إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
Indeed in the creation of the heavens and the earth, and the alternation of night and day, and the ships that sail at sea with profit to men, and the water that Allah sends down from the sky—with which He revives the earth after its death, and scatters therein every kind of animal—and the changing of the winds, and the clouds disposed between the sky and the earth, there are surely signs for a people who exercise their reason.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:164
[Pooya/Ali Commentary 2:164] Having said that there is only one God, the e creation and its duality is described. Nature's diversity is caused by one source and it will revert to the same source. There are heavens and earth, day and night, land and sea, dryness and wetness, life and death; and man, who is the highest form of creation, is given the consciousness to experience all of these, to explore the meaning behind them. Whoever contemplates on the nature of creation, will reach the conclusion that it is one divine power that activates and enlivens all the diverse manifestations. Aqa Mahdi Puya says: The harmony in the working of the universe is referred to in the Quran as a sign of the unity of the maker. Man is asked to reflect over this creation and realise the divine unity in the midst of diversity and amongst the various forces of nature that work in perfect harmony. (See quotation from Nahj al Balagha on page 20). As has been pointed out by Imam Musa bin Jafar al Kazim to his disciple, Hisham bin Hakam: Verily Allah perfected His arguments with reasoning, assisted His messengers with miracles, and proved His rububiyat with His signs. Imam Jafar bin Muhammad al Sadiq has explained the part reasoning plays in determining the relationship between man and God and its limitations. Reasoning (the internal) and the prophet (the external) are the two proofs Allah puts forward to let the people, who understand, have unshakeable faith in Allah. There is no use of the external proof (the prophet) if the heart and mind are not convinced through the internal proof (the reasoning). There may be religious doctrines beyond the grasp of limited human intellect but there should be no religious assertion contradictory to rational thinking. This shows that the only medium for understanding the absolute and securing nearness to Allah is sound logical reasoning. After reaching the final stage of the realisation of His existence and unity, the medium between him and the absolute becomes the divine revelation. ( 165) To love, adore and worship a ghayrallah (other-than-Allah) is bound to bring about punishment . The Arabic phrase ka-hubbillah means the love of idol-worshippers for their idols and their leaders which should have been for Allah. This also refers to the followers of the false and self-appointed leaders among the Muslims who usurped authority to keep them away from the true divinely commissioned rightly guided religious leaders. Those believers who are stronger in love for Allah not only love everything that Allah loves but also love the true leaders of the religion of Allah because they love to love that which Allah loves in order to please Allah. Therefore the followers of Muhammad and Ali Muhammad love or hate anything or anyone for the sake and in the cause of Allah
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:164-167
For not having spent what they amassed, in the name of God, and the resulting benefit going to others or penalty of its misuse by others shall be laid down on their heads. 1. God, in proof of His Solitary Monarchy of Heavens and Earth gives various other instances where in natural forces, as per scientists are involved. He claims creation of all such forces to self, e.g. of Heavenly Bodies, causing day and night, movements of trade, winds and other seasonal and cyclonic storms, causation of rain from clouds whereby food for maintenance is provided, with Buoyancy of liquid, keeping the ship floating with merchandise etc, its outcome of an Architect of the highest inconceivable degree. 2. He then enforces attachment to self and the Immaculates, through whim His Existence was realized by humans, else they would not ever have succeeded in locating His attributes and designs. It is clear the scientists, having failed to locate and thus began to deny His very Existence, whereas others, feeling jealous of miracles, granted to immaculates started deriding His Prophets and abrogating like powers to self to win public administration at cost of their rights. So God states, when on the Day of Judgment will they see for themselves, these counterfeit leaders carry no weight with God, will feel sorry and like to come back to kick them up, when it will be too late. In fact, God has made compulsory their love as a compensation for having guided them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:164
آسمان و زمین میں اس کی ذات پاک کے جلوے ہیں
گذشتہ آیت سے توحید پروردگار کی بحث شروع ہوتی ہے۔ زیر نظر آیت در حقیقت خدا کی توحید کے مسئلے اور اس کی ذات پاک کی یکتائی پر ایک دلیل ہے۔ مقدمہ اور تمہید کے طور پراس بات کی طرف توجہ رہے کہ نظم و ضبط، علم، دانش اور عقل کے وجود کی دلیل ہے۔ خداشناسی کی کتب میں ہم اس بنیاد کی تشریح کرچکے ہیں کہ عالم ہستی میں جب نظم و ضبط کے مظاہر نظر پڑتے ہیں اور نظام قدرت کی ہم آہنگی اور وحدت عمل پر نگاہ جاتی ہے تو فورا توجہ ایک اکیلے مبداء علم و قدرت کی مائل ہوجاتی ہے کہ یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔ مثلا جب ہم آنکھ کے سات پردوں میں سے کسی ایک بناوٹ پر بھی غور کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ امر کسی بے شعور ، اندھی اور بہری فطرت سے محال ہے کہ وہ ایسے اثر کا مبدا ء بن سکے اور جب ان سات پردوں کے باہمی ربط اور ہم آہنگی پھر آنکھ کی ساری مشینسری کی انسانی بدن سے ہم آہنگی اور پھر ایک انسان کی دیگر انسانوں سے ہم آہنگی اور پھر پوری انسانی برادری کی پورے نظام ہستی سے ہم آہنگی دیکھتے ہیں تو جان لیتے ہیں کہ ان سب کا ایک ہی سرچشمہ ہے اور یہ سب ایک ہی ذات پاک کے آثار قدرت ہیں۔ ایک عمدہ اور اچھا اور پر معنی شعر کیا ہمیں شاعر کے اعلی ذوق اور سرشار طبیعت کا پتہ نہیںدیتا اور کیا ایک دیوان میں موجود چند قطعات کی کامل ہم آہنگی اس امر کی دلیل نہیں کہ یہ سب ایک قادر الکلام شاعر کی طبیعت اور ذوق کے آثار ہیں۔ اس تمہید کو نظر میں رکھتے ہوئے اب ہم آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں اس آیت میں جہان ہستی کے نظم و ضبط کے چھ قسم کے آثار کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔ ان میں سے ہر ایک اس عظیم مبداء کے وجو د کی نشانی ہے۔ ۱۔ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں (ان فی خلق السموات و الارض) جی ہاں۔ اس پر شکوہ اور ستاروں بھرے آسمان کی خلقت ، یہ عالم بالا کے کرات جن میں کرو ڑوں آفتاب درخشاں،کرو ڑوںثابت و سیار ستارے جو تاریک رات میں پر معنی اشاروں سے ہم سے بات کرتے ہیں اور وہ جنہیں بڑی بڑی دو بینوں سے دیکھاجائے تو ایک دقیق اور عجیب نظام دکھائی دیتاہے ایسا نظام جس نے ایک زنجیر کے حلقوں کی طرف انہیں ایک دوسرے سے پیوست کررکھاہے۔ اسی طرح زمین کی خلقت۔۔۔ جہاں قسم قسم کے مظاہر حیات ہیں۔ جہاں مختلف انواع اور صورتوں میں لاکھوں نباتات اور جانور موجود ہیں۔ یہ سب اس ذات پاک کی نشانیاں اور اس کے علم ، قدرت اور یکتائی کے واضح دلائل ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ انسان کا علم و ادراک جتنا بڑھتا جارہاہے اتنی ہی اس عالم کی عظمت و وسعت اس کی نظر میں زیادہ ہوتی جارہی ہے اور معلوم نہیں یہ وسعت علم کب تک جاری رہے گی۔ اس وقت کے علماء کہتے ہیں کہ عالم بالا میں ہزاروں کہکشائیں موجود ہیں ۔ ہمارا نظام شمسی ایک کہکشاں کا حصہ ہے۔ صرف ہماری کہکشاں میں کروڑوں آفتاب اور چمکتے ستارے موجود ہیں۔ علماء عصر کے اندازے کے مطابق ان میں لاکھوں مسکونی سیارے ہیں جن میں اربوں موجودات ہیں۔ کیاہی عظمت و قدرت ہے۔ ۲۔ رات دن کے آنے جانے میں (و اختلاف اللیل و النہار)۔ جی ہاں۔ یہ رات دن کا اختلاف ۱ اور ایک مخصوص تدریجی نظام کے ساتھ یہ روشنی اور تاریکی کی آمد و شد۔ اس سے پھر چار موسم وجود پاتے ہیں۔ نباتات اور دیگر زندہ موجودات اسی نظام کی وجہ سے تدریجی طور پر مراحل تکامل طے کرتے ہیں۔ اس ذات پاک اور اس کی بلند صفات کے لئے یہ ایک اور نشانی ہے۔ ۳۔ انسانوں کے نفع کی چیزیں لے کر کشتیاں دریا میں چلتی ہیں (و الفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس)۔ چھوٹی بڑی کشتیوں کے ذریعے انسان وسیع سمندروں میں چلتاہے اور اپنے مقاصد کے لئے ان کے ذریعے زمین کے مختلف حصوں میں جاتاہے یہ سفر خصوصا بادبانی کشتیوں کا سفر چند نظاموں کی وجہ سے ہے۔ ۱۔ وہ ہوائیں جو ہمیشہ سطح سمندر پر رہتی ہیں۔ یہ ہوائیں عموما زمین کے قطب شمالی اور قطب جنوبی سے خط استوا ء کی طرف اور خط استوار سے قطب شمالی اور جنوبی کی طرف چلتی ہیں انہیں آلیزہ اور کاؤنٹر آلیزہ کہتے ہیں۔ ب۔ کچھ ہوائیں علاقوں کے لحاظ سے ایک معین پروگرام کے تحت چلتی ہیں ارو کشتیوں کو یہ سہولت بہم پہنچاتی ہیں کہ وہ اس فراواں طبیعی دولت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھیں و اسی طرح لکڑی کی خاص طبیعی خاصیت ہے جس کی وجہ سے وہ پانی میں نہیں ڈوبتی یہ بھی پانی پر اجسام کے تیر نے کا سبب بنتی ہے)۔ زمین کے دونوں قطبوں میں غیر مبدل مقناطیسی خاصیت ہے جن کے حساب سے قطب نما کی سوئیاں حرکت کرتی ہیں۔ یہ بھی پانی پر چیزوں کی آمد و رفت میں مددگار ہوتی ہے۔ ان سب کو دیکھ کر اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ جب تک یہ سب نظام ایک دوسرے سے متحد نہ ہوں کشتیوں کی حرکت سے وہ بھر پور فوائد حاصل نہیں کئے جاسکتے جو کئے جارہے ہیں۔ 2 یہ بات حیران کن ہے کہ دور حاضر میں مشینی کشتیوں کے بننے سے ان امور کی عظمت نہ فقط یہ کہ کم نہیں ہوئی بلکہ ان کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ آج کی دنیا میں دیو ہیکل سمندری جہاز اہم ترین ذریعہ نقل و حمل شمار ہوتے ہیں۔ بعض جہاز تو شہروں کی طرح و سیع ہیں۔ ان میں میدان، سیر و تفریح کے مراکز یہاں تک کہ بازار بھی موجود ہیں۔ ان کے عرشہ پر ہوائی جہازوں کے اترنے کے لئے بڑے بڑے ایر پورٹ تک موجود ہیں۔ ۴۔پانی جسے خدا آسمان سے نازل کرتاہے، اس کے ذریعے مردہ زمینوں کو زندہ کرتاہے اور اسی نے ان میں طرح طرح کے جانور پھیلا رکھے ہیں (وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِہِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّة ص)۔ بارش کے حیات بخش، تازہ اور با برکت موتی اور اس طبیعی صاف و شفاف پانی کے قطرے ہر جگہ گرتے ہیں اور گویا زندگی کا چھڑ کاؤ کرتے ہیں اور اپنے ساتھ حرکت و برکت، آبادی اور نعمتوں کی فراوانی لاتے ہیں۔ یہ پانی جو ایک خاص نظام کے تحت گرتاہے، تمام موجودات اور جاندار اس بے جان سے جان پاتے ہیں۔ یہ سب اس کی عظمت و قدرت کے پیغام بر ہیں۔ ۵۔ ہواؤں کا ایک منظم طریقے سے چلنا (و تصریف الریاح)۔ ہوائیں نہ صرف سمندروں پرچلتی اور کشتیوں کو چلاتی ہیں بلکہ خشک زمینوں، پہاڑوں، دروںاور جنگلوں کو بھی اپنی جولان گاہ بناتی ہیں۔ کبھی یہ ہوائیں نرگھاس کے چھوٹے چھوٹے دانوں کو مادہ سبزہ زاروں پر چھڑ کتی ہیں اور پیوند کاری و بارآوری میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ ہمارے لئے پھلوں کا قتحفہ لاتی ہیں اور طرح طرح کے بیجوں کو وجود دیتی ہیں۔ بعض اوقات یہ ہوائیں سمندروں کی موجوں کو حرکت دے کر پانیوں کو ایک دوسرے سے اس طرح ملاتی ہیں کہ سمندری موجودات کو حیات نومل جاتی ہے۔ کبھی ہوائیں گرم علاقوں کی تپش سرد علاقوں میں کھینچ لاتی ہیں اور کبھی سرد علاقوں کی خنکی گرم علاقوں میں منتقل کر دیتی ہیں اور یوں زمین کی حرارت کو معتدل کرنے میں مؤثر مدد کرتی ہیں۔ گویا ہواؤں کا چلنا جس میں یہ تمام فوائد و برکات ہیں، اس کے بے انتہا لطف و حکمت کی ایک اور نشانی ہے۔ ۶۔ وہ بادل جو زمین و آسمان کے در میان معلق و مسخر ہیں (وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ)۔ ایک دوسرے سے ٹکرانے والے یہ بادل جو ہمارے سروں کے اوپر گردش میں ہیں۔اربوں ٹن پانی اٹھائے، کشش ثقل کے قانون کے برعکس آسمان و زمین کے در میان معلق ہیں اور اس پانی کو بغیر کوئی خطرہ پیدا کئے ادھر ادھرلے جاتے ہیں۔ یہ اس کی عظمت کی ایک اور نشانی ہے۔ علاوہ ازیں پانی کا یہ خزانہ اگر پانی نہ برساتا تو زمین خشک ہوتی، پینے کو ایک قطرہ پانی نہ ہوتا، سبزہ زاروں کے اگنے کے لئے کوئی چشمہ اور نہر نہ ہوتی ہر جگہ ویران ہوتی اور ہر مقام پر مردہ خاک پھیلی ہوئی ہوتی۔ یہ بھی اس کے علم و قدرت کا ایک اور جلوہ ہے۔ جی ہاں۔۔۔ یہ سب اس کی ذات پاک کی نشانیاں اور علامتیں ہیں لیکن ایسے لوگوں کے لئے جو عقل و ہوش رکھتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں (لایت لقوم یعقلون) ان کے لئے نہیں جو بے خبر اور کم ذہن ہیں، نہ ان کے لئے جو آنکھیں رکھتے ہوئے بے بصیرت ہیں اور کان رکھتے ہوئے بہرے ہیں۔ ۱۶۵۔وَمِنْ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللهِ اٴَندَادًا یُحِبُّونَہُمْ کَحُبِّ اللهِ وَالَّذِینَ آمَنُوا اٴَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ وَلَوْ یَرَی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ اٴَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّہِ جَمِیعًا وَاٴَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعَذَابِ ۱۶۶۔ إِذْ تَبَرَّاٴَ الَّذِینَ اتُّبِعُوا مِنْ الَّذِینَ اتَّبَعُوا وَرَاٴَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمْ الْاٴَسْبَابُ ۱۶۷۔ وَقَالَ الَّذِینَ اتَّبَعُوا لَوْ اٴَنَّ لَنَا کَرَّةً فَنَتَبَرَّاٴَ مِنْہُمْ کَمَا تَبَرَّئُوا مِنَّا کَذَلِکَ یُرِیہِمْ اللهُ اٴَعْمَالَہُمْ حَسَرَاتٍ عَلَیْہِمْ وَمَا ہُمْ بِخَارِجِینَ مِنْ النَّارِ ترجمہ ۱۶۵۔ بعض لوگ خدا کو چھوڑ کر اپنے لئے کسی اور معبود کا انتخاب کرتے ہیں انہیں اس طرح دوست رکھتے ہیں جیسے خدا کو رکھنا چاہئے اور ان سے محبت کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں انہیں (اس محبت کی نسبت جو مشرکین کو اپنے معبودوں سے ہے) خدا سے شدید عشق و محبت ہے اور جنہوں نے ظلم کیاہے (اور خدا کے علاوہ کسی اور کو معبود قرار دے لیاہے) جب وہ عذاب خدا کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ تمام قدرت خدا کے ہاتھ ہے (نہ کہ ان خیالی معبودوں کے ہاتھ جن سے وہ ڈرتے ہیں) اور خدا کا عذاب اور سزا شدید ہے۔ ۱۶۶۔ اس وقت (انسانی و شیطانی معبود اور) رہبر اپنے پیروکاروں سے بیزار ہوں گے۔ وہ عذاب خدا کا مشاہدہ کریں گے اور ان کے باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ ۱۶۷۔ تب پیروکار کہیں گے کاش ہم دوبارہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں تا کہ ہم بھی ان سے اسی طرح بے بیزاری اختیار کریں جس طرح آج یہ ہم سے بیزار ہیں۔ (ہاں) یونہی خدا انہیں ان کے اعمال حسرت دکھائے گا (اور انہیں اپنے اعمال سراپا یاس دکھائی دیں گے) اور وہ ہرگز (جہنم کی) آگ سے خارج نہیں ہوں گے۔ ۱ لفظ اختلاف ممکن ہے آمد و شد (آنے جانے ) کے معنی میں استعمال ہوا ہو کیونکہ یہ (خلف) اور (خلافت) کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ایک دوسرے کا جانشین ہونا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اختلاف رات اور دن کی کمی بیشی کی طرف اشارہ ہو اور دونوں معانی بھی مراد ہوسکتے ہیں، بہر حال یہ خاص نظام جو بہت سے واضح آثار کا حامل ہے اتفاقا اور بغیر کسی عالم و قادر ذات کے وجود پذیر نہیں ہوسکتا۔ 2- لفظ(فلک) کا معنی ہے کشتی، اس کا واحد اور جمع ایک ہی وزن پر ہے۔