور شراب سے آلودہ ہوتاہے تو یہ مقام کئی مراحل کے بعد آتاہے۔ پہلے وہ ایک تماشائی کے طور پرایسے لوگوں میں شریک ہوتاہے اور اس کے انجام کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ دوسرے مرحلے پر وہ قمار بازی میں بغیر نفع یا نقصان کے شریک ہوتاہے اور اسی طرح منشیات سے تکان دور ہونے یا علاج کے بہانے استفادہ کرتاہے۔ تیسرے مرحلے میں وہ ان امور سے تھوڑا بہت فائدہ حاصل کرنے لگتاہے اور سوچتاہے کہ بہت جلد ان سے صرف نظر کرلوں گا۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے قدم اٹھتے ہیں۔ اور بالآخر وہ شخص ایک قمار باز اور نشے کا خطرناک عادی مجرم بن جاتاہے۔ یہ شیطانی وسوسے عموما آہستہ آہستہ، تدریجا ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ کام فقط ایک مشہور شیطان نہیں کرتا بلکہ شیطانی قوتیںاپنے غلط منصوبوں کو اسی طرح عملی جامہ پہناتی ہیں اسی لئے قرآن کہتاہے کہ پہلے قدم پرہی ہوش میں آکر شیطان کی ہمراہی سے کنارہ کش ہوجانا چاہئیے۔ احادیث اسلامی میں بے ہودہ خرافات اور بے منطق کاموں کو خطوات شیطان قرار دیا لیاہے مثلا ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ اپنے بیٹے کو خد ا کے لئے ذبح کرے گا۔ امام صادق نے فرمایا: ذلک من خطوات الشیطان یہ شیطانی اقدامات میں سے ہے۔ ۱ ایک اور روایت میں امام صادق سے مردی ہے، آپ نے فرمایا: جو شخص کسی ایسی چیز کو ترک کرنے کی قسم کھائے کہ جس کا انجام دینا بہتر ہے تو وہ ایسی قسم کی پرواہ نہ کرے اور اس کار خیر کو بجالائے۔ اس کا کفارہ بھی نہیں ہے اور وہ خطوات شیطان میں سے ہے۔۲ ایک اور حدیث امام باقر سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: کل یمین بغیر اللہ فہو من خطوت الشیطان جو قسم غیر خدا کی کھائی جائے وہ خطوات شیطان میں سے ہے۔۳ 1،۲، ۳ المیزان، ج۱، ص۴۶۸
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:168-169
اصل حلیت
یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ روئے زمین پر موجود تمام غذائیں بنیادی طور پر حلال ہیں اور حرام غذائیں صرف استثنائی پہلو رکھتی ہیں لہذا کسی چیز کا حرام ہونا دلیل کا محتاج ہے نہ کہ حلال ہونا۔ دوسری طرف قوانین تشریعی کو چونکہ قوانین سے ہم آہنگ ہونا چاہئیے لہذا آفرینش و خلقت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ زیادہ وضاحت سے یوں کہا جاسکتاہے کہ جو کچھ خدانے پیدا کیاہے یقینا اس میں کوئی فائدہ ہے اور وہ بندوں کے استفادہ کے لئے ہے لہذا اس کی کوئی وجہ نہیں کہ کوئی چیز بنیادی طور پر حرام ہو۔ لہذا ہر وہ غذا جس کی حرمت پر کوئی صحیح دلیل موجود نہ ہو جب تک وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر باعث فساد اور ضرر رساں نہ ہو اس آیت شریفہ کی روشنی میں حلال ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:168-169
شیطانی وسوسوں کی کیفیت
یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ آیت کہتی ہے شیطان تمہیں حکم دیتا ہے کہ برائیوں اور قباحتوں کی طرف جاؤ اور یہ بھی مسلم ہے کہ ”امر“ سے مراد شیطانی وسوسہ ہی ہے۔ حالانکہ برائی انجام دیتے وقت ہمیں اپنے وجود سے باہر سے کسی امراور تحریک کا احساس نہیں ہوتا اور ہمیں شیطان کے گمراہ کرنے کی کسی کوشش کا داخلی احساس نہیں ہوتا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جیسے لفظ وسوسہ سے ظاہر ہوتاہے یہ ایک طرح کی وجود انسانی میں شیطانی تاثیر ہے۔ جو مخفی اور نا معلوم قسم کی ہے۔ بعض آیات میں اسے ”وحی“ اور ”ایماء“ سے تعبیر کیاگیاہے۔ جیسا کہ سورہ انعام کی آیت ۱۲۱ میں ہے: و ان الشیطین لیرحون الی اولیئہم شیاطین اپنے دوستوں اور ان لوگوں کو جو ان کے احکام قبول کرنے پر آمادہ کرتے ہیں وحی کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ وحی مخفی اور مرموز آواز ہے جس کی تاثیرات اکثر نامعلوم طرح کی ہیں۔ البتہ انسان خدائی الہامات اور شیطانی وسوسوں میں واضح تمیز کرسکتاہے کیونکہ خدائی الہامات کی پہچان کی واضح علامت موجود ہے۔ اور وہ یہ کہ خدائی الہامات چونکہ انسان کی پاک فطرف اور اس کے جسم و روح کی ساخت سے آشناہیں اس لئے جب وہ دل میں پیدا ہوتے ہیں تو انبساط و نشاط کی کیفیت بخشتے ہیں جب کہ شیطانی وسوسے انسانی فطرت سے ہم آہنگ نہیں ہیں اس لئے جب وہ دل میں پیدا ہوتے ہیں اس وقت ایک طرح کی گھٹن، تکلیف اور سنگینی کا احساس پیدا ہوتاہے اگر انسان کے رجحا نات یہاں تک جا پہنچیں کہ برا کام انجام دیتے وقت اس میں یہ احساس پیدا نہ ہو تب بھی کام انجام دینے کے فورا بعد یہ احساس پیدا ہوجاتاہے۔ یہ ہے فرق شیطانی اور رحمانی الہامات کے در میان۔ ۱۷۰۔ وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ اتَّبِعُوا مَا اٴَنزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا اٴَلْفَیْنَا عَلَیْہِ آبَائَنَا اٴَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَیَعْقِلُونَ شَیْئًا وَلاَیَہْتَدُونَ ۱۷۱۔ وَمَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا کَمَثَلِ الَّذِی یَنْعِقُ بِمَا لاَیَسْمَعُ إِلاَّ دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لاَیَعْقِلُونَ ترجمہ ۱۷۰۔ جب انہیں کہاجاتاہے کہ جو کچھ خدا کی طرف سے نازل ہواہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں: ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پرہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایاہے۔ کیا ایسا نہیں کہ ان کے آباء و اجداد نہ کسی چیز کو سمجھتے ہیں اور نہ ہدایت یافتہ ہیں۔ ۱۷۱۔ کافروں کو دعوت دینے میں (تمہاری) مثال اس شخص کی سی ہے جو (بھیڑوں اور دیگر جانوروں کو خطرات سے بچانے کے لئے)آواز دیتاہے لیکن وہ صدا اور پکارکے سوا کچھ نہیں سنتے (اور اس کی بات کی حقیقت اور مفہوم کو نہیں سمجھ پاتے) وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں، اس لئے کچھ نہیں سمجھ سکتے۔