إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
Indeed those who turn faithless and die while they are faithless—it is they on whom shall be the curse of Allah, the angels and all mankind.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:161
[Pooya/Ali Commentary 2:161] Kufr is the rejection of truth, wilfully by perversity or indolence, or it is disbelief in that which is preached by the Holy Prophet. All disbelievers or non-Muslims are not included in this category. A clear exception is mentioned in verse 98 of al Nisa. Those mentioned in verse 106 of al Barat have to wait for the command of Allah to be punished or to be pardoned. Hell is only for those who wilfully and perversely reject the truth, or those who have the means to know the truth but do not care to do so. ( 162) Those who will be punished will abide in hell according to the state they have reached in this life, without respite. The chastisement is eternal. Imam Jafar bin Muhammad al Sadiq says: Since the pious would have lived a virtuous life as long as they stayed in this world, they deserve eternal bliss. Similarly the wicked would have spent their days in depravity and immorality as long as they lived in this world, they deserve to be condemned for ever.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:161-163
وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں
گذشتہ آیات میں حق کو چھپانے کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔ زیر نظر آیات میں بھی انہی کفار کی طرف اشارہ ہے جو ہٹ دھرمی، حق پوشی، کفر اور تکذیب حق کا سلسلہ موت آنے تک جاری رکھتے ہیں۔ فرمایا: وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں اور حالت کفر میں دنیا سے چل بسے ہیں ان پرخدا، فرشتوں اور سب انسانوں کی لعنت ہوگی (إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَمَاتُوا وَہُمْ کُفَّارٌ اٴُوْلَئِکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ)۔ یہ گروہ بھی حق کو چھپانے والوں کی طرح خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت میں گرفتار ہوجائے گا۔ فرق یہ ہے کہ ان لوگوں کے لئے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا کیونکہ یہ آخر عمرتک کفر پر مصر رہے۔ مزید فرمایا: یہ ہمیشہ خدا اور بندگان خدا کی لعنت کے زیر سایہ رہیں گے۔ ان پر عذاب الہی کی تخفیف نہ ہوگی، نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی ( خَالِدِینَ فِیہَا لاَیُخَفَّفُ عَنْہُمْ الْعَذَابُ وَلاَہُمْ یُنظَرُون)۔ ان بدبختیوں کی وجہ سے چونکہ اصل توحید ختم ہوجاتی ہے۔ زیر نظر آخری آیت میں فرمایا: تمہارا معبود اکیلا خدا ہے۔ (و الہکم الہ واحد) مزید تاکید کے لئے ارشاد ہوتاہے : اس کے علاوہ کوئی معبود اور لائق پرستش نہیں (لا الہ الا ہو)۔ آیت کے آخر میں دلیل و علت کے طور پر فرماتاہے: وہ خدا بخشنے والا مہربان ہے (الرحمن الرحیم) بے شک وہ جس کی عام و خاص رحمت سب پرمحیط ہے۔ جس نے مومنین کے لئے خصوصی امتیازات قرار دیئے ہیں یقینا وہی لائق عبادت ہے نہ کوئی اور جو سرتا پا احتیاج ہے۔ چند اہم نکات (!) حالت کفر میں مرنا: قرآن مجید کی بہت سی آیات سے یہ نکتہ ظاہر ہوتاہے کہ جو لوگ حالت کفر اور حق سے دشمنی کرتے ہوئے دنیا سے جائیں ان کے لئے کوئی راہ نجا ت نہیں ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئیے ، کیونکہ آخرت کی سعادت یا بدبختی تو براہ راست ان دخائر اور وسائل کا نتیجہ ہے جو ہم اس دنیا سے اپنے ساتھ لے کرجاتے ہیں۔ جس شخص نے اپنے پروبال کفر اور حق دشمنی میں جلادیے ہیں وہ یقینا اس جہان میں طاقت پرواز نہیں رکھتا اور دوزخ کے گڑھوں میں اس کا گزنا یقینی ہے کیونکہ دوسرے جہاں میں اعمال بجالانے کا کوئی موقع نہ ہوگا لہذا ایسا شخص ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی شخص شہوت رانیوں اور ہوس بازیوں کی وجہ سے جان بوجھ کر اپنی آنکھیں کھو بیٹھے اور آخری عمر تک نابینا رہے۔ واضح ہے کہ یہ بات ان کفار سے مخصوص ہے جو جان بوجھ کر کفر اور حق دشمنی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ مسئلہ خلود کے بارے میں مزید توضیح سورہ ہود کی آیت ۱۰۷ اور ۱۰۸، جلد ۹ کے ذیل میں پڑھیے گا۔ (!!) خدا اپنی یکتائی میں یکتاہے: مندرجہ بالا تیسری آیت میں خدا کی ایسی یکتائی بیان کی گئی ہے جوہر قسم کے انحراف اور شرک کی نفی کرتی ہے۔ کبھی ایسے موجودات بھی نظر آتے ہیں جو ایسی صفات کے حامل ہیں جو منحصر بفرد ہیں اور اصطلاح کے مطابق یکتا ہیں۔ لیکن کہے بغیر واضح ہے کہ وہ سب موجودات ایک یا چند صفات مخصوصہ میں تو ممکن ہے منحصر بفرد اور یکتاہوں جب کہ خدا ذات و صفات اور افعال میں یکتا و اکیلا ہے۔ عقلی طور پر خدا کی یکتائی قابل تعدد نہیں ۔ وہ ازلی و ابدی یکتاہے۔ وہ ایسا یکتاہے کہ اس پر حوادث اثر انداز نہیں ہوتے۔ اس کی یکتائی ذہن میں بھی ہے اور خارج از ذہن بھی۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی یکتائی میں بھی یکتاہے۔ (!!) خدا اپنی یکتائی میں یکتاہے: مندرجہ بالا تیسری آیت میں خدا کی ایسی یکتائی بیان کی گئی ہے جو ہر قسم کے انحراف اور شرک کی نفی کرتی ہے۔ کبھی ایسے موجودات بھی نظر آتے ہیں جو ایسی صفات کے حامل ہیں جو منحصر بفردہیں اور اصطلاح کے مطابق یکتا ہیں۔ لیکن کہے بغیر واضح ہے کہ وہ سب موجودات ایک یا چند صفات مخصوصہ میں تو ممکن ہے منحصر بفرد اور یکتا ہوں جب کہ خدا ذات و صفات اور افعال میں یکتا و اکیلاہے۔ عقل طور پر خدا کی یکتائی قابل تعدد نہیں۔ وہ ازلی و ابدی یکتاہے۔ وہ ایسا یکتاہے کہ اس پر حوادث اثر انداز نہیں ہوتے۔ اس کی یکتائی ذہن میں بھی ہے اور خارج از ذہن بھی۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی یکتائی میں بھی یکتاہے۔ (!!!) کیا خدا کی لعنت کافی نہیں ہے: مندرجہ بالا آیات کے مطابق خدا کے علاوہ حق پوشی کرنے والوں پر سب لعنت کرنے والوں کی لعنت پڑتی ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتاہے کہ کیا خدا کی لعنت کافی نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب واضح ہے کہ در حقیقت یہ ایک طرح کی تاکید ہے اور ایسے قبیح اور برے افعال انجام دینے والوں کے لئے تمام جہانوں کی طرف سے تنفر و بیزاری کا اظہار ہے۔ اگر یہ کہاجائے کہ یہاں لفظ (ناس) بطور عموم کیوں استعمال ہواہے جب کہ جرم میں شریک لوگ تو کم از کم ایسے ایسے مجرموں پر لعنت نہیں کرتے۔ ہم کہیں گے۔۔۔۔حالت تو یہ ہے کہ وہ خود بھی اپنے اس عمل قبیح سے متنفر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص خود ان کے بارے میں حق پوشی کرے تو یقینا انہیں تکلیف ہوگی اور وہ اس پر نفرین کریں گے لیکن جہاں ان کے اپنے منافع کا معاملہ ہو وہاں یہ لوگ استثنائی طور پرچشم پوشی کرتے ہیں۔ ۱۶۴۔ إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنفَعُ النَّاسَ وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِہِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ترجمہ ۱۶۴۔ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں رات دن کے آنے جانے میں، انسانوں کے فائدے کے لئے دریا میں چلنے والی کشتیوں میں، خدا کی طرف سے آسمان سے نازل ہونے والے اس پانی میں جس نے زمین کو موت کے بعد زندگی دی ہے اور ہر طرح کے چلنے والے اس میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ہواؤں کے چلنے میں اور بادلوں میں جو زمین و آسمان کے در میان معلق ہیں (خدا کی ذات پاک اور اس کی یکتائی کی) ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل و فکر رکھتے ہیں۔